Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Results 1 to 2 of 2
  1. #1
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default نغمہء روح

    نغمہء روح
    استمداد از حضرت سلطان بغداد رضی اللہ تعالٰی عنہ


    اے کریم ابن کریم اے رہنما اے مقتدا
    اختر برج سخاوت گوہر درج عطا
    آستانہ پہ ترے حاضر ہے یہ تیرا گدا
    لاج رکھ لے دست و دامن کی مرے بہر خدا

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    شاہ اقلیم ولایت سرور کیواں جناب
    ہے تمہارے آستانے کی زمیں گردوں قباب
    حسرت دل کی کشاکش سے ہیں لاکھوں اضطراب
    التجاء مقبول کیجئے اپنے سائل کی شتاب

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    سالک راہ خدا جو راہنما ہے تیری ذات
    مسلک عرفان حق ہے پیشوا ہے تیری ذات
    بے نوایان جہاں کا آسرا ہے تیری ذات
    تشنہ کاموں کے لئے بحر عطا ہے تیری ذات

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ہر طرف سے فوج غم کی ہے چڑھائی الغیاث
    کرتی ہے پامال یہ بے دست و پائی الغیاث
    پھر گئی ہے شکل قسمت سب خدائی الغیاث
    اے مرے فریاد رس تیری دہائی الغیاث

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    منکشف کس پر نہیں شان معلٰی کا عروج
    آفتاب حق نما ہو تم کو ہے زیبا عروج
    میں خصیص غم میں ہوں امداد ہو شاہا عروج
    ہر ترقی پر ترقی ہو بڑھے دونا عروج

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ناکجا ہو پائمال لشکر افکار روح
    تابکے ترساں رہے بے مونس و غمخوار روح
    ہو چلی ہے کاوش غم سے نہایت زار روح
    طالب امداد ہے ہر وقت اے دلدار روح

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    دبدبہ میں ہے فلک شوکت ترا اے ماہ کاخ
    دیکھتے ہیں ٹوپیاں تھامے گدا و شاہ کاخ
    قصر جنت سے فزوں رکھتا ہے عزو و جاہ کاخ
    اب دکھا دے دیدہ ء مشتاق کو للہ کاخ

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    توبہ سائل اور تیرے در سے پلٹے نامراد
    ہم نے کیا دیکھے نہیں غمگین آتے جاتے شاد
    آستانے کے گدا ہیں قیصر و کسرٰی قباد
    ہو کبھی لطف و کرم سے بندہ مضطر بھی یاد

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    نفس امارہ کے پھندے میں پھنسا ہوں العیاذ
    در ترا بیکس پنہ کوچہ ترا عالم ملاذ
    رحم فرما ملاذی لطف فرما ملاذ
    حاضر در ہے غلام آستاں بہر لواذ

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    شہر یار اے ذی وقار اے باغ عالم کی بہار
    بحر احساں رشخہء نیسان جود کردگار
    ہوں خزان غم کے ہاتھوں پائمالی سے دوچار
    عرض کرتا ہوں ترے در پر بچشم اشکبار

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    بر سر پرخاش ہے مجھ سے عدوئے بے تمیز
    رات دن ہے در پئے قلب حزیں نفس رجیز
    مبتلا ہے سو بلاؤں میں مری جان عزیز
    حل مشکل آپ کے آگے نہیں دشوار چیز

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    اک جہاں سیراب ابر فیض ہے اب کی برس
    ترنوا ہیں بلبلیں پڑتا ہے گوش گل میں رس
    ہے یہاں کشت تمنا خشک و زندان قفس
    اے سحاب رحمت حق سوکھے دھانوں پر برس

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    فصل گل آئی عروسان چمن ہیں سبز پوش
    شادمانی کا نواں سنجان گلشن میں ہے جوش
    جو بنوں پر آ گیا حسن بہار گل فروش
    ہائے یہ رنگ اور ہیں یوں دام میں گم کردہ ہوش

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    دیکھ کر اس نفس بد خصلت کے یہ زشتی خواص
    سوز غم سے دل پگھلتا ہے مرا شکل رصاص
    کس سے مانگوں خون حسرت ہائے کشتہ کا قصاص
    مجھ کو اس موذی کے چنگل سے عطا کیجئے خلاص

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ایک تو ناخن بدلا ہے شدت افکار قرض
    اس پر اعداء نے نشانہ کر لیا ہے مجھ کو فرض
    فرض ادا ہو یا نہ ہو لیکن مرا آزار فرض
    رد نہ فرماؤ خدا کی واسطے سائل کی عرض

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    نفس شیطاں میں بڑھے ہیں سو طرح کے اختلاط
    ہر قدم در پیش ہے مجھ کو طریق پل صراط
    بھولی بھولی سے کبھی یاد آتی ہے کبھی شکل نشاط
    پیش بار کوہ کاہ ناتواں کی کیا بساط

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    آفتوں میں پھنس گیا ہے بندہء دارالحفیظ
    جان سے سو کاہشوں میں دم ہے مضطر الحفیظ
    ایک قلب ناتواں ہے لاکھ نشتر الحفیظ
    المدد اے داد رس اے بندہ پرور الحفیظ

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    صبح صادق کا کنار آسماں سے ہے طلوع
    ڈھل چکا ہے صورت شب حسن رخسار شموع
    طائروں نے آشیانوں میں کئے نغمے شروع
    اور نہیں آنکھ کو اب تک خواب غفلت سے رجوع

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    بدلیاں چھائیں ہوا بدلی ہوئے شاداب باغ
    غنچے چٹکے پھول مہکے بس گیا دل کا دماغ
    آہ اے جور قفس دل ہے کہ محرومی کا داغ
    واہ اے لطف صبا گل ہے تمنا کا چراغ

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    آسماں ہے قوس فکریں تیر میرا دل ہدف
    نفس و شیطاں ہر گھڑی برلب و خنجر بکف
    منتظر ہوں میں کہ اب آئی صدائے لاتخف
    سرور دیں کا تصدق بحر سلطان نجف

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    بڑھ چلا ہے آج کل احباب میں جوش نفاق
    خوش مذاقان زمانہ ہو چلے ہیں بد مذاق
    سیکڑوں پردوں میں پوشیدہ ہے حسن اتفاق
    برسر پیکار ہیں آگے جو تھے اہل وفاق

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ڈر درندوں کا اندھیری رات صحرا ہولناک
    راہ نا معلوم عرشہ پاؤں میں لاکھوں مغاک
    دیکھ کر ابر سیاہ کو دل ہوا جاتا ہے چاک
    آئیے امداد کو ورنہ میں ہوتا ہوں ہلاک

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ایک عالم پر نہیں رہتا کبھی عالم کا حال
    ہر کمال را زوال و ہر زوال را کمال
    بڑھ چکیں شب ہائے فرقت ابتوا و روز وصال
    مہر ادھر منہ کر میرے دن پھریں دل ہو نہال

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    گو چڑھائی کر رہے ہیں مجھ پہ اندوہ و الم
    گو پیاپے ہو رہے ہیں اہل عالم کے ستم
    پر کہیں چھٹتا ہے تیرا آستاں تیری قدم
    چارہ ء درد دل مضطر کریں تیرے کرم

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ہر کمر بستہ عداوت پر بہت اہل زمن
    ایک جان ناتواں لاکھوں الم لاکھوں محن
    سن لے فریاد حسن فرما دے امداد حسن
    صبح محشر تک رہے گی آباد تیری انجمن

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    ہے تیری الطاف کا چرچا جہاں میں چار سو
    شہرہء آفاق ہیں یہ خصلتیں یہ نیک خو
    ہے گدا کا حال تجھ پر آ شکار مو بمو
    آج کل گھیرے ہوئے ہیں چار جانب سے عدو

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    شام ہے نزدیک منزل دور میں گم کردہ راہ
    ہر قدم پر پڑتے ہیں اس دشت میں خس پوش جاہ
    کوئی ساتھی ہے نہ رہبر جس سے حاصل ہو پناہ
    اشک آنکھوں میں قلق دل میں لبوں پر آہ آہ

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من


    تاج والوں کو مبارک تاج زر تخت شہی
    بادشاہ لاکھوں ہوئے کس پر پھلی کس کی رہی
    میں گدا ٹھہروں ترا میری اسی میں ہے بہی
    ظل دامن خاک در دیہیم و افسر ہے یہی

    روئے رحمت برمتاب اے کام جاں از روئے من
    حرمت روح پیمبر یک نظر کن سوئے من
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #2
    Senior Member imranattari's Avatar
    Join Date
    Feb 2011
    Posts
    202

    Default

    سبحان اللہ


Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •