PDA

View Full Version : قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟



حافظ
05-16-2015, 05:08 PM
قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟

سفر معراج میں قاب قوسین کا ذکر جمیل اس تواتر سے ہوا ہے کہ ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟ اس کا قرآنی مفہوم کیا ہے؟ قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہائی قرب و وصال کو قاب قوسین کی بلیغ و جمیل عام فہم تمثیل سے بیان فرمایا ہے تاکہ عرب اپنی روز مرہ زبان اور محاورے کے مطابق اس بات کا مفہوم پوری طرح سمجھ سکیں۔ قوسین سے مراد کمانیں یا ابرو یا بازو ہیں اور قاب فاصلے کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو دو کمانوں کے درمیان ہوتی ہے۔ جب دو بچھڑے ہوئے دوست مدت بعد ملتے ہیں تو ان کے ملنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ہاتھ کمان کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے اور دوسرا دوست اسی طرح قریب آ کر اپنا ہاتھ اوپر اٹھاتا ہے تو نصف دائرے کی شکل میں دوسری کمان بن جاتی ہے۔ جب دونوں کے مابین معانقے کا عمل تکمیل کو پہنچتا ہے تو ان میں دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ خدا کی ذات معانقے اور ان لوازمات سے پاک ہے لیکن اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرب کی انتہائی صورت کو بیان کرنے کے لئے اس تمثیل کے ذریعے بات ذہن نشین کرائی گئی ہے ورنہ باری تعالیٰ تو ہر مثل سے پاک ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ.

(شوریٰ، 42 : 11)

اس کی مثل کوئی شئے نہیں۔

ہر شئے سے پاک ہونے کے باوجود پھر فرمایا۔

مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ.

(النور، 24 : 35)

اس کے نور کی مثال (جو نور محمدی کی شکل میں دنیا میں روشن ہوا) اس طاق (نما سینہ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغ (نبوت روشن) ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ باری تعالیٰ ہمیں سمجھانے کے لئے مثال ارشاد فرماتا ہے۔ خود اسے مثال کی حاجت و ضرورت نہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا.

(البقره، 2 : 26)

بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے (خواہ) مچھر کی یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بڑھ کر ہو۔
قاب قوسین کا تہذیبی، ثقافتی اور مجلسی پس منظر

اسلام دین فطرت ہے۔ ہر مرحلہ پر انسانی نفسیات کو مدنظر رکھتا ہے۔ قرآن کا اسلوب ہدایت بھی یہ ہے کہ جب وہ کوئی بات اپنے بندوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہے تو ان کے سماجی پس منظر کو نظر انداز نہیں کرتا اور وہ ان کے ماحول کے مطابق انہیں مخاطب کر کے یا کسی تمثیل یا محاورے کے ذریعہ اپنی ہدایت کی ترسیل کے عمل کو مکمل کرتا ہے۔ چونکہ اہل عرب قرآن کے اولین مخاطبین ہیں اس لئے عرب رسم و رواج کا ثقافتی پس منظر قرآن میں اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔

اہل عرب کے قدیم دستور و رواج کا مطالعہ کرنے سے قاب قوسین کی معنویت کی ایک اور پرت کھلتی نظر آتی ہے۔ جب دو متحارب عرب قبیلے دشمنی کی راہ ترک کر کے ایک دوسرے سے شیر و شکر ہونا چاہتے تو ان کے سردار معاہدہ دوستی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے علامتی طور پر دو کمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر تیر چلاتے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا کہ آج کے بعد دونوں حلیف قبیلوں کا دوست اور دشمن ایک ہو گا۔ ایک کا دوست دوسرے کا دوست اور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن متصور ہو گا اور صلح و جنگ کے معاملوں میں دونوں کا رویہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو گا۔

1. (معارج النبوة، 3 : 146)
2. (تفسير حسينی، 2 : 358)
3. (کمالين حاشيه جلالين : 437)
4. (روح المعانی، 67 : 48)
عبد و معبود کا فرق قائم رہا

