PDA

View Full Version : نامورعالم دین حضرت علامہ مولانا غلام ربان



hafizahmedraza
05-15-2015, 09:32 PM
تحریر : پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق جلالی


برصغیر کی سرزمین پر بزرگان دین اور اولیائے کرام نے ہمیشہ رشد و ہدایت کے چراغ روشن کیے۔خواجہ خواجگان خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے لاکھوں افراد کو کلمہ توحید پڑھیایا۔سلسلہ چشتیہ کا فیض آپ کی درگاہ سے صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ اسی سلسلہ کی عظیم خانقاہ اور عظیم روحانی و علمی مرکز تونسہ شریف ہے۔جہاں حضرت خواجہ شاہ سلیمان تونسوی ، پیر پٹھان رحمۃ اللہ علیہ نے علم وعرفان کے دریا بہائے اور آپ کی بارگاہ سے تربیت پا کر آپ کے 90 خلفائے کرام جو نہ صرف روحانیت کی دولت سے مالامال تھے بلکہ تمام کے تمام علوم ظاہری ، قرآن و حدیث ، فقہ وتفسیر کے بھی ماہر تھے۔انہی خلفاء میں سے ایک عظیم المرتبت ہستی شیخ طریقت حضرت علامہ خواجہ احمد دین متوفیٰ 1894ء تھے۔جن کا مزار مبارک دہڑ تحصیل کھاریاں میں واقع ہے۔


حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے 4 صاحبزادگان تھے، جو اپنے وقت کے مایہ ناز عالم دین تھے۔انہی بردران میں سے ایک حضرت علامہ مولانا حافظ سلطان احمد صاحب تھے۔ جو پیر طریقت حضرت میاں محمد عبداللہ صاحب چک بھٹی ضلع حافظ آباد کے بیعت تھے۔حضرت میاں محمد عبداللہ صاحب ، حضرت پیر طریقت خواجہ محمد حسن محی الدین نقشبندی (آستانہ عالیہ باؤلی شریف ) کے خلیفہ تھے۔حضرت میاں محمد عبداللہ صاحب کا مزار ہکلہ تحصیل کھاریاں میں ہے۔


حضرت میاں محمد عبداللہ صاحب کے بیٹے عالم نبیل فاضل جلیل حضرت علامہ مولانا غلام ربانی (لالہ موسیٰ) ہیں۔حضرت علامہ مولانا غلام ربانی ایک جلیل القدر عالم دین ، باعمل مصلح اور مسلک اہل سنت کے عظیم مجاہد ہیں۔آپ نے شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا حافظ محمد عالم صاحب (دودروازہ سیالکوٹ۔ مدرس حزب الاحناف) رحمۃ اللہ علیہ، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مہر دین صاحب (صاحب تسہیل المبانی شرح مختصر المعانی)مدرس حزب الاحناف اور حضرت علامہ مولانا انور شاہ صاحب سے ظاہری علوم حاصل کیے۔درس نظامی کی کتب کی تکمیل کی اور شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب فیصل آبادی (صاحب تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری)سے دورہ حدیث کیا۔ آپ چشتی نظامی سلسلے میں حضرت خواجہ محمد شاہ بخش چشتی نظامی (ملتان) کے بیعت اور خلیفہ مجاز ہیں۔اس سلسلہ طریقت کی تفصیل یوں ہےخواجہ محمد شاہ بخش چشتی نظامی جو خلیفہ مجاز اپنے والد خواجہ مفتی محمد حسین بخش جو خلیفہ مجاز اپنے والد خواجہ محمد نظام بخش جو خلیفہ مجاز اپنے والد خواجہ محمد خدا بخش محبوب اللہ ثانی جو خلیفہ مجاز خواجہ محمد موسیٰ چشتی نظامی جو خلیفہ مجاز خواجہ محمد خدا بخش محبوب اللہ (خیر پور دیہات ٹامیوالہ ضلع بہاولپور) ہیں۔


آپ کے ہم درس علماء میں راقم کے استاذ گرامی قدر استاذ العلما ء شیخ الحدیث مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی( جامعہ نظامیہ لاہور) بھی تھے۔حضرت علامہ مولانا غلام ربانی اپنی جوانی کے عالم میں حزب الاحناف کے قیام کے دوران 1953ء کی تحریک ختم نبوت ﷺ میں بھر پور شریک رہے۔اور مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے سامنے قائم ہوئی۔دہلی دروازہ کے باہر ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیاجس کا اعلان مولانا غلام ربانی نے نوبت بجا کر لاہور شہر میں کیا اور اس دوران وہ گرفتار بھی ہوئے۔قائدین نے کراچی سے کانفرنس میں آنا تھا لیکن وہ کراچی سٹیشن پر ہی گرفتار ہوگئے۔گرفتار شدہ علماء کے علاوہ مولانا غلام دین صاحب (انجن شیڈ والے) ، مولانا خلیل قادری، مولانا خادم حسن صاحب مزنگ والے، علامہ محمد بخش مسلم، علامہ سید محمود احمد رضوی اور مجاہد ملت ممبر پنجاب اسمبلی مولانا عبدالستار خاں نیازی پیش پیش تھے۔
مولانا غلام ربانی صاحب نے 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں اہم کردار ادا کیا، اس دوران دو مرتبہ گرفتار ببھی ہوئے اور قید وبند کی صعوبتوں سے نبرد آزما رہے۔ پہلی بار پورا ہفتہ جیل میں گزارا اور دوسری مرتبہ چوبیس گھنٹے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔اس دوسری بار مجاہد اہل سنت حضرت علامہ پیر محمد افضل قادری صاحب بھی ان کے ساتھ گرفتار ہوئے۔


