Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Page 3 of 3 FirstFirst 123
Results 21 to 24 of 24
  1. #21
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    انیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج کی تراویح تئیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے لوگوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا ہے یہ اس کے ساتھ ٹھٹھا مذاق اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ پچھلی کئی امتیں تباہ و برباد کر دی گئیں، یہ لوگ سن لیں ایک دن اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے ۔ اس کے بعد اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ کفار اپنے جھگڑوں میں پڑے ہوں گے کہ اچانک قیامت ایک ہولناک چیخ کے ساتھ آجائے گی۔ نہ تو کئی وصیت کرسکیں گے اور نہ ہی توبہ کی مہلت ملے گی۔ پھر قیامت کا صور پھونکا جائے گا اور کفار اپنی قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑے ہوئے چل پڑیں گے، اور پھر ہائے ہماری خرابی پکارتے ہوں گے۔ لیکن اس وقت کا پچھتاوا کچھ کام نہ آئے گا، کافروں کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور وہ کچھ بول نہ سکیں گے بلکہ ان کے ہاتھ اور ٹانگیں ان کے کارناموں کو بیان کریں گے۔ اس دن کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گاہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ پورا پورا ملے گا، ابھی وقت ہے ہمیں چاہئے کہ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیں۔ جنتی مردوں کو ایسی بیویاں اور حوریں ملیں گی جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتیں۔ معلوم ہوا عورتوں کو اپنے شوہر کے علاوہ کسی غیر مرد کی طرف التفات نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے اس خواب کا تذکرہ ہے جس میں آپ نے اپنے کو حضرت اسماعیل کو ذبح کرتے ہوئے دیکھا تھا، یاد رہے کہ انبیاٗ کرام کا خواب بھی وحی الہی کے حکم میں ہوتا ہے۔ آپ نے یہ خواب حضرت اسماعیل سے بیان کیا، انہوں نے سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خواب پر عمل کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا، اور پھر آسمان نے وہ منظر دیکھا جو اس سے پہلے اور بعد میں کبھی نہ دیکھا کہ ایک باپ اپنے اُس بیٹے کو اللہ کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے خود ذبح کرنے جارہا ہے جو کتنی آرزئوں کے بعد پیدا ہوا تھا اللہ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل کو اپنے امتحان میں کامیاب پا کر جنت کا ایک مینڈھا بھیج کر حضرت اسماعیل کو ذبح ہونے سے محفوظ رکھا اور انہیں کی اس ادا کو اسلام میں باقی رکھا گیا ہے جس کے مظاہر ہر سال بقر عید میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کا ذکر ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک میں کیڑے پڑ گئے تھے لیکن یہ درست نہیں اس لئے کہ انبیاٗ علیہم السلام اس سے محفوظ ہیں۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  2. #22
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    بیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج کی تراویح چوبیسیوں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تلاوت میں اللہ فرماتا ہے اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوں جو حق کو جھٹلائے اور ان کی بھی تکذیب کرے جو اس کے پاس حق کو لے کر آئے لیکن اللہ تعالی اپنے بندوں کو کافی ہے۔ اللہ نے لوگوں پر ایک واضح اور روشن کتاب حق کے ساتھ نازل کر دی ہے، اب جس نے ہدایت کی پیروی کی اس نے اپنے فائدے ہی کو کی اور جس نے انکار کیا اس نے اپنا ہی نقصان کیا۔ لوگوں کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ انہیں نعمت سے نواز دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے علم کی بنیاد پر ہمیں ملی ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ اس سے غافل ہیں۔ اللہ فرماتا ہے اے میرے وہ بندو! جنہوں نے شامتِ نفس سے گناہ کر کے اپنی جانوں پر زیادتی کہ ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اللہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما سکتا ہے بے شک وہ غفور و رحیم ہے تم اللہ کی طرف رجوع رکھو اور اس کے احکامات پر سر تسلیم خم کرتے رہو۔ ہر جان نے جو کچھ کیا ہوگا اس کے حساب سے اسے پورا پورا بدلہ ملے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہو گا۔ وہ فرشتے جنہوں نے اللہ کا عرش اٹھایا ہوا ہے وہ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں۔ اور ایمان والوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو کسی علم کے بغیر اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں اللہ ان سے سخت بیزار ہے۔ جس طرح اندھے اور آنکھوں والے برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح ایمان والے اور وہ جو ایمان نہ لائے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے کتنے ہی چوپائے انسان کے لئے پیدا فرمائے جن میں سے بعض پر ہم سواری کرتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں اور ان میں اور بھی کئی منافع ہیں۔ فرمایا اے محبوب! اعلان فرما دو کہ آدمی ہونے میں تو میں تم جیسا ہوں لیکن مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک واحد لاشریک ہے تو اس کے حضور سیدھے رہو اور اس سے معافی چاہتے رہا کرو۔ قوم عاد وہ قوم تھی جو ناحق تکبر کرنے کی وجہ سے تباہ و برباد کر دی گئ کیونکہ کبریائی اللہ کو ہی زیب دیتی ہے۔ قوم ثمود کو بھی اللہ نے ہدایت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں کفر کے اندھے پن کو اختیار کیا اور ایک کڑک کے ذریعے ہلاک و برباد کرئیے گئے۔ لوگ چھپ کر گناہ کرنے میں یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے چھپ گئے لیکن اللہ تو ان کو دیکھ ہی رہا ہے۔ آخر اس سے چھپ کر کہاں جائیں گے کہ وہ تو ذرے ذرے سے آگاہ ہے، بلکہ دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  3. #23
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    اکیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج کی تراویح پچیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ آج کی تراویح میں اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کا علم اور ماں کے پیٹ میں کیا ہے اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن یاد رکھئے اللہ جس کو چاہے ان چیزوں کا علم دے سکتا ہے جیسا کے کتب احادیث اور بزرگانِ دین کے حالات میں اس طرح کے واقعات کا ذکر ہے کہ انہوں نے یہ بتادیا کہ حاملہ کے پیٹ میں لڑکی ہے یا لڑکا۔ اللہ نے کائنات اور خود انسان میں اپنی نشانیاں رکھی ہیں جنہیں ملاحظہ کرنے کے بعد انسان کو یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ اس کائنات کا وجود خود سے نہیں ہے بلکہ کسی زبردست حکمت والی ذات کے بنائے سے ہے اور اسی ذات کا نام اللہ ہے۔ اللہ کی کوئی مثل اور مثال نہیں ہو سکتی۔ اللہ چاہتا تو سب کو ایک جیسا ہی بنادیتا لیکن اس نے اپنی حکمتوں کے پیشِ نظر ان میں کئی جہات سے اختلاف رکھا۔ اور اس طرح ان کی آزمائش فرما رہا ہے کہ کون اس کے راستے کی طرف سبقت کرتا ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم اہل کتاب کو احسن انداز میں حق کی طرف بلائیں اور اپنے ایمان میں ثابت قدر رہیں ان کفار کی پیروی نہ کریں، کفار کے اعمال ان کے ساتھ اور ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔ فرمایا جو آخرت کی کھیتی چاہے گا ہم اس کی کھیتی کو بڑھائیں گے یعنی نیکی کرنے کی قوت زیادہ کر دیں گے۔ اور جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے اس میں سے ہم اسے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بنائ پر ہے اور ابھی تو اللہ بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔ جو شخص کسی کے ساتھ جس قدر برائی کرے ، بدلے کے طوراسی قدر اس طرح کا برتائو اس کے ساتھ بھی کیا جاسکتا ہے کہ برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔ لیکن پھر بھی جس نے معاف کیا اور بگڑا ہوا کام سنوارا تو اللہ فرماتا ہے کہ اس کا اجر مجھ پر ہے۔ جو شخص اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لے تو اس پر کچھ مواخذہ نہیں، مواخذہ تو اس پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشتی پھیلاتے ہیں۔ اولاد دینا اللہ کے دستِ قدرت میں ہے جسے چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہے بیٹے یا دونوں ہی دے اور جسے چاہے آزمائش کے طور پربانچھ کردے۔ جو قرآن مجید کی ہدایتوں سے اندھا ہوجائے گا اللہ اس پر شیطان کو مسلط فرمادیتا ہے کہ وہ اس کو مسلسل بہکاتا رہتا ہے۔ جب کافر بروزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش شیطان میرا ساتھی نہ ہوتا۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

  4. #24
    Super Moderator Attari1980's Avatar
    Join Date
    Jul 2008
    Location
    Rawalpindi, Pakistan
    Posts
    1,871

    Default

    بائیسویں تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کا خلاصہ
    آج کی تراویح کی تلاوت چھبیسویں پارے کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ کافر کتنے ناسمجھ اور گمراہ ہیں اللہ کے سوا ایسی اشیائ کی عبادت کرتے ہیں جو ان کی عبادت سے غافل ہیں اور قیامت تک ان کی پکار کو سن کر ان کی مشکلات کا مداوا نہیں کرسکتیں۔ اللہ تعالی نیک لوگوں کی نیکیاں قبول فرماتا ہے اور ان کی تقصیروں سے در گزر فرماتا ہے۔ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی نیت کےساتھ جب جہاد کیاجائے تو دشمنوں کے سامنے کے وقت ان سے خوب بے جگری کے ساتھ لڑو، اگر تم اللہ کے دین کی مدد کروگے اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔ کافروں کی زندگی اور جانوروں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں کہ سوائے کھانے پینے اور دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے ان کا بھی کوئی مقصد نہیں ہے، قیامت اچانک آئے گی جبکہ اس کی علامات کا ایک بڑا حصہ ظاہر ہوچکا ہے وہ ایمان والے جو سستی نہ کریں تو وہ ہی لوگ کفار پر غالب ہوں گے۔ جو شخص بخل کرتا ہے وہ اپنی جان پر بخل کرتا ہے، سب لوگ اللہ کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے اور اللہ تعالٰی غنی و بے نیاز ہے۔ فرمایا اے محبوب ہم نے تمہیں روشن فتح عطا فرمائی اور تمہارے سبب سے تمہارے اگلے اور پچھلوں کے گناہ معاف فرمادئیے ہیں۔ فرمایا اے محبوب! وہ لوگ جو بیعتِ رضوان کے موقع پر تہماری بیعت کررہے تھے وہ در حقیقت اللہ سےبیعت کر رہے تھےان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جب جہاد فرض ہوجائے تو ہر مسلمان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس پر جہاد کیلئے نکلنا فرض ہوجاتا ہے لیکن اندھے اور لنگڑے اور ایسے لوگ جنہیں کوئی شرعی عذر لاحق ہو ان پر جہاد کیلئے نکلنا ضروری نہیں رہتا۔ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ سب دینوں پر اس دین کو غالب کر کے رہے گا۔ ایمان والوں کی ایک نشانی یہ ہے کہ آپس میں انہتائی رحم دل ہیں جبکہ کفار پر انتہائی سخت، یہ ایسے ہیں کہ ان کی نشانیاں تورات اور انجیل میں بیان کی گئی ہیں، ایمان والوں کو حکم ہے کہ جب حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوں تو اپنی آوازوں کو پست رکھیں اور ان کے ہوتے ہوئے چلا کر بات نہ کیا کریں۔ یاد رکھئے! یہ حکم آج بھی باقی ہے جب بھی حضور کے روضہ انور پر حاضری ہوتو اونچی آواز میں گفتگو کرنا ناجائز ہے کہ سرکار اپنے روضہ انور میں سب کچھ سماعت فرما رہے ہیں اور ہمیں ملاحظہ بھی فرما رہے ہیں۔ تمام مومن کہیں کے بھی ہوں آپس میں بھائی بھائی ہیں ان میں ناراضگی ہو تو صلح کرودیا کرو۔
    [/PHP]



    Now in new Look. Kindly see and jion
    http://www.razaemuhammad.co.cc

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  

taucheruhrdirekt.com