PDA

View Full Version : چراغ مصطفوی ﷺ سے مرعوب شرار بولہبی



حافظ
05-16-2015, 03:04 PM
چراغ مصطفوی ﷺسے مرعوب شرار بولہبی

از قلم مفتی ڈاکٹر اشرف آصف جلالی

شروع سے ہی حق و باطل کے درمیان جو جنگ جاری ہے حالات حاضرہ میں اس میں شدت آ گئی ہے اگرچہ آج گستاخ قوتیں دنیاوی وسائل میں کافی پیش قدم ہیں مگر غلامان رسو لﷺ بھی تازہ دم ہیں شرار بو لہبی ہو یا شرار چارلی سب کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور پڑے گی۔
اس بات پر اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ تھوڑا ہے کہ اس نے ہمیں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کا شرف عطا فرمایا اور ہمارے دلوں کو آپ ﷺ کی بے پناہ محبت کے لئے چن لیا ۔ خالق و مالک معبودِ بر حق عزّ اسمہ نے ازل ہی سے ہمارے آقا سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اپنی محبوبیت کے لئے منتخب فرمایا۔ اس کی طرف سے فرشتوں کے سامنے ہمیشہ سے آپ ﷺکی ثناء کا سلسلہ جاری ہے۔اس خدائے لم یزل نے آپ ﷺ کی رفعتِ ذکر کا جھنڈا ہمیشہ کیلئے یوں گاڑدیا ہے جسے کوئی اکھاڑ نہیں سکتا۔
نہایت افسوس کا مقام ہے یہود و نصاریٰ اور ان کے حواریوں کی طرف سے گستاخیوں کا ناپاک سلسلہ گزشتہ کئی صدیوں سے جاری ہے، ڈنمارک میں بنائے گئے گستاخانہ خاکوں اور امریکا میں بنائی گئی گستاخانہ فلم کے علاوہ نہ جانے کتنی کتابوں، ڈراموں اور گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں میں یہ دھندا ہوتا رہا ہے، کہیں قرآن برننگ ڈے اور کہیں اسلام دشمن ایجنڈے، مغرب سلمان رشدی ، تسلیمہ نسرین،ٹیری جونز اور سام باسل جیسے ہر گستاخ کو گستاخی کے بدلے ہیرو قرار دیتا ہے اور غلامان رسول ﷺ کی چھاتی پہ یہ مونگ دلتا ہے ۔توہینِ رسالت بلاشبہ سب سے بڑی دہشت گردی ہے مغرب یہ دہشت گردی بار بار کر تاہے اور پھر اکڑتا ہے جب 2012 ء میں امریکہ میں گستاخانہ فلم بنی تو اس کے رد عمل میں پوری دنیا میں امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔امریکی صدر اوبامہ نے امت مسلمہ کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا :
I know there are some who ask why we don`t just ban such a video. The answer is enshrined in our laws; our constitution protects the right topractise free speech.\'\' the majority of Americans are Christian, and yet we do not ban blasphemy against our most sacred beliefs,\'\' he explained.
