Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 11
  1. #1
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default Fazail o masayil e qurbani

    مضمون: فضائل و مسائل قربانی
    مصنف : مولانا محمد ظہور الاسلام نوری
    انتخاب : قرۃالعین
    فضائل و مسائل قربانی
    یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تمام اسلامی تعلیمات و احکامات کا سر چشمہء فیض اور انسان کی جسمانی، مالی، روحانی اصلاح و فلاح کا مآخذ جمیع علوم السامیہ و عربیہ کا مرجع و مرکز مسلمانوں کی ترقی و تمدن کا راز سر بستہ عالم کی تاریکی و جہالت کو فنا کر دینے والا آفتاب درخشاں، نوع انسان کو سعادت ابدی اور نجات سرمدی کی منزل مقصود تک پہنچانے والا خدائے پاک کا کلام پاک “ قرآن مجید “ اور اس کے محبوب خاص، نبی مکرم ، شفیع معظم حضور احمد مجتبٰی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہی ہے۔
    لٰہذا قربانی کے فضائل و مسائل قرآنی آیات و احادیث مبارکہ اور مسائل فقہیہ کی روشنی میں ہدیہ ء قارئین ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
    خدا وند قدوس حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے واقعہء قربانی کو اپنے کلام پاک میں اس انداز سے بیان فرمایا ہے۔
    رب ھب لی من الصالحین ، فبشر نٰہ بغلٰم حلیم ، فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی ارٰی فی المنام انی اذبحک فانظر ما ذا ترٰی ، قال یٰابت افعل ماتؤمر ستجدنی انشاءاللہ من الصابرین، فلما اسلما وتلہ للجبین ونا دینٰہ ان یا ابراہیم قد صدقت الرؤیا انا کذٰلک نجزی المحسنین ، ان ھذا الھوا لبلوء المبین وفدینٰہ بذبح عظیم، وترکنا علیہ فی الاٰ خرین سلٰم علٰی ابراہیم ۔ ( القرآن پارہ 23، رکوع 8 ، سورہء صفٰت)
    ترجمہ : الٰہی مجھے لائق اولاد دے۔ تو ہم نے اسے خوشخبری سنائی ایک عقلمند لڑکے کی ۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ کام کے قابل ہو گیا تو۔ کہا۔ اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا۔ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ اب تو دیکھ تیری کیا رائے ہے۔ کہا اے میرے باپ کیجئے جس بات کا آپ کو حکم ہوتا ہے۔ خدا نے چاہا تو قریب ہے کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ تو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ ۔ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بے شک تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکیوں کا۔ بے شک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا۔ اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ( کنزالایمان )
    مذکورہ بالا آیات مقدسہ کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے صدر الافاضل، فخر الاماثل حضرت علامہ سید نعیم الدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام بحکم الٰہی سرزمین شام میں ارض مقدسہ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے رب سے دعا کی۔ یعنی تیرے لئے ذبح کا انتظام کر رہا ہوں۔ اور انبیاء علیہم السلام کی خواب حق ہوتی ہے۔ اور انکے افعال بحکم الٰہی ہوا کرتے ہیں۔ یہ آپ نے اس لئے کہا کہ فرزند کو ذبح سے وحشت نہ ہو اور اطاعت امر الٰہی کیلئے برغبت تیار ہوں۔ چنانچہ اس فرزند ارجمند نے رضائے الٰہی پر فدا ہونے کا کمال شوق سے اظہار کیا۔ یہ واقعہ منٰٰی میں واقع ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزند کے گلے پر چھری چلائی۔ قدرت الٰہی کہ چھری نے کچھ بھی کام نہ کیا۔ اطاعت و فرمانبرداری کمال کو پہنچادی۔ فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر دیا۔ بس اب اتنا کافی ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ یہ فرزند حضرت اسمٰعیل ہیں یا حضرت اسحٰق علیہما السلام لیکن دلائل کی قوت یہی بتاتی ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل ہی ہیں۔ ( علیہ السلام ) اور فدیہ میں جنت سے بکری بھیجی گئی تھی۔
    اب احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں
    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یارسول اللہ! اس سے ہم کو ثواب ملے گا۔ فرمایا ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ ( احمد، ابن ماجہ )
    ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کے ایام میں ابن آدم کا کوئی عمل خدائے تعالٰی کے نزدیک خون بہانے ( یعنی قربانی کرنے ) سے زیادہ پیارا نہیں ۔ اور جانور قیامت کے دن اہنے سینگوں ، بالوں ، کھروں کے ساتھ آئے گا۔ اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدائے تعالٰی کے نزدیک مقام مقبول میں پہنچ جاتا ہے۔ ( ترمذی، ابن ماجہ )
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ آقائے کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب ہر گز نہ آئے۔ ( ابن ماجہ )

    Qurbani Kese Karen



    Read online | Download

    Qurbani, Fazail o Masail



    Read online | Download

    Ablaq Ghorry Suwaar



    Read online | Download
    Last edited by Administrator; 11-22-2009 at 11:10 AM. Reason: Books about Qurbani Added to Thread
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #2

  3. #3

    Default



    :yaallah



    وہی والی وہی آقا وہی وارث وہی مولٰی
    میں ان کے صدقے جاؤں اور میرا کون والی ہے

  4. #4

    Default

    Jazak Allah Khair

  5. #5

  6. #6
    Senior Member
    Join Date
    Sep 2008
    Posts
    217

    Default


  7. #7

    Default

    Thanks for sharing

  8. #8

  9. #9
    Senior Member
    Join Date
    Aug 2009
    Posts
    102

    Default

    JazakALLAH Khair

  10. #10

+ Reply to Thread
Page 1 of 2 12 LastLast

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Online Quran Academy