PDA

View Full Version : نمازِ پنجگانہ اَنبیاء علیہم السلام کی یاد



Administrator
02-03-2014, 04:26 PM
جمہور اہلِ اِسلام بارہ ربیع الاول کا دن جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طور پر مناتے ہیں اور پنے آقا و مولا حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں۔ کسی واقعہ کی یاد منانا شعائر اسلام سے ثابت شدہ اَمر ہے۔ دین کی بنیاد اور ستون قرار دی جانے والی پانچ نمازیں۔ جنہیں اِسلام اور کفر کے مابین اِمتیاز کا درجہ حاصل ہے اور جو تمام مسلمانوں پر فرض کی گئی ہیں۔ دراَصل اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اَنبیاء کے اُن سجدہ ہائے شکر کی یاد منانے سے عبارت ہیں جو انہوں نے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں مختلف مواقع پر بہ صورتِ نوافل ادا کیے۔ اپنے محبوب بندوں کی یہ ادا اﷲتعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ اس نے یہ نوافل اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو بطور فرض نماز عطا کر دیئے۔

امام طحاوی (229. 321ھ) پانچ فرض نمازوں کی نسبت امام محمد بن عائشہ کا قول نقل کرتے ہوئے شرح معانی الآثار میں درج ذیل تفصیل بیان کرتے ہیں :
1۔ نمازِ فجر سیدنا آدم علیہ السلام کی یادگار ہے

إن آدم عليه السلام لما تِيبَ عليه عند الفجر، صلي رکعتين، فصارت الصبح.

جب صبح کے وقت ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو آپ نے (شکرانے کے طور پر) دو رکعت نماز پڑھی، پس وہ نمازِ فجر ہوگئی۔
2۔ نمازِ ظہر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے

وفدي إسحاق عند الظهر فصلي إبراهيم عليه السلام أربعا، فصارت الظهر.

ظہر کے وقت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب حضرت اسحق علیہ السلام سے نوازا گیا تو آپ نے (شکرانے کے طور پر) چار رکعات ادا کیں، پس وہ نمازِ ظہر ہوگئی۔
3۔ نمازِ عصر سیدنا عُزیر علیہ السلام کی یادگار ہے

و بُعِثَ عزير، فقيل له : کم لبثت؟ فقال : يوما أو بعض يوم. فصلي أربع رکعات، فصارت العصر.

جب حضرت عزیر علیہ السلام کو (سو سال بعد) اٹھایا گیا تو ان سے پوچھا گیا : آپ اس حالت میں کتنا عرصہ رہے؟ تو انہوں نے کہا : ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ۔ پس انہوں نے چار رکعات ادا کیں تو وہ نماز عصر ہوگئی۔
4۔ نمازِ مغرب سیدنا داؤد علیہ السلام کی یادگار ہے

وقد قيل : غُفِر لعزير عليه السلام وغُفِر لداود عليه السلام عند المغرب، فقام فصلي أربع رکعات فجهد فجلس في الثالثة، فصارت المغرب ثلاثا.

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عزیر اور داؤد علیہما السلام کی مغرب کے وقت مغفرت ہوئی تو انہوں نے(شکرانے کے طور پر) چار رکعات نماز شروع کی (مگر نقاہت وکمزوری کے باعث) تھک کر تیسری رکعت میں بیٹھ گئے۔ (اس طرح تین رکعات ادا کیں، چوتھی رکعت مکمل نہ ہو سکی۔) پس وہ نمازِ مغرب ہوگئی۔
5۔ نمازِ عشاء تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یادگار ہے

وأوّل من صلي العشاء الآخرة، نبينا محمد صلي الله عليه وآله وسلم.

اور جس ہستی نے سب سے پہلے آخری نماز (یعنی نمازِ عشاء) ادا کی وہ ہمارے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

طحاوي، شرح معاني الآثار، کتاب الصلاة، باب الصلاة الوسطي أي الصلوات، 1 : 226، رقم : 1014

الغرض یہ پنجگانہ نمازیں ان جلیل القدر پیغمبروں کی عبادت کی یاد دلاتی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لطف و کرم اور فضل و احسان فرمایا اور انہوں نے اظہارِ تشکر کے طور پر دوگانہ اور چہارگانہ نوافل ادا کیے جو اللہ رب العزت نے امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پانچ فرض نمازوں کی صورت میں ان کی یادگار بنا دیئے۔ اس طرح دن بھر کی ان تمام نمازوں کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انبیاء کرام کی یاد کا تسلسل بنا دیا۔

علامہ ابن عابدین شامی (1244۔ 1306ھ) اپنے فتاویٰ

رد المحتار علی در المختار علی تنویر الابصار میں پانچ فرض نمازوں کی نسبت فرماتے ہیں :

قيل : الصبح صلاة آدم، والظهر لداود، والعصر لسليمان، والمغرب ليعقوب، والعشاء ليونس عليهم السلام، وجمعت في هذه الأمة.

کہا گیا ہے کہ نمازِ فجر حضرت آدم، ظہر حضرت داؤد، عصر حضرت سلیمان، مغرب حضرت یعقوب، اور عشاء حضرت یونس علیہم السلام کے لیے تھیں جنہیں اِس اُمت میں جمع کر دیا گیا ہے۔

ابن عابدين، رد المحتار علي در المختار علي تنوير الأبصار، 1 : 351

وہ لمحے جو انبیاء کرام نے اﷲ کی بارگاہ میں شکر، عجز اور خشوع و خضوع میں گزارے اﷲ نے انہیں اَمر کر دیا۔ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو اپنے قرب کا راستہ دکھا دیا اور محبت و اطاعت کی نورانی کیفیات کی رحمت بے پایاں عطا کر دی۔ اﷲ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبروں کے وہ سجدے جو مقبول ہوئے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسیلے سے اُمت مسلمہ کو مل گئے جو تاابد اُن کی یاد مناتی رہے گی۔ یاد کی اَہمیت اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ اَرکانِ اِسلام میں سے اہم ترین رُکن صلوٰۃ کی عملی صورت میں جو پانچ نمازیں مقرر ہوئیں وہ ساری کی ساری کسی نہ کسی نبی کی یاد ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ مقبولانِ بارگاہ ایزدی سے منسوب کسی عمل یا واقعہ کی یاد منانا اسلام میں نہ صرف جائز ہے بلکہ دین اِسلام کی بنیادی فکر و فلسفہ کا تقاضہ ہے۔ جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی خیر الوریٰ، حبیبِ کبریاء، تاجدارِ اَنبیاء حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعاتِ ولادت کی یاد منائی جاتی ہے جو سراسر جائز اور منشاء خداوندی کے عین مطابق ہے۔