PDA

View Full Version : معراج النبی سے متعلق شبہات کا ازالہ



حافظ
05-16-2015, 04:28 PM
پہلا شبہ معراج جسمانی یا روحانی

سب سے بڑا شبہ نفسِ معراج کے بارے میں اکثر لوگوں کو اس امر میں ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معراج جسمانی تھا یا روحانی اور مقامی تھا۔ دوسرے لفظوں میں کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسم اطہر کے ساتھ عالمِ آب وگل سے عالم افلاک میں تشریف لے گئے تھے یا محض خواب کی حالت میں روحانی طور پر معراج ہوئی؟ یہ شبہ اس لئے ہوا کہ لوگوں نے قرآن وحدیث میں درج کردہ واقعہ معراج کی تفصیلات پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنی محدود اور ناقص عقل وفہم کی کسوٹی پر اسے پرکھنے کی کوشش کی اور چونکہ ان کے وضع کردہ عقل وفہم کے پیمانوں پر اس کی تفصیلات پوری نہ اترتی تھیں اس لئے ان کا ذہن معراجِ جسمانی کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے لگا اور انہوں نے اس واقعہ کو روحانی اور مقامی معراج سے تعبیر کر کے اس حقیقت سے صرف نظر کر لیا کہ معجزہ تو وہ خرق عادت واقعہ ہوتا ہے جس کی عقلی توجیہہ سرے سے ناممکن ہو اور واقعہ معراج وہ عظیم ترین معجزہ ہے عقل جس کا ادراک کرنے سے یکسر قاصر ہے۔

جسمانی معراج کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ حالت خواب کی واردات ہوتی تو کفارو مشرکین مکہ اسے ماننے سے کبھی پس وپیش نہ کرتے۔ ان کا تو انکار ہی اس بنا پر تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے جسم اطہر کے ساتھ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور افلاک پر جانا ان کی عقل وفہم سے بالا تر تھا۔ خوابی کیفیات پر انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔
دوسرا شبہ انتہائے سفر معراج

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دوسرا شبہ لوگوں کو اس بارے میں ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منتہائے سفر کیا تھا؟ کسی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان تک پہنچ کر واپس لوٹ آئے، بعض کے نزدیک آپ سدرۃ المنتھیٰ تک گئے اور بعض نے آپ کا عرش معلٰے اور اس سے ماوراء عالم لامکاں تک عروج اور ذات خداوندی کے بے حجاب دیدار کو تسلیم کیا ہے۔ اس اختلاف اور شبے کی ایک وجہ بادی النظر میں یہ ہے کہ اس واقعہ کو قرآن حکیم اور احادیث میں کہیں اجمال اور کہیں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔ قرآنی اسلوب رمز وایما اور پیرایہ بیان صراحت کی بجائے کنایہ کا انداز لئے ہوئے ہے۔ اس کی شرح تفسیر کی ہزارہا کتب میں ہے جس تک رسائی کے لئے ورق گردانی اور دیدہ ریزی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔

واقعہ معراج کے تذکرے میں کہیں حقیقت اور کہیں مجاز کا رنگ جھلکتا ہے۔ اس بارے میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ احکام ہمیشہ عبارت النص سے ہی مستنبط نہیں ہوا کرتے بلکہ ان کے اخذ کرنے کے مختلف اسالیب ہیں جن کو قرآن وسنت پر گہری نظر رکھے بغیر سمجھنا از بس مشکل ہے۔ اس کے نتیجے میں شبہات کا وارد ہونا کوئی بعید از فہم بات نہیں۔
تیسرا شبہ معراج کی غرض و غایت

