دل کو سکون چمن میں ہے نہ لالہ زار میں

دل کو سکون چمن میں ہے نہ لالہ زار میں
سوزو گداز ہے فقط ان کے دیار میں

یارب ترقی دے نہ دے تو کاروبار میں
روتا رہوں غم نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں زاروزار میں

سوز بلال دو مجھے سوز بلال دو
دے سکتے ہو تمہارے تو ہے اختیار میں

ہر سال یالٰہی مجھے حج نصیب ہو
جب تک جیوں میں عالم ناپائیدار میں

چند روز پہلے تو میں مدینے میں تھا آب آہ
آکر وطن میں پھنس گیا پھر کاروبار میں

کہنا نہ حج مبارک اے اہل وطن مجھے
ہائے فراق طیبہ سے ہوں دلفگار میں

داغ مفارقت تو ملا کاش اب ایسا ہو
رویا کروں فراق میں زار و قطار میں

نامے میں نیکیوں کا نشاں دور تک نہ تھا
لے کر گیا تھا در پہ بس اشکوں کا بار میں

خوشیاں نہ دو نہ دو مجھے دنیا کی راحتیں
غم میں تمہارے کاش رہوں بےقرار میں

جوں ہی مجھے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوہ نصیب ہو
کاش اپنی جان قدموں پہ کروں نثار میں

فیشن کو چھوڑو بھائیو! اپناؤ سنتیں
کب تک رہو گے عالم ناپائیدار میں

کرتے رہو یہ دل سے دعا میرے بھائیو!
عطار کو دے موت خدا کوئے یار صلی اللہ علیہ وسلم میں