میں مدینہ چھوڑ آیا

آہ شاہِ بحروبر ! میں مدینہ چھوڑ آیا
کوہِ غم پڑا سر پر، میں مدینہ چھوڑ آیا

آہ ! مسجدِ نبوی، ہائے گنبدِ خضراء
آہ روضہء انور، میں مدینہ چھوڑ آیا

غم کے چھا گئے بادل، دل میں مچ گئی ہل چل
آہ ! اے میرے یاور میں مدینہ چھوڑ آیا

جب چلا تھا طیبہ کو، تھی خوشی میرے دل کو
آہ ! اب ہے دل مضطر ! میں مدینہ چھوڑ آیا

دل میں بیقراری ہے اور گریہ طاری ہے
آنکھ ہو گئی ہے تر، میں مدینہ چھوڑ آیا

چھپ گیا نگاہوں سے، آہ ! سب مدینے کا
ہائے وہ حسین منظر، میں مدینہ چھوڑ آیا

قلب پارہ پارہ ہے، ہجر شہ نے مارا ہے
آہ ! میرے چارہ گر ! میں مدینہ چھوڑ آیا

اب غمِ مدینہ سے، چاک چاک سینہ ہے
کیوں کہوں نہ رو رو کر، میں مدینہ چھوڑ آیا

لطف جو ہے طیبہ میں وہ کہاں وطن میں ہے
کیا کروں گا جاکر گھر، میں مدینہ چھوڑ آیا

لوٹ کر نہ میں آتا، کاش ! جان دے دیتا
گر کے خاکِ طیبہ پر، میں مدینہ چھوڑ آیا

آہ ! دن مدینے کے، جلد جلد گزرے تھے
ہائے جلد چھوٹا در، میں مدینہ چھوڑ آیا

دن کو بھی سرور آتا، شب کو بھی ضرور آتا
کیا فضا تھی کیف آور، میں مدینہ چھوڑ آیا

تھا وہاں سماں نوری، رنج و غم سے تھی دوری
آہ ! نور کے پیکر ! میں مدینہ چھوڑ آیا

وقتِ ہجر جب آیا، پھوٹ پھوٹ کر رویا
دردناک تھا منظر، میں مدینہ چھوڑ آیا

تیرا غم ہے اور میرے دل کا آبگینہ ہے
رکھ کے قلب پر پتھر، میں مدینہ چھوڑ آیا

ہجر کے میں صدمقں سے، چور چور زخموں سے
چل رہا تھا رو رو کر، میں مدینہ چھوڑ آیا

جب مدینہ چھوٹا تھا غم کا کوہ ٹوٹا تھا
جان و دل لئے مضطر میں مدینہ چھوڑ آیا

سبز گنبد و مینار، آہ ! چھٹ گئے سرکار
چین آئے گا کیونکر، میں مدینہ چھوڑ آیا

میں غمِ مدینہ میں، فُرقت مدینہ میں
ہر گھڑی رہوں مضطر، میں مدینہ چھوڑ آیا

آہ ! میرے ہمدم ! دور کر دو سارے غم
دے دو اپنا غم سرور ! میں مدینہ چھوڑ آیا

دل میں ہے پریشانی، ہو کرم شہ عالی
آؤ خواب میں دلبر ! میں مدینہ چھوڑ آیا

دل کی ہے عجب حالت، کاش ! یہ غمِ فرقت
کم نہ ہو کبھی سرور ! میں مدینہ چھوڑ آیا

چل دیا سفینہ ہے چھُٹ گیا مدینہ ہے
ہائے ! کیا کروں سرور میں مدینہ چھوڑ آیا

غم کی ہو گیا تصوی، آہ ! ہجر ہے تقدیر
چپ ہوا ہوں رو رو کر ! میں مدینہ چھوڑ آیا

دور ہو گیا سرکار ! آہ ! غمزدہ عطار
جلد آؤں گا پھر در پر، میں مدینہ چھوڑ آی