Dawn ,Sep 26,2012 ))
امریکی صدر اوبامہ نے کہا میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم توہین رسول ﷺپر مبنی اس ویڈیوپر پابندی کیوں نہیں لگاتے ہیں اس سوال کا جواب ہمارے قوانین میں موجود ہے ہمارا آئین ہر شخص کے آزادی اظہار کے حق کا تحفظ کرتا ہے . میری طرح امریکیوں کی اکثریت عیسائیوں پر مشتمل ہے اس کے باوجود ہم اپنے مقدس ترین عقائد کی گستاخیوں پر پابندی نہیں لگاتے ۔ یہ سب کچھ امریکی صدرنے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کے روبرو25 ستمبر2012ء 67th UN General Assembly میں کہا، مگر افسوس ہے مسلم حکمرانوں نے امریکی صدر کی نہایت جارحانہ گفتگو کا اس اجلاس میں یا بعد میں کوئی جواب نہ دیا۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم نے تحریک صراط مستقیم پاکستان کے پلیٹ فارم سے امریکی صدر کے اس بیان کو بر ملا مسترد کیا اوراس کا جواب دینے کیلئے 15 مارچ 2014 ء کو ریلوے اسٹیڈیم گڑھی شاہولاہورمیں تاریخی شان رسول ﷺ کانفرنس منعقد کی ۔
جسمیں ہزاروں علماء و مشائخ اور لاکھوں عاشقان رسول ﷺ نے کفر کے ایوانوں میں زلزلہ طاری کرنے کے لئے غیرت ایمانی کا پھر مظاہرہ کیا ۔
مغرب کی طرف سے گستاخیوں کا سلسلہ پھر بھی نہ رکا فرانس کے مزاحیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے تو توہین کی حدّیں کراس کر دیں۔ اس نے پہلے 2006 ء میں ہمارے آقا و مولیٰﷺ کے گستاخانہ خاکے بنائے ، اس کی بد بختی میں مزید اضافہ ہوا پھر اس نے 2011ء میں یہ سیاہ کاری کی۔ پھر اس نے 2013ء میں گستاخانہ خاکے بنائے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین ، فرانس کی حکومت یا او، آئی، سی اسے اس آتش فشانی سے نہ روک سکی۔ 7 جنوری کو پیرس میں میگزین چارلی ہیبڈو کے دفتر میں چیف ایڈیٹر اور دیگر کارٹونسٹ ادارتی میٹنگ میں مصروف تھے اور مستقبل قریب میں رسول اکرم ﷺ کے (معاذ اللہ) گستاخانہ خاکے چوتھی بارچھاپنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ دو ابابیلوں شریف کواچی اور سعید کواچی نے ایڈیٹر اور چار گستاخانہ خاکے بنانے والوں کو واصل جہنم کر دیا۔ 9جنوری کو فرانسیسی فورسز کی اندھادھند فائرنگ سے دونوں ابابیل داعئِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
قبائے نور میں سج کر لہو سے باوضو ہو کر
وہ پہنچے بارگاہ حق میں کتنے سرخرو ہوکر
ان میں سے سعید کواچی کو این ،این ،آئی کی خبر کے مطابق فرانس کے شمالی شہر ایمز میں خفیہ طور پر سپرد خاک کر دیا گیا ۔جامعۃ الازہر اور مفتیان حرم تو ان ابابیلوں کے بارے میں شہید ہونے کا فتوی نہ دے سکے ۔ملک کواچی برادران کی مذمت کرتے نظر آئے لیکن رکن قومی اسمبلی محمد جمشید دستی نے ۱۵ جنوری کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے کہہ دیا گستاخ میگزین پر حملہ کرنے والے شہید ہیں مجھے موقع ملتا تو میں بھی ایسا کرتا۔
سعید کواچی اور شریف کواچی پیرس ہی میں پید ا ہوئے اور فرانسیسی سکولوں میں انہوں نے تعلیم حاصل کی یہ پاکستان کے کسی دینی مدرسہ کے فارغ التحصیل نہیں تھے جن میں پڑھنے کی وجہ سے مغرب کی طرف سے دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے عشق رسول ﷺ کا سبجیکٹ (Subject) امت مسلمہ کوماؤں کے دودھ ہی میں پلادیا جاتاہے۔ میری معلومات کے مطابق ان کا تعلق القاعدہ یا داعش سے نہیں تھا القاعدہ یا داعش کا انہیں اپنے کھاتے میں ڈالنا بھی مغرب کی ایک سازش ہے کہ تحفظ ناموس رسالت جیسا مقدس فریضہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک امت کا طرہ امتیاز ہے اس پر بھی دہشت گردی کا لیبل لگ جائے اور داعش جیسے خوارج اس ذریعے سے امت مسلمہ کی ہمدردیاں حاصل کر سکیں ۔
10 جنوری کو ڈنمارک اور آسٹریلیا کے اخبارات نے پھر گستاخانہ خاکے چھاپے۔اور 11جنوری کو جرمن اخبار نے گستاخانہ خاکے چھاپنے کا ملعون عمل کیا۔ 11 جنوری ہی کو پیرس میں سب سے بڑا اجتماعِ منافقین ہوا جسے پیرس ملین مارچ کا نام دیا گیا جو در اصل واصل جہنم ہونے والے گستاخوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کا اجتماع تھا۔ جس میں چالیس ممالک کے سربراہان مملکت اور یہودی ونصرانی لیڈر شریک ہوئے۔ان میں اسرائیلی وزیر اعظم جیسے بے حیا بھی آزادئ اظہار کے نعرے لگا رہے تھے جو اپنے اپنے ملکوں میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے اور آزادئ اظہار کو کچلنے والے ہیں۔
افسوس صد افسوس اس میں کچھ مسلم حکمرانوں نے بھی شرکت کی۔ حالانکہ اس مارچ میں بھی رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کے پوسٹر اٹھائے کچھ ملعون شریک تھے۔ مراکش کے وزیر خارجہ صلاح الدین نے مارچ میں گستاخانہ خا کے مو جود ہونے کی وجہ سے بائیکاٹ کیا، شرکائے مارچ نے باربار یہ نعرہ بلند کیا ہم سب چارلی ہیں یعنی ہم سب گستاخ ہیں۔اس مارچ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کی یہ بے حمیّتی اور غیر شرعی لچک بھی یورپ کے گستاخ مزاج کو موم نہ کر سکی۔ اور بدنام زمانہ چارلی ہیبڈو میگزین کی انتظامیہ نے اس مارچ کے تیسرے دن 13 جنوری ہی کو چوتھی بار پیغمبرِ اسلام رسول اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکے چھاپ دئیے ۔
اس کی 60 ہزار کے بجائے 30 لا کھ کاپیاں 6 زبانوں میں چھاپ کر دہشت گردی کی انتہا کردی۔بلکہ پیرس سے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 50 لاکھ خاکے شائع کئے گئے اور گستاخانہ مواد 16 زبانوں میں پرنٹ کیا گیا۔
دو ارب مسلمان بلک اٹھے مگر سعودی عرب سمیت ایک دوکے سوا مسلم حکمرانوں کے ضمیر حد درجہ کی اس توہینِ رسالت کو بھی ہضم کر گئے۔فرانسیسی سفیر ملک بدر کئے نہ اپنے سفیر فرانس سے واپس بلوائے، گستاخوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا، نہ یورپی یونین سے تعظیم انبیاء علیہم السلام کا قانون بنوا سکے۔اکثر مسلم حکمرانوں کو تو ان خاکوں کی مذمت کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔ مسلم حکمرانوں کا کردار مغرب کے سامنے نہایت بزدلانہ اور شرمناک رہا ۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان تسنیم اسلم نے او آئی سی کو خط لکھا کہ چارلی ہیبڈو میگزین پر مقدمہ چلایا جائے حکومت پاکستان نے اسی خط پر اکتفا کر کے سمجھا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔
سعودی حکمرانوں اور حرم کے مفتیوں کا اب بھی وہ مایوس کن رویہ رہا جوٹیری جونز کی طرف سے قرآن جلائے جانے پر اور سام باسل کی طرف سے گستاخانہ فلم بنانے پر تھا حالانکہ ۲۵ جنوری کو ریاض میں شاہ سلمان سے فرانس کا صدرنکولس ملا مگر شاہ سلمان کو فرانس کے صدر سے جو اس وقت امت مسلمہ کا عظیم مجرم ہے سے احتجاج کی توفیق نہ ہوئی اسی دوران جب اوباما گستاخانہ خاکوں کو اپنی آزادی قرار دے دیا تھا۔ سعودی حکمران نے ۲۷ جنوری کو خود ریاض ائیر پورٹ پر جا کر اس کا اور اس کی اہلیہ کا استقبال کیا تواحتجاج کون کرے گا ہاں! جب محمد عربی ﷺ کے دیس عرب میں زمین پر راج کرنے والے حکمرانوں کی طرف سے گستاخوں اور ان کے سر پرستوں کو نوازا جا رہا تھا تو دنیا نے دیکھا ۔کویت کے علاقہ وفرہ میں آسمان پر قدرت نے اسم محمد ﷺ کا اجالا کر دیا آسمان پر بادلوں سے سورج کی شعاعیں باہر نکلیں تو بادلوں میں ایک حسین نظارہ بنا اور اسم محمد ﷺ واضح طور پر نمودار ہوا جس کو کیمرہ کی آنکھ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا جسے ۲۵ جنوری کو ہمارے قومی اخبارات میں بھی شائع کیا گیا ۔
اسرائیل نے گستاخانہ خاکوں والا یہ جریدہ اپنے ملک میں مفت تقسیم کیا۔
امریکی انٹر نیٹ کمپنی گوگل کی طرف سے چارلی ہیبڈو میگزین کو اس ملعون عمل کے لیے تین لاکھ ڈالر دیے گئے فرانسیسی حکومت کی طرف سے دس لاکھ یورو دیے گئے برطانیہ کے گارجیس میڈیا گروپ اس شیطان جریدے کو ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ دئیے۔
فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا چارلی زندہ رہے گا اس نے ان گستاخیوں کو اپنی آزادی کہا اور ہم یہ آزادی دبنے نہیں دیں گے۔ ڈیوڈ کیمرون نے CBS کو انٹرویو دیتے ہوئے ببانگِ دہل کہا:
I think in a free society, there is a right to cause offence about someones religion. I am a Christian, If someone says something offensive about Jesus, I might find that offensive but in a free society I dont have a right to wreak my vengeance upon them, Cameron said. we have to accept that newspapers, magazines can publish things that are offensive to some as long as its within the law, he said.
( Dawn Lahore 19 Jan 2015)
میرے خیال میں ایک آزاد معاشرے میں کسی کے مذہب کو آزار پہنچانا جائز ہے میں ایک عیسائی ہوں اگر کوئی شخص حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کوئی توہین آمیز بات کہے تو مجھے اس سے آزار تو پہنچے گا مگر ایک آزاد معاشرے میں مجھے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میں اس پر غضب ڈھا سکوں۔ ہمیں ان جرائد و اخبارات کو قبول کرنا ہو گا جو اس طرح کی آزار پر مبنی چیزیں چھاپتے ہیں جبکہ قانون بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔
ہمیں انتظار ہے کہ مسلم دنیا کا کوئی وزیر اعظم برطانوی وزیر اعظم کو غیرت مند ایمانی لہجے میں کب جواب دے گا۔
مگر افسوس کہ اب تک ایسا نہیں ہو سکا ہاں مزاج پاکستان میں حرارت ایمانی اب بھی ہے غلام محمد بلورنے کہا جو شخص گستاخ چارلی ہیبڈو میگزین کے مالک کو قتل کرے گا تو میں اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دوں گا ۔فرانس نے جب بلور کے اس بیان کو دہشت گردی قرار دیا اور اس کے خلاف تفتیش شروع کی تو ہم نے قومی اخبارات میں غلام احمد بلور کے اس بیان کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے پر زور حمایت کی۔
اللہ کا شکر ہے ہم نے عالم کفر کی ان حالیہ ناپاک جسارتوں یعنی ڈنمارک آسٹریلیا جرمنی اور فرانس میں بننے والے ان گستاخانہ خاکوں کے خلاف پاکستان میں سب سے پہلے 15 جنوری کو پنجاب اسمبلی سے امریکی سفارت خانے تک بھرپور ریلی نکالی ۔ اور گستاخوں کی پھانسی کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ کیا کہ اگر گستاخانہ خاکے بنانے والوں کی حمایت میں چالیس ممالک پیرس ملین مارچ کر سکتے ہیں تو اس حد درجہ کی توہینِ رسالت پر سرکارِ مدینہ ﷺ سے اظہارِ وفا کیلئے 57 اسلامی ممالک کے حکمران اوردنیا بھر کے مسلم رہنما مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں ملین مارچ کر کے فداک یارسول اللہ ﷺ کی صدا کیوں نہیں بلند کر سکتے؟ مگر افسوس کہ ہماری یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی ۔
حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احد کے میدان میں بوقت شہادت کہا تھا کہ اے غلامانِ رسول ﷺ اگر تم میں سے ایک کے زندہ ہوتے ہوئے بھی سرکارِ دو عالم ﷺ کی توہین ہو گئی تو اللہ اس ایک کو بھی معاف نہیں کرے گا۔حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اس امت کاجینا بھی کیاجینا جس کے نبی ﷺ کی توہین کی جا رہی ہو۔ظاہر ہے غم و غصہ کی ان انتہائی تلخ کیفییّات میں ہماری طرح آپ بھی تڑپ رہے ہوں گے۔ آنکھوں سے اڑی ہوئی نیند اور چھلکتے آنسو ہم سے کچھ کر گزرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے فرعون، شداداور نمرود کے وارث یہ مغربی حکمران اور ان کے خاکے بنانے والے گماشتے خاک ہو جائیں گے اور عظمت مصطفیٰ ﷺ کا پرچم عرش کی چوٹی پہ لہراتا ہی رہے گا۔ لیکن روز محشر سرخرو ہونے کے لئے اور پاکستان کے عاشقانِ رسول ﷺ کو دربارِ رسالت سے بھرپور اظہارِ وفا کا موقع فراہم کرنے کے لئے ہم نے 22 مارچ کو مینارِ پاکستان کے وسیع و عریض میدان میں دس لاکھ عاشقانِ رسول ﷺ کو جمع کرنے کا عزم کیا ہے۔ ہم ان لپکتی بجلیوں میں سوئے ہوئے آہوانِ حرم کو صدا دے رہے ہیں۔
فضائے عشق کے طائر ہیں غافل آشیانوں میں
ادھر گستاخیوں کا سلسلہ ہے نرم شانوں میں
وہ جن کی شان کا دیگر نہیں ہے سب زمانوں میں
وہ جن کا رتبہ رب نے بڑھایا سب جہانوں میں
وہ جن کا نام ہے شامل نمازوں میں، اذانوں میں
رسولوں کے وظائف میں فرشتوں کے ترانوں میں
جو اس محبوب کی توہین کے خاکے بناتے ہیں
کروڑوں عاشقوں کا دل اہانت سے جلاتے ہیں
چلو لاہور بتلا دو ا نہیں ا سلام زندہ ہے
فضائے بدر کا اب بھی وہی پیغام زندہ ہے
اُدھر اسلام فوبیا مغرب کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ اور مغرب کی اسلامائیزیشن کے خلاف بغض کے اظہار کے لئے رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکے بن رہے ہیں۔ اور اِدھرخوارج بزعم خویش شوق توحید اور شرک کے رد کی آڑ میں رسول اکرم ﷺ کو ایک سطحی سا انسا ن قرار دے رہے ہیں اور آپ ﷺکی بلند و بالا ذات اور اپنے وجود کے درمیان مماثلتیں اور مشابہتیں تلاش کرنے اور بیان کرنے میں مصروف ہیں۔اگر آثارِ رسول ﷺ کے سامنے امت ہاتھ باندھے با ادب کھڑی ہوتی تو یہود و نصاری پر ذاتِ رسول ﷺ کی عظمت کی دھاک یوں بیٹھی ہوتی کہ کوئی حالیہ گستاخیوں کی جسارت نہ کر سکتا۔ دشمن کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے مد مقابل کی عوامی محبت اور پاپولیریٹی (Popularity)کو دیکھ کر اپنی عداوت کا میرٹ معین کرتا ہے۔یا پھر کبھی اتنا متاثر ہوتاہے کہ عداوت ترک کر کے محب بن جاتا ہے۔بخاری شریف میں ہے کہ جب عروہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰ عنہ قریش کے سفیر کی حیثیت سے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں ذاتِ نبوی ﷺ کے آداب بتانے کے لئے بہت پہلے سے آغاز کیا۔ یہ بتانا تھا کہ اے دشمن نبی ﷺ سرکارِ دو عالم ﷺ کے چہرے کی طرف میلی نگاہ سے مت دیکھنا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اکرم ﷺ کا لعاب دہن ہاتھوں پر لے کر ماتھوں پر لگانا شروع کر دیا۔ پیکرِ رسول ﷺ کے آداب بتانے تھے تو سرکارِ دو عالم ﷺ کے اعضاء مقدسہ سے ٹپکنے والے وضو کے پانی کو بھی چومنے لگے، اسے دیکھ کر دشمن نبی ﷺ سوچنے پر مجبور ہوا اور عداوت کو محدود ہی نہیں کیا بلکہ عداوت ختم کرکے آپ ﷺ کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔
آج ہمارے دشمن یہود ونصاری کو مسلمانوں کے احوال کا پورا پتہ ہے۔وہ مسلمانوں کی ہرہر بات نوٹ کیے ہوئے ہیں۔آج واشنگٹن بیسڈ گلف انسٹیٹوٹ کی یہ رپورٹ خاکے بنانے والوں کے سامنے ہے۔ دو مقدس شہروں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں گذشتہ بیس سالوں میں 95 فیصد آثارِ رسول ﷺ اور مقدس مقامات یہ امت خود گرا چکی ہے۔
اگر مرکزِ اسلام سے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مرقدِ پُرنور ، حجرہ مبارک اور گنبدِ خضریٰ کے آداب بتائے گئے ہوتے تو غیر مسلموں پر مکینِ گنبدِ خضریٰ ﷺ کے آداب کی بھی دھاک بیٹھی ہوتی اور خاکوں جیسی جسار تیں نہ کی جاتیں مگر افسوس ہے کہ بدع القبورانواعہا واحکامھا جیسی کتابیں بھی مارکیٹ میں آ گئیں جن میں لکھا ہے:
انَّہٗ یَجِبُ عَلٰی الْمُسْلِمِیْنَ اِعَادَۃُ الْمَسْجِدِ النَّبَوِیِّ کَمَا کَانَ فِیْ عَصْرِ النَّبُوَۃِ مِنَ الْجِھَۃِ الشَّرْقِیَّۃِ حَتّٰی لَا یَکُوْنَ الْقَبْرُ دَاخِلاً فِیْ الْمَسْجِدِ وَ اَنْ یَجِبَ عَلَیْہِمْ اِزَالَۃُ تِلْکَ الْقُبَّۃ۔ ص 256
مسلمانوں پر واجب ہے کہ مسجد نبوی کو مشرقی جانب سے واپس اسی شکل میں لے جائیں جیسے عہد نبوت میں تھی تاکہ رسول اللہ ﷺ کی قبر مسجد سے خارج ہو جائے اور مسلمانوں پر گنبد خضریٰ کا گرانا واجب ہے۔(معاذ اللہ)
افسوس بالائے افسوس یہ ہے کہ امت کے سینے تو مغرب کی طرف سے مسلسل گستاخیوں کے تیروں سے چھلنی تھے مگر اندرونی محاذ سے ان زخموں پر کی جانے والی نمک پاشی سے حالات مزید نا گفتہ بہ ہو گئے ہیں۔
ہم 27 دسمبر کو ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہونے والے گنبدِ خضریٰ سیمینار میں گنبدِ خضریٰ کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور شبہات کا با حوالہ تذکرہ کر چکے ہیں اور قرآن و سنت سے اس کا جواب دے چکے ہیں۔مملکت خدا داد پاکستان میں نام نہاد روشن خیالی کے زریعے گستاخانہ کلچر کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور غازی ممتاز حسین قادری جیسے ناموسِ رسالت ﷺ کے متوالوں کو سٹیٹ کے باغیوں اور دہشت گردوں کے ساتھ نتھی کیا جا رہا ہے۔جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا کے نقشے پر پاکستان دوقومی نظریے کی بنیاد پر بننے والی سلطنت اور مدینہ منورہ کا عکسِ جمیل ہے۔ ہم پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اور آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے قوم کو گنبدِ خضریٰ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اور پیرس ملین مارچ کا جواب دینے کے لئے مکین گنبدِ خضریٰ ﷺ ملین کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اے علماء و مشائخ، اصحابِ جبّہ و دستار! اے تمام طبقاتِ زندگی کے کامیابی کے لئے قوم کو گنبدِ خضریٰ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اور پیرس ملین مارچ کا جواب دینے کے لئے مکین گنبدِ خضریٰ ﷺ ملین کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔
اے علماء و مشائخ، اصحابِ جبّہ و دستار! اے تمام طبقاتِ زندگی کے عاشقانِ رسول ﷺ مکینِ گنبدِ خضریٰ ﷺ اور گنبدِ خضریٰ کے لئے اٹھنا اب ضروری ہو گیا ہے۔چنانچہ اٹھو !
بستی بستی سے ، شہر شہر سے ،درسگاہوں سے ،خانقاہوں سے ،آرامگاہوں سے ،سیر گاہوں سے ،دفاتر دکانوں سے ،کھیتوں کھلیانوں سے،
اس عقیدہ ونظریہ کے ہمراہ کہ 22 مارچ بروز اتوارصبح آٹھ بجے حضرت داتا گنج ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ کے شہر لاہور میں مینارِ پاکستان کی وسیع و عریض گراؤنڈ میں ناموسِ مصطفیٰ ﷺ اور گنبدِ خضری کے تحفظ کے علمبرداروں، اہلسنت و جماعت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں آپ کی شرکت ایک اہمّ دینی فریضہ کی آدائیگی قرار پائے گی۔اور ہم اس پر آپ کے شکر گزار ہوں گے۔اللہ تعالی اپنے حبیب لبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے صدقے ہمارا حامی و ناصر ہو