تاج عظمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر رکھا گیا۔ معراج کی شب فضیلتیں قدم قدم پر آپ کے ہمرکاب رہیں۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مقام قاب قوسین پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے مزید قریب کر کے سریر آرائے او ادنیٰ پر متمکن ہونے کا شرف بخشا۔ قاب قوسین کے بعد او ادنیٰ کہہ کر قرآن خاموش ہو گیا کیونکہ اگر قاب قوسین تک بات ختم ہو جاتی تو قرب متعین ہو جاتا لیکن خدا تعالیٰ تو سب فاصلہ مٹانا چاہتا ہے اسی لئے فرمایا او ادنیٰ دو کمانوں کی مثال لوگوں کو سمجھانے کے لئے دی حالانکہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور محب کے درمیان فاصلہ تو اس سے بھی کم تر ہے۔ ادنیٰ کے بعد حتی یا الٰی نہیں لگایا اس لئے کہ یہ حد بھی مقرر نہ ہو جائے کہ کہاں تک فاصلہ کم ہوا۔ او ادنٰی کا لفظ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ محب اور محبوب کے درمیان فقط ایک فرق عبد و معبود کا قائم رہا۔ باقی سب فاصلے اور امتیازات ختم ہو گئے۔
احدیت اور احمدیت کی قوسین

سفر معراج میں اللہ رب العزت کے جلال و جمال کی رعنائیاں لامکاں کی وسعتوں میں ہر طرف بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ رب کائنات کی الوہیت کے پرچم ہر سمت لہرا رہے ہیں۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سے اگلی آیت فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى ہمیں الوہیت کا درس دے رہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے پس اس (خدا) نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی یعنی باوجود اس انتہائی قرب کے وہ عبد اور میں معبود، وہ مخلوق اور میں خالق، وہ مملوک اور میں مالک رہا۔ میں نے ہی اسے عالم انسانیت کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ انہیں ضلالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کے اجالوں کی طرف لے جائے لیکن یہ امر ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اب الوہیت و رسالت ایک دوسرے کے اتنا قریب ہیں کہ کفر و ایمان کے معاملوں میں ایک پر ایمان دوسرے پر ایمان اور ایک کا انکار دوسرے کا انکار کے متراف ہے۔ اب تم میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ بگوش ہو کر میری اطاعت کا اقرار کر سکو گے۔ اگر تم نے اس کی غلامی سے انحراف کی راہ اختیار کی تو تم فی الواقعہ اپنے اس فعل سے میری توحید سے منحرف ہو جاؤ گے۔ توحید و رسالت پر ایمان میں کسی قسم کا فرق روا رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ احدیت و احمدیت کی قوسین باہم ایک دوسرے سے اتنی متصل ہو گئیں کہ ان سے میرے قرب و وصال اور عشق و محبت ہی کا پتہ چل رہا ہے۔ تقرب الی اللہ کا دعویٰ بغیر عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، بے بنیاد ہے۔

مقام قاب قوسین پر جب حجابات اٹھا دیئے گئے اور ما زاغ البصر و ما طَغٰی کے مصداق شان محبوبیت یہ تھی کہ نگاہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہٹی اور نہ ہی حد سے بڑھی بلکہ وصال و دید کا وہ عالم تھا کہ چشم نظارہ ایک لحظہ بھی جمال جہاں آراء سے نہ ہٹنے پائی اور احدیت و احمدیت کی قوسین اس طرح مل گئیں کہ باہمی قرب کی کیفیت ثم دنی فتدلی کی آئینہ دار بن گئی اور آخر میں قاب قوسین کے مقام پر دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو گئے کہ درمیانی فاصلہ برائے نام رہ گیا۔

یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ قربت کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں فاصلہ رہنے کا ذکر لابدی اور ضروری سمجھا گیا اس لئے کہ خالق و مخلوق میں چاہے کتنا ہی قرب کیوں نہ ہو، ان کی ہستی جدا جدا ہے اور دونوں کا ایک وجود (Entity) نہیں مانا جا سکتا کہ محبوبیت کے اعلیٰ اور ارفع مقام پر پہنچ کر بھی عبدیت اور معبودیت کا فرق برقرار رہتا ہے۔ یہاں ایک بات خاص طور پر ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جو شخص عبد و معبود کے فرق کو مٹاتا ہے، کافر ہے۔ عقیدے میں، عقل میں یا ایمان میں، عشق میں یا محبت میں الغرض کسی درجے میں بھی یا کسی سطح پر بھی بندہ رب ہو سکتا ہے نہ رب بندہ ہو سکتا ہے جو عبد کو معبود بنائے یا معبود کو عبد، وہ کافر ہے اور جس طرح عبد اور معبود کا فرق مٹانا کفر ہے اسی طرح فرق عبد و معبود کے سوا کوئی اور فرق ڈالنا بھی کفر ہے۔ سو اعتقاد یہی رکھنا چاہئے کہ مقام او ادنیٰ پر پہنچ کر بھی خدا خدا ہے اور نبی نبی ہے۔
مقام عبدیت

اللہ رب العزت کائنات ارض و سماوات کا خالق ہے۔ ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے۔ اس نے معراج کی شب اپنے بندے اور رسول پر عنایات کی بارش کر دی اور اسے وہ عظمت عطا کی جو آج تک نہ کسی رسول کا مقدر بن سکی اور نہ قیامت تک بن سکے گی۔

اس مقام پر پہنچ کر جہاں تمام دوریاں ختم ہو گئی تھیں قرآن زبان حال سے یوں گویا ہوا۔

فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَىO

(النجم، 53 : 10)

پھر (اللہ رب العزت نے بلاواسطہ) اپنے بندہ کو جو وحی فرماتا تھا فرمائی (جو دینا تھا دیا جو بتانا تھا بتایا)

معلوم ہوا کہ مخلوق میں عبدیت سے بہتر کوئی مقام نہیں مگر افسوس کہ آج لوگ اسی پر جھگڑتے پھرتے ہیں۔ اے کاش! انہیں حقیقت عبدیت سمجھ آ جاتی۔

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی
عقیدہ توحید اور واقعہ معراج

عقیدہ توحید مومن کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ شرک کا سایہ بھی انسان کو دائرہ ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ سفر معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ ہے اور معجزہ رب کائنات کی قدرت مطلقہ کا مظہر ہوتا ہے۔ سفر معراج میں بھی توحید ربانی کے پرچم ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ آدم سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء جس آسمانی ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے اس کا مرکزی نقطہ بھی توحید ہی تھا کہ وہی ذات بندگی کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے، کوئی اس کا ہمسر ہے نہ ثانی، نہ اس کی کوئی انتہا ہے اور نہ ابتداء ہے۔ وہ ازل سے ہے اور ابد کے بعد بھی وہی ہے۔ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا جب کچھ نہ ہو گا تو پھر بھی اس کی ذات یکتا و تنہا ہو گی۔ اس ذات کو نہ اونگھ ہے نہ زوال، وہ ہر حاجت سے پاک اور مبرا ہے اور وہ ہر کسی کا حاجت روا ہے۔

امم سابقہ نے اکثر و بیشتر مسئلہ توحید کے بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ ان کے اکثر افراد (الا ماشاء اللہ) نے اپنے نبی کو اس کے کمالات و روحانی تصرفات دیکھ کر الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا۔ ان میں سے کسی نے نبی کو خدا کا بیٹا کہا اور کوئی تثلیث کا قائل ہو گیا۔ گویا نبی کو مقام نبوت سے ہٹا کر خدا کا شریک ٹھہرا لیا تاہم امت مصطفوی کو یہ شرف و افتخار حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ عقیدہ توحید کی تعلیم ان کے قلوب و اذہان میں اس درجہ راسخ ہو گئی کہ اس پر شرک کی گرد پڑنے کا بھی کوئی احتمال باقی نہ رہا۔

اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرب کا انتہائی مقام تفویض کر کے ارشاد ہوتا ہے اوحی الی عبدہ ما اوحی ہم نے اپنے بندے کی طرف وحی کی اللہ اللہ! بندگی کا کیا مقام ہے کہ خدائی کا مختار کل بنا دیا جائے تو پھر بندہ رہے۔ عقیدہ توحید میں کسی قسم کے خلجان اور التباس کی کوئی گنجائش نہیں کہ خالصیت اور عبدیت کے فاصلے کا پاٹنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس فاصلے کو برقرار رکھنا بہرحال ناگزیر ہے۔