Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Results 1 to 4 of 4
  1. #1
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default ذکر شہادت

    ذکر شہادت

    بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزار جنت کی
    سواری آنے والی ہے شہیدان محبت کی

    کھلے ہیں بہاروں پر ہے پھلوای جراحت کی
    فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی

    گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں امت کی
    کوئی تقدیر تو دیکھے اسیران محبت کی

    شہید ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو
    ہوائیں آتی ہیں ان کھڑکیوں سے باغ جنت کی

    کرم والوں نے در کھولا تو رحمت نے سماں باندھا
    کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضل شہادت کی

    علی کے پیارے خاتون قیامت کے جگر پارے
    زمیں سے آسماں تک دھوم ہے ان کی سیادت کی

    زمین کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا
    جمی ہے انجمن روشن ہیں شمعیں نور و ظلمت کی

    یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونکدیں اپنے فدائی کو
    یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی

    یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے
    یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

    یہ وہ شمیعں نہیں جن سے فقط اک گھر منور ہو
    یہ وہ شمیعں ہیں جن سے روح ہو کافور ظلمت کی

    دل حور و ملائک رہ گیا حیرت زدہ ہو کر
    کہ بزم گلر خاں میں لے بلائیں کس کی صورت کی

    جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں
    ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

    اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں
    اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

    ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اشک یتیماں پے
    بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہل بصیرت کی

    ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے
    سنبیلیں رکھی ہیں دیدار نے خود اپنے شربت کی

    اُدھر افلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے
    ادھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی

    سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے
    بہار خوشنمائی پر ہے صدقے روح جنت کی

    ہوائیں گلشن فردوس سے بس بس کر آتی ہیں
    نرالی عطر میں ڈوبی ہوئی ہے روح نکہت کی

    دل پُر سوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے
    کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لپٹ سوز محبت کی

    ادھر چلمن اٹھی حسن ازل کے پاک جلوؤں سے
    ادھر چمکی تجلی بدر تابان رسالت کی

    زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے
    کہ کھنچ کھنچ کی مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی

    گھٹائیں مصطفٰے کے چاند پر گھر گھر کر آتی ہیں
    سیہ کاران امت تیرہ بختان شقاوت کی

    یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُس کے خون کے پیاسے
    بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامان قیامت کی

    اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وار چلتے ہیں
    مٹا دی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی

    مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا
    پَرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی

    کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوش دلیری نے
    بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اس شجاعت کی

    تصدق ہو گئی جان شجاعت سچے تیور کے
    فدا شیرانہ حملوں کی ادا پر روح جراءت کی

    نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے
    نکل آتی زمین کربلا سے نہر جنت کی

    مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا
    کہ خواہش پیاس سے بڑھتی ہے رویت کے شربت کی

    شہید ناز رکھ دیتا ہے گردن آب خنجر پر
    جو موجیں باڑ پر آ جاتی ہیں دریائے الفت کی

    یہ وقت زخم نکلا خوں اچھل کر جسم اطہر سے
    کہ روشن ہو گئی مشعل شبستان محبت کی

    سر بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا
    تن بے سر کو سرداری ملی ملک شہادت کی

    حسن سنی ہے پھر افراط و تفریط اس سے کیونکر ہو
    ادب کے ساتھ رہتی ہے روش ارباب سنت کی

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #2

  3. #3

  4. #4
    Senior Member imranattari's Avatar
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    202

    Default



Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •