PDA

View Full Version : Why exact night of Laylatul Qadr is kept Secret in Urdu



Nadeem
07-14-2015, 11:04 AM
شب قدر کو مخفی رکھنے کی حکمتیں



اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو اپنی حکمت سے مخفی رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس عبادت سے راضی ہوتا ہے، اس کو مخفی رکھا تاکہ بندہ تمام عبادات میں کوشش کرے، کس گناہ سے نارضا ہوتا ہے، اس کو مخفی رکھا تاہ بندہ ہر گناہ سے باز رہے۔ ولی کی کوئی ملامت مقرر نہیں کی اور اسے لوگوں کے درمیان مخفی رکھاتاکہ لوگ ولی کے شائبہ میں ہر انسان کی تعظیم کریں۔ قبولیت توبہ کو مخفی رکھا تاکہ بندے مسلسل توبہ کرتے رہیں۔ موت اور قیامت کے وقت کو مخفی رکھا تاکہ بندے ہر ساعت میں گناہوں سے باز رہیں اور نیکی کی جدوجہد میں مصروف رہیں۔ اسی طرح لیلتہ القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر سجھ کر اس کی تعظیم کریں اور اس کی ہر رات میں جاگ جاگ کر عبادت کریں۔
امام رازی تحریر فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ اس رات کو معین کر کے بتا دیتا تو نیک لوگ تو اس رات میں جاگ کر عبادت کر کے ہزار ماہ کی عبادتوں کا اجر حاصل کرلیتے ہیں اور عادی گنہگار اگر شامت نفس اور اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس رات بھی کوئی گناہ کرلیتا تو وہ ہزار ماہ کے گناہوں کی سزا کا مستحق ہوتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس رات کو مخفی رکھا تاکہ اگر کوئی عادی گنہگار اس رات بھی کوئی گناہ کر بیٹھے تو لیلتہ القدر سے لاعلمی کی بناء پر اس کے ذمہ لیلتہ القدر کی احترام شکنی اور ہزار ماہ کے گناہ لازم آئیں، کیونکہ علم کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی سے گناہ کرنے کی بہ نسبت زیادہ شدید ہے۔ روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ایک شخص کو سوئے ہوئے دیکھا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ایک شخص کو سوئے ہوئے دیکھا آپ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا اسے وضو کے لئے اٹھا دو انہوں نے اٹھا دیا۔ بعد میں علی (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ تو نیکی کرنے میں خود پہل کرتے ہیں، آپ نے اس کو خود کیوں نہیں جگا دیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر میرے اٹھانے پر یہ انکار کردیتا تو یہ کفر ہوتا اور تمہارے اٹھانے پر انکار کرنا کفر نہیں ہے تو میں نے تم کو اٹھانے کا اس لئے حکم دیا کہ یہ انکار کر دے تو اس کا قصور کم ہو، غور کرو ! جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گنہگاروں پر رحمت کا یہ حال ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا عالم ہوگا، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ آسان ہے کہ نیکو کار لیلتہ القدر کی جستجو میں رمضان کی متعدد راتیں جاگ کر کھنگال ڈالیں، یہ بھی گوارا ہے کہ اس تلاش میں ان سے لیلتہ القدر چوک جائے لیکن یہ گوارا نہیں ہے کہ لیلتہ القدر بتلا دینے سے کوئی گنہگار بندہ اپنے گناہ کی ہزار گنا زیادہ سزا پائے، اللہ ! اللہ ! وہ اپنے بندوں کا کتنا خیال رکھتا ہے، پھر گنہگار بندوں کا !
تیسری وجہ یہ ہے کہ جب لیلتہ القدر کا علم نہیں ہوگا اور بندے رمضان کی ہر رات کو لیلتہ القدر کے گمان میں جاگ کر گزاریں گے اور رمضان کی ہر رات میں عبادت کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : اسی ابن آدم کے متعلق تم نے کہا تھا کہ یہ زمین کو خونریزی اور گناہوں سے بھر دے گا، ابھی تو اس کو لیلتہ القدر کا قطعی علم نہیں ہے، پھر بھی عبادت میں اس قدر کوشش کر رہا ہے اگر اسے لیلتہ القدر کا علم قطعی ہوتا کہ کون سی رات ہے، پھر اس کی عبادتوں کا کیا عالم ہوتا !