PDA

View Full Version : عورت کا دائرۂ کار اسلام میں



حافظ
05-16-2015, 03:52 PM
عورت کا دائرۂ کار اسلام میں


اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کا دائرۂ کارعلٰحدہ علٰحدہ رکھا ہے مرد کے فرائض و ذمہ داریاں بیرون خانہ ہیں اور عورت کی ذمہ داریاں اور اس سے متعلقہ امور اندرون خانہ ہیں ،مرد وعورت کے فرائض سے متعلق ان پر جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں وہ ان کی فطری قوتوں کے لحاظ سے اوران کی جسمانی طاقت و ذہنی صلاحیت کے اعتبار سے مناسب و موزوں ہیں ،مرد کے اندر عقل و فہم قوت و طاقت ، ہمت و حوصلہ عورت کے بالمقابل زیادہ ہوتا ہے ،مذکورہ طاقتوں میں عورت مرد کی بہ نسبت فطری طور پر کم درجہ رکھی گئی ہے ،بنا بریں عورت کے لئے شریعت اسلامیہ میں کئی ایک سہولتیں اور آسانیاں رکھی گئی ہیں ۔ اسلام نے مرد و عورت کو بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان برابر ی و یکسانیت کا درجہ دیاہے۔

اسلام نے عورت کا دائرۂ کار اس کی قابلیت و صلاحیت کے مطابق نہایت وسیع رکھا اور حقوق عطا کرنے میں اُسے فراموش نہیں کیا ، اصحاب حل و عقدجب کسی معاملہ سے متعلق مشورہ لینے کے مرحلہ میں ہوں تو ماہر وعقلمند خاتون کو رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہے ،بطور خاص خواتین کے معاملات و مسائل میں اس کی رائے قبول کی جائے گی ۔ جسمانی طورپر نازک ولطیف ہونے کی وجہ سے عورت کے لئے جہاد فرض نہیں رکھا گیا ، البتہ اس کے اندر رحمت وشفقت ، لطف ومہربانی کا مادہ بخوبی پا یا جاتا ہے اسی لئے حق پر ورش میں مرد کے بالمقابل اسے مقدم رکھا گیا۔



مال متروکہ میں حصہ دار:



مال وراثت میں جس طرح مرد کو حصے دئے گئے اسی طرح عورت کو مختلف حیثیتوں سے حصہ دار بنایا گیا بلکہ مرد کو مال متروکہ میں چار حیثیتوں سے مقررہ حصے ملتے ہیں جبکہ خواتین آٹھ حیثیتوں سے مقررہ حصوں کی حقدار ہوتی ہیںچنانچہ وہ بحیثیت ماں بحیثیت بیٹیبحیثیت پوتی بحیثیت بیویبحیثیت بہن بحیثیت دادی اور دیگر رشتوں سے مال موروث میں حقدار ہوتی ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۔

ترجمہ : اور خواتین کے لئے اس مال سے حصہ ہے جسے والدین اور رشتہ داروں نے چھوڑا ۔ (سورۃالنساء ۔7)



حصول تعلیم کی حقدار :



ماں کی گود، اولا د کے لئے سب سے پہلی درسگاہ اور مقام تربیت ہے-

آغوش صدف جس کے نصيبوں ميں نہيں ہے

وہ قطرۂ نيساں کبھي بنتا نہيں گوہر

(علامہ اقبال)

اسی لئے سوسائٹی میں علمی ماحول بنانے اور ناخواندگی دور کرنے کے لئے عورت کو حدود شریعت میں رکھتے ہوئے تعلیم دینا ،اُسے اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا، نہایت اہمیت رکھتا ہے-



اسی وجہ سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کو تربیت دینے والے والد کے لئے دوزخ سے نجات کی بشارت سنائی ہے صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے :جس نے اپنی بیٹی کو بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا تو وہ لڑکی باپ کے لئے دوزخ سے بچانے والی دیوار ہو گی ۔

أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ ..... فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- مَنِ ابْتُلِىَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَىْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ .

(صحیح مسلم ، البر والصلة والآدب، باب فضل الإحسان إلى البنات.حدیث نمبر 6862)





خاص طور پر علاج و معالجہ ، طبابت و حکمت سے متعلق علوم سیکھنا خواتین کے لئے ناگزیر ہے تا کہ ضرورت کے وقت خواتین کواجنبی مرد ڈاکٹرس کے سامنے بے ستری کی نوبت نہ آئے ۔



امان دینے کی حقدار :



اسلام نے عور ت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اسلامی مملکت میں کسی غیر مسلم فرد کو امان دےایسی صورت میں ارباب اقتدار اس کی جانب سے دی گئی پناہ و امان کی رعایت کریں گے جیسا کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا پناہ دینے پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اے ام ہانی ! جسے تم نے پناہ دی اُسے ہم نے پناہ دے دی ۔

عَنْ أَبِى النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِى طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِى طَالِبٍ تَقُولُ ..... فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ .

(صحیح مسلم، صلاة المسافربن۔ باب استحباب صلاة الضحى وأن أقلها ركعتان وأكملها ثمان۔ حدیث نمبر 1702)



اوقافی جائیداد کی تولیت کی اہل :



اوقاف کا متولی وہی شخص ہو سکتا ہے جو امانت دار ہو اور وقف کا انتظام کر سکے ، اگر عورت انتظام کی صلاحیت کی حامل ہواور امانت داری کی صفت سے متصف ہو تو اس کو تولیت دی جاسکتی ہے اس صورت میںعورت پردہ میں رہ کر اپنے نائب کے توسط سے امور اوقاف و تولیت انجام دے گی ۔



بیعت کرنے کی اہل :



کسی اہل دل صاحب ورع کے دست پر بیعت کرناعورت کے لئے جائز ہے آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مقدس صحابیات نے حضور اکرم صلی اللہ صلی علیہ وسلم کے دست بابرکت پر بیعت کی ہے، مگر بیعت کے وقت اجنبی مرد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا ا سکے لئے ناجائز و حرام ہے ۔



گواہ بننے کی اہل :



شریعت اسلامیہ نے عورت کو گواہ بننے کا حق دیا ہے چنانچہ جن معاملات میں مرد حضرات مطلع نہیں ہوپاتے ان میں ایک خاتون کی گواہی بھی جائز ٹہرائی گئی۔ اسی لئے ثبوت رضاعت ، ثبوت نسب اور دیگر امور میں عورت کی گواہی قبول کی جاتی ہے

چند معاملات میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دی گئی جیسے نکاح ،طلاق ،عتاق ،وکالت ،وصیت وغیرہ جیساکہ فتاوی عالمگيری میں ہے:

وَمِنْهَا الشَّهَادَةُ بِغَيْرِ الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ وَمَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ وَشُرِطَ فِيهَا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ ، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ سَوَاءٌ كَانَ الْحَقُّ مَالًا ، أَوْ غَيْرَ مَالٍ كَالنِّكَاحِ وَالطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَالْوَكَالَةِ وَالْوِصَايَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِمَّا لَيْسَ بِمَالٍ كَذَا فِي التَّبْيِينِ .( فتاوی عالمگيری . كتاب الشهادات)

وَمِنْهَا الشَّهَادَةُ فِي الْوِلَادَةِ وَالْبَكَارَةِ وَعُيُوبِ النِّسَاءِ فِيمَا لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ وَتُقْبَلُ فِيهَا شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ مُسْلِمَةٍ حُرَّةٍ عَدْلَةٌ وَالثِّنْتَانِ أَحْوَطُ هَكَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ . ( فتاوی عالمگيری . كتاب الشهادات)



لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام نے عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کی آدھی قرار دے کر اسے حقیر کر دیا بلکہ یہاں غور کرنا چاہئے کہ گواہی دینا کوئی حق نہیں اور اس کی وجہ سے گواہی دینے والے کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو خواتین کہہ سکتیں کہ ہمارا حق کم کر دیا گیا ، ہمیں کامل طور پر فائدہ نہیں دیا گیا، دراصل گواہی دینے کی غرض سے عدالت جانا ، فریق مخالف کے خلاف گواہی دے کر اُسے اپنا دشمن بنا لینا ایک آزمائش ہے ، اوربسا اوقات گواہی دینے کے لئے شہر کے باہر دوسرے مقام پربھی جانا ہوتا ہے ۔



شریعت مطہرہ نے خواتین پر احسان کیا کہ ان پر گواہی دینے کا بوجھ کم سے کم کردیا ، شرعی سزاؤں میں جہاں خطرہ اور مشقت زیادہ ہے ایسے مواقع پر خواتین کو گواہی دینے کا مکلف ہی نہیں رکھا گیا -





وجود زن سے ہے تصوير کائنات ميں رنگ

اسي کے ساز سے ہے زندگي کا سوز دروں

(علامہ اقبال)



شرعی سفر کے لئے محرم ناگزیر :



عورت اگر اپنی جائے سکونت سے78 کیلومیٹر کے سفر کا ارادہ کر کے نکلے تو ایسی صورت میںاس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار کا ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر عورت کے لئے سفر کرنا ، درست نہیں ،محرم کی شرط دراصل عورت کی عفت و عصمت کی خاطر اور اس کی آبرو کی حفاظت کے لئے ہے ، کیونکہ مشاہدہ ہے کہ کوئی عورت تنہا کسی مقام سے گزرتی ہے تو اس کی جانب نگاہیں اُٹھتی ہیں ،اس کے بر خلاف کوئی مرد گزر رہا ہو تو یہ بات نہیں ہوتی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو کسی حامی ومحافظ کی ضرورت ہو تی ہے ، بطور خاص جب وہ اپنی رہائش سے دور چل پڑے اور مسافت شرعی طئے کرنے کے ارادہ سے نکلے تو محافظ کی ضرورت اور زیادہ ہوتی ہے ، بنا بر یں اسلام نے اس کے لئے سفر کی یہ شرط قرار دی کہ وہ محرم کے بغیر سفرنہ کرے ۔اسی وجہ سے عورت کے ذمہ حج کی فرضیت اسی وقت ہوتی ہے جبکہ مالی استطاعت کے ساتھ کوئی محرم بھی موجود ہو۔