PDA

View Full Version : سعودی سفیر اور قومی ضمیرکا مکالمہ



حافظ
05-16-2015, 04:20 PM
سعودی سفیر اور قومی ضمیرکا مکالمہ

از :ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی (سربراہ تحریک صراطِ مستقیم پاکستان)

سعودی عرب نے جب (Decisive Storm) کے نام سے 26مارچ کو یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کاروائی کا آغازکیا تو اپنے لئے پاکستان کی فوجی مدد کو ضروری سمجھا اور یمن پر حملہ کرنے کے تیسرے دن28 مارچ کو شاہ سلمان نے ہمارے وزیر اعظم کومددکی فراہمی کے لیے فون کیا تو نواز شریف کا برجستہ جواب یہ تھا سعودی عرب کے لیے پاکستانی فوج حاضر ہے لیکن ملک کی تمام مقتدر قوتوں نے سعودی عرب فوج بھیجنے کے حساس مسئلہ کے فیصلہ کے لیے پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں پارلیمنٹ کا فوری طور پر اجلاس بلایا جائے چنانچہ سعودی عرب کی طرف سے دی گئی مدد کی درخواست پر غور کرنے کے لیے 6 اپریل کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ،جس نے چار دن کے غورو خوض کے بعد10 اپریل کو قرار داد منظور کی ۔ اسی دن سے پارلیمنٹ کے خلاف مہم جوئی کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اس میں کوئی شک نہیں یہ قرار داد قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان نے اتفاق رائے سے منظور کی ہے اور بلاشبہ پارلیمنٹ قومی دانش کااجتماعی ادارہ ہے اور اس کی یہ قرار داد قوم کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے۔ لیکن 12 نکاتی قرار داد کے پاکستان کے غیر جانبدار رہنے اور ثالث بننے کے الفاظ نے تو سعودی حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے ایسی غیر متوقع صورت حال کو جنم دیا جس کی وہ کبھی توقع نہیں کر سکتے تھے چنانچہ سعودی وزیر نے اس قرار داد کو مذاق قرار دیا اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ پاکستان کو اس مبہم موقف کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی یہ بیان سفارتی آداب اور مسلم بھائی چارے کے جذبہ کے بالکل منافی تھا۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان مدینہ منورہ کی سٹیٹ کے بعد کلمۂ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی دوسری سٹیٹ ہے ۔یہ حرم کعبہ اور گنبد خضریٰ کا عکس جمیل ہے کسی بھی اسلامی ملک کے لیے اس کی طرف سے پاکستان کو یہ پہلی دھمکی تھی جو میٹھی عربی زبان میں ملی تھی یہ ٹھیک ہے پاکستانی قوم کے پاس یو اے ای ایسی دولت نہیں مگر غیرت تو ہے ہم اپنی عظیم فوج کے بارے میں یہ جملہ نہیں سننا چاہتے یہ ڈالروں اور ریالوں میں تُولی جانے والی فوج ہے ۔پوری قوم کے ضمیر نے اس بات کو محسو س کیا کہ عرب ممالک ہم سے یوں فوج مانگ رہے ہیں جیسے ہم ان کے باج گزار ہوں بلکہ تقریبا اس انداز سے جیسے کسی کا گریبان پکڑ کے اس سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جائے شریف برادان سعودی حکمران کے زیر بار احسان تو پہلے تھے مگر اب دو سال پہلے سعودی کی طرف سے دئیے گئے ڈیڑھ ارب ڈالر کے نذرانے کے تقاضے اور شاہ سلمان کی طر ف سے ریاض ائیر پورٹ پر نواز شریف کے استقبال اور بے حد پذیرائی کے اسرارو رموز بھی ظاہر ہونے لگے۔
ہمارے ملک کے اندر بھی اس قرارداد کو ایک طرف تو بہت داد دی جارہی ہے اور دوسری طرف بہت بے قراری پائی جا رہی ہے ۔سعودی حکومت کا موڈ آف ہونے کی وجہ سے ہمارے شریفین بھی حرمین کی آواز بلند کرتے ہوئے بار ی باری سعودی عرب کے ڈیمج کنٹرول دورے پر یوں جا چکے ہیں جیسے کوئی سجدہ سہو نکالنا چاہتے ہوں۔ ادھر سے بھی پہلے وزیر ،مشیر اور پھر امام مسجد حرام کی آمد ہو ئی لیکن معاملہ جوں کا توں ہے اور قوم سعودی عرب فوج بھیجنے کو تیار نہیں ہے ۔سعودی وزیر عبد العزیز بن عبد العمار کا پاکستان سے واپسی کا تأثر تو یہی بیان کیا گیا جیسے کوئی آدمی ناراض ہو کے واپس جا تا ہے اہل پاکستان کے دلوں میں اگرچہ خانہ کعبہ اور گنبد خضریٰ کی بڑی عظمت ہے مگر امام مسجد حرام کے دورے کو بھی امامت ڈپلومیسی قرار دیا جارہا ہے کہ امام مسجد حرام کو پاکستانی حکومت نے موج تو کرائی ہے مگر فوج نہیں بھجوائی ہے ہاں واشنگٹن میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی تھنگ ٹینک نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے بحری جہازوں کو یمن کی سمندری حدود کے قریب تعینات کرنے پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے پاکستان میں ویسے تو سعودی عرب کا سرکاری سفیر نہیں ہے لیکن درباری کئی ہیں ۔ہم ان سطور میں سوال و جواب کی شکل میں سعودی عرب کے ہر حامی وسفیر اور قومی ضمیر کا مکالمہ پیش کر کے اظہار حقیقت چاہتے ہیں ۔
سفیر : سعودی عرب ہمارا بڑا بھائی ہے اس کے ہم پر بڑے احسانات ہیں اور اس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی ہے زلزلہ ہو یا سیلاب جوہری پروگرام ہو یا دفاعی اخراجات تو ہمیں بھی مشکل کی گھڑی میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔
ضمیر : یہ ٹھیک ہے مگر پاکستان نے بھی سعودی دوستی کا خمیازہ کچھ کم نہیں بھگتا ۔ 15 سال سے پاکستان جو دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور پچاس ہزار سے زائد مرد و زن اور فوجی جوان اس آگ کا ایندھن بن چکے ہیں ابتداءً یہ آگ جن ہاتھوں سے لگائی تھی وہ ہمارے نہیں تھے سعودی عرب کی امریکہ نواز پالیسیوں نے اسامہ بن لادن کو جنم دیا پھر اس نے آگے القاعدہ کو جنم دیا اور القاعدہ نے طالبان کو جنم دیا اور طالبان نے پاکستان کی چولیں ہلا کر رکھ دیں معاملہ تو سعودی عرب اور اسامہ کا تھا پاکستان درمیان میں مفت میں روندا گیا ۔القاعدہ کا بنیادی ڈھانچہ سب سعودی تھے نائن الیون کے 19 اغواکاروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے بتایا جاتا ہے اگر سعودی عرب اس طبقے کو سنبھال لیتا تو وہ پاکستان کے وزیرستان اور پاک افغان بارڈ آر پار پہاڑوں اور غاروں میں نہ آ گھستے یہاں تک کہ سعودی عرب سے ناراض اسامہ اپنے آخری وقت میں پاکستان ہی سے پایا گیا یہ وہ طبقہ ہے کہ سعودی عرب کی دشمنی میں ہمارے لیے وبال جان بنا دوسرا وہ طبقہ ہے جس نے سعودی عرب سے اپنی نظریاتی وابستگی کی بنیاد پر دوستی کی پینگھیں چڑھا کرمدارس اور مساجد کے نام پر بے تجاشافنڈ لیا اور پہلے دہشتگرد طبقے کو دہشتگردی کے لیے پنیری فراہم کی یوں سعودی عرب کی دوستی اور دشمنی کے درمیان پاکستان میں دہشتگردی کر نے پر اتحاد ہو گیا ۔