PDA

View Full Version : قائد اعظم، اقبال، ضیاء اور علماء اہلسنت



Ya Mustafa
07-02-2011, 11:56 AM
احسان الہیٰ ظہیر مردود کی بدنام زمانہ کتاب البریلویہ میں اہلسنت پر لگائے جانے والے ایک الزام کا جواب



قائد اعظم، اقبال اور ضیاء


تحریک پاکستان کے دور میں سیاسی لیڈر مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ کچھ لوگ انگریز کے حامی اور موید تھے۔ کچھ انگریز کے دشمن لیکن ہندو کے دل و جان سے دوست اور اتحادی تھے۔ امام احمد رضا بریلوی اور ان کے ہم مسلک علماء کا دینی اور اسلامی نقطہ نظریہ تھا کہ انگریز اور ہندو دونوں ہی ہمارے دشمن ہیں، ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں، یہی وہ دو قومی نظریہ تھا جسے بعد میں علامہ اقبال اورقائد اعظم نے اپنایا اور اسی نظرئیے کی بناء پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

١٩٤٦ء میں آل انڈیا یا سنی کانفرنس کا بنارس میں تاریخی اجلاس ہوا جس میں اہل سنت و جماعت (بریلوی) کے تمام علماء اور مشائخ نے شرکت کی اور مطالبہ پاکستان کی بھر پور حمایت کی۔ اس دور میں مسلم لیگ اور قائد اعظم کے مطالبہ پاکستان کی حمایت جس زور دار اور اجتماعی انداز میں اہل سنت و جماعت کے سٹیج سے کی گئی اور کسی طرف سے نہیں کی گئی۔

عطیہ محمد سالم کی تاریخ سے بے خبر ی ملاحظہ ہو، وہ کہتے ہیں:

''بریلویوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح اور شاعرِ اسلامی پاکستانی محمد اقبال بلکہ پاکستان کے موجودہ صدر محمد ضیا ء الحق کی تکفیر کی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ بریلویوں کے دوست انگریزی استعمار کے دشمن تھے اور انہوں نے انگریز کو نکالنے کے لیے جہاد کیا تھا۔ (عطیہ محمد سالم: تقدیم البریویۃ ص٥)

حالانکہ تحریکِ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اگر علماء اور مشائخِ اہل سنت حمایت نہ کرتے، تو یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکتی تھی یا پھر پاکستان کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔
تفصیل آئندہ پیغامات میں''اسلامی سیاست'' کے عنوان کے تحت ملاحظہ ہو۔

علامہ اقبال اور قائداعظم کے خلاف فتوی دینے کے سلسلے میں تجانبِ اہل السنتہ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔(ظہیر: البریلویۃ ص ٧۔٥۔٢) حالانکہ یہ مولانا محمد طیب کی انفرادی رائے تھی جسے علماء اہل سنت کی جماعتی طور پر تائید حاصل نہیں ہوئی۔ شخص واحد کی انفرادی رائے کو پوری جماعت پر ٹھوس دینا کسی طرح بھی قرینِ انصاف نہیں ہے۔
احسان الٰہی ظہیر لکھتے ہیں:
''ہم یہ عقائد و معتقدات اور ان کے دلائل خود احمد رضا بریلوی ، ان کے خواص اور اس گروہ کے خواص و عوام کے نزدیک معتمد حضرات اور ان نمایاں شخصیات سے نقل کرینگے جو ان کے نزدیک بغیر کسی اختلاف کے مسلم ہوں'' (ظہیر: البریلویۃ ص٥٦)

اَب ان لوگوں سے کون پوچھے کہ تجانب اہل السنتہ کے مصنف مولانا محمد طیب کہاں کی مسلم نمایاں اور غیر متنازع فیہ شخصیت ہیں؟ خود ظہیر صاحب نے بریلویوں کے جن زعماء کا ذکر کیا ہے۔ (ظہیر: البریلویۃ ص ٤۔٥١) ان میں مولانا محمد طیب کا ذکر نہیں ہے، یہ کہاں کی دیانت ہے کہ ان کے اقوال تمام اہل سنت کے سر تھوپ دئے جائیں؟
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:
''مولانا طیب صاحب ہمدانی مصنف تجانبِ اہلِ سنت ''علمی اعتبار سے کسی گنتی اور شمار میں نہیں ہیں، وہ مولانا حشمت علی کے داماد تھے اور ان کا مبلغ علم فقط اتنا تھا کہ وہ شرقپور کی ایک چھوٹی سی مسجد کے امام تھے اور بس! '' تجانب اہل سنت میں جو کچھ انہوں نے لکھا، وہ ان کے ذاتی خیالات تھے، اہل سنت کے پانچ ہزار علماء و مشائخ نے بنارس کانفرنس میں قرار داد قیام پاکستان منظور کرکے مولانا حشمت علی کے سیاسی افکار اور تجانب اہل سنت'' کے مندرجات کو عملاً رد ّکر دیا تھا، لہٰذا سیاسی نظریات میں ایک غیر معروف مسجد کے غیر معروف امام (مولانا طیب) اور غیر مستند شخص کے سیاسی خیالات کو سوادِ اعظم اہل سنت پر لاگو نہیں کیا جا سکتا ، نہ یہ شخص ہمارے لیے حجت ہے اور نہ اس کے سیاسی افکار''۔ (غلام رسول سعیدی، علامہ: ماہنامہ فیضان ، فیصل آباد شمارہ اپریل ١٩٧٨ء ، ص ٢٨۔٢٧)

غزالی زماں علامہ سید احمدسعید کاظمی فرماتے ہیں:
''تجانبِ اہل سنت کسی غیر معروف شخص کی تصنیف ہے جو ہمارے نزدےک قطعاً قابلِ اعتماد نہیں ہے، لہٰذا اہل سنت کے مسلمات میں اس کتاب کو شامل کرنا قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے اور اس کا کوئی حوالہ ہم پر حجت نہیں ہے ، سالہا سال سے یہ وضاحت اہل سنت کی طرف سے ہو چکی ہے کہ ہم اس کے کسی حوالہ کے ذمہ دار نہیں''( قلمی یا دداشت ، حضرت غزالی زماں، تحریر ٢٩ اکتوبر ١٩٨٤ء محفوظ نزدراقم(شرف قادری)۔

اس جگہ اس امر کا تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ تحریکِ پاکستان کے زمانے میں علماء اہلحدیث اور علماء دیوبند کی اکثریت مخالف تھی البتہ بعض علماء حامی تھے۔ مولوی داؤد غزنوی اہلحدیث اور علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندی آخر میں جا کر مسلم لیگ میں شرےک ہوئے، جبکہ اہل سنت و جماعت (بریلوی) کے تمام تر علماء پاکستان اور مسلم لیگ کے حامی تھے۔ اِکادُکا علماء جیسے مولانا حشمت علی وغیرہ ضرور اختلاف رکھتے تھے، لیکن وہ بھی نظریہ پاکستان کے مخالف یا کانگریس کے حامی نہ تھے۔ ان کا اختلاف محض اس بناء پر تھا کہ مسلم لیگ مختلف بد مذہبوں کا ملغوبہ ہے، ہم اس کی حمایت نہیں کر سکتے،اہل سنت کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا سُنّی کانفرنس چونکہ مسلم لیگ کی حامی تھی، اس لیے وہ اس تنظیم سے بھی اختلاف رکھتے تھے۔ ١٩٤٦ء میں آل انڈیا سُنّی کانفرنس ، بنارس کے اجلاس میں پانچ ہزار علماء مشائخ نے ڈنکے کی چوٹ پر مطالبہ پاکستان اور مسلم لیگ کی حمایت کرکے ان حضرات کا انفرادی موقف مسترد کر دیا تھا۔ بعد میں مولانا حشمت علی خان نے بریلی جا کر سُنّی کانفرنس کی مخالفت سے رجو ع کر لیا تھا، جس کا مطلب سوائے اس کے کچھ نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے سُنّی کانفرنس کی مسلم لیگ حمایت کو تسلیم کر لیا تھا۔

حضرت علامہ احمد سعید کاظمی مد ظلہ فرماتے ہیں:
''مولانا حشمت علی خاں کے بارے میں مشہور اور ناقابلِ انکار واقعہ ہے کہ انہوں نے بریلی شریف جاکر مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ تعالیٰ کے سامنے' قیامِ پاکستان اور مسلم لیگ کی حمایت میں منعقد ہونے والی آل انڈیا سُنّی کانفرنس بنارس کی مخالفت سے توبہ کی تھی۔ (قلمی یا دداشت ، حضرت غزالی زماں، تحریر ٢٩ اکتوبر ١٩٨٤ء محفوظ نزدراقم(شرف قادری)

علامہ عثمانی دیوبندی نے حفظ الرحمن سیو ہاروی وغیرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
'' دارالعلوم دیوبند کے طلباء نے جو گندی گالیاں اور فحش اشتہارات اور کارٹون ہمارے متعلق چسپاں کیے جن میں ہم کو ابو جہل تک کہا گیا اور ہمارا جنازہ نکالا گیا، آپ حضرات نے اس کا بھی کوئی تدارک کیا تھا؟'' (ظاہر احمد قاسمی: مکالمۃ الصدرین (دارالاشاعت، دیوبند) ص٢١)

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی حمایت کرنے پر دیوبند کی فضا میں ان کے خلاف کس قدر اشتعال تھا؟

مجاہد ملت مولاناعبدالستار خان نیازی زیرِ عنوان تحریک پاکستان میں غیر مقلدین کا طرزِ عمل لکھتے ہیں:

''برصغیر پاک و ہند کے ہر کہِ ومہِ کو معلوم ہے کہ آپ کے اکثر اکابر نے تحریکِ پاکستان کی سر توڑ مزاحمت کی، بلکہ پاکستان دشمن جماعتوں کے سر خیل اور سرگروہ رہے ہیں۔ مولانا سید اسمعیل صاحب غزنوی کی ذات مستثنیٰ ہے کہ انہوں نے اصولی طور پر پاکستان کی حمایت کی، مگر ان کا کردار نمایاں نہیں رہا، دوسرے عظیم رہنما حضرت مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی جو پنجاب میں ہندو نیشنل کانگریس کے صدر تھے، کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور مولانا ابو الکلام آزاد کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر خضر و زارت کو مسلط کیا، البتہ عوام اہل حدیث کا رحجان نظریہ پاکستان کے حق میں تھا اور بالا آخر اِن کے دباؤ سے مولانا سید محمد داؤد صاحب غزنوی بھی تحریک پاکستان میں شامل ہو گئے۔'' ( عبدالستار خان نیازی مولانا: نعرہ حق(مکتبہ رضویہ، گجرات) ص ٤٥)

احسان الٰہی ظہیر وکیل اہل حدیث محمد حسین بٹالوی کی انگریز نوازی سے انکار نہیں کر سکے، اس لیے گلو خلاصی کرانے کے لیے اپنے خیال میں آسان راستہ تجویز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''رہا معاملہ محمد حسین بٹالوی کے دو ایڈریسوں کا، تو ہم اس سلسلہ مین متنبی قادیانی کی امت کی طرح کسی قسم کی تاویل و تحریف کے چکر میں پڑنے کی بجائے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگرکسی فرد یاچند افراد نے ایسا کیا ، تو غلط کیا ہم انہیں نہ معصوم سمجھتے ہیں نہ صاحب شریعت کہ ان کی ہر بات ہمارے لیے حجت وسند ہو قوم میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جن سے غلطیوں اور لغزشوں کا صدور ہوتا ہے، ان سے مجموعی طور پر قوم کے دامن پر دھبہ نہیں لگ سکتا اور نہ ہی ان کی بنا پر کسی گروہ کو مطعون کیا جا سکتا ہے''۔ (ظہیر: مزائیت اور اسلام(ادارہ ترجمان السنۃ، لاہور) ص ٢٣٣)

یہی فارمولا اہل سنت کی طرف سے پیش کیا جائے، تو قابلِ قبول کیوں نہیں ہے۔ چند افراد کے افکار کی ذمہ داری تمام جماعت پر کس طرح ڈالی جا سکتی ہے ؟ ہمارے علماء نے بھی لگی لپٹی کے بغیر تجانب اہل السنۃ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

پھر یہ امر بھی لائقِ توجہ ہے کہ جن ایڈریسوں کی ذمہ داری تنہا بٹالوی صاحب پر ڈالی جاری ہے، ان میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ بلکہ اہل حدیث کے بڑے بڑے (شیخ الکل قسم کے) علماء بھی شامل ہیں، چند اسماء ملاحظہ ہوں، لارڈ ڈفرن، گورنر جنرل اور وائسرائے ہند کو دئیے گئے ایڈریس (سپاس نامہ) میں شامل چند علماء کے نام یہ ہیں:

'' مولوی سید محمد نذیر حسین دہلوی، ابو سعید محمد حسین (بٹالوی) وکیل اہلحدیث ہند، مولوی محمد یونس خاں، رئیس دتاولی علیگڑھ، مولوی قطب الدین، پیشوائے اہل حدیث روپڑ، مولوی محمد سعید، بنارس، مولوی الٰہی بخش پلیڈر، لاہور، مولوی سید نظام الدین پیشوائے اہل حدیث ، مدراس وغیرہ''۔ (محمد حسین بٹالوی: اشاعتہ السنۃ ج ١١ شمارہ ٢، ص ٤٢-٤١) اس وقت کہ اہل حدیث کے جتنے بڑے بڑے پیشوا ہیں وہ سب اس ایڈریس سپاس نامے میں شریک ہیں، مگر پوری قوم کا جرم ایک بے چارے بٹالوی کے سر منڈھا جا رہاہے ، اس کے برعکس اہل سنت و جماعت کے چند افراد کے افکار کی ذمہ داری پوری جماعت پر ڈالی جاری ہے۔ اس الٹی گنگا کا یا علاج؟
پھر لطف کی بات یہ کہ سرفہرست میا ں نذیر حسین دہلوی کا نام ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟ خود ان سے سنیے:

''قائدِ اہل حدیث، سلف صالح کے متبعین کے زعیم، بلند پہاڑ ، شیخ الکل، سید نذیر حسین محدث دہلوی۔'' ( ظہیر: البریلویۃ ص٣٧)

''محدثِ جلیل ، عالمِ نبیل، اپنے دور میں طائفہ منصورہ کے شیخ ربانی، اولادِ رسول، سید نذےر حسین دہلوی، جنہوں نے پاک و ہند میں سنت کا جھنڈا بلند کیا، جہالت اور گمراہی کے اندھیروں کو دور کیا، اس خطے کو کتاب و سنت کے نور سے منور کیا، جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی مسند پر بیٹھا اور اس نے ان کی تعلیمات کی تنقیح ، تہذیب اور تجدید کی۔'' (ایضاً: البریلویۃ ص١٦٢)

ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، اہل حدیث کے شیخ الکل کی اس سپاسنامے میں حاضری ہی پوری جماعت اہل حدیث کی حاضری تھی، لیکن ان کے ساتھ ساتھ علی گڑھ، روپڑ بنارس، لاہوراور مدراس وغیرہ مقامات کے پیشوا ےانِ اہل حدیث بھی شامل ہوں تو اس سپاسنامے کی ذمہ داری صر ف بٹالوی کے سر ڈال دینا انصاف کا خون بہا دینے کے مترادف ہوگا۔ پھر محمد حسین بٹالوی بھی اہل حدیث جماعت کا کوئی معمولی فرد نہیں ہے، بلکہ تمام اہلحدیث کا وکیل ہے، اس کی ایک اپیل پر ہزاروں قراردادیں ملک کے طول و عرض سے موصول ہو جاتی ہیں۔

Ya Mustafa
07-02-2011, 11:59 AM
علامہ اقبال نجدی علماء کی نظر میں


عطیہ محمد سالم ، علامہ اقبال کا ذکر ان الفاظ مں کرتے ہیں:

اسلامی پاکستانی شاعر محمد اقبال (عطیہ محمد سالم : تقدیم البریلویۃ ص٥)

البریلویۃ کے مصنف ان کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
'' شاعرِ رسالت محمد یہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام، ہندو پاک میں مسلمانوں کا شاعر جس نے اس خطہ کے لوگوں میں جہاد کی روح پھونکی۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر محمد اقبال ''(ظہیر: البریلویۃ ص٥-٢)

غالباً ان دونوں (مصنف اور مقدمہ نگار) کو معلوم نہیں ہے کہ نجدی علماء کی علامہ اقبال کے بارے میں کیا رائے ہے؟ روزنامہ نوائے وقت لاہور ، میں جناب محمد امین کا ریاض(سعودی عرب) سے بھیجا ہوا مراسلہ چھپا تھا، جس کا عنوان ہے:

سعودی عرب میں اقبالیات کا ابلاغ

ان کا بیان ہے کہ ١٩ نومبر (١٩٨٠ئ) کو ریاض یونیورسٹی میں اسلامی فکر کی تجدید کے عنوان سے ایک سیمینار ہوا، جس میں سعودی عرب کے سب سے بڑے مذہبی رہنما شیخ عبد العزیز بن باز، معروف مصری مفکر محمد قطب (سید قطب شہید کے بھائی) سوڈان کے ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس اور معروف مؤلف اور روشن نظر عالم دین جناب محمد صباغ نے خطاب کیا۔ سیمینار کے آخر میں سوال و جواب کا ایک پروگرام ہوا اور اس نشست کا آخری سوال اقبال کی کتاب تشکیل جدید الٰہیات اسلامی کے بارے میں تھا جس کا عربی ترجمہ تجدید التفکیرالدینی فی الاسلام کے نام سے موجود ہے۔ ڈاکٹرجعفر شیخ ادریس نے یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ اس کتاب میں کچھ باتیں قابلِ اعتراض ہیں۔ معتدل مؤقف اختیار کیا، لیکن استاذ صباغ نے اقبال پر شدید تنقید کی اور کہا:
''اس کتاب کی عبارتیں گمراہ کن ہیں، بلکہ اس میں بعض باتیں کفر تک لے جانے والی ہیں، یہ انتہائی خطر ناک کتاب ہے اور طلباء کو اس سے متنبہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایسی کتابیں بغیر تعلیق اور حواشی کے نہیں چھپنی چاہئییں۔''

مراسلہ نگار لکھتے ہیں:
''سوءِ اتفاق سے جنا ب محمد قطب نے بھی استاذ صباغ کی تائید کی اور کہا کہ اس کتاب کا پڑھنا عام طلبا ء کے لیے خطر ے سے خالی نہیں ، اس میں بہت سی باتیں خلافِ حقیقت ہیں، نیز یہ کہ اقبال مغربی فلسفے اور خاص کر جرمن فلسفے سے متاثر ہے اور تصوف کے بعض غیر اسلامی نظریوں کا قائل ہے۔ '' (روزنامہ نوائے وقت ، لاہور: شمارہ یکم دسمبر ١٩٨٠ء ص٣)

کیا البریلویۃ کے مصنف اور تقدیم نگاریہ وضاحت کریںگے کہ شاعرِ اسلامی ، شاعر رسالت محمدیہ کے بارے میں یہ رویہ کیوں اختیار کیا گیا؟ اور شیخ عبدالعزیز اور دیگر سکالروں نے یہ سب فتوے سن کر اختلاف کیوں نہ کیا؟ کیا یہ نجدی علماء کا اجما ع سکوتی نہ ہوگا؟ پھر تصوف کے ان غیر اسلامی نظریوں کی وضاحت بھی ہونی چاہیے، جن کا اقبال قائل ہے۔

malang009
07-03-2011, 10:03 AM
Masha Allah buhat achi sharing ki bhai ne