روسیاہوں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار

روسیاہوں پر کرم اے دو جہاں کے تاجدار
اپنے گم میں اپنی الفت میں رلاؤ زارا زا
ر
صدقے جاؤں مجھ سے عاصی پر شہہ کون ومکاًں
بے عدد تیری عطائیں رحمتیں ہیں بےشمار

فکر نزع روح وقبر حشر سے بچ جاتا گر
کاش ہوتا آپ کی گلیوں کا میں گردوغبار

آہ! چھایا ہے گناہوں کا اندھیرا چار سو
ہو نگاہ نور مجھ پر یا شہہ عالم مدار

کاش یا وہ کوئی بد اخلاقی وبے جاہنسی
کی مری سب عادتیں چھوٹیں میری پروردگار

مثل بسمل میں تڑپتا رہوں سرکار کاش
آپ کے غم میں میں رہوں آقا (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ دلفگار

گنبد خضرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں مرا
خاتمہ بالخیر ہو اے کاش میرے کردگار

حسن گلشن میں سراسر ہے فریب اے دوستو
دیکھنا ہے حسن تو دیکھو عرب کے ریگزار

آہ بھولا راہ منزل سے بھٹک کر رہ گیا
ساتھ لے لو اے عرب کے مہرباں ناقہ سوار

ہم غریبوں کو مدینے میں بلالو یانبی
واسطہ احمد رضا کا دو جہاں کے تاجدار

گر مقدر میں مرے دوری لکھی ہے یا نبی
کاش فرقت میں تیری روتا رہوں میں زار زار

یانبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے عزیزوں نے مجھے ٹھکرادیا
آکے سینے سے لگالو غمزدوں کے غمگسار

ان کا دیوانہ عمامہ اور زلف و ریش میں
واہ دیکھو تو سہی لگتا ہے کتنا شاندار

کاش خدمت سنتوں کی میں سدا کرتا رہوں
اہلسنت کا سدا بن کے رہوں خدمت گزار

ہیں علی مشکل کشا سایہ کناں سر پر مرے
لافتی الاعلی لاسیف الاذوالفقار

یا شہید کر بلا ہو دور ہر رنج وبلا
اب مدد کر آؤ دشت کر بلا کے شہوار

المدد یا غوث اعظم دستگیر بے کساں
پھنس گئی ہے ناؤ طوفاں میں نگاہ آپ پار

یا معین الدین آؤ اب مدد کے واسطے
ہو کرم بدحال پر اے چشتیوں کے تاجدار

یا امام احمد رضا بہر ضیاء الدین اب
ہو کرم کی اک نظر اے سنیوں کے تاجدار

مصطفٰے والی تیرے عطار ڈر کس بات کا
کار گر ہوگا نہ تجھ پر دشمنوں کا کوئی وار