آپ نے مکمل تعلیم مرکزی دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں شیخ المحدثین حضرت علامہ ابوالبرکات سید احمد لاہوری کی زیر نگرانی حاصل کی۔جب آپ حزبالاحناف سے فارغ ہوئے تو آپ درس نظامی کی تدریس کا بڑا پختہ ارادہ رکھتے تھے مگر آپ کو اپنے والد گرامی کے حکم کے مطابق جامع مسجد لالہ موسیٰ میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دینے پر مامور کردیا گیا۔ لہٰذا آپ 1956ء سے لیکرتا حال (2015ء) اسی جامع مسجدلالہ موسیٰ جی ٹی روڈ میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
آپ سکھیکی منڈی ضلع شیخوپورہ میں دوسال درس نظامی کی تدریس کرواتے رہے۔آپ کا ایک عظیم الشان کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپ نے ایک عظیم الشان جامع مسجد اور ایک دارعلوم محی الاسلام صدیقیہ کے نام سے تعمیر کروایا۔اور ایک عرصہ تک وہاں درس نظامی اور شعبہ تحفیظ القرآن آپ کی زیر نگرانی چلتا رہا۔ پھر آپ بوجوہ ادارہ کی سرپرستی سے دستبردار ہوگئے۔
آپ کے شیخ اور قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی نے 1960ء میں آپ کو دلائل الخیرات شریف کی اجازت دی۔ آپ اس وقت سے تاحال بلاناغہ دلائل الخیرات کاورد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سحرخیزی علمائے ربانیین اور بزرگان دین کا معمول چلا آرہا ہے جس کو اقبال نے کہا:
عطار ہو ، رومی ہو، رازی ہو، غزالی
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
اور اقبال اپنی کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی
لندن میں بھی چھوٹے نہ مجھ سے آداب سحر خیزی
آپ کا معمول ہے کہ آپ تقریباً پونے دو بجے تہجد کے لئے اٹھ جاتے ہیں۔ تہجد کے نوافل ادا کرنے کے بعد دلائل الخیرات شریف، مسنون دعائیں اور دیگر وظائف نماز فجر تک پڑھتے ہیں۔ اور پھر نماز فجر کے لئے مسجد روانہ ہو جاتے ہیں۔ساری زندگی آپ نماز پنجگانہ باجماعت کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔آپ نے اپنی زندگی میں ہمیشہ خیر جلیس فی الزمان کتابُ(زمانے میں بہترین دوست کتاب ہے) کے قاعدے پر عمل پیرا رہے اور اپنی ذاتی جیب سے لاکھوں روپے کی دینی کتب خریدیں جن میں عربی اور اردو دونوں شامل ہیں، ان کا مطالعہ بڑے ذوق سے کیا اور اب افادہ عام کے لئے دو مدارس(محی الاسلام صدیقیہ کی لائبریری اور جامعہ محمدیہ غوثیہ لالہ موسیٰ) میں وقف کردیا۔ذخیرہ کتب میں حدیث ، تفسیر اور فقہ کی امہات الکتب کے علاوہ عصر حاضر کی اردو کتب بھی شامل ہیں۔اب جبکہ آپ اپنی زندگی کی 84بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ جسمانی عوارض اور ضعف پیری کے باوجود نئی نئی کتب خریدتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں اور انہیں وقف مدرسہ کردیتے ہیں۔
آپ نہایت خوددار ، باعمل، مضبوط کردار کے مالک، اپنے دور کے بہترین مقرر اور خطیب اور اپنے زمانے کے بے مثل مدرس اور دین اسلام کے لئے استقامت کے ساتھ عقائد اہل سنت کا تحفظ کرنے والی شخصیت ہیں۔
جن علماء کے ساتھ آپ کا رابطہ رہا ، ان میں شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑوی، علامہ الٰہی بخش قادری، فخر القراء قاری غلام رسول صاحب، پیر طریقت صاحبزادہ غلام حمید الدین معظمی، حضرت علامہ مولانا مفتہ عبدالقیوم ہزاروی، شیخ المحدثین حضرت علامہ پیر سیدجلال الدین شاہ صاحب(بھکھی شریف) شامل ہیں۔
آپ نے جامع مسجد لالہ موسیٰ میں مذہبی کانفرنسز اور اجتماعات میں ہمیشہ ثقہ ، جلیل القدر اور نامور علماء کرام ومشائخ کو دعوت دی۔جن میں سید محمد محدث کچھوچھوی (دو بار)، پیر طریقت پیر سید ولایت شاہ صاحب (کئی بار)، علامہ الٰہی بخش قادری صاحب، شیخ التفسیر مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب، سلطان الواعظین مولانا بشیر احمد صاحب کوٹلی لوہاراں ، علامہ مولانا شاہ عارف اللہ قادری میرٹھی راولپنڈی، شیخ المحدثین سید ابوالبرکات لاہوری، خطیب العصر سید حامد علی شاہ صاحب گجرات، حضرت علامہ مولانا غلام دین صاحب انجن شیڈ والے اور شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی شامل ہیں۔

بحوالہ: فلک نیوز