Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Results 1 to 2 of 2
  1. #1
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے

    سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے

    سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے
    نسیم روح پرور سے مشام جاں معطر ہے

    قریب طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا
    مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

    ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں
    قدم ان کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

    ارے او سونے والے دل ارے سونے والے دل
    سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

    سہانی طرز کی طلعت نرالی رنگ کی نکہت
    نسیم صبح سے مہکا ہوا پرنور منظر ہے

    تعالٰی اللہ یہ شادابی یہ رنگینی تعالٰی اللہ
    بہار ہشت جنت دشت طیبہ پر نچھاور ہے

    ہوائیں آ رہی ہیں کوچہء پرنور جاناں کی
    کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو میسر ہے

    منور چشم زائر ہے جمال عرش اعظم سے
    نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

    یہ رفعت درگہ عرش آستاں کے قرب سے پائی
    کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراج دیگر ہے

    محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کر کے
    وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اللہ کا گھر ہے

    نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا
    جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

    ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر
    طلب دل میں صدائے یارسول اللہ لب پر ہے

    لکھا ہے خامہء رحمت نے در پر خط قدرت سے
    جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

    خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے
    خدا ہے اس کا مولٰی یہ خدائی بھر کا سرور ہے

    زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں
    یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا افسر ہے

    عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا
    خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے

    کرم کے جوش ہیں بزل و نعم کے دور دورے ہیں
    عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر وشکر ہے

    کوئی لپٹا ہے فرط شوق میں روضے کی جالی سے
    کوئی گردن جھکائے رعب سے بادیدہ تر ہے

    کوئی مشغول عرض حال ہے یوں شادماں ہو کر
    کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاور ہے

    کمینہ بندہ ئدر عرض کرتا ہے حضور میں
    جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثناءگر ہے

    ترے رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا
    کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

    ذلیلوں کی تو میں گنتی سلاطین زمانہ کو
    تری سرکار عالٰی ہے ترا دربار برتر ہے

    تری دولت تری شوکت جلالت کا
    نہ ہے کوئی زمیں پر اور نہ کوئی آسماں پر ہے

    مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں
    ترا گھر بیچ میں چاروں طرف اللہ کا گھر ہے

    تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش
    پسینے پر ترے قربان روح مشک و عنبر ہے

    غم و افسوس کا دافع اشارہ پیاری آنکھوں کا
    دل مایوس کی حامی نگاہ بندہ پرور ہے

    جو سب اچھوں میں اچھا جو ہر بہتر سے بہتر ہے
    ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

    رکھوں میں حاضری کی شرم ان اعمال پر کیونکر
    سرے امکاں سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

    اگر شان کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی
    تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاور ہے

    مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں
    یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیونکر ہے

    بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا
    پھر اس شان کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے

    تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس در کے زائر کو
    کہ یہ درگاہ والا رحمت خالص کا منظر ہے

    مبارک ہو
    حسن سب آرزوئیں ہو گئیں پوری
    اب ان کے صدقے میں عیش ابد تجھ کو میسر ہے
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #2
    Senior Member imranattari's Avatar
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    202

    Default



Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

taucheruhrdirekt.com