PDA

View Full Version : کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟



حافظ
05-16-2015, 03:50 PM
کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟

حضرت علامہ ابو زکریا محی الدینبن شرف نووی (متوفی۶۷۶ھ) نے مسلم شریف کی شرح میں لکھا ہے کہ شرعی اغراض و مقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنی جائز اور مباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں۔اول)مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا۔ تاکہ اس کی داد رسی ہوسکے۔دوئم)کسی شخص کی برائیوں کو روکنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی برائیوں کو بیان کرنا تاکہ وہ اپنے رعب داب سے اس شخص کو برائیوں سے روک دے۔سوئم)مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب کو پیش کرنا۔چہارم)مسلمانوں کو شروفساد اور نقصان سے بچانے کے لئے کسی کے عیوب کو بیان کردینا مثلاََ جھوٹے راویوں' جھوٹے گواہوں' بدمذہبوں کی گمراہیوں' جھوٹے مصنفوں اور واعظوں کے جھوٹ اور ان لوگوں کے مکر و فریب کو لوگوں سے بیان کردینا۔ تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے بچ جائیں اسی طرح شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے واقعی عیبوں کو بتا دینا یا خریداروں کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے لوگوں کو آگاہ کردینا۔پنجم)جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور قسم قسم کے گناہوں کا مرتکب ہو مثلاََ چور' ڈاکو' زنا کار' خیانت کرنے والا' ایسے اشخاص کے عیوب کو لوگوں سے بیان کردینا' تاکہ لوگ نقصان سے محفوظ رہیں اور ان لوگوں کے پھندوں میں نہ پھنسیں۔ششم)کسی شخص کی پہچان کرانے کے لئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر کردینا۔ جیسے حضرات محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں امتیاز اور ان کی پہچان کے لئے اعمش (چندھا) اعرج (لنگڑا) اعمیٰ (اندھا) احول (بھینگا) وغیرہ عیبوں کو انکے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں۔ جس کا مقصد ہرگزہرگز نہ توہین و تنقیص ہے نہ ایذا رسانی بلکہ اس کا مقصد صرف راویوں کی شناخت اور ان کی پہچان کا نشان بتانا ہے۔



(شرح صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ والادب ، باب تحریم الغیبۃ ، تحت حدیث الغیبۃ ذکر ک افاک...الخ، ج۱،ص۳۲۲)



اوپر ذکر کی ہوئی صورتوں میں چونکہ کسی کے عیبوں کو بیان کر دینا ہے اسلئے بلا شبہ یہ غیبت تو ہے۔ لیکن ان صورتوں میں شریعت نے جائز رکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی غیبت کر دے تونہ کوئی حرج ہے نہ کوئی گناہ بلکہ بعض صورتوں میں اس قسم کی غیبت مسلمانوں پر واجب ہو جاتی ہے۔ مثلاََ ایسے موقعوں پر کہ اگر تم نے کسی کے عیب کو بیان نہ کر دیا تو کسی مسلمان کے نقصان میں پڑ جانے کا یقین یا غالب گمان ہو۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان رقم لے کر جا رہا ہو اور ایک سفید پوش ڈاکو تسبیح و مصلیٰ لئے بزرگ بن کر اس مسلمان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہو اور مسلمان بالکل ہی اس ڈاکو کے بارے میں لاعلم ہو اور تم کو یقین ہے کہ یہ ڈاکو ضرور ضرور اس بھولے بھالے مسلمان کو دھوکہ دے کر لوٹ لے گا اور تم اس ڈاکو کے عیب کو جانتے ہو تو اس صورت میں ایک بھولے بھالے مسلمان کو نقصان سے بچانے کے لئے ڈاکو کے عیب کو اس مسلمان سے بیان کر دینا تم پر واجب ہے۔ حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اسی بات کو اسطرح بیان فرمایا ہے کہ


اگر بینی کہ نابینا و چاہ استاگر خاموش می مانی گناہ است


یعنی تم اگر دیکھو کہ ایک اندھا جارہا ہے اور اس کے آگے کنواں ہے تو تم پر لازم ہے کہ اندھے کو بتا دو کہ تیرے آگے کنواں ہے اس سے بچ کر چل۔ اور اگر تم اس کو دیکھ کر چپ رہ گئے اور اندھا کنویں میں گر پڑاتو یقیناً تم گنہگار ٹھہرو گے۔(۸)بہتان:۔جھوٹ موٹ اپنی طرف سے گڑھ کر کسی پر کوئی الزام یا عیب لگانا اس کو افترائ' تہمت اور بہتان کہتے ہیں۔ یہ بہت خبیث اور ذلیل عادت ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ خاص کر کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کاری کی تہمت لگانا یہ تو اتنا بڑا گناہ ہے کہ شریعت کے قانون میں اس شخص کو اسی (۸۰) کوڑے مارے جائیں گے اور عمر بھر کسی معاملہ میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور قیامت کے دن یہ شخص دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوگا۔(۹)جھوٹ:۔یہ وہ گندی گھناؤنی اور ذلیل عادت ہے کہ دین و دنیا میں جھوٹے کا کہیں کوئی ٹھکانا نہیں۔ جھوٹا آدمی ہر جگہ ذلیل و خوار ہوتا ہے اور ہر مجلس اور ہر انسان کے سامنے بے وقار اور بے اعتبار ہو جاتا ہے اور یہ بڑا گناہ ہے کہ اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں اعلان فرما دیا ہے کہ۔


لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾۔


یعنی کان کھول کر سن لو کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے (پ3،آل عمران:61)اور وہ خدا کی رحمتوں سے محروم کردیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں اور بہت سی حدیثوں میں جھوٹ کی برائیوں کا بیان ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ اس لعنتی عادت سے زندگی بھر بچتا رہے۔ بہت سے ماں باپ بچوں کو چپ کرانے کیلئے ڈرانے کے طور پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چپ رہو گھر میں ''ماؤں'' بیٹھا ہے یا چپ رہو صندوق میں لڈو رکھے ہوئے ہیں تم رؤوگے تو سب لڈو دھول مٹی ہو جائیں گے۔ حالانکہ نہ گھر میں ''ماؤں'' ہوتا ہے نہ صندوق میں لڈو ہوتے ہیں نہ رونے سے لڈو دھول مٹی ہو جاتے ہیں تو خوب سمجھ لو یہ سب بھی جھوٹ ہی ہے۔ اس قسم کی بولیاں بول کر والدین گناہ کبیرہ کرتے رہتے ہیں اور اس قسم کی باتوں کو لوگ جھوٹ نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یقیناَ ہر وہ بات جو واقعہ کے خلاف ہو جھوٹ ہے اور ہر جھوٹ حرام ہے خواہ بچے سے جھوٹی بات کہو یا بڑے سے۔ آدمی سے جھوٹی بات کہو یا جانور سے۔ جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے۔کب اور کونسا جھوٹ جائز ہے :۔کافر یا ظالم سے اپنی جان بچانے کے لئے یا دو مسلمانوں کو جنگ سے بچانے اور صلح کرانے کے لئے اگر کوئی جھوٹی بات بول دے تو شریعت نے اس کی رخصت دی ہے۔ مگر جہاں تک ہو سکے اس موقع پر بھی ایسی بات بولے اور ایسے الفاظ منہ سے نکالے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ ہو بلکہ کسی معنی کے لحاظ سے وہ صحیح بھی ہو اس کو عربی زبان میں ''توریہ''کہتے ہیں۔ مثلاََ ڈاکو نے تم سے پوچھا کہ تمھارے پاس مال ہے کہ نہیں؟ اور تم کو یقین ہے کہ اگر میں اقرار کر لوں گا تو ڈاکو مجھے قتل کر کے میرا مال لوٹ لے گا تو اس وقت یہ کہہ دو ''میرے پاس کوئی مال نہیں ہے'' اور نیت یہ کرلو کہ میری جیب یا میرے ہاتھ میں کوئی مال نہیں ہے۔ بکس یا جھولے میں ہے تو اس معنی کے لحاظ سے تمہارا یہ کہنا کہ میرے پاس کوئی مال نہیں ہے یہ سچ ہے اور اس معنی کے لحاظ سے میری ملکیت میں کوئی مال نہیں ہے یہ جھوٹ ہے۔ اسی قسم کے الفاظ کو عربی میں ''توریہ'' کہا جاتا ہے۔ اور جہاں جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں فلاں موقعوں پر مسلمان جھوٹ بول سکتا ہے۔ اسی کا یہی مطلب ہے کہ ''توریہ'' کے الفاظ بولے۔ اور اگر کھلا ہوا جھوٹ بولنے پر کوئی مسلمان مجبور کردیا جائے تو اس کو لازم ہے کہ وہ دل سے اس جھوٹ کو برا جانتے ہوئے جان و مال کو بچانے کے لئے صرف زبان سے جھوٹ بول دے اور اس سے توبہ کرلے۔(واﷲتعالیٰ اعلم)