یانبی مجھ کو مدینے میں بلانا بار بار

یانبی مجھ کو مدینے میں بلانا بار با
بار بار آؤں بنے آخر مدینے میں مزار

ہیں ہوائیں مہکی مہکی تو فضائیں خوشگوار
ذرہ ذرہ ہے مدینے کا یقیناً نور بار

کاش ! جب آؤں مدینے میں خوب طاری ہو جنوں
ہو گریباں چاک سینہ چاک دامن تار تار

مال و زر کی آرزو نہ سلطنت کی جستجو
ہو عطا خستہ جگر اور آنکھ دے دو اشکبار

بد گمانی، بد کلامی، بد نگاہی کا مرض
دور کر دیجئے خدارا اے طبیب ذی وقار

دولتِ دنیا سے بے رغبت مجھے کر دیجئے
میری حاجت سے مجھے زائد نہ کرنا مالدار

جو تڑپتے ہیں مدینے کی زیارت کیلئے
اُن کو بھی آقا دکھا دیجئے مدینے کی بہار

ہو مدینہ ہی مدینہ ہر گھڑی وردِ زباں
بس مدینہ ہی کی ہو تکرار لب پہ بار بار

ہو مرا سینہ مدینہ تاجدارِ انبیاء
دل میں بس جائے ترا جلوہ شہ عالی وقار

از پئے غوث و رضا مسکن مدینہ ہو مرا
کاش ! ہو مدفن مدینہ از طفیل چار یار

چومتے رہتے ہو گلیاں تم مدینے کی سدا
تم پہ ہو جاؤں تصدق اے سگان کوئے یار

بلبلو ! تم کو مبارک پھول پر میری نظر
میں مدینے کی حسیں وہ وادیاں ہیں خاردار

سنتوں کے آج کے اس اجتماع پاک میں
جو بھی آیا بخش اسے بہر نبی پروردگار

کچھ تو کر احساس بھائی چھوڑ نافرمانیاں
کہ غم اُمت کئے دیتا ہے اُن کو اشکبار

میرے غیرتمند بھائی مت منڈا داڑھی کو تو
یاد رکھ یہ دشمنان مصطفٰے کا ہے شعار

چھوڑ انگریزی طریقے اور فیشن چھوڑ دے
بھائی کے لے سنتوں سے خوب رشتہ استوار

عرصہء محشر میں آقا لاج رکھنا آپ ہی
دامنِ عطار ہے سرکار ! بیحد داغدار

دے شرف عطار کو ہر سال حج کا یا خدا
اور دکھا ہر سال اسے میٹھے مدینے کا دیار