PDA

View Full Version : پاکستان مین طالبان کی مقبولیت مین نمایاں ª



iqbaljehangir
02-25-2011, 10:51 PM
طالبان ، پاکستان مین اپنی حماقتوں اور وحشیانہ طرز عمل کی وجہ رائے عامہ کی جنگ اور دوسری جنگ تیزی سے ہارتے جارہے ہین اور اب انہوں نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارون کے بجائے، سافٹ ٹارگٹس پر حملے شروع کر دیے ہین اور پاکستانی عوام کو نقصان پہنچا نے کے درپے ہو رہے ہین۔ درحقیقت طالبان ایک ایسے ٹمٹماٹے چراغ کی مانند ہین ہے جو گل ہونے کے قریب ہے اور امید ہےکہ طالبان بہت جلد ہی تاریخ کے اوراق مین گم ہو جائین گے اور تاریخ مین ان کا ذکر خوارج اور دوسرے باغی گروہوں کے ساتھ آئے گا۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے طالبان کی طرف سے ہونے والے خودکش حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بار بار واقعات اور بعض علاقوں میں ان کے خلاف عام لوگوں کے اٹھ کھڑے جانے سے آجکل طالبان کی حمایت، عوام میں بیت زیادہ کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خیال ر ہے کہ قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقون میں طالبان کی مقبولیت کا گراف اب وہ نہیں رہا جو کبھی پہلے ہوا کرتا تھا۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبہ سرحد میں طالبان عسکریت پسندوں کی مقبولیت میں واضح کمی آئی ہے اور بندوبستی علاقوں سے لے کر غیر بندوبستی علاقوں تک ان کے مخالفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا واضح ثبوت مذکورہ علاقوں میں آئے روز بننے والے قومی لشکروں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ ان قبائلی لشکروں کے قیام کے بعد اُمید کی جارہی ہے کہ تمام شورش زدہ علاقوں میں جلد ہی حالات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہوجائیں گے۔
طالبان کی طرف سے صوبہ خیبر پختونخواہ مین ایک ہزار سے زیادہ اسکولوں، مساجد اور عام لوگوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک کئے جانے کو قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں مین اب پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔طالبان نے ستمبر ۲۰۱۰ تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہین۔ طالبان درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں ، بچیوں اور اساتذہ کو بھی نہین بخشا۔ طالبان کے مذید حملوں کے خوف کی وجہ سے صوبہ ک پ کے ۲۰۵ پرائمری سکول بند کر دئیے گئے جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ مین ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر صرف ۴۰،۰۰۰رہ گئین۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔ طالبان نے سوات مین سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۰۹ مین انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مین خود کش حملہ کیا جس مین ۶ افراد بشمول ۳ طالبات ہلاک ہو گئین۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۱۰ مین سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کو قتل کر دیا اور سوات طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ تحریک طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی، پشاور کے وائس چالسلر کو ستمبر ۲۰۱۰ مین اغوا کر لیا اور وہ ابھی تک طالبان کی قید میں ہین۔ طالبان نے ۱۹ جنوری 2011 کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر دہماکہ کیا جس سے دو افراد ہلاک اور ۱۵ بچے زخمی ہو گئے۔۔ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقہ کنڈاؤ خیل میں شدت پسندوں نے ۲۴ جنوری 2011 گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیزمواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ایجنسی بھر میں تباہ ہونیوالے سکولوں میں اب تک33 درسگاہیں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ ہین ان طالبان کی قبیح حرکات و کرتوت جو پاکستان مین سکولون کو تباہ کر کے،طلبا ،اساتذہ و دیگر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنے چلے ہین۔
ان حملوں کی وجہ سے قبائلی باشندے آہستہ آہستہ طالبان کے بے اصول جہادی رویے سے تنگ آ گئے ہیں اور طالبان کی مقبولیت میں کمی واضح طور پر دیکھنے مین آئی ہے اور محسوس بھی کی جا رہی ہے۔ بہت سے دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان بہت جلد فاٹا کی قبائلی پٹی میں بھی معدوم ہو جائیں گے کیونکہ عام لوگ مسلسل اپنے عزیزوں اور بچوں کی ہلاکت کے باعث غمزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی پریشانی کی چکی میں بری طرح پس کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان بھر مین اور بالخصوص صوبہ خیبر پختونخواہ مین تمام معاشی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں جس سے معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ پہلے سے انتہائی غریب اور پسماندہ پاکستانی اور قبائلی معاشرہ اب مزید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم رئیس کا کہنا ہےکہ ان کے آبائی ضلع میں طالبان تمام اقسام کی جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اپنے مخالفین کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر سر عام پھانسی دیا کرتے تھے جو کہ دین اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی اس طرح کی حماقتوں سے ان کی شہرت داغدار ہو گئی اور عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی ہے۔
ریٹائرڈ میجر انور خان نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ صرف عبد الخالق ہی طالبان کے ظلم و ستم کا شکار ہونے والا شخص نہیں ہے۔ عسکریت پسندوں کی قائم کردہ شرعی عدالتوں نے لوگوں کو سخت سزائیں دیں جو خود ان کی تباہی کا باعث بنیں۔ میجر انور خان نے کہا کہ طالبان کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔ کسی زمانے میں عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے والے قبائلی اور قبائلی عمائدین اب حکومت کو ان کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتے ہیں۔ تاکہ اس طالبانی فتنہ کی بیخ کنی ہو سکے۔
جولائی میں پیو عالمی رجحانات منصوبے (http://pewglobal.org/2010/07/29/concern-about-extremist-threat-slips-in-pakistan/2/) کے جاری کردہ رائے عامہ کے جائزے میں 51 فی صد افراد تحریک طالبان پاکستان کے مخالف جبکہ اس کے مقابلے میں محض 18 فی صد اس کے حامی ہیں۔ طالبان سے متعلق پوچھنے پر 65 فی صد افراد نے ان کی مخالفت اور 15 فی صد نے ان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ 2008 میں، 27 فی صد افراد نے طالبان کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق خان، مولانا حسن جان اور مفتی نعیمی سمیت ماہرین تعلیم کے اغوا اور مذہبی علماء کے قتل سے طالبان کا تصور داغدار ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کھیلوں کے مخالف ہیں، وہ اسپتالوں اور اسکولوں میں کام کرنے والی خواتین کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ خواتین کے گھروں سے باہر نکلنے کے بھی خلاف ہیں۔ ان پر عوامی اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟
تین اپریل کو طالبان کے اراکین کی جانب سے وادی سوات میں ایک نوعمر لڑکی کو کوڑے مارنے کی وڈیو منظر عام پر آنے سے طالبان کی تعلقات عامہ کوششوں کو زبردست دھچکا لگا۔ دو منٹ کی وڈیو میں دو عسکریت پسندوں نے لڑکی کو زبردستی لٹا رکھا تھا جبکہ تیسرا عسکریت پسند اس کی پشت پر لگاتار کوڑے برسا رہا تھا۔
طالبان کے خلاف نفرت پھیلنے کی ایک وجہ مزارات اور مساجد کی تباہی بھی ہے اور مزارات کی توہین کو خوش عقیدہ قبائلیوں اور پاکستانیوں کی بریلوی اکثریت اور غیرت مند جوانوں نے فراموش نہیں کیا۔ طالبان دہشت گردون نے پچھلے ۱۰ سالون مین لا تعداد مساجد کو بے رحمانہ طریقے سے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ۱۱۶۵ نمازیون کو قتل کر کے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ۲۹۰۰ نمازیوں کو زخمی کر دیا، جن مین بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل ہین۔ آجکل مساجد میں عبادت گزار ون کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی لذت اورعبادت کی سعادت کی بجائے اپنی جان کے لا لے پڑے ہوتے ہیں۔
ان مسلح طالبان نے قبائلی علاقوں میں اب عدالتوں کا نظام بھی استوار کر دیا ہے۔ تین جنوری کو اورکزئی ایجنسی میں طالبان کی جانب سے ایک مبینہ چور عبد الخالق کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دینے کا واقعہ دہشت گردی کی وہ تازہ ترین جھلک ہے جس نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی عوامی حمایت ختم کر دی ہے۔علماء کے قتل، مزاروں کی توہین، مساجد کی تباہی اور اسکولوں کے بموں سے اڑا دیے جانے سے قبائلی عوام پریشان ہیں اور ایسے امکانات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ کل جن طالبان کو قبائلیوں نے خوش آمدید کہا تھا، اب وہ ان کے خلاف خود ہی منظم ہو رہے ہین۔
گیلپ سروے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں عام لوگوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافے کیساتھ پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔سروے کے مطابق جون 2009 میں مجموعی طور پر طالبان کو15 فیصد پاکستانیوں کی حمایت حاصل تھی۔ جو نومبر دسمبر میں کم ہو کر صرف4 فیصد رہ گئی۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والوں کی صرف ایک فیصد تعدادنے نومبر دسمبر2009کے دوران کیے گئے اس سروے میں طالبان کی حمایت کی،جبکہ جون میں طالبان کے حامیوں کی تعداد11فیصدتھی۔ بلوچستان میں بھی طالبان کے حامیوں میں کمی آئی ہے،جون میں کیے گئے سروے کے مطابق صوبے میں طالبان کے حامی26فیصدتھے جبکہ نومبردسمبرمیں صرف5فیصدافرادنے طالبان کی حمایت کی۔یہ سروے پاکستان میں گزشتہ سال نومبردسمبر میں15سال یااس سے زیادہ عمرکے1147افراد سے کیا گیا۔ لوگوں سے طالبان کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں رائے لی گئی اورپھر اس کا موازنہ چھ ماہ قبل کیے گئے سروے کے نتائج سے کیا گیا۔ سروے کے مطابق افغانستان میں جون اورنومبرمیں کیے گئے دونوں سروے کے نتائج کے مطابق10میں سے8افرادطالبان کی موجودگی کو ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھتے ہیں۔
چونکہ تمام طالبان ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کو اسلام سے دور بھگا رہے ہین۔
ملک میں معاشی ترقی اور صنعتیں تب ہی لگیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری تب ہو گی جب ملک میں امن و امان ہو گا ۔اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔پاکستان بدحالی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ معیشت بند گلی مین داخل ہو گئی ہے اور کوئی ملک پاکستان کو بیل آوٹ پلان دینے کے لئے تیار نہیں۔ حکومت اپنے انتظامی اخراجات پورے نہیں کر پا رہی۔ سنگین حالات سے نکالنے کے لئے قومی یکجہتی سے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ لہذا عوام دل و جان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اور ملکی معاشی بہتری کے لئےحکومت سے تعاون کریں۔دہشت گردی جیسے فتنے سے نمٹنا تو ہر مسلمان اور پاکستانی کی اولین ذمہ داری ہے۔

دہشت گردی ایک غیر ملکی نہین بلکہ پاکستانی ایشو ہے۔ ہمارےعوام کی اپنی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی اہم اور ضروری ہے اوریہ ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ دانشور،علماءکرام ، نوجوان اور پڑہے لکھے لوگ آگے آئیں اور اپنی مدد آپ کے تحت دہشت گردی کا خاتمہ کریں اور ملک پاکستان کو امن کا گہوارہ بنادیں۔