Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Results 1 to 3 of 3
  1. #1
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default تمہید ذکر معراج شریف

    مسدسات
    تمہید ذکر معراج شریف


    ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
    ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
    جوش عطش بھی شدت سوز جگر بھی ہے
    کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ درد سر بھی ہے
    ایسا عطا ہو جام شراب طہور کا
    جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سرور کا

    اب دیر کیا ہے بادہء عرفاں قوام دے
    ٹھنڈے پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے
    تازہ ہو روح پیاس بجھے لطف تام دے
    یہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دے
    انہیں سرور آئے مزے جھوم جھوم کر
    ہو جاؤں بے خچر اب ساغر کو چوم کر

    فکر بلند سے ہو عیاں اقتدار اوج
    چہے ہزار خامہ سر شاخسار اوج
    ٹپکے گل کلام سے رنگ بہار اوج
    بات بات شان عروج افتخار اوج
    فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
    مضموں فراز عرش سے اونچے نکل چلیں

    اس شان اس ادا سے ثنائے رسول ہو
    ہر شعر شاخ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو
    حضار پر سحاب کرم کا نزول ہو
    سرکار میں یہ نذر محقر قبول ہو
    ایسی تعلیوں سے ہو معراج کا بیاں
    سب حاملان عرش سنیں آج کا بیاں

    معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
    فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے
    ہم تیرہ اختروں کی شفاعت کی رات ہے
    اعزاز ماہ طیبہ کی رویت کی رات ہے
    پھیلا ہوا ہے سرمہء تسخیر چرخ پر
    یا زلف کھولے پھرتی ہیں حوریں ادھر ادھر

    دل سوختوں کے دل کا سویدا کہوں اسے
    ہر فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اسے
    دیکھوں جو چشم قیس سے لیلٰی کہوں اسے
    اپنے اندھیرے گھر کا اجالا کہوں اسے
    یہ شب ہے یا سواد وطن آ شکار ہے
    مشکیں غلاف کعبہء پروردگار ہے

    اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
    کوئی علیم پوش مراقب ہے یا خدا
    مشکیں لباس یا کوئی محبوب دلربا
    یا آ ہوئے سیاہ یہ چرتے ہیں جا بجا
    ابر سیاہ مست اٹھا حال وجد میں
    لیلٰی نے بال کھولے ہیں صحرائے نجد میں

    یہ رت کچھ اور ہے یہ ہوا ہی کچھ اور ہے
    اب کی بہار ہوش ربا ہی کچھ اور ہے
    روئے عروس گل میں صفا ہی کچھ اور ہے
    چبھتی ہوئی دلوں میں ادا ہی کچھ اور ہے
    گلشن کھلائے باد صبا نے نئے نئے
    گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

    ہر ہر کلی ہے مشرق خورشید نور سے
    لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیء طور سے
    زوہت ہے سے کے منہ پہ دلوں کے سرور سے
    مردے ہیں بے قرار حجاب قبور سے
    ماہ عرب کے جلوے جو اونچے نکل گئے
    خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے

    ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
    نیسان جود رب گہر افشانیوں میں ہے
    چشم کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
    غل آمد حضور کا روحانیوں میں ہے
    اک دھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
    بہر براق خلد کو جبریل جاتے ہیں

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #2
    Senior Member
    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    190

    Default


  3. #3
    Senior Member imranattari's Avatar
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    202

    Default

    سبحان اللہ


Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •