PDA

View Full Version : رزق میں برکت کے نبوی وظائف



Administrator
05-16-2015, 08:55 PM
رزق میں برکت کے نبوی وظائف

از قلم: حافظ ڈاکٹر محمد ارسلان مصطفےٰ





آج ہر سمت معاشی بحران کا طوفان پورے زور پر ہے اس کی تباہ کن موجوں سے کوئی انسان نہیں بچا،یقیناًاس معاشی بحران کے پیچھے ہمارے اپنے برے اعمال بھی کارِ فرما ہیں۔غریب و امیر ہر ایک سر پر ہاتھ رکھے بے برکتی اور رزق میں کمی کا شاکی ہے۔لیکن اسلام ایک پیارا دین ہے جس میں اللہ عزوجل و رسول اللہا نے نہ صرف ہر فتنہ اور آزمائش کی اطلاع دی ہے بلکہ اس کے سد باب کے ذرائع اور اسباب بھی بیان فرمائے ہیں۔تجربہ شاہد ہے کہ آج کل اکثر مسلمان کاہل وجود ہو گئے ہیں ان سے محنت اور کوشش نہیں ہو سکتی اور محض یہی دعائیں پڑھ کر انتظار کرنے لگتے ہیں کہ غیب سے رزق آجائے گا اور خزانۂ الٰہی سے دولت برسنے لگے گی۔ان اعمال اور وظائف کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اسباب کو ہاتھ نہ لگاؤ اور دَ م دُرود سے جیب بھر لو بلکہ یہ مطلب ہے کہ انسان ظاہر محنت اور کوشش بھی کرے اور یہ دعائیں پڑھ کر اپنے پروردگارِ دو عالم کی امداد و برکت بھی چاہے۔کچھ لوگ وہ بھی دیکھے گئے ہیں جو دن رات وظیفے پڑھتے رہتے ہیں اور حلال روزی کمانے کے لئے ہاتھ پاؤں سے محنت نہیں کرتے ۔ہمیشہ محنت کے ساتھ رزقِ حلال حاصل کرنے کی کوشش کریں اورفضول خرچی سے اجتناب کریں کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تنگدستی یا قرض داری عموماًبے کاری اور فضول خرچی سے پیدا ہوتی ہے۔سب سے پہلے اس کی کوشش کرنی چائیے کہ زندگی کا ایک منٹ بھی بے کار ضائع نہ ہو اور اس کے بعد اپنے مصارف کو دیکھنا چاہیے کہ اس میں کتنی فضول خرچی ہوتی ہے اور ایسے کتنے خرچ ہیں کہ ان کو بند کر دیا جائے تب بھی گزارا ہو سکتا ہے۔مختصر یہ کہ اس غلط فہمی میں نہ پڑیں کہ ہم کو محنت کے بغیر یہ دعائیں پڑھنے سے غیبی خزانے مل جائیں گے بلکہ کوشش اور محنت بھی جاری رکھیں اور یہ دُعائیں بھی پڑھیں انشاء اللہ رب ذوالجلال آپ کی
مفلسی ضرور دُور فرمائے گا۔
حصولِ رزقِ حلال کے متعلق قرآن مجید میں سورۂ مائدہ آیت نمبر 88میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
اور کھاؤ جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال (اور) پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔
کامیاب انسان کے متعلق صحیح مسلم شریف میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ۔
جس نے اسلام قبول کیا اور اسے بقدر کفایت رزق حلال عطا کیا گیا اور اللہ عزوجل نے اپنے عطا کردہ مال پر قناعت عطا کر دی تو وہ شخص کامیاب ہوا۔
ذیل میں تنگدستی کے علاج اور رزق میں برکت کے حوالے سے احادیث مبارکہ کی روشنی میں وظائف دیئے گئے ہیں لیکن ان کو کرنے سے پہلے ان چیزوں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ نمازِ پنجگانہ کی پابندی کے ساتھ جملہ فرائض و واجبات کے علاوہ سنن و نوافل کی پابندی رزقِ حلال اور ہمیشہ سچ بولنا،ان تمام امور کی پابندی کے ساتھ ساتھ ان