دوسری طرف سے ایران بھی پاکستان میں اپنی نظریاتی برادری کی تجوریاں بھر رہا تھا یوں پاکستان ان کی پراکسی وار کا میدان جنگ بن گیااور اب تک یہ آگ بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی یہی وجہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے پس منظر میں جب دہشت گردی کے اسباب پر غور کیا جانے لگا تو وزیر مملکت ریاض پیر زادہ نے ایک تقریر سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کو پاکستان میں دہشت گردی کا مودر الزام ٹھہرایا بلکہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعدو ضوابط کے اجلاس میں آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ پنجاب میں 147 مدارس بیرونی ممالک سے فنڈ حاصل کر رہے ہیں ان فنڈزکے اعدادو شمار میں برادر سعودی عرب کے فنڈز زیادہ نظر آتے ہیں جو لازمی طور پر ایک مکتبہ فکر کے لوگوں کو دیے جاتے ہیں۔
رہا جوہری پروگرام اور دفاعی پروگرام میں سعودی عرب کی طرف سے دی گئی مدد کا معاملہ تو پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے واضح لفظوں میں کہا ہے ہمارے جوہری پروگرام ،دفاعی پروگرام ،میزائل پروگرام اور آپریشن ضرب عضب میں سعودی عرب کی کوئی مدد نہیں ہے ۔ بلکہ انہوں نے کہا سعودی عرب سے تیل مفت یا سستے داموں نہیں ملتا بلکہ بازار کے داموں خریدا جاتا ہے۔
سفیر :حوثی باغیوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے اور ایران ہندوستان کا حلیف رہا ہے چنانچہ پاکستان کو ایران کے مقابلے میں سعودی عرب کو ترجیح دینی چاہیے ۔
ضمیر :ہمارے حق میں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی ایک جیسی ہے، سعودی عرب نے بھی ہندوستان سے تعلقات اچھے رکھے ہیں شاہ سعود کے زمانے میں پنڈت جواہر لعل نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور سیدی نہرو کے بینر لگائے گئے تھے ۔سعودی عرب میں بھارتی لیبر کو پاکستانی لیبر پر ترجیح دی جاتی ہے بلکہ عرب ملکوں میں بھارتی لیبر کی تعداد زیادہ ہے اور وہ ان کے اہم اداروں میں اعلی ترین مناصب پر فائض ہیں جبکہ سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جس کا وہاں رہنے والے پاکستانیوں کو اچھی طرح ادراک ہے بھارت کے معاملہ میں ہمیں سعودی عرب سے کافی شکایات ہیں اگر سعودی عرب اپنے بقول لوگوں کو حوثیوں کے مظالم سے بچانے کے لیے یمن پہ فضائی حملہ کر سکتا ہے تو پاکستان کی شاہ رگ کشمیر جو کہ بھارت کے پنجے میں ہے اسے چھڑانے کیلیے سعودی عرب بھارت پر حملہ کیوں نہیں کر سکتا ساٹھ ہزار حوثیوں کے ظلم کو روکنا زیادہ ضروری ہے یا کشمیر میں موجود آٹھ لاکھ بھارتی فوج جو ایک لاکھ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر چکی ہے اس کے مظالم سے کشمیری مسلمانوں کو نجات دلوانا زیادہ ضروری ہے اگر بھارت سے اچھے تعلقات کی وجہ سے سعودی عرب کو پاکستان کی کشمیر کے بارے میں پالیسی کا کوئی لحاظ نہیں تو ہمارے اوپر یمن کے بارے میں سعودی پالیسی کو فالو کر نا کیوں فرض قرار دیا جارہا ہے سعودی عرب اور ایران کواگر تقابلی طور دیکھا جائے تو قیام پاکستان کے وقت کے ایران کو تو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ ایران وہ پہلا اسلامی ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو بطور ایک آزاد اسلامی ملک تسلیم کیا تھا بہر حال ہمیں حرمین شریفین کے تحفظ کی بات دنیاوی مفادات سے بالا تر ہو کر اخروی نجات کی خاطر کرنی ہو گی لہذا توجہ ،الریاض اور تہران سے ہٹ کر صرف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہونی چاہیے ۔
سفیر : سعودی عرب یمن کے قانونی صدر کی حکومت بچانے نکلا ہے اس لیے پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی مدد بھی قانونی ہی کہلائے گی اسے کسی اسلامی ملک کے خلاف جارحیت میں تعاون نہیں کہا جائے گا ۔
ضمیر:سعودی عرب کا ماضی خود ہی تمہاری اس دلیل کو جھٹلا رہا ہے 2012 میں عام انتخابات کے بعد مصر میں مرسی صدر منتخب ہوئے 2013 میں جنرل سیسی نے اپنے منتخب آئینی صدرکے خلاف بذریعہ فوج بغاوت کر کے منتخب صدر کا تختہ الٹ دیاتب سعودی عرب نے وہاں تو منتخب آئینی صدر کی مدد نہیں کی بلکہ منتخب صدر کا تختہ الٹنے والے جنرل سیسی کا ساتھ دیا اور اس کام کے لیے اس کی ساڑھے پانچ ارب ڈالر مدد بھی کی۔
سفیر : سعودی عرب کویمن میں کو ئی ذاتی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ تو اسلام کی سربلندی کے لیے اور یمن کے مظلوموں کو حو ثیوں کے ظلم سے بچانے نکلا ہے لہذا اس وقت سعودی عرب کی مدد اسلام کی مد د ہے۔
ضمیر : فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے رہے عرب حکمران تو مذمت کے دو لفظ بھی نہ بول سکے ابھی ایک سال پہلے غزہ پر اسرائیل پچاس دن آگ برساتا رہا ہزاروں فلسطینی شہید ہو گئے غزہ کی سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں، قبرستانوں میں جگہ نہ رہی فلسطین کا وزیر اعظم،سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کے پاس 3 دن مدد کے حصول کیلئے بیٹھا رہا مگر اسرائیل کی طرف کسی سعودی جہاز کا تو کیا آواز کا رخ بھی نہیں ہوا تھا بلکہ سعودی مفتیوں نے فلسطین کے حق میں ریلیوں کو ناجائز قرار دیا تھا اورویسے بھی مسلمان اپنے اجتماعی اوراصولی دینی معاملات میں سعودی حکمرانوں اور مفتیانِ حرم کی طرف سے ترجمانی کوترستے ہی رہتے ہیں۔ڈنمارک کے گستا خانہ خاکے ہوں یا امریکہ کی گستاخانہ فلم، ٹیری جونز کی طرف سے مبینہ قرآن جلانے کی بات ہویاحالیہ فرانس کے تیس لاکھ خاکے ہوں،کعبہ کے ماڈل شراب خانے بنائیں جائیں یا ابھی3 مئی کو امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں ایف ڈی آئی کی طرف سے اعلانیہ گستاخانہ خاکوں کی نمائش ہو، ان مواقع پر مرکز اسلام سے کبھی بھی امت کی ترجمانی نہیں ہوئی یمن کے مسئلہ پر جو سعودی وزیر ،مشیر اور امام مسجد حرام پاکستان کا رخ کیے ہوئے ہیں کاش کہ کبھی تحفظ ناموس رسالت کی خاطر بھی یوں متحرک ہوتے اور امریکہ کے مقابلے میں عاشقان رسول ﷺ کے زخمی دلوں پر مرہم رکھتے۔
سفیر : حوثیوں سے شدید خطرہ ہے کہ وہ مکہ او رمدینہ منورہ پر حملہ کر دیں گے لہذا ان کا خاتمہ ضروری ہے۔
ضمیر :یہ صحیح ہے کہ حوثیوں کے نظریات درست نہیں اور یقیناًوہ باغی ہیں مگر ان کے رہنما نے واضح طور پر دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے نزدیک بھی حرمین شریفین مرکز ادب و احترام ہیں۔اگریہ مان بھی لیا جائے کہ وہ حرمین شریفین کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنا چاہتے ہیں تو کیا ساٹھ ہزار حوثیوں کے عرب اتحاد کی دس لاکھ فوج کافی نہیں ہے دیکھا جائے تو پندرہ سو فوجیوں کے حصہ میں ایک حوثی باغی آتا ہے پھر کس لیے حوثیوں کو اتنا بڑا ھوابنا لیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ حرمین شریفین کوفی الحال کوئی خطرہ نہیں ،حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے فوج تو کیا قوم کا بچہ بچہ تیار ہے اصل میں اگر خطرہ ہے تو آل سعود کی حکومت کو خطرہ ہے اور حرمین شریفین کا تحفظ اور آل سعود کاتحفظ دو جدا جدا چیزیں ہیں ۔ کچھ لوگوں کی طرف سے آل سعود کے تحفظ کو حرمین شریفین کا تحفظ قرار دینے کی وجہ سے حرمین شریفین کے تحفظ کا مقدس فریضہ متنازعہ بنتا نظر آرہا ہے جو بہت بڑا المیہ ہے اور آل سعود کو اتنا بڑا خطرہ حوثیوں سے نہیں جتنا بڑا خطرہ آتش گل اور آستین کے سانپوں سے ہے سعودی عرب کا سرکاری مسلک اور داعش کا مسلک ایک ہی یعنی وہابی مسلک ہے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ اس وقت سعودی عرب کو جس حقیقی خطرے کا سامنا ہے وہ ملک کے اندر موجود وہابی مخالفین ہیں جن کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے جو شام اور عراق میں موجود داعش کی تعداد کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں
سفیر:اگرتم یمن کے خلاف سعودی عرب کی مدد کرنے کو کسی اور وجہ سے تیار نہیں ہو رہے تو شریعت میں عرب سے پیار کا حکم ہے اور کچھ نہ دیکھو بحیثیت عرب سعودی عرب کی مدد کی جائے ۔
ضمیر : یمنی بھی عربی ہی ہیںیہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ میں یوں حصہ دار ہیں کہ یمن کی سائڈ والا کعبۃ اللہ کا کونہ رکن یمانی کہلاتا ہے یمنی (معاذ اللہ) گوتم بدھ کی اولاد نہیں بلکہ اللہ کے عظیم نبی حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی اولاد ہیں۔ امام بخاری نے صحیح بخاری (باب نسبۃ الیمن الی اسماعیل علیہ السلام )قائم کیا ہے جس کا مطلب ہے اہل یمن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ہیں امام بخاری نے یہاں حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کے قبیلے بنی اسلم کے لوگوں کو تیر اندازی کرتے دیکھا تو فرمایا اے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو !تیر مارو کیوں کہ تمھارے باپ حضرت اسماعیل علیہ السلام بہت بڑے تیر انداز تھے جس یمن پر آج دن رات سعودی عرب کی طرف سے بارود برسایا جارہا ہے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اشارہ کیا تو فرمایا ایمان یہاں ہے ایک دوسرے موقع پر جب ہمارے رسول ﷺ نے جنت کے ایک دروازے کی چوڑائی کو بیان کرنا چاہا تو اس کی ایک جانب کو بیان کرنے کے لیے نگاہ مکہ مکرمہ پر پڑی اور دوسری جانب کو بیان کرنے کے لیے نگاہ یمن کے شہر صنعا پر پڑی۔ ایک مہینہ دس دن ہو چکے سعودی عرب اور اتحادی یمن پر بمباری کر رہے یمن کے شہر کھنڈرات میں بدل رہے ہیں ایک ہزار سے زائد لو گ مارے جاچکے ہیں، اڑھائی ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں ،سعودی جہازوں کے بمبوں کو حوثی باغیوں کی پہچان نہیں ہے بے گناہ مسلمان بھی شہید ہو رہے ہیں۔ 115 سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، 172 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں بلکہ ہیومن رائٹس واچ کے بقول سعودی عرب کی طرف سے یمن کی آبادیوں پر امریکی کمپنی کے تیار کردہ CBU 105 نامی کلسٹر بم برسائے جا رہے ہیں جن سے عام شہریوں کی زندگیوں کو طویل المدتی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں کاش کہ یہ بم اسرائیل پر برسائے جاتے ۔
نائن الیون کے بعد صدر بش نے کہا تھا اب ایک نئی صلیبی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے ماضی کی صلیبی جنگوں میں ہماری جنگ غیر مسلموں سے تھی مگر افسوس اب مسلمان ملکوں کے درمیان صلیبی جنگ شروع ہو گئی ہے ویسے بھی لفظ عرب کے ساتھ سعودی لفظ کا سابقہ بادشاہت پر دلالت کرتا ہے علامہ اقبال کہتے ہیں:
عرب خود را بہ نور مصطفےٰ ﷺسوخت
چراغ مردہ مشرق بر افروخت
ولیکن آں خلافت راہ گم کرد
کہ اول مومناں راشاہی آموخت
ایک وقت تھا کہ عربوں نے اپنے آپ کو نورِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کر کے مشرق کا مردہ چراغ روشن کیا لیکن اب اس خلافت کی راہ گم کر بیٹھے جس نے پہلے دور کے مسلمانوں کو حکمرانی کا طریقہ سکھایا تھا۔
سفیر :اگر تم سعودی عرب کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوج نہیں بھیج رہے تو کم از کم اپنی ضرورت کو ہی دیکھو سعودی عرب میں مقیم 25 لاکھ اور خلیج کی تمام ریاستوں میں 40 لاکھ پاکستانیوں کے روزگار کا مسئلہ ہے اگر تم سعودی عرب کی مدد نہیں کرو گے تو انہیں نکال دیا جائے گا۔
ضمیر :ہاں ! یہ کوئی بعید نہیں کہ ہمارے فوج نہ بھیجنے پر سعودی عرب ایسا کرے کیونکہ1990میں عراق کویت جنگ کے موقع پر یمن کی طرف سے صدر صدام حسین کی حمایت کی وجہ سے سعودی عرب نے یمن کے ساڑھے سات لاکھ مزدور نکال دیے تھے ویسے بھی پاکستانی لیبر کے لیے سعودی عرب میں کئی مشکلات ہیں کچھ عرصہ پہلے سعودی ذرائع سے یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پاکستانیوں کو گولی سے اڑانے کا حکم دیا گیا ہے اس سے پہلے 30 ہزار پاکستانیوں کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی پاداش میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کا نیا قانون وضع ہونے کے بعد ہزاروں پاکستانیوں کو سعودی جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے لیکن دیکھنا چاہیے کہ ان عرب ملکوں میں پاکستان کے مقابلے میں انڈیاکی لیبر کی تعداد زیادہ ہے اوران کے اہم اداروں میں اعلی ترین مناصب پر فائز ہے جبکہ انڈیا سعودی عرب سے کوئی دفاعی تعاون بھی نہیں کر رہا تو پاکستان پر ہی یہ کیوں دباؤ ڈالا جا رہا ہے ویسے بھی حقیقی قومیں کردار کی شکل میں زندہ رہتی ہیں نہ کہ کاروبار اور روز گار کی شکل میں ۔
سفیر :اس مسئلہ کا حل فوج سے ہی کروا لیا جائے کیونکہ مدد کے لیے انہوں نے جانا ہے وہ جانا بھی چاہتی ہے یا نہیں ۔
ضمیر :پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے فوج بھی چاہتی ہے کہ یمن کے معاملہ پر پاکستان ثالث کا کردار ادا کرے فوج کی یہ رائے حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ تقریبا ایک لاکھ بہتر ہزار فوجی پہلے ہی آپریشن میں مصروف ہیں ۔
سفیر:سعودی عرب فوج نہ بھیجے کا موقف سیکولر لابی کا ہے ملک کا تمام مذہبی طبقہ تو فوج کے حق میں ہے ۔
ضمیر :یہ دعوی درست نہیں ملک کی غالب مذہبی اکثریت اہل سنت و جماعت نے یکم اپریل کوتحریک صراط مستقیم پاکستان کی دعوت پر اپنی اے پی سی میں پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کا جو اعلامیہ جاری کیا پارلیمنٹ نے بھی اپنے قرار داد میں وہی پاس کیا ۔اگر پھر بھی اس قرار داد کو سیکولر سوچ کا ترجمان کہاجارہا ہے تو قرار داد کے حق میں ووٹ تو ملا فضل الرحمن ، ساجد میر ،حافظ عبد الکریم ،سردارمحمد یوسف نے بھی دیا ہے جو سعودی عرب کے نزدیک رجسٹرڈ مذہبی لوگ ہیں ۔
سفیر:پھر پاکستانی قوم کو سعودی عرب کی مدد کے لیے کیسے تیار کیا جائے تاکہ پاکستانی فوج یمن میں زمینی جنگ میں شریک ہو سکے ۔
ضمیر :آپ جو پاکستان سے مدد لینے کے لیے اتنے کوشاں ہیں پہلے آپ اپنے سعودی مفتیانِ کرام سے پوچھ تو لیں کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا جائز بھی ہے یا نہیں پاکستان کا مدد کرنا یا نہ کر نابعد کی بات ہے ۔ویسے اتنی تبدیلی توہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو پہلے لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہِ عَلَیْکَ وََ سلَّمَ کہنے پر اعتراض ہوا کر تا تھا لیکن اب تو آپ کے لوگ بھی لَبَّیْکَ یَا خَادِمَ الْحَرَمَیْن کے نعرے لگا رہے ہیں ۔
سفیر:اس میں تو کوئی قباحت نہیں حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی مددگار ہے مجازاً اس کے بندے بھی اس کی مدد کا مظہر بن جاتے ہیں۔
ضمیر:یہ بات تو ٹھیک ہے مگر آپ نے جو ہمیشہ قرآنی آیات اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ کیا اللہ بندے کے لیے کافی نہیں ہے اور حَسْبِیَ اللّٰہ میرے لیے اللہ کافی ہےپڑھ پڑھ کر اپنے مخصوص انداز میں جو توحیدخالص بیان کی ہے ۔اس کے مطابق تو پاکستان سے مدد مانگنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی کیونکہ آپ لوگ تو اپنے مخصوص مطلب میں احادیث بھی یہی بتاتے رہے ہیں جب بھی مدد مانگورب سے مانگواور جوتے کا تسمہ بھی مانگو تو رب سے مانگوویسے بھی تعجب کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب فرشتوں کی مدد کے حصول کی بجائے پاکستانی فوجیوں کی مدد کے پیچھے کیوں پڑا ہوا ہے ۔ہمارے قومی شاعر تو یوں کہتے نظر آتے ہیں ۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
لہذا سعودی عرب کے لیے قومی ضمیر کا مشورہ یہی ہے وہ پاکستان کے لحاظ سے زیادہ تشویش میں مبتلا نہ ہو پاکستانی تو روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کے سامنے سعودی پولیس سے ڈنڈے کھا کے یہی کہتے ہیں تیری خیر ہووے پہرے دارا،روضے دی جالی چم لین دے اگر خانہ کعبہ یا گنبد خضری کے لئے جانیں وارنے کاوقت آیا تو پاکستان پہلے نمبر پہ ہوگا۔سعودی عرب فضائے بدر پیدا کر نے پر خصوصی توجہ دے۔ اور فضائے بدر کی تیاری کیلئے حسنِ عقیدہ اور قوتِ عمل کی ضرورت ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میرے زندگی میں جب بھی کوئی مشکل مقام آیا ہے تو میں نے بدھ کے دن مسجد فتح میں ظہر کے بعد جا کر دعامانگی ہے جہاں کبھی رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پربیٹھ کے دعا مانگی تھی تو بہت جلد اللہ تعالیٰ کی مدد میرے شاملِ حال ہوتی رہی ہے ۔
سعودی حکمران پہلے یہ نسخہ تو آزما لیں ۔
سفیر : یہ ساری باتیں ٹھیک ہیں آپ اس مشکل کی گھڑی میں ہمیں زیادہ تبلیغ نہ کریں بلکہ فوج بھیجنے کا اعلان کریں ۔
ضمیر : آپ ہمیں اتنی گارنٹی تو دے دیں اگر ہماری فوج تمہارے دفاع میں حوثیوں کے گولہ و بارود ما مقابلہ کرتے ہوئے نعرۂ تکبیر کے بعد نعرۂ رسالت ،یا نعرۂ حیدری لگا بیٹھے تو ان پر شرک کے تیر تو نہیں بر سیں گے اور اگر جنگ طویل ہونے کی شکل ہماری فوج 12 ربیع الاول شریف کو اپنے معمول کے مطابق عید میلاد النبی ﷺمنائے گی تو اسے کٹہرے میں تو نہیں کھڑا کیا جائے گا ۔
سفیر :یہ امور تفصیل طلب ہیں میں پوچھ کے بتاؤں گا ۔