Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Page 2 of 3 FirstFirst 123 LastLast
Results 11 to 20 of 24
  1. #11
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    نویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

    آج کی نویں تراویح میں کی گئی تلاوت گیارھویں پارے کی ابتداء سے لے کر بارھویں پارے کے ربع اول تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں ایسے منافقین کا ذکر کیا گیا ہے جو زکوۃ کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں، اسلام قبول کرنے میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے، مہاجرین اور انصار اور وہ لوگ جو نیک نیتی کے ساتھ ان کی پیروی کرتے ہیں وہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کو اپنی رضا مندی کا مژدہ سنایا ہے، فرمایا اے محبوب : ان سے زکوۃ وصول کرو یہ صدقہ انہیں ستھرا اور پاکیزہ کر دے گا، اور آپ ان کیلئے دعاءِ خیر فرمائیں کہ آپ کا ان کے لئے دعا کرنا ان کے دلوں کے چین کا باعث ہے، مسجد کی بنیاد مسلمانوں کو نقصان اور ان کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ اس کی بنیاد تقوی اور خوفِ خدا پیدا کرنے کے طور پر ہو۔ اور مشرکین کے لئے دعا کرنا جائز نہیں اگرچہ وہ اپنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں، مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونے چاہیے جو دین کا کافی علم حاصل کریں اور تکمیلِ حصولِ علم کے بعد اپنی قوم کو ڈر سنائیں ، سورج و چاند اور دن اور رات کے بدلنے میں اللہ کی بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں اور وہ لوگ جو آخرت اور قیامت اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں رکھتے، اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے ہیں، اس پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں اور اللہ آیات سے غافل ہیں، ان کے کفر کے سبب ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اللہ نے انسانوں کی فطرت بیان کی کہ جب اسے کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے تو اٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں اللہ کو پکارتا ہے اور جب اللہ اس کی پریشانیوں کو دور کر دیتا ہے تو ایسا ہو جاتا ہے گویا کہ کسی تکلیف پر اللہ کو پکارا ہی نہ تھا، جو لگ نیکی کرنے والے ہیں ان کی بھلائی میں اضافہ ہوگا، ان کے منہ پر نہ تو سیاہی چڑھے گی اور نہ ہی خواری۔ لیکن جنہوں نے برائی ہی کمائی، انہیں ان کی برائی کا بدلہ بھی ملے گا اور ان کے منہ پر سیاہی و خواری بھی چڑھے گی، انہیں عذاب الہی سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھادیئے جائیں گے، جب کسی کا آخری وقت آجائے تو اب اس میںکوئی کمی پیشی یا تاخیر نہیں ہوسکتی، ہرجان اپنے وقت پر مرے گی نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ اللہ نے زمین آسمان کو چھ دنوں میں تخلیق کیا۔ جو اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ نوح کی کشتی اور اس میں سوار ہونے والے کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے دنیا کی خاطر آخرت برباد کرنے والے تباہ و برباد ہیں۔

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #12
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default


    دسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    دسویں تراویح بارھویں پارے کے ربع اول سے لے کر کر تیرھویں پارے کے نصف کی تلاوت پر مشتمل ہے، آج کی تلاوت میں اللہ نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے ہیں یہ نہ تو دنیا میں ان کے کام آتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کام آئیں گے۔ اللہ تعالی جب کسی ظالم بستی والوں کی پکڑ فرماتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے، قیامت میں بعض شقی و بدبخت ہوں گے اور بعض سعید و خوش قسمت، بدبخت جہنم میں رہیں گے جب تک اللہ چاہے گا، جب کہ سعادت مند ہمیشہ ہمیشہ کی جنتوں میں ہوں گے۔ جو لوگ کفر و شرک اور ظلم کرنے والے ہیں ان کی طرف قلبی میلان ممنوع ہے۔ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس کے بعد سورہ یوسف ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے، آپ نے بچپن میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، آپ علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ خواب سنایا، اس پرانہوں نے آپ کو اسے اپنے بھائیوں کو سنانے سے منع کردیا، حضرت یعقوب علیہ السلام آپ سے اپنی سب اولاد سے زیادہ محبت کرتے تھے، اسی بناء پر آپ کے بھائیوں نے آپ سے حسد کی وجہ سے آپ کو پہلے تو کنویں میں پھینک دیا اور پھر راہ گیروں کے ہاتھ اُونے پونے داموں میں بیچ دیا، بعد میں آپ بکتے بکتے مصر کے بادشاہ کے ناحق غلام بنالئے گئے، عزیزِ مصر کی بیوی زلیخا نامی عورت آپ پر عاشق ہو گئی اور اس نے آپ کو بہکانے کی پوری کوشش کی، لیکن اللہ نے آپ کو بچا لیا، بعد ازاں آپ کو ناحق قید میں ڈال دیا گیا، دو سرکاری ملازموں نے آپ سے اپنے اپنے خوابوں کی تعبیر معلوم کی آپ نے ارشاد فرما دی ، اس کے بعد بادشاہ نے بھی ایک خواب دیکھا آپ نے اس کی بھی تعبیر بتائی، بادشاہ نے آپ کو قابل جان کر حکومت آپ کو سونپ دی، بعد میں اللہ نے آپ کو آپ کے والد اور سگے بھائی سے ملا دیا، وہ سوتیلے بھائی جنہوں نے آپ کو دھوکے سے بیچ دیا تھا، آپ نے ان کو معاف فرما دیا۔ اور پھر آپ کے والدین اور سب بھائیوں نے آپ کو تعظیماً سجدہ کیا، اور یوں وہ بچپن والا خواب پورا ہو گیا۔ یہاں یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ پچھلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا لیکن اُمت محمدیہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کو تعطیماً سجدہ کریں، چاہے وہ کوئی پیر ہو یا کوئی مزار۔ اس سورہ کے بعد سورہ رعد ہے جس میں فرمایا کہ اللہ نے سورج چاند کو مسخر فرمایا ہے، یہ ایک مقرر اندازے کے تحت اپنے اپنے مدار میں گھومتے ہيں۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  3. #13
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    گیارھویں تراویح میں پڑھے جانےوالے قرآن کا خلاصہ

    گیارھویں تراویح تیرھویں پارے کے نصف سے لے کر چودھویں پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے، آج کی تلاوت میں اللہ نے ارشاد فرمایا، اللہ کا عہد پورا کرنے والے، کسی کے ساتھ وعدہ کرکے نہ پھرنے والے، رشتہ داری جوڑے رکھنے والے، اپنے رب سے ڈرنے والے، بروزِ قیامت حساب کتاب کے برا ہونے سے ڈرنے والے، اللہ کی رضا کےلئے صبر کرنے والے، نماز قائم رکھنے والے، اللہ کے دیئے میں سے اسی کی راہ میں اعلانیہ و چھپ کر خرچ کرنے والے اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دینے والے، ان سب کے لئے جنت کے انعامات ہوں گے اور اللہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ اللہ ہی کی یاد ميں دلوں کا چین ہے۔ اُن کافروں کے لئے تباہی و بربادی اور سخت عذابِ شدید ہے جو آخرت پر دنیا کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس ميں کَجی چاہتے ہیں وہ بہت ہی بڑی گمراہی میں ہیں۔ ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ فقط اللہ ہی پر توکل کریں، یعنی اسباب صالحہ اختیار کر کے ان کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں نہ کہ اسباب ہی کو ترک کر دیں کہ اسباب کو چھوڑ دینا توکل نہیں ہے، جب جہنمی جہنم میں شیطان کو اس بات پر ملامت کریں گے کہ مردود: تیری وجہ سے ہمیں جہنم میں آنا پڑا، تو مردود شیطان ان سے کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا جبکہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔ میں تم سے زبردستی گناہ نہيں کروائے تھے مگر یہی کہ تمہیں بری راہ دکھائی اور تم اس راہ کو خود اختیار کیا، لہذا اب مجھے کوئی الزام نہ دو بلکہ خود کو ہی ملامت کرو۔ فرمایا: اے محبوب : فرمادو کہ موت سے پہلے پہلے اپنی آخرت کے لئے خرچ کر لو۔ قرآن کو ہم نے ہی نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہم ہی کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چل سکتا، اللہ تعالی جس چیز کا ارادہ فرمالے اس کے بارے میں کُن ہوجا کہنا ہی کافی ہوتا ہے اور وہ چیز وجود پذیر ہوجاتی ہے۔ اللہ نے ہر قوم ميں کوئی نبی و رسول بھیجا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے باز رھو۔ زمین و آسمان کی ہر شے اور ملائکہ جو اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہتے ہیں اور اس کی عبادت سے غرور نہیں کرتے ۔ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کا حال بہت برا ہوگا۔ قیامت اچانک آئے گی۔ کفار کا طرزِ عمل یہ تھا کہ جب انہیں بیٹی کی پیدائش کی خبر سنائی جاتی تو دن بھر ان کا منہ لٹکا رہتا تھا، آج یہ خصلتِ بد مسلمانوں میں بھی پائی جارہی ہے اللہ مسلمانوں کو اس بری خصلت سے محفوظ فرمائے، آمین
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  4. #14
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    بارھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

    بارھویں تراویح چودھویں پارے کے ثلث سے لے کر پندرھویں پارے کے آخر تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ جب بھی قرآن مجید پڑھا جائے تو اعوذ باللہ پڑھ لینا چاہیے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ انصاف اور نیکی کرو، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو، بے حیائی کے کاموں ، بری بات اور سرکشی سے بچ کر رہو۔ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب خرچ ہو کر ختم ہوجائےگا اور جو اللہ کے ہاں پہنچ گیا )یعنی صدقہ و خیرات( وہ ہمیشہ باقی رہنے والا، وہ دن آنے والا ہے جب سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی اور اللہ ہر جان کو اس کا پورا پورا بدلہ دے گا، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اللہ و رسول کا کام ہے کسی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ از خود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے۔ اللہ نے اپنے محبوب کو معراج کی نعمت سے سرفراز فرمایا، اعلان نبوت کے دسویں اور ہجرت سے ایک سال قبل، زیادہ صحیح قول کے مطابق رجب المرجب کی ۲۷تاریخ کو پیر کی شب میں اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج عطا فرمائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفرِ معراج حرمِ مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے ساتوں آسمانوں پر مختلف انبیاءکرام علیہم السلام سے ملتے ملاتے سدرۃ المنتہی، وہاں سے مقامِ لامکاں اور پھر دیدارِ الہی پر اختتام پذیر ہوا۔ اس سفر میں آپ نے جنت اور اس کے انعامات اور جہنم اور اس کے عذابات کا مشاہدہ بھی کیا۔ اسی سفر میں اللہ تعالی نے آپ کو نمازوں کا تحفہ دیا نمازیں پانچ لیکن ثواب پچاس کا ملتا ہے۔ بروزِ قیامت ہر ایک کو اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا جس کو خود ہی پڑھنا ہو گا۔ اس وقت کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ ہر ایک کو اپنے اعمال اور ذمہ داریوں کا خود جواب دہ ہونا پڑے گا۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو ان میں سے اگر کوئی بوڑھا ہوجائے تو اسے اُف بھی نہ کرنا بلکہ ان کی خدمت کرنا، کبھی انہیں جھڑکنا نہیں بلکہ ان سے اچھے انداز میں بات کرو، اور یہ دعا کرو کہ اے اللہ؛ ان پر اس طرح رحم کر جس طرح یہ میرے بچپن میں مجھ پر شفقت کیا کرتے تھے۔ اپنی اولاد کو رزق کے اندیشہ کی وجہ سے قتل نہ کرو کہ ہم تمہیں بھی رزق دیں گے اور ان کے حصے کا رزق بھی دیں گے۔ جب بھی خرچ کرو میانہ روی کے ساتھ خرچ کرو، زنا اور اسے کے اسباب کے قریب بھی نہ بھٹکو بے شک زِنا بہت بڑی بے حیائی ہے ۔ اکڑ کر نہ چلو، انسان بڑا ناشکرا، جھگڑالو اور جلد باز ہے۔ قیامت میں ہر ایک کو اس کے قائد و رہنما کے جھنڈے تلے بلایا جائے گا۔ لہذا اپنا پیر کسی صالح کو بنانا چاہیے۔ a
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  5. #15
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    تیرھویں تراویح میں پڑھے جانے قرآن کا خلاصہ

    آج کی تراویح میں کی گئی تلاوت سولہویں پارے سے شروع ہو کر سترھویں پارے کے ربع تک ہے۔ حضرت موسی اور حضرت علیہ السلام خضر علیہماالسلام کی باہمی ملاقات ذکر کی گئی ہے، حضرت خضر نے اچھی بھلی کشتی کو ناکارہ کردیا، ایک نابالغ لڑکے کو قتل کر دیا، اور بدخلق لوگوں کی گرتی دیوار کو سہارے سے کھڑا کر دیا، حضرت موسی کے اعتراض کرنے پر آپ نے اپنے کاموں کی حکمتیں بیان کئیں، حضرت ذوالقرنین کے سفر دنیا اور یاجوج ماجوج کی سرکشی کا بھی ذکر ہے، آپ نے ان کی سرکشی کی بنا پر انہیں لوہے اور تانبے کی دیوار کھڑی کرکے ایک جگہ بند کر دیا اب یہ قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے، اس کے بعد سورہ مریم ہے یہ وہ واحد سورہ ہے جو کسی عورت کے نام پر قرآن میں ہے۔ حضرت مریم کے واقعات اور حضرت عیسی علیہ السلام کے بطور معجزہ بغیر باپ کے پیدا ہونے کا ذکر ہے، لوگوں نے حضرت مریم پر طعن کیا تو اس کا جواب حضرت عیسی نے پالنے میں ہی دیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اوار مجھے غیب کی خبریں دینے والا اور میں جہاں رہوں برکت والا کیا، مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک زندہ رہوں مجھے اپنی ماں سے اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی اس نے مجھے زبردست، بدبخت نہیں کیا اور وہی سلامتی مجھ پر ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن می دنیا سے اور جس دن میں اُٹھایا جائوں۔ عیسائیوں نے آپ کو اللہ کا بیٹا کہا ، اس پر اللہ نے فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ اس سے پاک ہے، اس کے بعد متعدد انبیاٗ کرام علیہم السلام اور ان کے احوال کا تذکرہ ہے۔ جو لوگ ہداہت پر ہیں اللہ ان کی ہدایت میں مزید برکت عطا فرمائے گا اور باقی رہنے والی نیکیاں اللہ کے پاس ہیں۔ متقی لوگوں کو بروز قیامت مہمان بنا کر اللہ کی بارگاہ میں لے جایا جائے گا جبکہ کفار و مشرکین کو جہنم کی جانب بھوکے پیاسے ہانکا جائے گا۔ جو لوگ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اللہ ان کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا فرمائے گا۔ اللہ نے حضرت موسٰٰی کو یدبیضاٗ اور عصا کا معجزہ عطا فرمایا، اللہ نے بنی اسرائیل پر جو احسان کئے وہ انہیں گنائے کہ ان احسانات کی وجہ سے بھی تہمیں میری عبادت کرنی چاہئے۔ اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کرنے کا حکم ہے لوگوں کا حساب قریب ہے جبکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہرجان کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ بت کسی بات کا فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ بروز قیامت ہر ہر عمل کا حساب ہونا چاہیے وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  6. #16
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    چودھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

    آج کی تراویح سترھویں پارے کے ربع سے اٹھارھویں پارے کے نصف تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں اللہ عزوجل میں متعدد انبیاٗ کرام کا تذکرہ فرمایا، حضور علیہ السلام کے لئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ فرمایااگر مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنے کا انکار کرتے ہو تو اس بات پر غور کرو کہ اللہ نے تمہیں پانی کی ایک بوند سے پیدا فرمایا، تو دوبارہ زندہ کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ لوگوں پر جو بھی عذاب نازل ہوگا وہ ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کے سبب ہوگا اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ نیک لوگوں کو جنت میں سونے اور موتی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کی پوشاک ریشم کی ہوگی۔ اس کے بعد اللہ نے حج کے متعدد احکام بیان کئے ہیں اور حج کی قربانیوں کو اپنی نشانیاں قرار دیا ہے۔ جو لوگ قربانی کرتے ہیں اللہ کے پاس ان کا گوشت نہں بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ جو اللہ کے دین کی مدد فرمائے گا اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ حق دیکھنے سمجھنے سے دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں، جب کفار کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کےچہروں سے بگڑنے کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں، اللہ نے لوگوں کو سمجھانے کےلیے متعدد کہاوتیں بھی بیان کی ہیں تاکہ لوگ آسانی سے اللہ کے کلام کو سمجھ جائیں، اللہ کی راہ میں ایسا جہاد کرنے کا حق ہے یعنی اعلاِٗ کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کرنا چاہئے نہ کہ اپنی بہادری و شجاعت کے لئے۔ وہ لوگ جو ایمان والے ہو کر خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے، زکوٰۃ کو ادا کرتے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، لوگوں کی امانتوں کا خیال رکھتے ہیں نمازوں پر محافظت اختیار کرتے ہیں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں، یہ لوگ جنت الفردوس کے وارث ہوں گے۔ سورہ نور میں بعض معاشرتی احکامات بیان کئے گئے، کسی پر زنا کا الزام لگانے والے پر چار عینی گواہ پیش کرنا ضروری ہے، وگرنہ زنا کا بہتان لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں گے، زنا کار اگر غیر شادی شدہ ہوں تو سو کوڑے مارے جائیں، شوہر نے اگر بیوی کو زنا کرتے دیکھا اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ چار مرتبہ اللہ کی شہادت کے ساتھ گواہی دے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت، عورت اگر اس بات کی انکاری ہو تو اسے بھی ایسا ہی کرنا ہوگا، پرائے گھر میں تاک جھانک ممنوع ہے۔

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  7. #17
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    پندرھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ

    آج کی تراویح اٹھارھویں پارے کے نصف سے لے کر انیسویں پارے کے ثلث تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ منافقین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر معاذ اللہ زنا کی تہمت لگائی، اللہ نے حضرت عائشہ کی براٗت میں سورہ نور میں دس آیتیں نازل فرمائیں اور منافقین کے پروپیگنڈہ کی تردید فرمائی اور آپ کی شان میں بکواس کرنے والوں کی مذمت فرمائی۔ اور یہ تنبیہ فرمائی کہ اگر تم مومن ہو تو آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا، اب جو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں زنا کی بکواس کرے تو علماٗ اسے کافر قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ بوڑھی عورتوں کو چہرے پر نقاب ڈالنا ضروری نہیں رہتا لیکن پھر بھی انہیں چاہیے کہ پردہ کیے رہیں۔ جو قیامت کو جھٹلائے اس کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ کفار کو ان کےکسی عمل کا آخرت میں بدلہ نہیں ملے گا بلکہ ان کے اعمال کو غبار کی طرح بکھرا ہوا کردیا جائے گا۔ قیامت کا دن کفروں پر سخت ہوگا اور اس دن کافر اپنے ہاتھ چبا چبا کر کہیں گے کہ ہائے ! کسی طرح ہم نے رسول کی بات کو مان لیا ہوتا اور اے کاش ! میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا کہ اس نے مجھے راہِ حق دیکھنے کے باوجود اس سے بہکادیا۔ فرمایا کافروں کی اطاعت ہرگز نہ کرو اور ان سے اس قرآن کے ذریعے جہاد کرو۔ ایمان والوں کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ زمین پر چلتے ہوئے آہستگی اختیار کرتے ہیں اور اگر جاہل ان سے بلاوجہ جھگڑا کرنا چاہیں تو انہیں دور ہی سے سلام متارکت کر کے اپنی راہ لیتے ہیں اور ان سے بحث کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ میانہ روی اللہ کو پسند ہے جب بھی کہی خرچ کرے تو اس کا خیال رہے کہ نہ حس سے آگے بڑھیں اور نہ ہی خرچ کرنے کے مقام پر کنجوسی کریں۔ صالحین اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں دعا مانگتے ہیں ’’ ربنا ھب لنا من ازوجنا و ذریتنا و قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما ‘‘ یعنی اے اللہ ! ہمیں ہماری ازواج اور اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے فضائل و کمالات بیان کیے گئے ہیں۔ اور دریائے نیل میں سے آپ اور آپ کی امت کے بخیر و عافیت گزر جانے کا ذکر ہے۔ انبیاٗ کرام اپنے فرائض منصبی کی اجرت بندوں سے نہیں مانگتے تھے بلکہ فرماتے کہ ہمارا اجر اللہ پر ہے انبیاٗ کرام کو اپنے جیسا بشرِ محض کہنا کفار کی عادات میں سے ہے۔ فرمایا ناپ تول میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد بھی ہرگز نہ پھیلائوں کہ پچھلی قومیں اس وجہ سے ہلاک کر دی گئیں۔ اللہ ہر معاملے کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  8. #18
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    سولہویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج کی تراویح اُنیسویں پارے کے ثلث سے لے کر بیسویں پارے کے آخر تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تراویح سورہ نمل سے شروع ہو رہی ہے جس میں اللہ عزوجل نے قدرے تفصیل کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو جانوروں کی بولیاں سکھادی تھیں اور آپ کو جن و انس پر قابو دیا، اللہ ہی ہے جو لاچار آدمی کی پکار سنتا ہے جب کہ وہ اس کو پکارے۔ کفار اپنا سا مکر کرتے ہیں لیکن اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہے اور کفار اس کی خفیہ تدبیر سے غافل رہتے اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جو کوئی نیکی کے گا اللہ اسے اچھا بدلہ عطا فرمائے گا، اور یہ لوگ قیامت کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔ جبکہ گناہوں کے عادی اُوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے، اللہ تعالٰٰی کسی کے اعمال سے غافل نہیں ہے وہ سب کچھ ملاحظہ فرما رہا ہے۔ اس کے بعد سورہ قصص ہے جس میں حضرت موسٰٰی کے فرعون کے ہاں پرورش پانے کا ذکر فرمایا ہے نیز فرعون کی ہلاکت اور قارون اور اس کے خزانوں کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر کیا، قارون نے حضرت موسٰٰی پر زِنا کی تہمت ِ شنیع لگائی اور مال کی محبت میں زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جو ایمان لانے کے بعد ہوجانے والے گناہوں پر توبہ کرے اور اعمال صالحہ کرے تو فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ رزق کی تقسیم اللہ کے دستِ قدرت میں ہے، جس پر چاہے آسانی فرمائے اور جس پر چاہے تنگی کر دے۔ فرمایا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے جبکہ اگلوں کی بھی آزمائش ہوئی اور ان کی بھی آزمائش ہوگی۔ جو اللہ کی راہ میں کوشش کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اللہ تمام عالمین سے مستغنی ہے ۔ اللہ نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر والدین خلافِ شریعت کا حکم دیں تو پھر ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ نوح علیہ السلام ۹۵۰ سال تک اپنی قوم کو سمجھاتے رہے لیکن وہ ازلی شقی آپ کی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہے اور اللہ کے بھیجے ہوئے طوفان نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ اللہ ہمارا مالک و مولٰٰی ہے وہ جسے چاہے جنت میں داخل فرمائے اور جسے چاہے جہنم میں داخل فرمائے، کوئی اس سے حساب نہیں لے سکتا اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔۔ کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم بھی ہمارے راستے پر چلو ہم تمہارے گناہ اُٹھا لیں گے حالانکہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی۔ رزق کی فراوانی کیلئے اللہ کی عبادت اور اس کا شکر ادا کریں۔

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  9. #19
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    سترھویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج سے پہلے بیس تراویح میں روزانہ سوا پارے کی تلاوت تھی جبکہ آج سے پچیسویں تراویح تک روزانہ ایک پارے کی تلاوت کی جائے گی۔ آج کی تلاوت اکیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے، معلوم ہوا جو لوگ نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں پر قائم رہتے ہیں وہ لوگ اس طرح نماز نہیں پڑھ رہے جیسا کہ نماز پڑھنے کا حق ہے، انہیں نماز کی ظاہری و باطنی شرائط کی بجا آوری ضروری ہے۔ اہل کتاب سے جب بھی بحث و مباحثۃ ہوتو علمی انداز میں احسن طریقے پر کرنا چاہئے زمین پرچلنے والے کتنے ہی جاندار ایسے ہیں کہ اپنی روزی اپنے ساتھ نہیں رکھتے لیکن اللہ تعالٰٰی انہیں ان کی روزی پہنچاتا ہے، دنیا کی زندگی لہو و لعب ہے، جو لوگ ہمارے راستے کی کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ضرور ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ اللہ کسی ذات پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتےہیں۔ اللہ تعالٰٰی زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ پن کے بعد زندہ کرتا ہے یعنی قابلِ کاشت بنادیتا ہے اسی طرح ہم بھی ایک دن مرنے کے بعد زندہ کیے جائیں گے۔ اللہ کا انسانوں کو مٹی سے پیدا کرنا، پھر ان کا زمین میںپھیل جانا، اور انسانوں کے جوڑے بنانا جن کے مابین اللہ نے ایک محبت اور رحمت رکھی، آسمانوں اور زمین کی پیدائش زبانوں اور رنگوں کا اختلاف، رات اور دن میں ہمارا سونا اور پھر جاگ جانا، آسمان سے نازل ہونے والی نعمتیں؛ یہ سب اللہ کی نشانیاں ہیں اور اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت و عبرت ہے۔ جولوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور اس کے ساتھ ساتھ مسافروں کی امداد کریں، خشکی و تری میں جو کچھ فساد ہے یہ لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی بناٗ پر ہے۔ جو لوگ سود کا لین دین کرتے ہیں اس میں برکت نہیں ہوسکتی برات تو اس مال میں ہوتی ہے جس کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی کہ اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اللہ نے انسانوں کو اس بات کی تاکید فرمائی کہ وہ اپنے والدین کی خدمت گزاری کرتا رہے کہ اس کی ماں نے اسے نوماہ اپنے پیٹ میں رکھنے کی مشقت برادشت کی، اس کی ولادت کی تکلیف اور پھر دو سال تک اپنا دودھ پلایا، یہ سب باتیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ انسان اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرے اور اللہ نے اپنے حق کے ساتھ والدین کے حق کو بیان کیا۔ اترا کر چلنا اللہ کو ناپسند ہے ، اسی طرح ہمیشہ چیخ کر بات کرنا بھی اللہ کو ناپسند ہے۔ اللہ کے بتائے بغیر کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کرے گی اور اس کی موت کہاں واقع ہوگی؟

    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  10. #20
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    اٹھارہویں تراویح میں پڑھے جانے والے کلام کا خلاصہ
    آج کی تراویح بائیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے، اللہ نے حضور کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، یعنی تمہارا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ایمان والی عورتوں کو حکم ہے کہ وہ حتی الامکان اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں، جاہلیت کے طور طریقوں پر اپنی زیب و زینت کو غیر مردوں پر ظاہر نہ کریں، نماز پڑھتی رہیں، زکوٰۃ ادا کرتی رہیں اور اللہ و رسول کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرتی رہیں۔ اور مسلمان مرد و عورت میں سے فرماں بردار ، سچے، صبر کرنے والے، عاجزی کرنے والے، خیرات کرنے والے، روزے رکھنے والے، بدکاری سے بچنے والے، اللہ کا ذکر کرنے والے؛ یہ سب ایسے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا: لوگ اپنے جیسے انسانوں سے کتنا خوف رکھتے ہیں حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ فرمایا؛ اے غیب بتانے والے نبی ! ہم نے آپ کو حاظر و ناظر اور خوشخبری سنانے والا، ڈر سنانے والا، اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور چمکادینے والا آفتاب بنا کر بھیجا ہے۔ اگر کوئی شخص عورتوں سے نکاح کرنے کے بعد خلوتِ صحیحہ کے بغیر انہیں طلاق دے دے تو ان عورتوں پر عدت واجب نہیں ہے ایسی صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان کا مہر مقرر ہوچکا تھا تو خلوتِ صحیحہ سے پہلے سے پہلے طلاق دینے سے شوہر پر نصف مہر واجب ہوگا اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں۔ فرمایا بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اس غیب بتانے والے نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں، تو اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ یادرکھیں کہ اللہ کا درود حضور پر رحمت نازل فرمانا ہے جبکہ ہمارا اور فرشتوں کا درود حضور کے لئے رحمتوں کے نزول کی دعا کرنا ہے جو لوگ اللہ و رسول کو ایذاٗ دیتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت اور ان کے لئے اللہ نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ کفار کے منہ اُلٹ اُلٹ کر آت میں تلے جائینگے اور وہ کہیں گے اے کاش! ہم نے اللہ و رسول کا کہامانا ہوتا۔ جس نے اللہ و رسول کی اطاعت کی وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگیا۔ جنات کو غیب کا علم نہیں ہے، جو جنات کے لئے یقینی علم غیب کا دعویٰ و اعتقاد رکھے علماٗ نے اس کے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ کوئی شخص مال و اولاد زیادہ ہونے سے اللہ کے قرب کا حق دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے قرب کا حق دار وہ ہے جس نے اس کی رضا کیلئے نیکیاں کی ہیں، اللہ تعالٰٰی انہیں ان کا صلہ دُگنا کر کے عطا فرمائے گا۔ اللہ سے حقیقی ڈر علماٗ کا خاصہ ہے۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •