PDA

View Full Version : طالبان کا جہادی کاروبار



iqbaljehangir
03-21-2011, 02:58 PM
جہاد، طالبان کاغیر قانونی،غیر اخلاقی اور شریعت کے منافی کاروبار ہے۔طالبان جہاد کی آڑ مین ایک شرمناک کھیل ،کھیل رہےہین اور اسلام کو بدنام کر رہے ہین۔۔ایک اسلامی ملک اور مسلمانوں کے خلاف جہاد کا خیال ہی خلاف شریعہ، احمقانہ ،قابل اعتراض و ناقابل عمل ہے۔
دہشت گرد تنظیم کا انتظام و انصرام بھی ایک کاروبار کی طرح ہی منظم کیا جاتاہے اور چلایا جاتاہے۔ جس میں پیسے اور افرادی قوت کی اہمیت کلیدی ہوتی ہے۔ یہ سارا پیسے کا کھیل ہے اور اس میں روپے پیسے کی حثیت لائف لائن کی سی ہے۔
طالبان کے اس کاروبار کے اغراض و مقاصد، عام کاروبار کے اغراض و مقاصد کے برعکس غیر قانونی غیر اخلاقی اور اسلامی شریعہ کے منافی ہین اور ان مین پاکستانی مسلمانوں کی قتل و غارت گری،حکومت وقت سے سرکشی و بغاوت،جنگ و جدال، دہشت گردی، پاکستان کو کمزور کرنے کی دشمن کی سازشوں کا ساتھ دینا،بنک ڈکیتیاں و ڈاکے ڈالنا، اجرتی قتال، راہزنی اور لوٹ مار جیسے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کام شامل ہین۔ لہذا روئے زمین پر کوئی ذی شعور حکومت اس طرح کے غیر قانونی،گیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کاروبار کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہمکرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ اور ان کے کارکنان کی عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ ذرائع سے اکٹھا و حاصل کرتے ہین۔
بیت اللہ محسود اس طالبانی نیٹ ورک کو چلانے پر تقریبا ۴۵ ملین ڈالر سالانہ خرچ کیا کرتے تھے جس سے وہ ہتھیار و آلات اور گاڑیاں خریدتے اور زخمی دہشت گردوں کے علاج معالجہ اور ہلاک شدگان کے ورثا کو رقم ادا کرتے اور دہشت گردوں کو تنخواہین ادا کرتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناجائز ذرایع سے اکٹھا کیا ہوا روپیہ پیسہ باہر کے ملکوں مین کاروبار کیلیئے بھی لگائے رکھا۔ دوسرے طالبان لیڈرز جو روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہین وہ اس کے رقم کے علاوہ ہے۔
طالبان کے مالی وسائل کے لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر انسے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوااور لوٹ مار، معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میںکاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہین ۔ اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی ساماناور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور بلوچستان میں درآمد اور برآمدہونے والی منشیاتسے بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔وزیر اور محسود قبائل کے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے پشتون نژاد باشندےدرحقیقت ملک بھر میں اسلحے کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ وہ درہ آدم خیل اوراورکزئی ایجنسی میں تیار ہونے والے سستے اسلحے و غیر ملکی اسلحہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس کاروبار کا سارا منافع طالبان کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہین سمجھتے اور اس کا اعتراف خود حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلٰی عہدیداروں کا کہناہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بیس فیصد آمدنی کا ذریعہ اغوا اور بینک ڈکیتیوں سمیتجرائم ہیں جبکہ وہ پچاس فیصد آمدنی عطیات اور بھتہ خوری اور بقیہ تیس فیصد منشیاتکی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ۲۰۰ ملین ڈالر سالانہ لگایا گیا ہے جو کہ طالبان کی آمدنی کی ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان افیون، ذمرد و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو کے غیر قانونی کاروبار اور اشیا ءکی سمگلنگ مین بھی ملوث ہین۔ طالبان کافی عرصہ سے صوبہ سرحد او فاٹا کے کچھ حصہ مین لکڑی کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہین۔
پاکستان مین کوئی دن خالی نہیں جاتا ہو گا جب طالبان یا ان کے ساتھی بہت سے افراد کو اغوا نہ کرتےہوں گے۔ کراچی اور پشاور اس حوالے سے ابھی تک انتہائی خطرناک اور بدنام شہر ہیں۔ تحریک طالبانپاکستان صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوںمیں خود کارروائیاں کرتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر وہ دیگر جہادی تنظیموں اور ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہے۔ ایک وقت ، طالبان نے صوبہ سرحد کے سکھوں سے ۵۰ ملین روپیہ سالانہ جزیہ طلب کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت مین سکھوں کے لیڈر سردار سیاوانگ سنگھ کو قیدی بنا لیا گیا اور سکھوں کے بہت سے گھروں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ۔
خیبر ایجنسی کے ایک قبائلی تاجر نے بتایا کہ طالبان ،افغانستان جانے والے ان ٹرکوں پر حملہ کر کے سامان کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور بچاکھچا سامان خیبر ایجنسی کی حدود میں واقع پاک افغان شاہراہ طورخم پر پھینک دیتےہیں۔ لوٹی گئی اشیاء پاکستان اور افغانستان کے بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہیہیں۔
اسلام آباد کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کے ایک قریبی رشتہ دار کوپشاور سے اغوا ہونے کے بعد 50 لاکھ روپے ،تاوان کے عوض رہاکرایا گیا۔ یہی کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ بھی ہوا۔ افغانستان مین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کو بھی طالبان نے ہی اغوا کیا تھا۔
2008 سے 2009 کے دوران کراچی پولیس نے طالبان کی جانب سے بینک ڈکیتیوں اور اغوابرائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سراغ لگایا۔ اکتوبر 2008 میں، اغواکاروں نےفلم پروڈیوسر ستیش آنند کو اغوا کر کے چھ ماہ تک سوات کی تحصیل مٹہ کے نزدیک ایکعلاقے میں رکھا۔ ان دنوں یہ علاقہ مولانا فضل اللہ کی زیر قیادت ایک طالبان گروپ کےقبضے میں تھا۔
چوہدریاسلم ،سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کراچی نے بتایا کہ کراچی آجکل لاقانونیت کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر واقعاتمیں فاٹا کے مختلف علاقوں میں تاوان کی ادائیگی کا سراغ لگایا گیا ہے جس کے ڈانڈے طالبان سے ملتے ہین۔ انہوں نےبتایا کہ یہ رقم تحریک طالبان پاکستان کو اپنی عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو چلانےاور تنظیمی انتظام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن، دونوں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر TTP کےسکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک و اغوا کئے جانے اور خلاف شریعہ لوٹ مار کو اس بیعت اور اپنے جاری شدہ code of conductکیخلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہین کر رہے۔
اک عجب تماشہ ہے کہ طالبان غیر قانونی،غیر اخلاقی اور اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت و طاقت حاصل کرکے ملک مین اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں اور اکثریت پر ، جو کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارے پہ یقین رکھتی ہےاپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہین۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی ہے ، اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار ہو؟
بھائیوں اور بہنوں اگر ہمین طالبان دہشت گردوں اور ان کے تنگ نظری والے فلسفہ کو شکست دینا ہے اور اس طالبانی عفریت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرناہے تو ہم سب کو مل کر طالبان کے روپے پیسے کے حصول کے تمام چشموں و سوتوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر نا ہو گا۔ تاکہ نہ ہو گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