واقعہ معراج کی تفہیم میں تیسرا شبہ بعض اہل علم کو یہ وارد ہوا کہ معراج کی غرض وغایت کیا تھی؟ اور اس کے پیچھے کون سے مقاصد کار فرما تھے؟ اس سلسلے میں اربابِ فکر و نظر کے درمیان خاصہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ معراج کی شب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس ہستی کے دیدار سے شاد کام ہو کر دنیائے ارضی کی طرف لوٹے؟ کسی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سدرۃ المنتھی پر جبرئیل کو اپنی اصل شکل وصورت میں دیکھا۔ بعض کے نزدیک معراج کا مقصد ذات باری تعالیٰ کی قدرتوں کا مشاہدہ اور اس کا بے حجاب دیدار تھا۔ ان تین شبہات اور اختلافی نقطہ ہائے نظر پر ہم آئندہ صفحات میں شرح وبسط کے ساتھ گفتگو کریں گے تاکہ واقعہ معراج کی عظمت کے صحیح خدوخال اجاگر ہو سکیں۔

امر واقع یہ ہے کہ انسانی عقل وشعور کے ارتقاء اور سائنسی ایجادات وانکشافات کے نتیجے میں جن علمی، استخراجی اور استقرائی رویوں نے جنم لیا ہے ان سے واقعات معراج کے زمانی ومکانی پہلووں کو سمجھنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے اور جوں جوں علم ودانش کی روشنی پھیلے گی قلوب واذہان پر واقعہ معراج کی حقیقت اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ آشکار ہوتی جائے گی۔

گذشتہ باب میں واقعہ معراج کے مختلف پہلووں پر رائے زنی کے بارے میں ہم اس بات کی خصوصیت کے ساتھ وضاحت کر چکے ہیں کہ تفسیر وحدیث کی چند کتابوں کے مطالعہ پر اکتفا کر لینے سے معراج کی حقیقت کو سمجھ لینے کا دعویٰ خام خیالی ہے اس کی تفصیلات کے لئے بیسیوں کتابوں کو کھنگالنا پڑے گا۔ قلتِ مطالعہ کی بنا پر واقعہ معراج کی عظمت کو جھٹلانا انصاف ودانشمندی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
آیات معراج کی تفسیر و توضیح

قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! سفر معراج کے دوران ماضل صاحبکم وما غوی تمہارے آقا ومولا نہ بہکے اور نہ بھٹکے بلکہ سارے سفر کو بڑی دلجمعی اور سکون کے ساتھ طے کیا جیسے پہلے ہی تمام مراحل ومدارجِ سفر سے آگاہ ہوں۔ پھر ارشاد فرمایا وما ینطق عن الھوی وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی خواہش سے کچھ بولتا ہی نہیں بلکہ اس کی ہر بات سراسر وحی الٰہی ہوتی ہے۔ مزید ارشاد ہوا علمہ شدید القوی اس نے علم سیکھنے کے لئے کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا بلکہ اس نے علم زبردست قوت رکھنے والے رب سے حاصل کیا۔ اسے علم اور اسرار الٰہیہ کے تمام خزانے براہ راست عطا کئے گئے۔ اس کے بعد اللہ تبارک وتعالیٰ نے معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بلندی اور علو مرتبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وھو بالافق الاعلی وہ بلندیوں کی انتہا پر تھا۔ جس کے آگے کوئی کنارہ اور حد نہیں۔ جب خدا کی ذات اپنی صفاتی تجلیات کے ساتھ اس کے قریب آئی تو ثم دنی ارشاد ہوا اور پھر اس سے زیادہ قرب کو فتدلی کہہ کر ظاہر کیا۔ پھر ارشاد ہوا فکان قاب قوسین او ادنی یعنی پھر وہ اتنا قریب ہوا کہ دونوں کے درمیان دو کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ قرب ووصال کی اس انتہائی منزل پر دونوں کی ملاقات ہوئی اور قرب کی اس انتہا کو پہنچ کر فاوحی الی عبدہ مااوحی اپنے خاص بندے کی طرف وحی کی جو کی۔ اس کی خبر وحی کرنے والے کو ہے یا اسے ہے جسے وحی کی گئی کسی اور کو اس کی کوئی خبر نہیں کہ رازو نیاز کی باتوں میں محب اور محبوب کے سوا کوئی تیسرا شامل نہ تھا۔ پھر فرمایا ماکذب الفواد ما رای اس رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ بچشم سر دیکھا دل نے اس کے کو نہیں جھٹلایا یعنی دیدار خداوندی کے معاملے میں آنکھ نے جو کچھ دیکھا دل نے اس دیکھنے کی تصدیق کی اور ان کے بارے میں جو روایت میں جھگڑا کرتے ہیں، وعید فرمائی گئی کہ افتمارونہ علی مایری تم اس بارے میں جھگڑتے ہو کہ اس نے کس کا دیدار کیا۔ پھر دیکھنا صرف ایک بار نہ تھا ولقد رای نزلۃ اخری اس نے دوسری مرتبہ اسے دیکھا۔ یہ دیکھنا ایسا ہی تھا جیسے دم رخصت بچھڑنے سے پہلے کوئی محبوب کو مڑمڑ کر دیکھتا ہے اور یہ دیکھنا عندھا جنہ الماوی سدرہ المنتھیٰ کے قریب تھا۔ پہلی مرتبہ جلوہ محوب قاب قوسین پر دیکھا اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتھی پرجس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔ جب منظر یہ تھا کہ اذیغشی السدرۃ ما یغشی سدرہ کو ڈھانپنے والی چیزوں نے ڈھانپ لیا تھا۔ گویا فرشتوں کا انبوہ کثیر سدرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ مازاغ البصر وما طغی یہ دیکھنا ایسا تھا کہ نہ اس کی آنکھ بھٹکی نہ جھپکی نہ حد سے بڑھی۔
احادیث معراج باہم متعارض نہیں:

