PDA

View Full Version : خلاصۃ القرآن



Attari1980
08-02-2011, 09:26 AM
پہلی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

پہلی تراویح سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی 176 آیت تک مشتمل ہے۔ صدرالافاضل علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر خزائن العرفان میں سورۃ الفاتحہ کے بیس نام ذکر کیے ہیں ۔ اس سورت میں تعلیماً بندوں کی زبان میں کلام کیا گیاہے یعنی بندوں کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ بندوں کو اپنے رب سے دعا کس انداز میں اور کن آداب کا خیال رکھ کر مانگنی چاہیے۔ دارمی شریف کی روایت ہے کہ سورۃالفاتحہ سو مرتبہ پڑھ کر جو دعا مانگے اللہ تعالٰی قبول فرماتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ البقرہ ہے جو قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ہے اسی سورت میں آیت الکرسی بھی ہے، جو قرآنِ مجید کی بڑی آیتوں میں سے ایک بڑی آیت ہے۔ سورۃ بقرہ کی ابتدا، تقویٰ، ایمان بالغیب، نماز اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی تعریف کے ساتھ ہو رہی ہے۔ آج کی تلاوت میں عبادات و معاملات کے شرعی احکام کا بیان کیا گیا ہے جن میں ماہِ رمضان کے روزے، بیت اللہ کا حج ، جہاد فی سبیل اللہ، والدین کے ساتھ حسن سلوک، قرابت داروں اور رشتہ داروں کے حقوق، زکوٰۃ و صدقات کے مصارف، یتیموں کی کفالت اور معاشرتی و خانگی معاملات میں سے نکاح و طلاق و ایلائ کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس میں قسم کا شرعی حکم ، جادو کا حرام ہونا، اور کسی کو ناحق قتل کرنے کی ممانعت کا بھی ذکر ہے۔ آج کی تلاوت میں حضرت آدم کی تخلیق ، فرشتوں کا ان کو سجدہ کرنا اور شیطان کا اس حکم کے ماننے سے انکار کرنا اور پھر ہمیشہ کےلئے مردود ہونے کا ذکر ہے۔ جس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ عزوجل کے کسی بھی حکم کی مخالفت اور کسی نبی کی بے ادبی ہمیشہ کے لئے بربادی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کا ذکر ہے ۔ آپ کے بعد آپ کی قوم کا ایک سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی پوجا کرنے اور حضرت ہارون و موسیٰ علیہ السلام کے ان کو سمجھانے اور ان کے توبہ کرنے کا ذکر ہے۔ پھر ان کو کسی محنت کے بغیر ملنے والی من و سلویٰ کی غذا کی نعمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم یعنی یہودی فطری طور پر نہایت ناشکری، کج بخثی کرنے والی اور منافق قوم کے طور پر سامنے آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بھی ذکر ہے جنہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ کے گھر کو تعمیر کیا۔ اس کے بعد قبلہ کی تبدیلی کا بھی ذکر ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا ایک روشن باب ہے۔
(خلاصۃ القُران از مولانا محمد عمران معراج نافع القادری)

Attari1980
08-02-2011, 09:39 AM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
دوسری تراویح کا خلاصہ

دوسری تراویح دوسرے پارے کے ربع سے لے کر تیسرے پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ سورۃ بقرہ اپنی جامعیت کے اعتبار سے انتہائی اہم۔ جس میں اللہ تعالٰی نے اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے آپس میں کیا حقوق ہیں، انہیں بیان کیا ہے۔ اسی طرح نظامِ معاشرت کے معاملات میں نکاح و طلاق کے مسائل کو بھی کسی حد تک تفصیل کے ساتھ بیان کیا کیا ہے۔ باہمی لین دین اور مرنے والے کی وصیت کے حکم کو بیان کیا گیا ہے۔ سود کی مذمت کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سود خور بروزِ قیامت مخبوط الحواس ہو کر اٹھے گا۔ شراب نوشی کی حرمت اور حلال و حرام اشیائ کا مختصر ذکر کیا گیا ہے۔ صبر کرنے والوں کی پذیرائی، یتیم و مساکین، راہ گیر اور سائلین پر خرم کرنے کو احسن شمار کیا گیا ہے۔ باطل اور غیر شرعی طریقوں سے مال کمانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، کفار سے جہاد اور حج و عمرہ کے احکام اور فضائل و مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ تقویٰ کو سب سے بہتر توشہ کہا گیا ہے۔ اگر کوئی بلاوجہ کسی پر ظلم و ستم اور ناانصافی و زیادتی کرے تو اگرچہ معاف کرنا افضل ہے جس کے فضائل قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہیں، لیکن پھر بھی اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ جس قدر تم پر ظلم کیا گیا ہے اس قدر تم بھی بدلہ لے سکتے ہو، لیکن یہ بات یاد رہے کہ فقط اتنا بدلہ لیا جائے گا جتنا ظلم کیا گیا ہے، اگر اس نے کچھ زیادتی کی تو اب یہ ظلم کہلائے گا۔ شیطان کی پیروی سے سخت منع کیا گیاہ اور اسلام میں پورے پورے داخل ہونے کا حکم ہے۔ مشرکہ عورتوں سے نکاح کو حرام قطعی قرار دیا گیا ہے، اور ایسی صورت میں اولاد حرامی ہوگی۔ ایام مخصوصہ میں عورتوں سے قربت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ بچے کی حقیقی ماں یا ضرورت کے پیش نظر کسی نیک اور صالحہ عورت سے دوسال تک دودھ پلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر طلاق والی عورتوں کو ایامِ مخصوصہ آتے ہیں تو ان کی طلاق کی عدت تین مرتبہ ایام مخصوصہ کے آنے کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر عورت کو تین طلاقیں ایک لفظ کے ساتھ یا تین الفاظ کے ساتھ دیں تو سوائے حلالہ شرعیہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا اللہ اس کے مال میں کئی گناہ اضافہ فرمادے گا۔ اچھی بات اور صدقے کو اس احسان سے اچھا کہا گیا ہے کہ جس کے بعد تکلیف دینے کیلئے جتلانا پایا جائے۔ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل کے طور پر حضرت عزیز علیہ السلام کے ۱۰۰ سال تک موت کی حالت میں رہنے اور پھر دوبارہ جہ اُٹھنے اور قیامت کا بھی ذکر ہے۔

(خلاصۃ القُران از مولانا محمد عمران معراج نافع القادری)

Administrator
08-02-2011, 02:36 PM
:ja :ma :sub

Attari1980
08-03-2011, 09:12 AM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
تیسری تراویح کا خلاصہ

تیسری تراویح ، تیسرے پارے کے نصف سے چوتھے پارے کے ثلث کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اب اللہ تعالی کے نزدیک قابلِ قبول دین فقط اسلام ہی ہے۔ کفار و مشرکین کو اپنا رازدار بنانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ عزت و ذلت دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ جنگِ بدر کا بھی ذکر ہے جس میں باوجود سامان کی قلت کے مسلمانوں کو اللہ کی ذات پر کامل توکل کی وجہ سے شاندار فتح نصيب ہوئی اور جنگ اُحد کا بھی ذخرکیا گیا ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف سے عدم توجہ کی وجہ سے مسلمانوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے بعد حضرت مریم کی والدہ کا اس بات کی منت ماننے کا ذکر ہے کہ جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اے اسے اللہ کے گھر کی خدمت کےلئے وقف کردوں گی۔ پھر حضرت مریم کے اللہ کے گھر کے لئے وقف ہونے اور اللہ کی طرف سے آپ کو انواع و اقسام کے پھلوں کے ملنے کا تذکرہ ہے۔ حضرت مریم وہ واحد خاتون ہیں جن کا نام قرآن میں مذکور ہے۔ اس کے بعد استطاعت والے پر حج کو فرض کیا گیا ہے۔ قیامت میں کچھ چہرے کالے ہوں گے یہ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگی اللہ و رسول کی نافرمانیوں میں گزاری ہو گی، انہیں جہنم کا عذاب ہوگا، اور نیک لوگ سفید چہروں والے ہوں گے جنہیں اعزاز و اکرام کے ساتھ جنت میں داخل کیا جائے گا۔ نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اور ایمان لانے کی بناء پر مسلمانوں کو سب اُمتوں سے بہترین کہا گیا ہے۔ تنگی و آسانی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے، اللہ کی رضا کی خاطر غصہ کو پی جانے ، اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ فرمایا گیا کہ اگر تم کافروں کے کہے پر چلتے رہے تو یاد رکھو وہ تمہیں کفر کی خارزاروں میں دھکیلنے کی پوری کوشش کریں گے، اور اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو دنیا و آخرت کی تباہی و بربادی تمہارا مقدر بن جائے گی۔ ارشاد فرمایا کہ جو اللہ کے کہے پر چلے اور جو اس کی نافرمانی کرے، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لوگوں کی طرف مبعوث ہونے کا ذکر خاص طور پر اللہ نے احسان جتلاکر فرمایا، اور حضور کے اوصاف میں سے ذکر کیا گیا کہ یہ رسول ان پر ان کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کا تزکیہ نفس کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی راہ میںشہید کردئیے جائیں انہیں مردہ گمان کرنے سے بھی منع کردیا گیا اور یہ فرمایا کہ انہیں ان کے رب کے پاس سے رزق ملتاہے۔

Attari1980
08-04-2011, 09:11 AM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
چوتھی تراویح کا خلاصہ



آج کی تروایح چوتھے پارے کے رُبع سے پانچویں پارے کے اختتام تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ یتیموں کو ان کا مال ایمان داری سے دینے کا حکم دیا گیا ہے، اور دیتے وقت اچھے مال کے بجائے برا مال دینے کی ممانعت کی گئی ہے اور اس نیچ حرکت کو بڑا گناہ کہا گیا ہے۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ ڈال رہے ہیں۔ اس کے بعد وراثت کے مسائل بیان کیے گئے ہیں، وراثت کے مسائل کو قرآن نے کھل کر بیان کر دیا ہےجن میں قیامت تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ اگر مرد عورت بدکاری کریں تو سزا کے لئے چار عینی گواہوں کی شہادت کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ باپ اور دادا، نانا کی منکوحہ عورتوں، بہنوں، بیٹیوں، پھوپھیوں، بھتیجیوں، خالائوں، بھانجیوں کے ساتھ ساتھ رضاعت کے رشتہ سے ماں، بہن وغیرہا کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ مرد کےلئے بیک وقت چار عورتوں سے نکاح جائز قرار دیا گیا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کے مابین عدل و انصاف کو برقرار رکھے۔ اور اگر عدل نہیں کر سکتا تو ایک ہی بیوی رکھنے کا حکم ہے۔ عورتیں اگر شوہر کے جائز حکم کا انکار کریں تو اولاً ان کو سمجھائے، نہ ماننے پر بستر جدا کرنے اور پھر بھی نہ ماننے پر بقدرِ ضرورت معمولی مار کی اجازت ہے۔ باطل طریقوں سے مال کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اور جائز طور پر باہم رضا مندی کے ساتھ خرید و فروخت یا ہدیہ و صدقہ کے طور پر ملنے والے مال کو کھانے کی اجازت ہے، خودکشی کی ممانعت کی گئی ہے۔ حالتِ نشہ اور حالتِ جنب میں نماز پڑھنا گناہ ہے۔ اسی حصے میں نمازِ خوف کے پڑھنے کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں، اللہ فرماتا ہے کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لوگوں کو ان کی امانتیں ادا کردیا کرو اور جب لوگوں کے مابین فیصلہ کرنا ہوتو اپنے پرائے اور غریب امیر کی تمیز کئے بغیر عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ فرمایا جب تم اپنی جانوں پر ظلم کر لو تو اللہ کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اللہ سے استغفار چاہو اور رسول اللہ بھی تمہارے لئے استغفار کریں تو تم اللہ کو بہت بڑا توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا پائو گے۔ نفس کے دھوکے میں آکر ہونے والے گناہ کو سچی توبہ ختم کر ڈالتی ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں ان کے پاس بیٹھنے کی ممانعت ہے، منافقوں کے بارے میں ذکر کیا کہ وہ ریا کاری کرتے ہوئے سستی کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔

Madani Munna
08-04-2011, 12:34 PM
:ja

Attari1980
08-05-2011, 09:04 AM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
پانچویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

پانچویں تراویح چھٹے پارے کے شروع سے ساتویں پارے کے ربع اول تک کی تلاوت پر مشتمل ہے، آج کی تراویح میں حضرت موسی علیہ السلام کی قوم یعنی یہودیوں کی کرتوتوں کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ بدبخت قوم ہے جس نے اپنے رب سے کئے گئے عہدوپیمانوں کو بار بار توڑا، آیاتِ الہی کا انکار اور انبیاءکرام کے قتل جیسے گناہوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت مریم پر بہتان بھی لگایا اور یہ جھوتا دعوی کیا کہ ہم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو معاز اللہ قتل کر دیا ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھالیا۔ عیسائیوں کے تین خدائوں کے عقیدہ کو باطل قراردیا گیا ہے۔ نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا حکم ہے جبکہ گناہ اور زیادتی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد ممنوع و گناہ ہے۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت کا ذکر ہے، یہ خصوصیت فقط مسلمانوں کے ساتھ خاص ہے کہ ان کے لئے پوری زمین مسجد بنادی گئی اور مٹی اور جو چیز مٹی کی جنس میں سے ہو اسے پاک کرنے والی بنادیا گیا ہے۔ خون، خنزیر، مردار، جھٹکے سے مار ڈالا جانے والا جانور، کسی زخم کے صدمے میں اپنی موت مر جانے والا اور جسے کوئی درندہ کھا جائے اور وہ جانور کہ بوقتِ ذبح جس پر غير اللہ کا نام پکاراجائے، یہ سب حرام ہیں۔ اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کے دوبیٹوں قابیل اور ہابیل کا ذکر ہے، ان میں سے قابیل نے عورت کی خاطر ہابیل کے پہلے قتل کا ارتکاب کیا، اب قیامت تک جتنے ناحق قتل ہوں گے سب کے گناہ میں یہ برابر کا شریک ہو گا۔ بلااجازتِ شرعی ایک انسان کو بھی مارنا سارے انسانوں کے قتل کے مترادف قراردیا گیا ہے۔ کفار وبدمذہب لوگوں سے قلبی دوستی حرام ہے۔ اس کے بعد نبی اسرائیل میں سے بعض کے بندر و خنزیر بنائے جانے کا ذخر ہے۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی اور مشرکین ہیں۔ قرآن کی تاثير یہ ذکر کی کہ اس کے سننے والوں پر بعض اوقات رِقت طاری ہوجاتی ہے۔ جن اشیاء کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے انہیں حرام قرار دینے کی ممانعت ہے۔ قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کردو یا دس مساکین کو دونوں وقت کا کھانا دو یا پھر انہیں کپڑا پہنا دو۔ حالتِ اِحرام میں شکار سے منع کردیاگیا۔ دریائی شکار یعنی مچھلی کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ اور فرمایا کہ خبیث اور طیب چیزیں آپس میں کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتیں۔ اور یاد رکھئیے کہ مستحب ہے کہ جب کسی کا آخری وقت ہو اور بچنے کی امید نہ ہوتو صالح مردوں کی موجودگی میں اپنے وَرثہ کو اپنی وصیت لکھوادے۔

Attari1980
08-06-2011, 12:05 PM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
چھٹی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ



چٹھی تراویح ساتویں پارے کے ربع اول سے آٹھویں پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں حضرت عیسی علیہ السلام کے اللہ کی بارگاہ سے خوان اتارے جانے کی دعا کا ذکر ہے، تاکہ ان کیلئے اور ان کی امت کیلئے عید کا دن ٹھہرے۔ نیک لوگوں کو یہ مژدہ سنایا گیا کہ وہ اللہ سے راضی اور اللہ ان سے راضی ہے۔ کفار کی ہنسی مذاق کے وقت حضور کی تسلی کےلئے اللہ نے فرمایا اے محبوب: تم سے پہلے انییاء کے ساتھ بھی ٹھٹھا مذاق کیا گیا ہے اس لئے آپ صبر فرمایئے۔ لیکن جو آپ سے ٹھٹھا مذاق کرنے والے ہیں انہیں یہ لے ڈوبے گا۔ فرمایا کہ دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کئے جانے کے مقامات دیکھو تاکہ تمہیں عبرت ہو۔ جب بھی کوئی مصیبت آپڑے تو صبر کرنا چاہیے اور فوراً اللہ بارگاہ میں گڑگڑا کر التجاء کرنی چاہئے۔ فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراو، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اپنی اولاد کو تنگدستی کے اندیشہ کی وجہ سے قتل نہ کروکہ ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کے حصے کا رزق بھی دیں گے، بے حيائی کے کاموں کے قریب بھی نہ پھٹکو، کسی جان کو ناحق قتل مت کرو، ناپ تول پوری دیانت داری کے ساتھ کرو، فرمایا کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو رات کے وقت تم پر نیند کو ملسط کرتی ہے، جو ایک طرح سے موت ہے، اور پھر دن میں کاروبارِ زندگی کے لئے ہشاش بشاش فرمادیتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں کے کفر و شرک اور بدمذہبی اپنا کر دنیا و آخرت کا خسارہ اختیار کر لیاہے، اور اپنے مکروہ عقائد و معمولات کو عام کررہے ہوں ایسے ظالمین کے پاس بیٹھنے کی ممانعت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کردیں۔ جو لوگ اپنے دین کو ہنسی بنالیں اور دنیا کے مکرو فریب میں آجائیں انہیں قرآن سے نصيحت کرنے کا حکم ہے، ہوسکتا ہے کہ کوئی نصیحت حاصل کرلے۔ پھر حضرت ابراہیم کے اپنے چچا آزر کو بت پرستی سے روکنے کا ذکر ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہارے پاس میری دلیلیں آپہنچیں لہذا جس نے انہیں دیکھا اور تصدیق کی تو وہ اپنا ہی بھلا کر رہا ہے اور جس نے اندھے پن کو اختیار کیا تو اس کا نقصان اسی ذات کو ہے۔ اس میں اللہ کا نہ کوئی فائدہ ے اور نہ ہی نقصان ۔ جسے اللہ راہِ حق دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنے کا ارادہ فرمالے اسلام کی طرف سے اس کا سینہ خوب تنگ فرمادیتا ہے۔ جو ایک نیکی کرنے اسے دس گنا ملے گا لیکن گناہگار کو اتنا ملے گا جتنا گناہ کیا ہے، اللہ کسی جان پر اس بوجھ سے زیادہ بار نہیں ڈالتا۔

Attari1980
08-07-2011, 05:15 PM
ساتویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

ساتویں تراویح آٹھویں پارے کے نصف سے نویں پارے کے ثلث تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں اللہ تعالی فرماتا ہے اللہ تعالی نے جو تم ایمان والوں کی طرف نازل کیا اس کی پیروی کرو، شیطان کا ذکر ہے کہ اس نے اپنے آپ کو آدم علیہ السلام سے بہتر کہا اور کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں جبکہ آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے، اللہ نے اس کے تکبر بھرے جملے سے ناراض ہو کر اسے جنت سے نکال دیا۔ لیکن قیامت تک اس کو مہلت دے دی گئی، اب یہ بنی نوع انسان کو ہر طرف سے گناہ کی دعوت دیتا ہے، ہر شخص پر لازم ہے کہ اس کے داو پیچ معلوم کرے اور ان سے بچ کررہے ۔ جائز کھانے پینے کی اجازت دی گئی اور اس میں اسراف سے منع فرمایا، اللہ کی مقرر کردہ حدود کی پاسداری لازم ہے اور ہرگز ہرگز اس کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اس کے بعد متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت اور ان کی قوموں کے احوال اور ان کی سرکشیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ نیز ان پر جو اللہ کے عذابات نازل ہوئے وہ بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ اور ان کے ذکر کا مقصد فقط واقعات و قصے بیان کرنا نہیں بلکہ ان کے ذکر سے عبرت کا حصول مقصود ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی اغلام بازی یعنی مرد کا مرد سے جنسی خواہش پوری کرنا، اس کا بھی ذکر ہے، ان لوگوں پر آسمان سے پتھر مارے گئے، ہر پتھر پر کسی کافر کا نام تھا جو اسے جا لگتا جس کے لگتے ہی وہ کافر جہنم رسید ہوجاتا۔ اللہ کی خفیہ تدبیر سے ڈر کر رہنا چاہئے، اس سے بے خوف وہی ہوتے ہیں جن کے مقدر میں تباہی لکھ دی جاتی ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ کیسا ہوگا؟ ہر وقت اس سے ایمان پر خاتمے کی دعا مانگنی چاہیے۔ اس کے بعد موسی علیہ السلام کے فرعون کی طرف جانے، اسے سمجھانے، اور اللہ کی عبادت کی طرف بلانے کا ذکر ہے، جبکہ اس نے سرکشی کی اور آپ کے مقابلے میں جادوگروں کو بلاوا لیا لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے معجزات دیکھ کر وہ آپ پر ایمان لے آئے، فرعون نے پھر بھی انکار ہی کیا اور بالآخر اسے دریائے نیل میں غرق کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و خصائل کو بیان کیا گیا ہے کہ یہود و عیسائی آپ کا ذکر تورات، انجیل میں بھی پاتے ہیں ، کہ آپ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اور لوگوں پر ستھری چیزیں حلال اور گندی چیزیں حرام فرماتے ہیں۔ فرمایا جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ کفار و مشرکین آنکھ، کان اور دل رکھنے کے باوجود حق دیکھنے، سننے اور اسے قبول کرنے سے محروم ہیں یہ لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

Attari1980
08-08-2011, 10:10 AM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]-->
آٹھویں تراویح کا خلاصہ



آٹھویں تراویح کا درس نویں پارے کے ربع آخر سے دسویں پارے کے آخر تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی سے ڈرو، آپس میں میل جول رکھو، اللہ عزوجل اور رسول کا حکم مانو، اور ایمان والوں کی ایک نشانی یہ بیان کی کہ جب ان کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا ہوجاتا ہے، اور ان کی ایمانی کیفیات میں اضافہ ہوجاتا ہے، مال اور اولاد کو آزمائش کہا گیا ہے ، اللہ نے فرمایا، اے محبوب : جب تک تم ان ایمان والوں میں تشریف فرما ہو اللہ ان کو عذاب نہ دے گا، اللہ کے دین کو بلند کرنے اور مظلوموں کو ظلم سے بچانے کے لئے کافروں سے قتال کرنا جہاد ہے، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ بدترین وہ لوگ ہیں جو حق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ اس سے تمہاری قوت متاثر ہوگی، اللہ تعالی اس وقت تک کسی قوم کو دی ہوئی نعمت کو نہيں بدلتا جب تک وہ خود اپنی بداعمالیوں کے سبب نعمتوں کو زائل نہيں کرلیتے۔ وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں، انہیں جانوروں سے بھی بد تر کہا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار سے مقابلے کے لئے جو ہتھیار بَن پڑے تیار رکھنے چاہئیں۔ فرمایا: اے غيب کی خبریں دینے والے نبی: اللہ اور یہ ایمان والے تمہیں کافی ہیں، ان ایمان والوں کو کفار سے جہاد کی ترغیب دو، فرمایا، تم دنیا کا مال و منال چاہتے ہو اور اللہ تمہارے لئے آخرت کو پسند فرماتا ہے، اس کے بعد مہاجرین و انصار کے فضائل و مناقب بیان کئے گئے ہیں، وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے، اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتے اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کردیتے ہیں۔ ان کا درجہ اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے، یہ لوگ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہیں اللہ انہیں اپنی رحمت ، اپنی رضا مندی اور جنت کے باغات کی خوشخبری دیتا ہے، اگر ماں باپ اور بہن بھائی اسلام کے مقابل کفر و بدمذہبیت کو پسند کریں تو ان سے قلبی تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔ اور دیگر معاشرتی معاملات بھی بقدر ضرورت ہی رکھنے چاہیئں جبکہ گمراہی کا قوی اندیشہ نہ ہو، مساجد وغیرہ نیز دیگر خالصتاً مذہبی کاموں جیسے مدارس کی تعمیرات، ان میں کفار سے امداد لینا ممنوع ہے، فرمایا: اے محبوب : اعلان فرمادو کہ اگر تم لوگوں کو تمہارے ماں باپ، بھائی بہن، بیویاں اور تمہارا کنبہ، مکانات اور مال وغیرہ اللہ ورسول کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو یاد رکھو اللہ تم سے ناراض ہے ، اور ایسی صورت میں تم لوگ اللہ تعالی کے عذاب کا انتظار کرو۔

Attari1980
08-09-2011, 12:40 PM
نویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

آج کی نویں تراویح میں کی گئی تلاوت گیارھویں پارے کی ابتداء سے لے کر بارھویں پارے کے ربع اول تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں ایسے منافقین کا ذکر کیا گیا ہے جو زکوۃ کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں، اسلام قبول کرنے میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے، مہاجرین اور انصار اور وہ لوگ جو نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کو اپنی رضا مندی کا مژدہ سنایا ہے، فرمایا اے محبوب : ان سے زکوۃ وصول کرو یہ صدقہ انہیں ستھرا اور پاکیزہ کر دے گا، اور آپ ان کیلئے دعاءِ خیر فرمائیں کہ آپ کا ان کے لئے دعا کرنا ان کے دلوں کے چین کا باعث ہے، مسجد کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان اور ان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ اس کی بنیاد تقوی اور خوفِ خدا پیدا کرنے کے طور پر ہو۔ اور مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں اگرچہ وہ اپنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں، مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہیے جو دین کا کافی علم حاصل کریں اور تکمیلِ حصولِ علم کے بعد اپنی قوم کو ڈر سنائیں ، سورج و چاند اور دن اور رات کے بدلنے میں اللہ کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں اور وہ لوگ جو آخرت اور قیامت اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں رکھتے، اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں، اس پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں اور اللہ آیات سے غافل ہیں، ان کے کفر کے سبب ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اللہ نے انسانوں کی فطرت بیان کی کہ جب اسے کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے تو اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں اللہ کو پکارتا ہے اور جب اللہ اس کی پریشانیوں کو دور کر دیتا ہے تو ایسا ہو جاتا ہے گویا کہ کسی تکلیف پر اللہ کو پکارا ہی نہ تھا، جو لگ نیکی کرنے والے ہیں ان کی بھلائی میں اضافہ ہوگا، ان کے منہ پر نہ تو سیاہی چڑھے گی اور نہ ہی خواری۔ لیکن جنہوں نے برائی ہی کمائی، انہیں ان کی برائی کا بدلہ بھی ملے گا اور ان کے منہ پر سیاہی و خواری بھی چڑھے گی، انہیں عذاب الہی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھادیئے جائیں گے، جب کسی کا آخری وقت آجائے تو اب اس میںکوئی کمی پیشی یا تاخیر نہیں ہوسکتی، ہرجان اپنے وقت پر مرے گی نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ اللہ نے زمین آسمان کو چھ دنوں میں تخلیق کیا۔ جو اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ نوح کی کشتی اور اس میں سوار ہونے والے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے دنیا کی خاطر آخرت برباد کرنے والے تباہ و برباد ہیں۔

Attari1980
08-10-2011, 12:23 PM
دسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
دسویں تراویح بارھویں پارے کے ربع اول سے لے کر کر تیرھویں پارے کے نصف کی تلاوت پر مشتمل ہے، آج کی تلاوت میں اللہ نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے ہیں یہ نہ تو دنیا میں ان کے کام آتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کام آئیں گے۔ اللہ تعالی جب کسی ظالم بستی والوں کی پکڑ فرماتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے، قیامت میں بعض شقی و بدبخت ہوں گے اور بعض سعید و خوش قسمت، بدبخت جہنم میں رہیں گے جب تک اللہ چاہے گا، جب کہ سعادت مند ہمیشہ ہمیشہ کی جنتوں میں ہوں گے۔ جو لوگ کفر و شرک اور ظلم کرنے والے ہیں ان کی طرف قلبی میلان ممنوع ہے۔ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس کے بعد سورہ یوسف ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے، آپ نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، آپ علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ خواب سنایا، اس پرانہوں نے آپ کو اسے اپنے بھائیوں کو سنانے سے منع کردیا، حضرت یعقوب علیہ السلام آپ سے اپنی سب اولاد سے زیادہ محبت کرتے تھے، اسی بناء پر آپ کے بھائیوں نے آپ سے حسد کی وجہ سے آپ کو پہلے تو کنویں میں پھینک دیا اور پھر راہ گیروں کے ہاتھ اُونے پونے داموں میں بیچ دیا، بعد میں آپ بکتے بکتے مصر کے بادشاہ کے ناحق غلام بنالئے گئے، عزیزِ مصر کی بیوی زلیخا نامی عورت آپ پر عاشق ہو گئی اور اس نے آپ کو بہکانے کی پوری کوشش کی، لیکن اللہ نے آپ کو بچا لیا، بعد ازاں آپ کو ناحق قید میں ڈال دیا گیا، دو سرکاری ملازموں نے آپ سے اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر معلوم کی آپ نے ارشاد فرما دی ، اس کے بعد بادشاہ نے بھی ایک خواب دیکھا آپ نے اس کی بھی تعبیر بتائی، بادشاہ نے آپ کو قابل جان کر حکومت آپ کو سونپ دی، بعد میں اللہ نے آپ کو آپ کے والد اور سگے بھائی سے ملا دیا، وہ سوتیلے بھائی جنہوں نے آپ کو دھوکے سے بیچ دیا تھا، آپ نے ان کو معاف فرما دیا۔ اور پھر آپ کے والدین اور سب بھائیوں نے آپ کو تعظیماً سجدہ کیا، اور یوں وہ بچپن والا خواب پورا ہو گیا۔ یہاں یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ پچھلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا لیکن اُمت محمدیہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تعطیماً سجدہ کریں، چاہے وہ کوئی پیر ہو یا کوئی مزار۔ اس سورہ کے بعد سورہ رعد ہے جس میں فرمایا کہ اللہ نے سورج چاند کو مسخر فرمایا ہے، یہ ایک مقرر اندازے کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھومتے ہيں۔

Attari1980
08-11-2011, 11:47 AM
گیارھویں تراویح میں پڑھے جانےوالے قرآن کا خلاصہ

گیارھویں تراویح تیرھویں پارے کے نصف سے لے کر چودھویں پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے، آج کی تلاوت میں اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ کا عہد پورا کرنے والے، کسی کے ساتھ وعدہ کرکے نہ پھرنے والے، رشتہ داری جوڑے رکھنے والے، اپنے رب سے ڈرنے والے، بروزِ قیامت حساب کتاب کے برا ہونے سے ڈرنے والے، اللہ کی رضا کےلئے صبر کرنے والے، نماز قائم رکھنے والے، اللہ کے دیئے میں سے اسی کی راہ میں اعلانیہ و چھپ کر خرچ کرنے والے اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے والے، ان سب کے لئے جنت کے انعامات ہوں گے اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ ہی کی یاد ميں دلوں کا چین ہے۔ اُن کافروں کے لئے تباہی و بربادی اور سخت عذابِ شدید ہے جو آخرت پر دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس ميں کَجی چاہتے ہیں وہ بہت ہی بڑی گمراہی میں ہیں۔ ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ فقط اللہ ہی پر توکل کریں، یعنی اسباب صالحہ اختیار کر کے ان کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں نہ کہ اسباب ہی کو ترک کر دیں کہ اسباب کو چھوڑ دینا توکل نہیں ہے، جب جہنمی جہنم میں شیطان کو اس بات پر ملامت کریں گے کہ مردود: تیری وجہ سے ہمیں جہنم میں آنا پڑا، تو مردود شیطان ان سے کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا جبکہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ میں تم سے زبردستی گناہ نہيں کروائے تھے مگر یہی کہ تمہیں بری راہ دکھائی اور تم اس راہ کو خود اختیار کیا، لہذا اب مجھے کوئی الزام نہ دو بلکہ خود کو ہی ملامت کرو۔ فرمایا: اے محبوب : فرمادو کہ موت سے پہلے پہلے اپنی آخرت کے لئے خرچ کر لو۔ قرآن کو ہم نے ہی نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہم ہی کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چل سکتا، اللہ تعالی جس چیز کا ارادہ فرمالے اس کے بارے میں کُن ہوجا کہنا ہی کافی ہوتا ہے اور وہ چیز وجود پذیر ہوجاتی ہے۔ اللہ نے ہر قوم ميں کوئی نبی و رسول بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے باز رھو۔ زمین و آسمان کی ہر شے اور ملائکہ جو اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں اور اس کی عبادت سے غرور نہیں کرتے ۔ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کا حال بہت برا ہوگا۔ قیامت اچانک آئے گی۔ کفار کا طرزِ عمل یہ تھا کہ جب انہیں بیٹی کی پیدائش کی خبر سنائی جاتی تو دن بھر ان کا منہ لٹکا رہتا تھا، آج یہ خصلتِ بد مسلمانوں میں بھی پائی جارہی ہے اللہ مسلمانوں کو اس بری خصلت سے محفوظ فرمائے، آمین

Attari1980
08-12-2011, 10:33 PM
بارھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

بارھویں تراویح چودھویں پارے کے ثلث سے لے کر پندرھویں پارے کے آخر تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ جب بھی قرآن مجید پڑھا جائے تو اعوذ باللہ پڑھ لینا چاہیے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ انصاف اور نیکی کرو، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو، بے حیائی کے کاموں ، بری بات اور سرکشی سے بچ کر رہو۔ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب خرچ ہو کر ختم ہوجائےگا اور جو اللہ کے ہاں پہنچ گیا )یعنی صدقہ و خیرات( وہ ہمیشہ باقی رہنے والا، وہ دن آنے والا ہے جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی اور اللہ ہر جان کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ و رسول کا کام ہے کسی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ از خود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے۔ اللہ نے اپنے محبوب کو معراج کی نعمت سے سرفراز فرمایا، اعلان نبوت کے دسویں اور ہجرت سے ایک سال قبل، زیادہ صحیح قول کے مطابق رجب المرجب کی ۲۷تاریخ کو پیر کی شب میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج عطا فرمائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج حرمِ مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے ساتوں آسمانوں پر مختلف انبیاءکرام علیہم السلام سے ملتے ملاتے سدرۃ المنتہی، وہاں سے مقامِ لامکاں اور پھر دیدارِ الہی پر اختتام پذیر ہوا۔ اس سفر میں آپ نے جنت اور اس کے انعامات اور جہنم اور اس کے عذابات کا مشاہدہ بھی کیا۔ اسی سفر میں اللہ تعالی نے آپ کو نمازوں کا تحفہ دیا نمازیں پانچ لیکن ثواب پچاس کا ملتا ہے۔ بروزِ قیامت ہر ایک کو اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا جس کو خود ہی پڑھنا ہو گا۔ اس وقت کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ہر ایک کو اپنے اعمال اور ذمہ داریوں کا خود جواب دہ ہونا پڑے گا۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ان میں سے اگر کوئی بوڑھا ہوجائے تو اسے اُف بھی نہ کرنا بلکہ ان کی خدمت کرنا، کبھی انہیں جھڑکنا نہیں بلکہ ان سے اچھے انداز میں بات کرو، اور یہ دعا کرو کہ اے اللہ؛ ان پر اس طرح رحم کر جس طرح یہ میرے بچپن میں مجھ پر شفقت کیا کرتے تھے۔ اپنی اولاد کو رزق کے اندیشہ کی وجہ سے قتل نہ کرو کہ ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کے حصے کا رزق بھی دیں گے۔ جب بھی خرچ کرو میانہ روی کے ساتھ خرچ کرو، زنا اور اسے کے اسباب کے قریب بھی نہ بھٹکو بے شک زِنا بہت بڑی بے حیائی ہے ۔ اکڑ کر نہ چلو، انسان بڑا ناشکرا، جھگڑالو اور جلد باز ہے۔ قیامت میں ہر ایک کو اس کے قائد و رہنما کے جھنڈے تلے بلایا جائے گا۔ لہذا اپنا پیر کسی صالح کو بنانا چاہیے۔ a

Attari1980
08-18-2011, 03:37 PM
تیرھویں تراویح میں پڑھے جانے قرآن کا خلاصہ

آج کی تراویح میں کی گئی تلاوت سولہویں پارے سے شروع ہو کر سترھویں پارے کے ربع تک ہے۔ حضرت موسی اور حضرت علیہ السلام خضر علیہماالسلام کی باہمی ملاقات ذکر کی گئی ہے، حضرت خضر نے اچھی بھلی کشتی کو ناکارہ کردیا، ایک نابالغ لڑکے کو قتل کر دیا، اور بدخلق لوگوں کی گرتی دیوار کو سہارے سے کھڑا کر دیا، حضرت موسی کے اعتراض کرنے پر آپ نے اپنے کاموں کی حکمتیں بیان کئیں، حضرت ذوالقرنین کے سفر دنیا اور یاجوج ماجوج کی سرکشی کا بھی ذکر ہے، آپ نے ان کی سرکشی کی بنا پر انہیں لوہے اور تانبے کی دیوار کھڑی کرکے ایک جگہ بند کر دیا اب یہ قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے، اس کے بعد سورہ مریم ہے یہ وہ واحد سورہ ہے جو کسی عورت کے نام پر قرآن میں ہے۔ حضرت مریم کے واقعات اور حضرت عیسی علیہ السلام کے بطور معجزہ بغیر باپ کے پیدا ہونے کا ذکر ہے، لوگوں نے حضرت مریم پر طعن کیا تو اس کا جواب حضرت عیسی نے پالنے میں ہی دیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اوار مجھے غیب کی خبریں دینے والا اور میں جہاں رہوں برکت والا کیا، مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک زندہ رہوں مجھے اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی اس نے مجھے زبردست، بدبخت نہیں کیا اور وہی سلامتی مجھ پر ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن می دنیا سے اور جس دن میں اُٹھایا جائوں۔ عیسائیوں نے آپ کو اللہ کا بیٹا کہا ، اس پر اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ اس سے پاک ہے، اس کے بعد متعدد انبیاٗ کرام علیہم السلام اور ان کے احوال کا تذکرہ ہے۔ جو لوگ ہداہت پر ہیں اللہ ان کی ہدایت میں مزید برکت عطا فرمائے گا اور باقی رہنے والی نیکیاں اللہ کے پاس ہیں۔ متقی لوگوں کو بروز قیامت مہمان بنا کر اللہ کی بارگاہ میں لے جایا جائے گا جبکہ کفار و مشرکین کو جہنم کی جانب بھوکے پیاسے ہانکا جائے گا۔ جو لوگ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اللہ ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا فرمائے گا۔ اللہ نے حضرت موسٰٰی کو یدبیضاٗ اور عصا کا معجزہ عطا فرمایا، اللہ نے بنی اسرائیل پر جو احسان کئے وہ انہیں گنائے کہ ان احسانات کی وجہ سے بھی تہمیں میری عبادت کرنی چاہئے۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرنے کا حکم ہے لوگوں کا حساب قریب ہے جبکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہرجان کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ بت کسی بات کا فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ بروز قیامت ہر ہر عمل کا حساب ہونا چاہیے وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔

Attari1980
08-18-2011, 03:39 PM
چودھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

آج کی تراویح سترھویں پارے کے ربع سے اٹھارھویں پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں اللہ عزوجل میں متعدد انبیاٗ کرام کا تذکرہ فرمایا، حضور علیہ السلام کے لئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ فرمایااگر مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنے کا انکار کرتے ہو تو اس بات پر غور کرو کہ اللہ نے تمہیں پانی کی ایک بوند سے پیدا فرمایا، تو دوبارہ زندہ کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ لوگوں پر جو بھی عذاب نازل ہوگا وہ ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کے سبب ہوگا اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ نیک لوگوں کو جنت میں سونے اور موتی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔ اس کے بعد اللہ نے حج کے متعدد احکام بیان کئے ہیں اور حج کی قربانیوں کو اپنی نشانیاں قرار دیا ہے۔ جو لوگ قربانی کرتے ہیں اللہ کے پاس ان کا گوشت نہں بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ جو اللہ کے دین کی مدد فرمائے گا اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ حق دیکھنے سمجھنے سے دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں، جب کفار کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کےچہروں سے بگڑنے کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں، اللہ نے لوگوں کو سمجھانے کےلیے متعدد کہاوتیں بھی بیان کی ہیں تاکہ لوگ آسانی سے اللہ کے کلام کو سمجھ جائیں، اللہ کی راہ میں ایسا جہاد کرنے کا حق ہے یعنی اعلاِٗ کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کرنا چاہئے نہ کہ اپنی بہادری و شجاعت کے لئے۔ وہ لوگ جو ایمان والے ہو کر خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے، زکوٰۃ کو ادا کرتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھتے ہیں نمازوں پر محافظت اختیار کرتے ہیں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں، یہ لوگ جنت الفردوس کے وارث ہوں گے۔ سورہ نور میں بعض معاشرتی احکامات بیان کئے گئے، کسی پر زنا کا الزام لگانے والے پر چار عینی گواہ پیش کرنا ضروری ہے، وگرنہ زنا کا بہتان لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں گے، زنا کار اگر غیر شادی شدہ ہوں تو سو کوڑے مارے جائیں، شوہر نے اگر بیوی کو زنا کرتے دیکھا اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ چار مرتبہ اللہ کی شہادت کے ساتھ گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت، عورت اگر اس بات کی انکاری ہو تو اسے بھی ایسا ہی کرنا ہوگا، پرائے گھر میں تاک جھانک ممنوع ہے۔

Attari1980
08-18-2011, 03:42 PM
پندرھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

آج کی تراویح اٹھارھویں پارے کے نصف سے لے کر انیسویں پارے کے ثلث تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر معاذ اللہ زنا کی تہمت لگائی، اللہ نے حضرت عائشہ کی براٗت میں سورہ نور میں دس آیتیں نازل فرمائیں اور منافقین کے پروپیگنڈہ کی تردید فرمائی اور آپ کی شان میں بکواس کرنے والوں کی مذمت فرمائی۔ اور یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر تم مومن ہو تو آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا، اب جو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں زنا کی بکواس کرے تو علماٗ اسے کافر قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ بوڑھی عورتوں کو چہرے پر نقاب ڈالنا ضروری نہیں رہتا لیکن پھر بھی انہیں چاہیے کہ پردہ کیے رہیں۔ جو قیامت کو جھٹلائے اس کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ کفار کو ان کےکسی عمل کا آخرت میں بدلہ نہیں ملے گا بلکہ ان کے اعمال کو غبار کی طرح بکھرا ہوا کردیا جائے گا۔ قیامت کا دن کفروں پر سخت ہوگا اور اس دن کافر اپنے ہاتھ چبا چبا کر کہیں گے کہ ہائے ! کسی طرح ہم نے رسول کی بات کو مان لیا ہوتا اور اے کاش ! میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا کہ اس نے مجھے راہِ حق دیکھنے کے باوجود اس سے بہکادیا۔ فرمایا کافروں کی اطاعت ہرگز نہ کرو اور ان سے اس قرآن کے ذریعے جہاد کرو۔ ایمان والوں کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ زمین پر چلتے ہوئے آہستگی اختیار کرتے ہیں اور اگر جاہل ان سے بلاوجہ جھگڑا کرنا چاہیں تو انہیں دور ہی سے سلام متارکت کر کے اپنی راہ لیتے ہیں اور ان سے بحث کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ میانہ روی اللہ کو پسند ہے جب بھی کہی خرچ کرے تو اس کا خیال رہے کہ نہ حس سے آگے بڑھیں اور نہ ہی خرچ کرنے کے مقام پر کنجوسی کریں۔ صالحین اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں دعا مانگتے ہیں ’’ ربنا ھب لنا من ازوجنا و ذریتنا و قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ‘‘ یعنی اے اللہ ! ہمیں ہماری ازواج اور اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے فضائل و کمالات بیان کیے گئے ہیں۔ اور دریائے نیل میں سے آپ اور آپ کی امت کے بخیر و عافیت گزر جانے کا ذکر ہے۔ انبیاٗ کرام اپنے فرائض منصبی کی اجرت بندوں سے نہیں مانگتے تھے بلکہ فرماتے کہ ہمارا اجر اللہ پر ہے انبیاٗ کرام کو اپنے جیسا بشرِ محض کہنا کفار کی عادات میں سے ہے۔ فرمایا ناپ تول میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد بھی ہرگز نہ پھیلائوں کہ پچھلی قومیں اس وجہ سے ہلاک کر دی گئیں۔ اللہ ہر معاملے کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔

Attari1980
08-18-2011, 03:46 PM
سولہویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
آج کی تراویح اُنیسویں پارے کے ثلث سے لے کر بیسویں پارے کے آخر تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تراویح سورہ نمل سے شروع ہو رہی ہے جس میں اللہ عزوجل نے قدرے تفصیل کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو جانوروں کی بولیاں سکھادی تھیں اور آپ کو جن و انس پر قابو دیا، اللہ ہی ہے جو لاچار آدمی کی پکار سنتا ہے جب کہ وہ اس کو پکارے۔ کفار اپنا سا مکر کرتے ہیں لیکن اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہے اور کفار اس کی خفیہ تدبیر سے غافل رہتے اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جو کوئی نیکی کے گا اللہ اسے اچھا بدلہ عطا فرمائے گا، اور یہ لوگ قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔ جبکہ گناہوں کے عادی اُوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے، اللہ تعالٰٰی کسی کے اعمال سے غافل نہیں ہے وہ سب کچھ ملاحظہ فرما رہا ہے۔ اس کے بعد سورہ قصص ہے جس میں حضرت موسٰٰی کے فرعون کے ہاں پرورش پانے کا ذکر فرمایا ہے نیز فرعون کی ہلاکت اور قارون اور اس کے خزانوں کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر کیا، قارون نے حضرت موسٰٰی پر زِنا کی تہمت ِ شنیع لگائی اور مال کی محبت میں زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جو ایمان لانے کے بعد ہوجانے والے گناہوں پر توبہ کرے اور اعمال صالحہ کرے تو فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ رزق کی تقسیم اللہ کے دستِ قدرت میں ہے، جس پر چاہے آسانی فرمائے اور جس پر چاہے تنگی کر دے۔ فرمایا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے جبکہ اگلوں کی بھی آزمائش ہوئی اور ان کی بھی آزمائش ہوگی۔ جو اللہ کی راہ میں کوشش کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اللہ تمام عالمین سے مستغنی ہے ۔ اللہ نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر والدین خلافِ شریعت کا حکم دیں تو پھر ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ نوح علیہ السلام ۹۵۰ سال تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن وہ ازلی شقی آپ کی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہے اور اللہ کے بھیجے ہوئے طوفان نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ اللہ ہمارا مالک و مولٰٰی ہے وہ جسے چاہے جنت میں داخل فرمائے اور جسے چاہے جہنم میں داخل فرمائے، کوئی اس سے حساب نہیں لے سکتا اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔۔ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم بھی ہمارے راستے پر چلو ہم تمہارے گناہ اُٹھا لیں گے حالانکہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔ رزق کی فراوانی کیلئے اللہ کی عبادت اور اس کا شکر ادا کریں۔

Attari1980
08-18-2011, 03:48 PM
سترھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
آج سے پہلے بیس تراویح میں روزانہ سوا پارے کی تلاوت تھی جبکہ آج سے پچیسویں تراویح تک روزانہ ایک پارے کی تلاوت کی جائے گی۔ آج کی تلاوت اکیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، معلوم ہوا جو لوگ نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں پر قائم رہتے ہیں وہ لوگ اس طرح نماز نہیں پڑھ رہے جیسا کہ نماز پڑھنے کا حق ہے، انہیں نماز کی ظاہری و باطنی شرائط کی بجا آوری ضروری ہے۔ اہل کتاب سے جب بھی بحث و مباحثۃ ہوتو علمی انداز میں احسن طریقے پر کرنا چاہئے زمین پرچلنے والے کتنے ہی جاندار ایسے ہیں کہ اپنی روزی اپنے ساتھ نہیں رکھتے لیکن اللہ تعالٰٰی انہیں ان کی روزی پہنچاتا ہے، دنیا کی زندگی لہو و لعب ہے، جو لوگ ہمارے راستے کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ضرور ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ اللہ کسی ذات پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتےہیں۔ اللہ تعالٰٰی زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ پن کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی قابلِ کاشت بنادیتا ہے اسی طرح ہم بھی ایک دن مرنے کے بعد زندہ کیے جائیں گے۔ اللہ کا انسانوں کو مٹی سے پیدا کرنا، پھر ان کا زمین میںپھیل جانا، اور انسانوں کے جوڑے بنانا جن کے مابین اللہ نے ایک محبت اور رحمت رکھی، آسمانوں اور زمین کی پیدائش زبانوں اور رنگوں کا اختلاف، رات اور دن میں ہمارا سونا اور پھر جاگ جانا، آسمان سے نازل ہونے والی نعمتیں؛ یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں اور اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے۔ جولوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اس کے ساتھ ساتھ مسافروں کی امداد کریں، خشکی و تری میں جو کچھ فساد ہے یہ لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی بناٗ پر ہے۔ جو لوگ سود کا لین دین کرتے ہیں اس میں برکت نہیں ہوسکتی برات تو اس مال میں ہوتی ہے جس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اللہ نے انسانوں کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ وہ اپنے والدین کی خدمت گزاری کرتا رہے کہ اس کی ماں نے اسے نوماہ اپنے پیٹ میں رکھنے کی مشقت برادشت کی، اس کی ولادت کی تکلیف اور پھر دو سال تک اپنا دودھ پلایا، یہ سب باتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرے اور اللہ نے اپنے حق کے ساتھ والدین کے حق کو بیان کیا۔ اترا کر چلنا اللہ کو ناپسند ہے ، اسی طرح ہمیشہ چیخ کر بات کرنا بھی اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ کے بتائے بغیر کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کرے گی اور اس کی موت کہاں واقع ہوگی؟

Attari1980
08-18-2011, 03:48 PM
اٹھارہویں تراویح میں پڑھے جانے والے کلام کا خلاصہ
آج کی تراویح بائیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے، اللہ نے حضور کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، یعنی تمہارا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ایمان والی عورتوں کو حکم ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں، جاہلیت کے طور طریقوں پر اپنی زیب و زینت کو غیر مردوں پر ظاہر نہ کریں، نماز پڑھتی رہیں، زکوٰۃ ادا کرتی رہیں اور اللہ و رسول کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرتی رہیں۔ اور مسلمان مرد و عورت میں سے فرماں بردار ، سچے، صبر کرنے والے، عاجزی کرنے والے، خیرات کرنے والے، روزے رکھنے والے، بدکاری سے بچنے والے، اللہ کا ذکر کرنے والے؛ یہ سب ایسے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا: لوگ اپنے جیسے انسانوں سے کتنا خوف رکھتے ہیں حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ فرمایا؛ اے غیب بتانے والے نبی ! ہم نے آپ کو حاظر و ناظر اور خوشخبری سنانے والا، ڈر سنانے والا، اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکادینے والا آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔ اگر کوئی شخص عورتوں سے نکاح کرنے کے بعد خلوتِ صحیحہ کے بغیر انہیں طلاق دے دے تو ان عورتوں پر عدت واجب نہیں ہے ایسی صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کا مہر مقرر ہوچکا تھا تو خلوتِ صحیحہ سے پہلے سے پہلے طلاق دینے سے شوہر پر نصف مہر واجب ہوگا اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں۔ فرمایا بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس غیب بتانے والے نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں، تو اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ یادرکھیں کہ اللہ کا درود حضور پر رحمت نازل فرمانا ہے جبکہ ہمارا اور فرشتوں کا درود حضور کے لئے رحمتوں کے نزول کی دعا کرنا ہے جو لوگ اللہ و رسول کو ایذاٗ دیتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت اور ان کے لئے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ کفار کے منہ اُلٹ اُلٹ کر آت میں تلے جائینگے اور وہ کہیں گے اے کاش! ہم نے اللہ و رسول کا کہامانا ہوتا۔ جس نے اللہ و رسول کی اطاعت کی وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگیا۔ جنات کو غیب کا علم نہیں ہے، جو جنات کے لئے یقینی علم غیب کا دعویٰ و اعتقاد رکھے علماٗ نے اس کے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ کوئی شخص مال و اولاد زیادہ ہونے سے اللہ کے قرب کا حق دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے قرب کا حق دار وہ ہے جس نے اس کی رضا کیلئے نیکیاں کی ہیں، اللہ تعالٰٰی انہیں ان کا صلہ دُگنا کر کے عطا فرمائے گا۔ اللہ سے حقیقی ڈر علماٗ کا خاصہ ہے۔

Attari1980
08-20-2011, 06:07 PM
<!--[if gte mso 9]><xml> <w:WordDocument> <w:View>Normal</w:View> <w:Zoom>0</w:Zoom> <w:Compatibility> <w:BreakWrappedTables/> <w:SnapToGridInCell/> <w:ApplyBreakingRules/> <w:WrapTextWithPunct/> <w:UseAsianBreakRules/> <w:UseFELayout/> </w:Compatibility> <w:BrowserLevel>MicrosoftInternetExplorer4</w:BrowserLevel> </w:WordDocument> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 10]> <style> /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin:0in; mso-para-margin-bottom:.0001pt; mso-pagination:widow-orphan; font-size:10.0pt; font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-font-family:"Times New Roman";} </style> <![endif]--><!--[if gte mso 9]><xml> <o:shapedefaults v:ext="edit" spidmax="1026"/> </xml><![endif]--><!--[if gte mso 9]><xml> <o:shapelayout v:ext="edit"> <o:idmap v:ext="edit" data="1"/> </o:shapelayout></xml><![endif]-->
انیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

آج کی تراویح تئیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا ہے یہ اس کے ساتھ ٹھٹھا مذاق اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ پچھلی کئی امتیں تباہ و برباد کر دی گئیں، یہ لوگ سن لیں ایک دن اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے ۔ اس کے بعد اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ کفار اپنے جھگڑوں میں پڑے ہوں گے کہ اچانک قیامت ایک ہولناک چیخ کے ساتھ آجائے گی۔ نہ تو کئی وصیت کرسکیں گے اور نہ ہی توبہ کی مہلت ملے گی۔ پھر قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور کفار اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑے ہوئے چل پڑیں گے، اور پھر ہائے ہماری خرابی پکارتے ہوں گے۔ لیکن اس وقت کا پچھتاوا کچھ کام نہ آئے گا، کافروں کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور وہ کچھ بول نہ سکیں گے بلکہ ان کے ہاتھ اور ٹانگیں ان کے کارناموں کو بیان کریں گے۔ اس دن کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گاہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ پورا پورا ملے گا، ابھی وقت ہے ہمیں چاہئے کہ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیں۔ جنتی مردوں کو ایسی بیویاں اور حوریں ملیں گی جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتیں۔ معلوم ہوا عورتوں کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد کی طرف التفات نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے اس خواب کا تذکرہ ہے جس میں آپ نے اپنے کو حضرت اسماعیل کو ذبح کرتے ہوئے دیکھا تھا، یاد رہے کہ انبیاٗ کرام کا خواب بھی وحی الہی کے حکم میں ہوتا ہے۔ آپ نے یہ خواب حضرت اسماعیل سے بیان کیا، انہوں نے سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خواب پر عمل کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا، اور پھر آسمان نے وہ منظر دیکھا جو اس سے پہلے اور بعد میں کبھی نہ دیکھا کہ ایک باپ اپنے اُس بیٹے کو اللہ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے خود ذبح کرنے جارہا ہے جو کتنی آرزئوں کے بعد پیدا ہوا تھا اللہ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل کو اپنے امتحان میں کامیاب پا کر جنت کا ایک مینڈھا بھیج کر حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے محفوظ رکھا اور انہیں کی اس ادا کو اسلام میں باقی رکھا گیا ہے جس کے مظاہر ہر سال بقر عید میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک میں کیڑے پڑ گئے تھے لیکن یہ درست نہیں اس لئے کہ انبیاٗ علیہم السلام اس سے محفوظ ہیں۔

Attari1980
08-27-2011, 09:27 AM
بیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
آج کی تراویح چوبیسیوں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں اللہ فرماتا ہے اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوں جو حق کو جھٹلائے اور ان کی بھی تکذیب کرے جو اس کے پاس حق کو لے کر آئے لیکن اللہ تعالی اپنے بندوں کو کافی ہے۔ اللہ نے لوگوں پر ایک واضح اور روشن کتاب حق کے ساتھ نازل کر دی ہے، اب جس نے ہدایت کی پیروی کی اس نے اپنے فائدے ہی کو کی اور جس نے انکار کیا اس نے اپنا ہی نقصان کیا۔ لوگوں کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نعمت سے نواز دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے علم کی بنیاد پر ہمیں ملی ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ اس سے غافل ہیں۔ اللہ فرماتا ہے اے میرے وہ بندو! جنہوں نے شامتِ نفس سے گناہ کر کے اپنی جانوں پر زیادتی کہ ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اللہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما سکتا ہے بے شک وہ غفور و رحیم ہے تم اللہ کی طرف رجوع رکھو اور اس کے احکامات پر سر تسلیم خم کرتے رہو۔ ہر جان نے جو کچھ کیا ہوگا اس کے حساب سے اسے پورا پورا بدلہ ملے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔ وہ فرشتے جنہوں نے اللہ کا عرش اٹھایا ہوا ہے وہ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ایمان والوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو کسی علم کے بغیر اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں اللہ ان سے سخت بیزار ہے۔ جس طرح اندھے اور آنکھوں والے برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح ایمان والے اور وہ جو ایمان نہ لائے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے کتنے ہی چوپائے انسان کے لئے پیدا فرمائے جن میں سے بعض پر ہم سواری کرتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں اور ان میں اور بھی کئی منافع ہیں۔ فرمایا اے محبوب! اعلان فرما دو کہ آدمی ہونے میں تو میں تم جیسا ہوں لیکن مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک واحد لاشریک ہے تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی چاہتے رہا کرو۔ قوم عاد وہ قوم تھی جو ناحق تکبر کرنے کی وجہ سے تباہ و برباد کر دی گئ کیونکہ کبریائی اللہ کو ہی زیب دیتی ہے۔ قوم ثمود کو بھی اللہ نے ہدایت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں کفر کے اندھے پن کو اختیار کیا اور ایک کڑک کے ذریعے ہلاک و برباد کرئیے گئے۔ لوگ چھپ کر گناہ کرنے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے چھپ گئے لیکن اللہ تو ان کو دیکھ ہی رہا ہے۔ آخر اس سے چھپ کر کہاں جائیں گے کہ وہ تو ذرے ذرے سے آگاہ ہے، بلکہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔

Attari1980
08-27-2011, 09:29 AM
اکیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
آج کی تراویح پچیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تراویح میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کا علم اور ماں کے پیٹ میں کیا ہے اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن یاد رکھئے اللہ جس کو چاہے ان چیزوں کا علم دے سکتا ہے جیسا کے کتب احادیث اور بزرگانِ دین کے حالات میں اس طرح کے واقعات کا ذکر ہے کہ انہوں نے یہ بتادیا کہ حاملہ کے پیٹ میں لڑکی ہے یا لڑکا۔ اللہ نے کائنات اور خود انسان میں اپنی نشانیاں رکھی ہیں جنہیں ملاحظہ کرنے کے بعد انسان کو یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ اس کائنات کا وجود خود سے نہیں ہے بلکہ کسی زبردست حکمت والی ذات کے بنائے سے ہے اور اسی ذات کا نام اللہ ہے۔ اللہ کی کوئی مثل اور مثال نہیں ہو سکتی۔ اللہ چاہتا تو سب کو ایک جیسا ہی بنادیتا لیکن اس نے اپنی حکمتوں کے پیشِ نظر ان میں کئی جہات سے اختلاف رکھا۔ اور اس طرح ان کی آزمائش فرما رہا ہے کہ کون اس کے راستے کی طرف سبقت کرتا ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اہل کتاب کو احسن انداز میں حق کی طرف بلائیں اور اپنے ایمان میں ثابت قدر رہیں ان کفار کی پیروی نہ کریں، کفار کے اعمال ان کے ساتھ اور ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ فرمایا جو آخرت کی کھیتی چاہے گا ہم اس کی کھیتی کو بڑھائیں گے یعنی نیکی کرنے کی قوت زیادہ کر دیں گے۔ اور جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے اس میں سے ہم اسے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بنائ پر ہے اور ابھی تو اللہ بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔ جو شخص کسی کے ساتھ جس قدر برائی کرے ، بدلے کے طوراسی قدر اس طرح کا برتائو اس کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے کہ برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔ لیکن پھر بھی جس نے معاف کیا اور بگڑا ہوا کام سنوارا تو اللہ فرماتا ہے کہ اس کا اجر مجھ پر ہے۔ جو شخص اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لے تو اس پر کچھ مواخذہ نہیں، مواخذہ تو اس پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشتی پھیلاتے ہیں۔ اولاد دینا اللہ کے دستِ قدرت میں ہے جسے چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہے بیٹے یا دونوں ہی دے اور جسے چاہے آزمائش کے طور پربانچھ کردے۔ جو قرآن مجید کی ہدایتوں سے اندھا ہوجائے گا اللہ اس پر شیطان کو مسلط فرمادیتا ہے کہ وہ اس کو مسلسل بہکاتا رہتا ہے۔ جب کافر بروزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش شیطان میرا ساتھی نہ ہوتا۔

Attari1980
08-27-2011, 09:31 AM
بائیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
آج کی تراویح کی تلاوت چھبیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ کافر کتنے ناسمجھ اور گمراہ ہیں اللہ کے سوا ایسی اشیائ کی عبادت کرتے ہیں جو ان کی عبادت سے غافل ہیں اور قیامت تک ان کی پکار کو سن کر ان کی مشکلات کا مداوا نہیں کرسکتیں۔ اللہ تعالی نیک لوگوں کی نیکیاں قبول فرماتا ہے اور ان کی تقصیروں سے در گزر فرماتا ہے۔ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی نیت کےساتھ جب جہاد کیاجائے تو دشمنوں کے سامنے کے وقت ان سے خوب بے جگری کے ساتھ لڑو، اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔ کافروں کی زندگی اور جانوروں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں کہ سوائے کھانے پینے اور دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے ان کا بھی کوئی مقصد نہیں ہے، قیامت اچانک آئے گی جبکہ اس کی علامات کا ایک بڑا حصہ ظاہر ہوچکا ہے وہ ایمان والے جو سستی نہ کریں تو وہ ہی لوگ کفار پر غالب ہوں گے۔ جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنی جان پر بخل کرتا ہے، سب لوگ اللہ کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے اور اللہ تعالٰی غنی و بے نیاز ہے۔ فرمایا اے محبوب ہم نے تمہیں روشن فتح عطا فرمائی اور تمہارے سبب سے تمہارے اگلے اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ فرمایا اے محبوب! وہ لوگ جو بیعتِ رضوان کے موقع پر تہماری بیعت کررہے تھے وہ در حقیقت اللہ سےبیعت کر رہے تھےان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جب جہاد فرض ہوجائے تو ہر مسلمان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس پر جہاد کیلئے نکلنا فرض ہوجاتا ہے لیکن اندھے اور لنگڑے اور ایسے لوگ جنہیں کوئی شرعی عذر لاحق ہو ان پر جہاد کیلئے نکلنا ضروری نہیں رہتا۔ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ سب دینوں پر اس دین کو غالب کر کے رہے گا۔ ایمان والوں کی ایک نشانی یہ ہے کہ آپس میں انہتائی رحم دل ہیں جبکہ کفار پر انتہائی سخت، یہ ایسے ہیں کہ ان کی نشانیاں تورات اور انجیل میں بیان کی گئی ہیں، ایمان والوں کو حکم ہے کہ جب حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو اپنی آوازوں کو پست رکھیں اور ان کے ہوتے ہوئے چلا کر بات نہ کیا کریں۔ یاد رکھئے! یہ حکم آج بھی باقی ہے جب بھی حضور کے روضہ انور پر حاضری ہوتو اونچی آواز میں گفتگو کرنا ناجائز ہے کہ سرکار اپنے روضہ انور میں سب کچھ سماعت فرما رہے ہیں اور ہمیں ملاحظہ بھی فرما رہے ہیں۔ تمام مومن کہیں کے بھی ہوں آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں ناراضگی ہو تو صلح کرودیا کرو۔