غم کے ماروں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار

غم کے ماروں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار
اپنے غم میں اپنی الفت میں رلاؤ زار زار

صدقے جاؤں مجھ سے عاصی پر شہ کون و مکان
بے عدد تیری عطائیں رحمتیں ہیں بے شمار

فکر نزع روح و قبر و حشر سے بچ جاتا گر
کاش ہوتا آپ کی گلیوں کا میں گردو غبار

آہ چھایا ہے گناہوں کا اندھیرا چار سُو
ہو نگاہِ نور مجھ پر یا شہ عالم مدار

کاش یاوہ گوئی بد اخلاقی و بے جا ہنسی
کی مری سب عادتیں چھوٹیں مرے پروردگار

مثل بسمل میں تڑپتا ہی رہوں سرکار کاش
آپ کے غم میں رہوں آقا ہمیشہ دلفگار

دولت دنیا سے بے رغبت مجھے کر دیجئے
میری حاجت سے مجھے زائد نہ کرنا مالدار

جو تڑپتے ہیں مدینے کی زیارت کے لئے
ان کو بھی آقا دکھادو تم مدینے کی بہار

ہو مدینہ ہی مدینہ ہر گھڑی ورد زباں
بس مدینہ ہی کی ہو تکرار لب پہ بار بار

ہو میرا سینہ مدینہ تاجدار انبیاء
دل میں بس جائے ترا جلوہ شہ عالی وقار

از پئے غوث و رضا مسکین مدینہ دو بنا
کاش ہو مدفن مدینہ از طفیل چار یار

چومتے رہتے ہو گلیاں تم مدینے کی سدا
تم پہ ہو جاؤں تصدق اے سگان کوئے یار

بلبلو تم کو مبارک پھول ہو میری نظر
میں مدینے کی حسیں وہ وادیاں ہیں خار

سنتوں کے آج کے اس اجتماع پاک میں
جو بھی آیا بخش اسے بہر نبی پروردگار

کچھ تو کر احساس بھائی چھوڑ نافرمانیاں
کہ غمِ اُمت میں ہو جاتے ہیں آقا اشکبار

میرے غیرتمند بھائی مت منڈا داڑھی کو تُو
یاد رکھ یہ دشمنانِ مصطفٰی کا ہے شعار

چھوڑ انگریزی طریقے اور فیشن چھوڑ دے
بھائی کرلے سنتوں سے خوب رشتہ استوار

عرصہء محشر میں آقا لاج رکھنا آپ ہی
دامنِ عطار ہے سرکار بے حد داغدار

دے شرف عطار کو ہر سال حج کا یاخدا
اور دکھا ہر سال اِسے میٹھے مدینے کا دیار