واقعہ معراج کی تفصیلات جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے ہزارہا کتب احادیث میں بکھری پڑی ہیں۔ ان کا احاطہ کرنا ہرکس وناکس کی بساط سے باہر ہے۔ اس کے لئے پورے ذخیرہ احادیث کا کھنگالنا ناگزیر ہے۔ اب اگر کوئی مطالعہ ناتمام کے باعث یہ کہنا شروع کر دے کہ فلاں حدیث میں بیان کردہ واقعہ فلاں حدیث سے متعارض ومتصادم ہے تو یہ اس کی کوتاہ بینی اور کم فہمی ہو گی کہ اس کی نظر سے پوری تفصیلات نہیں گزریں۔ ورنہ حقیقت میں کوئی روایت دوسری روایت سے متعارض نہیں ہے اور اگر کوئی تضاد بظاہر نظر آتا ہے تو وہ پوری تفصیلات پر دسترس نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

واقعہ معراج کو کم وبیش اٹھائیس صحابہ وصحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اور بعض کے نزدیک چونتیس نے روایت کیا ہے۔ ان کے اسمائے گرامی حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں رقم کئے ہیں۔ مختلف علماء تفسیر نے ان راویان معراج کی تائید کی ہے وہ خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم جنہوں نے واقعہ معراج خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ فیضِ ترجمان سے سنا ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔
اختلاف روایات کا سبب:

واقعہ معراج کی روایات میں اختلاف کی توجیہہ ایک مثال پر غور کرنے سے بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ وہ یوں کہ فرض کیجئے ایک سیاح جہاں گرد اطراف واکناف عالم میں گھوم پھر کر وطن واپس لوٹا ہے۔ جس کے دوران قدرتی مناظر کے علاوہ اس نے کارخانوں، ملوں، سرکاری دفاتر، تعلیمی درس گاہوں غرضیکہ زندگی کے مختلف النوع شعبوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ اس عالمی مطالعاتی دورے (Study Tour) کے بعد کیا آپ اس سے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے ہر ملنے والے سے اپنے دورے کی جملہ تفصیلات من وعن بیان کر دے گا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں بلکہ وہ ہر ایک سے اس کے ذوق، علمی استعداد اور سوجھ بوجھ کے مطابق بات کرے گا۔ اگر وہ کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتا ہے جسے کسی ملک کی صنعتی ترقی میں دلچسپی ہے تو اس سے بات چیت میں وہ اس ملک کے کارخانوں، فیکٹریوں اور صنعتی، یونٹوں مزدوروں اور ان کے مسائل کا ذکر تفصیل سے کرے گا اور دوسری بہت سی باتیں جو غیر متعلقہ ہوں گی نظر ا نداز کر دے گا۔ اسی طرح ایک ماہر تعلیم تعلیمی درس گاہوں، لائبریریوں اور مختلف شعبہ ہائے تعلیم کے اساتذہ کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔ کسی ڈاکٹر سے بات چیت میں وہ وہاں کی ڈسپنسریوں، ہسپتالوں اور مروجہ طریقہ ہائے علاج کا ذکر کرے گا اور دیگر غیر ضروری باتوں کے تذکرے سے اجتناب کرے گا۔ الغرض ہر ایک سے اس کی گفتگو کا دائرہ اس کے ذوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بدلتا رہے گا اور ہر مجلس میں وہ کوئی نئی سے نئی بات کا تذکرہ کرے گا۔ چنانچہ اگر مختلف افراد اس سے مختلف موضوعات پر انٹرویو کریں تو ان کی بیان کردہ بہت سی باتوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا بعید از قیاس نہیں۔ ہر ایک اپنی عقل اور سوجھ بوجھ کے مطابق واقعات اس سے منسوب کرے گا اور ان میں اختلاف کا در آنا کوئی غیر فطری بات نہ ہو گی۔

اس فرضی تمثیل سے واقعہ معراج کے بارے میں جو اختلاف بادی النظر میں دکھائی دیتے ہیں ان کی حقیقت غور کرنے سے عیاں ہو جائے گی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعہ معراج کی تفصیلات بیسیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بیان فرمائیں۔ کفار مکہ کو بھی اس واقعہ سے آگاہ کیا گیا لیکن انداز بیان اور تفصیلات کی نوعیت موقع محل کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے۔ کفار و مشرکین سے واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے ان سے بیت المقدس کے سفر کی جزئیات بیان کر دی جاتیں اور مالاء الاعلی اور دیگر آسمانی مشاہدات کو عمداً نہ بیان کیا جاتا۔ عام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے معراج کی تفصیلات ان کی ذہنی استعداد کو پیش نظر رکھ کر بیان کی جاتیں لیکن اگر ذکر معراج چہار یار سے چھڑ جاتا تو انہیں بہت سی ایسی راز ونیاز کی باتوں سے آگاہ کر دیا جاتا جو سر مجلس نہ کی جاتیں۔ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات تھی کہ کسی کو پہلے آسمان اور کسی کو ساتوں آسمان کی باتیں بتا دی جاتیں۔ بعض شناسائے حریمِ نبوت ایسے بھی تھے جنہیں سدرۃ المنتھیٰ اور قاب قوسین کے اسرار و رموز سے بھی آگاہ کر دیا جاتا۔ اس سے مترشح ہوا کہ نکات معراج ہرایک کی اقتضائے طبیعت کو دیکھ کر بیان کئے جاتے تھے۔

دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر

اسی طرح واقعہ معراج کی تفصیلات بیان کرنے والے راویوں نے اپنے اپنے فہم اور نقطہ نگاہ سے واقعہ معراج کو روایت کیا۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ معراج کی کڑیاں کبھی تو ایک دوسرے سے ملتی نظر آتی ہیں لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا چکا ہے یہ اس لئے ہے کہ ہمارا علم محدود اور غیر مکمل ہے۔ مختلف احادیث کو ایک دوسرے سے متعارض قرار دینے والے کسی نام نہاد تضاد کو رفع کرنے کی سعی نامشکور میں اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ واقعہ معراج کی عظمت ہی مجروح ہو کر رہ جاتی ہے۔