اوراد و وظائف کا ورد کرتے رہئے انشاء اللہ تعالیٰ نبی کریم ا کے فرمودات کی برکت سے آپ اپنے رزق میں ضرور برکت پائیں گے اور اگر آپ فرائض و واجبات کو ادا کرنے میں کوتاہی سے کام لے رہے ہیں تو آج ہی اللہ کے حضور سچی توبہ کر کے نماز کی پابندی کیجئے کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے بے نماز ی کی دُعا قبول نہیں ہو گی۔ لہذا نفلی عبادات کا ثواب
اپنی جگہ لیکن سب سے پہلے فرائض و واجبات کی پابندی کیجئے انشاء اللہ تعالیٰ دو جہانوں کی نعمتیں عطا ہوں گی۔
سورۃ واقعہ کے ذریعے رزق میں برکت: بیہقی شعب الایمان میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا فرماتے ہیں کہ جس
نے ہر رات سورۃ واقعہ تلاوت کی اس کو کبھی فاقہ نہ ہوگا ۔
مالداری والی سورت: ابن مَرْ دُ وَ یْہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سر و رِ کائنات حضرت محمد مصطفےٰا نے ارشاد فرمایا سورۂ
واقعہ سور�ۂ غِنٰی(مالداری والی سورت) ہے ،اِسے پڑھا کرو اور اپنی اولاد کو بھی اِس کی تعلیم دیا کرو۔
استغفار سے رزق میں برکت: طبرانی نے حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایاجس کے گناہ زیادہ ہو
جائیں تو اُسے چاہئے کہ استغفار کی کثرت کرے اور جس شخص کا رزق تنگ ہو جائے تو اسے چاہئے کہ کثرت سے لَاحَوْلََ ولَا قُوَّۃَ اِلَّاِ باللّٰہِ پڑھے۔
محتاجی سے امان نصیب ہو گی: مسندالفردوس میں حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایاجس شخص نے
دن میں سو مرتبہ لَا اِلٰہَ اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُپڑھا۔اُسے محتاجی سے امان نصیب ہو گی اور قبر میں وحشت سے اُنسیت ملے گی۔
محتاجی سے ہمیشہ کیلئے نجات کا وظیفہ: طبرانی میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوئے قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ (مکمل سورۂ اخلاص)پڑھتا ہے تو فقر(محتاجی) اُس کے گھر والوں اور اُس کے پڑوسیوں سے بھی بھاگ جاتا ہے۔
درودِ پاک سے رزق میں برکت: امام احمد حضرت ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت امیں عرض کی: اے اللہ کے رسول!آپ اکیافرماتے ہیں،اگر میں تمام وقت دُرود پاک ہی پڑھا کروں؟ تو حضور نبی کریم انے ارشاد فرمایا : یہ دنیا و آخرت کے غموں میں تجھے کفایت کرے گا۔
حضرت نوح علیہ السلام کا وظیفہ: امام بخاری الادب المفرد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم انے ارشاد فرمایا جب نوح علیہ الصلوۃ و السلام کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے کی جانب متوجہ ہوئے (اور فرمانے لگے)میں تجھے دو باتوں کا حکم کرتا ہوں (۱)لَا اِ لٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
(۲) سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ بے شک یہ ہر شے کی دعا ہے اور انہی کی برکت سے ہر جاندار کو رزق ملتا ہے
فرشتوں کی دعااورمخلوقات کی تسبیح: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت امیں عرض کی،یا رسول اللہ ! میں اپنی مفلسی کی شکایت کرتا ہوں تو حضور نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا تو فرشتوں کی دعا اور تمام مخلوقات کی تسبیح سے کیوں غافل ہے؟طلوعِ فجر سے لے کر نمازِ فجر کی ادائیگی سے قبل سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ پڑھ لیا کرو،بے شک(اس کی برکت سے)دنیا تیرے پاس ناک کے بل حاضر ہو گی۔

غموں اور قرضوں سے نجات کی کا وظیفہ: بیہقی کتابُ الدعوات میں حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم انے ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اُن سے فرمایا تجھے کیا ہوا ہے ؟انہوں نے عرض کی!مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے،تو حضور نبی کریم انے ارشاد فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلام نہ سکھا ؤں کہ جب تو اُسے پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ تیرے غموں کو دور فرما دے اور تیرے قرضوں کو اُتار دے؟پھر آپ انے ارشاد فرمایا! تم صبح و شام یہ پڑھا
کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّ یْنِ وَقَھْرِ الرِّجَالِ
اعمال کے ذریعے رزق میں برکت
اللہ پر توکل: جامع ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا کہ اگر اللہ پر توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے
پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو بھر ے پیٹ واپس آ جاتے ہیں۔
با وضو رہنے سے رزق میں برکت: کنز العمال میں منقول ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم اسے عرض کی ! میں چاہتا ہوں کہ میرا رزق کشادہ ہو
جائے،تو آپ انے فرمایا! باوضو رہا کرو،تمہارے رزق میں کشادگی ہو گی۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا: بیہقی میں منقول ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا
رزق بڑھائے اس کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
صلہ رحمی کے ذریعے رزق میں برکت: صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا جو شخص
چاہتا ہے کہ اُس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ کر دیا جائے تو اُسے چاہئے کہ صلہ رحمی(رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کرے۔
کھانا کھانے سے پہلے کا آسان عمل : ابن ماجہ میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم انے
ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اُس کے گھر میں خیر و برکت نازل فرمائے تو اُسے چاہئے کہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو (ہاتھ،منہ دھو لیا) کرے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا: ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے ،جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا
کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔
غموں اور قرضوں سے نجات کی کا وظیفہ: بیہقی کتابُ الدعوات میں حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم انے ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اُن سے فرمایا تجھے کیا ہوا ہے ؟انہوں نے عرض کی!مجھے غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے،تو حضور نبی کریم انے ارشاد فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلام نہ سکھا ؤں کہ جب تو اُسے پڑھا کرے تو اللہ تعالیٰ تیرے غموں کو دور فرما دے اور تیرے قرضوں کو اُتار دے؟پھر آپ انے ارشاد فرمایا! تم صبح و شام یہ پڑھا
کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّ یْنِ وَقَھْرِ الرِّجَالِ
اعمال کے ذریعے رزق میں برکت
اللہ پر توکل: جامع ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہا نے فرمایا کہ اگر اللہ پر توکل کرو جیسا توکل کا حق ہے تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے
پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو بھر ے پیٹ واپس آ جاتے ہیں۔
با وضو رہنے سے رزق میں برکت: کنز العمال میں منقول ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم اسے عرض کی ! میں چاہتا ہوں کہ میرا رزق کشادہ ہو
جائے،تو آپ انے فرمایا! باوضو رہا کرو،تمہارے رزق میں کشادگی ہو گی۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا: بیہقی میں منقول ہے کہ رسول اللہ انے ارشاد فرمایا جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا
رزق بڑھائے اس کو چاہئے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
صلہ رحمی کے ذریعے رزق میں برکت: صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا جو شخص
چاہتا ہے کہ اُس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ کر دیا جائے تو اُسے چاہئے کہ صلہ رحمی(رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کرے۔
کھانا کھانے سے پہلے کا آسان عمل : ابن ماجہ میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم انے
ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اُس کے گھر میں خیر و برکت نازل فرمائے تو اُسے چاہئے کہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو (ہاتھ،منہ دھو لیا) کرے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا: ابن ابی حاتم اپنی تفسیر میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ا نے ارشاد فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے ،جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا
کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُسے دنیا کے حوالے کر دیتا ہے۔