PDA

View Full Version : گانابجاناغیراسلامی طریقہ



Administrator
05-16-2015, 10:10 PM
گانابجانا'غیراسلامی طریقہ



آج مسلمان ناچ گانے کو تقریب کا بنیادی حصہ سمجھ رہے ہیں ،بطور خاص نکاح کی تقریب میں گانا بجانا، معمول بن چکاہے، مسلمانوں کی غیرت ایمانی وحمیت اسلامی اس قدر ناپید ہوچکی ہے کہ فرائض اسلامیہ:زکوۃ و حج کی ادائی کے سلسلہ میں پس وپیش کیا جارہا ہے اور تقاریب میں اسراف اور حرام کاموں کے لئے بے دریغ مال لٹایاجارہا ہے،کیاشادی بیاہ کے موقع پر ناچنا،گانا،بجانا ، رقص وسرود کی محفلیں سجانااسلامی عمل ہے؟،کیاآر کے اسٹرا کو بلاکر حیا کی چادر کوتار تار کرنا دینی کام ہے؟،کیامئے نوشی،آتش بازی کے ذریعہ دوسروں کے چین وسکون میں خلل ڈالنا مسلمان کا شیوہ ہے؟۔

یہ اہل اسلام کا شیوہ نہیں ہوسکتا،یہ اہل ایمان کا شعارنہیں ہوسکتا ،اسلام سے وابستگی اور ایمان کی تابندگی کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان تقاریب میں ان منکر ات سے پرہیزکریں ، خوشی وغم کے موقع پر ان گناہوں سے اجتناب کریں ،زندگی کے ہر نشیب وفراز میں ان مذموم حرکتوں سے بازرہیں!۔

گانے بجانے کی حرمت سے متعلق امام بیہقی کی شعب الایمان میں حدیث پاک منقول ہے:عن جابر بن عبدالله رضی الله عنه قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم الغناء ينبت النفاق فی القلب کما ينبت الماء الزرع.

ترجمہ:سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گانا بجانا دل میں نفاق کو اُگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو اُگاتا ہے۔(شعب الایمان ، حدیث نمبر:5100)

گانے کی ممانعت کے باوجودآدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے، یہ عمل ہی اس کے نفاق میں مبتلا ہونے کی علامت ہے، ا س کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عبادت میں لذت نہیں آتی اور ذکر میں حلاوت نہیں رہتی ،گانے بجانے والے کے کندھوں پر شیاطین رقص کرتے ہیں جیسا کہ تفسیرات احمدیہ ص 400 میں حدیث پاک ہے :وقال النبی صلی الله عليه وسلم ما من رجل يرفع صوته بالغناء الا بعث الله عليه شيطانين احدهما علی هذا المنکب والاخر علی هذا المنکب ولا يزالان يضربان بارجلهما حتی يکون هو الذی يسکت .

ترجمہ:حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو کوئی شخص گانے کے ذریعہ اپنی آواز کو بلند کرے اللہ تعالی اس پر دو شیطانوں کو مسلط فرمادیتا ہے، ان میں سے ایک اِس کاندھے پر اور دوسرا اُس کاندھے پر ہوتا ہے اور دونوں مسلسل اپنے پیروں سے مارتے رہتے ہیں ،یہاں تک کہ یہ شخص ہی خاموش ہوجائے۔

جبکہ ناچنے والے مسلمان شخص کو نہ صرف اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے بلکہ وہ اس معبود حقیقی پر ایمان رکھتا ہے ، شیطان جس کا کھلا دشمن ہے ، اس دین کا ماننے والا ہے ، شیطان جس سے روکتا ہے ، اہل ایمان کے لئے رحمت کا وعدہ ہے اور شیطان کے لئے ابدی لعنت کی وعید اور ہمیشہ کی پھٹکار ہے ، کیا یہ دانشمندی کا قرینہ ہے کہ مسلمان شخص گانے بجانے کا ارتکاب کرے اور دوشیطان اس کے کندھوں پر اپنے پیروں سے مارتے رہیں ؟؟

در مختار، ج5، کتاب الحظر والإباحۃ، ص542، میں ہے:ان الملاهی کلها حرام .ترجمہ:تمام قسم کے لہو ولعب حرام ہیں۔

از:مولانا مفتی حافظ سید ضیاء الدین نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر