PDA

View Full Version : معجزہ معراج کیوں؟



حافظ
05-16-2015, 04:12 PM
معجزہ، معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقوع پذیر ہونا تاریخ ارتقائے نسلِ انسانی کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس کا ایک ایک حرف عظمت و رفعت کی ہزارہا داستانوں کا امین اور عروجِ آدم خاکی کے ان گنت پہلوؤں کا مظہر ہے۔ نقوشِ کفِ پائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لوحِ افلاک پر شوکت انسانی کی جو دستاویز مرتب ہوئی وہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی دلیل ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مینارۂ نور بھی ہے جو تسخیر کائنات کے ہر مرحلے پر آنے والی ہر نسلِ انسانی کے راستوں کو منور کرتا رہے گا اور آسمانوں کی حدود سے نکل کر اولاد آدم کو مشاہدۂ فطرت کی ترغیب دیتا رہے گا اور اس پر نئے آفاق کے مقفل دروازوں کو وا کرتا رہے گا۔ معجزۂ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کئی ایک حکمتیں پوشیدہ ہیں، دلجوئی محبوب سے لے کر عظمت محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو ذہن انسانی پر آشکار ہوتے ہیں حقیقت احوال اللہ اور اللہ کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں تاہم اربابِ فکر و نظر نے اپنے علم اور فہم کے مطابق اس عظیم سفر آسمانی کی مختلف حکمتیں بیان کی ہیں اس مقام پر ہم ان میں سے صرف دو حکمتوں کا ذکر کریں گے۔
1۔ نگاہوں میں جو تم ہو

واقعہ معراج کی پہلی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اعلان نبوت کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصائب وآلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ کفار کی طرف سے ایذا رسانی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیتیں دینے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم نہ ڈگمگا سکے۔ بالآخر اہل مکہ اور قریش نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرتی سطح پر حضور علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پورے خاندان کا بائیکاٹ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حرمِ کعبہ کے قریب ایک گھاٹی شعب ابی طالب میں محصور کر دیا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین اور دادا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچپن ہی میں انتقال کر چکے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت اور پرورش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب کے سپرد تھی۔ جو تمام تر مخالفتوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیتے چلے آ رہے تھے۔ سو وہ بھی اس بائیکاٹ کا شکار ہوئے جبکہ آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ الکبریٰ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ اس طرح نبوت کے ساتویں سال سے دسویں سال تک کبھی بھوکے رہ کر اور کبھی سوکھے پتے کھا کر گزارا کیا۔ آخرکار کفار نامراد ہوئے اور یہ بائیکاٹ ختم ہوا۔ اسی سال حضرت ابوطالب اور ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا کا وصال ہوگیا۔ اس سے تمام ظاہری سہارے اور رشتے ٹوٹ گئے اور آقا علیہ السلام کے قلب انور پر دکھ کی سی کیفیت طاری رہنے لگی۔ اب نہ تو والدہ ماجدہ تھیں کہ دکھ کے وقت سینے سے لگا کر دلاسا دیتیں نہ والد تھے کہ دست شفقت سر پر رکھتے، نہ وفاشعار بیوی تھی کہ اپنے حسن سلوک اور محبت سے غم دور کرتیں، نہ کوئی اور بزرگ اور مشفق ہی تھا کہ جس کی شفقت اور محبت کی فراوانی سے اس کی کفار مشرکین کی چیرہ دستیوں کی تلافی ہو جاتی۔ فضا مخالفت اور سازشوں کی گرد سے اٹی ہوئی تھی۔ بظاہر اپنائیت کا حصار دلکشا ٹوٹ رہا تھا۔ حروف وفا کی خوشبو سے فضا عاری تھی، قدم قدم پر شقاوتِ قلبی کا پہرہ تھا۔ چنانچہ ایسے حالات میں اللہ رب العزت نے چاہا کہ سارے غم، رنج وبلا، دکھ درد اور پریشانیاں دور کر دی جائیں اور یہ اسی طرح ممکن تھا کہ محبوب کو قاب قوسین پر بلا لیا جائے کہ جب محبوب کا مسکراتا ہوا چہرہ سامنے ہو اور ملاقات میں خلوت میسر ہو تو محبت کرنے والوں کے دلوں میں کوئی دکھ اور ملال باقی نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ مزید دکھوں کی خواہش کرتا ہے اور زبان حال سے پکار پکار کر کہتا ہے کہ اے غمو تم امڈ امڈ کر آؤ تاکہ محبوب کے دیدار کا راستہ صاف ہو۔ گویا اللہ رب العزت بیان کرنا چاہتا ہے کہ محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر دنیا میں دکھ اور غم آئیں، مخالفت کا سامنا ہو تو گھبرا نہ جایا کرو کہ ہماری پیار بھری آنکھیں تجھی پر لگی رہتی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا.

(الطور، 52 : 48)

اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر کر، بیشک تو ہماری آنکھوں میں ہے (ہم تجھی کو دیکھتے رہتے ہیں)۔
2۔ امت سے پیار

اعلان حق کے بعد مخالفت کی جو آندھیاں اٹھیں، سازشوں کا جو جال بچھایا گیا روشنی کی راہ میں جو دیواریں اٹھائی گئیں، کفر و الحاد کے نمائندگان نے پیغامِ توحید کو جس طرح جھٹلا کر نظام باطل کے تحفظ کا عہد نامہ تحریر کیا وہ راہ حق کے مسافروں کے لئے باعثِ ملال ضرور ہوا لیکن پرچم توحید لہرانے والوں کے قدم مشاہدہ ایمان و ایقان پر آگے ہی بڑھتے گئے، ہر طرف پیغمبرانہ بصیرت کے چراغ روشن تھے، عزم و استقلال کے الفاظ کو نیا مفہوم عطا ہو رہا تھا۔ ایثار و قربانی کی نئی داستان لکھی جا رہی تھی، بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریزی کمال بندگی کی مظہر بھی، لب اقدس پر خدائے وحدہ لاشریک کی حمدو ثنا کے پھول کھل رہے تھے، ساری رات انوار بندگی کے جھرمٹ میں گذر جاتی، پرور دگار عالم نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ مشقت دیکھ کر ہدایت آسمانی کی آخری دستاویز میں فرمایا:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُO قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًاO نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًاO أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًاO

(المزمل، 73 : 1 - 4)

اے کملی کی جھرمٹ والے (حبیب!)o آپ رات کو (نماز میں) قیام فرمایا کریں مگر تھوڑی دیر (کے لئے)o آدھی رات یا اِس سے تھوڑا کم کر دیںo یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریںo

اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راتوں کا جاگنا تو کم کر دیا لیکن امت کی فکر کچھ اس طرح دامن گیر ہوئی کہ سوتے میں بھی امت کا غم لئے رہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ میرا مقصد تو محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کا بوجھ ہلکا کرنا تھا مگر ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔ لہٰذا تو میرے محبوب کو اس کی امت کی بخشش کا مژدہ جانفزا سنا دے۔

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًاO لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ.

(الفتح، 48 : 1 - 2)

بے شک ہم نے تمہیں کھلی فتح دے دیo تاکہ اللہ تمہارے سبب گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔

حضور ختمی مرتبت اولادِ آدم کے ہی نہیں تمام مخلوقات کے نجات دہندہ بن کر آئے تمام جہانوں کے لئے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ رسولِ محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے غم میں رات رات بھر جاگتے جب خدائے رحیم و کریم کی طرف سے امت کی بخشش کی بشارت مل گئی تو (اس خیال سے کہ امت اپنے گناہوں کی بخشش پر کما حقہ ہو اپنے رب کا شکر ادا نہ کر پائے گی) راتیں سجدوں کی تابانی سے پھر منور رہنے لگیں صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب تو امت کی بخشش کا سامان بھی ہوگیا اب تو آپ راتوں کو نہ جاگا کریں، ارشاد گرامی ہوا۔

أفلا أکون عبداً شکورا.

(صحيح البخاری، 2 : 716، کتاب التفسير،رقم: 4556)

کیا میں اپنے اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

مگر اللہ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشقت میں پڑنا کیسے پسند آ سکتا ہے۔ چنانچہ فرمایا۔

طهO مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىO

(طٰه، 20 : 1 - 2)

طہ (اے محبوب مکرم) ہم نے آپ پر قرآن ( اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔
انمول تحفے

قاعدہ ہے کہ جانے والا جب کسی کے گھر جائے تو کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور لے کر جاتا ہے۔ سو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قاب قوسین سے بھی زیادہ قرب پر فائز ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تین تحفے پیش کئے۔ عرض کیا۔

التحيات لِلّٰه والصلوات والطيبات

(معارج النبوة، 3 : 149)

میری تمام قولی، مالی اور بدنی عبادتیں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہیں (صرف اللہ کے لئے ہیں)

جواب میں حسبِ قاعدہ اللہ تعالیٰ نے بھی تین تحفے پیش کئے فرمایا۔

السلام عليک أيها النبی و رحمة اﷲ و برکاته.

(معارج النبوة، 3 : 149)

محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تیرے لئے سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں (بطور تحفہ) ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قبول فرمایا۔ مگر ساتھ ہی اپنی اس سلامتی میں اپنی امت کے گناہ گار لوگوں کو (اپنے ساتھ ملا کر) نیز نیکو کاروں کو بھی شامل کیا۔ عرض کیا۔

السلام علينا و علی عباد اﷲ الصالحين.

(معارج النبوة، 3 : 149)

سلامتی ہو ہم پر (یعنی میرے ساتھ میری امت کے گناہ گاروں پر بھی) اور اللہ کے نیک بندوں پر۔

جب اتنی گفتگو ہو چکی ملائکہ بھی پکار اٹھے

أشهد أن لا اله الا اﷲ و أشهد أن محمدا عبده و رسوله.

(معارج النبوة، 3 : 149)

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

فرشتوں کی اس تصدیق کے بیان کے بعد کہ معراج حق ہے اور ان تحائف کا لینا دینا بھی حق ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تم السلام علیک ایھا النبی پر پہنچو تو یہ تصور کرو۔

واحضر قلبک النبی صلی الله عليه وآله وسلم و شخصه الکريم و قل السلام عليک ايها النبی و رحمه اﷲ و برکاته

(احياء العلوم، 1 : 169)

اپنے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلوہ گر سمجھو اور کہو اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں اور اس کی برکتیں ہوں۔

جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے فکر اور غم میں راتوں کو بھی نہیں سوتے تو امت کے متعلق خوشخبری سنانے کے لئے اپنے پیارے محبوب کو اپنے پاس معراج کی صورت میں بلایا اور امت کے لئے عام معافی کی خوشخبری بھی سنائی اور شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار بھی کروایا۔