پھر مدینے کی گلیوں میں اے کردگار عزوجل

(1)

پھر مدینے کی گلیوں میں اے کردگار
کاش پہنچوں میں روتا ہوا زار زار

بس پہنچتے ہی طیبہ میں پروانہ وار
سبز گنبد پہ ہو جاؤں آقا نثار

مال و دولت کے انبار بیشک نہ دو
بس مقدر میں لکھ دو مدینے کے خار

ساقیا جام ایسا پلا دو مجھے
بعد مردن بھی اترے نہ جس کا خمار

چومتا رہتا نعلین سرکار کی
کاش ہوتا میں طیبہ کا گردو غُبار

آ گیا حج کا موسم قریب آ گیا
ہو نگاہِ کرم بہر پروردگار

سندھ کے باغ آنکھوں میں جچتے نہیں
پھر دکھادو عرب کے حسین ریگزار

ہم سبھی ان کے دربار دربار میں
جائیں گے انشاءاللہ ضرور ایکبار

از طفیل بلال و اویس و رضا
دو دل بے قرار آنکھ دو اشکبار

آگ لگ جائے خوشیوں کے سامان کو
بس تیرے غم میں روتا رہوں زار زار

آپ کا نام سنتے ہی سرکار کاش
دل مچلنے لگے جا ہو بے قرار

مثل بسمل تڑپتا رہوں ہر گھڑی
عشق سرکار میں ہر دم رہوں دلفگار

میرا سینہ مدینہ بنا دیجئے
قلب کی ہو مدینہ مدینہ پکار

گر پڑوں ان کے قدموں میں روتے ہوئے
عاصیوں پر بھی ان کو تو آتا ہے پیار

یانبی حشر میں میرا پردہ رہے
ہر طرف سے گناہوں کا ہوں میں شکار

میرے عیسٰی سرہانے چلے آئیے
جاں بلب کب تلک اب کرے انتظار

میری آمد ہو طیبہ میں اس شان سے
چاک دینہ ہو دامن بھی ہو تار تار

بھائیو، بہنوں اپناؤ تم سنتیں
تم سے خوش ہوں گے سرکار عالم مدار

موت عطار کو آئے طیبہ میں پھر
ہو بقیع مبارک میں اس کا مزار

یاخدا مغفرت کردے عطار کی
اس کو جنت میں دیدے نبی کا جوار


(2)

ہو گیا حاجیوں کا شروع اب شمار
اذن مجھ کو بھی دے دو شہ ذی وقار

تیری نظر کرم کا ہوں امیدوار
گو مرے جرم سرکار ہیں بے شمار

پھر مدینے کی جانب چلے قافلے
ہو گئے عاشقان نبی بے قرار

بہر غوث الورٰی یا شہ دوسرا
پھر دکھادو مدینے کی لیل و نہار

میرے میٹھے مدینے کی کیا بات ہے
ہے فضا مہکی مہکی ہوا خوشگوار

جس قدر بھی ہیں اسلامی بھائی بہن
سب کو بلواؤ محبوب پروردگار

عرش پر فرش پر خُلد پر خلق پر
اذن رب سے ہے نافذا ترا اقتدار

کیجئے دور دنیا کے رنج و الم
آپ پر میرے حالات ہیں آ شکار

میرے نزدیک آئے خزاں نہ کبھی
تاجدار مدینہ دو ایسی بہار

پھنس گئی ناؤ عصیاں کے طوفان میں
اب لگا دو مرے ناخدا جلد پار

میرے دامان تر کی شفیع الورٰی
لاج رکھنا خدارا بروز شمار

سنتوں کا میں چرچا کروں رات دن
ہو عطا ایسا جذبہ پئے چار یار

اے مدینے کے زائر در پاک پر
عرض کرنا میرا بھی سلام اشکبار

پیرو مُرشد کے صدقے ہو ایسی عطا
آئے عطار دربار میں بار بار