یا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بلائیے اپنے دیار میں

یا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم بلائیے اپنے دیار میں
پھر آکے کاش! دیکھ لوں مدنی بہار میں

دن رات ہجرصلی اللہ علیہ وسلم یار میں آہیں بھرا کروں
رویا کروں فراق میں زاروقطار میں

ہر دال حاضری ہو مدینے کی خبر سے
ہر سال کاش! آؤں میں تیرے دیار میں

فضل خدا سے مالک کون مکاں ہیں آپ
دونوں جہان آپ کے ہیں اختیار میں

میٹھا مدینہ یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب کو دکھائے
سب کو بلائے شہا! صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دیار میں

دشت حرم پہ واری میں قمری چمن پہ تو
تو پھولے لے طیبہ کا لیتا ہوں خار میں

یارب عزوجل غم حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں رونا نصیب ہو
آنسو نہ رائگاں ہوں غم روزگار میں

زہد و ورع میں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم بیمثال ہو
بے حد گناہ گار میں عصیاں شعار میں

تجھ کو حسن حسین رضی اللہ عنہا کا دیتا ہوں واسطہ
یارب تو مجھ کو موت دیدے کوئے یار میںصلی اللہ علیہ وسلم

افسوس! گھٹی جارہی ہے روز زندگی
پر دباہی جاتا ہوں عصیاں کے یار میں

ٹھکرادیا ہے ہائے! سب احباب نے مجھے
تیرے سوا سناؤں کے حال زار میں

کر مغفرت مری تری رحمت کے سامنے
میرے گناہ یا خدا عزوجل ہیں کس شمار میں

سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سنتوں کا مبلغ بنائے
کرتا رہوں بیاں سدا اشکبار میں

وہ دین حق کے واسطے لطائف میں زخم کھائیں
افسوس ہم پھنسے ہیں بس کاروبار میں

تبلیغ دین کیلئے درد پھروں اے کاش!
طالب ہوں ایسے والوے کا کردگار عزوجل میں

عطار نابکار کا ایمان یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم
محفوظ رکھنا آپ کے ہے اختیار میں