تیسری فصل

علم غیب کے متلعق عقیدہ اور علم غیب کے مراتب کا بیان

علم غیب کی تین صورتیں ہیں اور ان کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں ۔ ( از خالص الاعتقاد صفحہ 5 )
قسم اول
اللہ عزوجل عالم با لذات ہے ، اس کے بغیر بتائے کوئی ایک حرف بھی نہیں جان سکتا ۔
حضور علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کو رب تعالٰی نے بعض غیوب کا علم عطا فرمایا ۔
حضور علیہ السلام کا علم ساری خلقت سے زیادہ ہے ، حضرت آدم و خلیل علیہما السلام اور ملک الموت و شیطان بھی خلقت ہیں ، یہ تین باتیں ضروریات دین میں سے ہیں ان کا انکارکفر ہے ۔
قسم دوم
اولیائے کرام کو بھی بالواسطہ انبیاءکرام کچھ علوم غیاب ملتےہیں۔
اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلوۃالسلام کی پانچ غیبوں میں سے بہت جزئیات کا علم دیا ، جو اس قسم دوم کا منکر ہے وہ گمراہ اور بدمذہب ہے کہ صدہا احادیث کا انکار کرتا ہے ۔
قسم سوم
حضور علیہ السلام کو قیامت کا بھی علم ملا کہ کب ہوگی۔
تمام گزشتہ اور آئندہ واقعات جو لوح *محفوظ میں ہیں ان کا بلکہ ان سے بھی زیادہ کا علم دیا گیا ہے ۔
حضور علیہ السلام کو حقیقت روح اور قرآن کے سارے متشابہات کا علم دیا گیا ۔
چوتھی فصل :جب علم غیب کا منکر اپنے دعوٰے پر دلائل قائم کرے تو چار باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے (از راحۃ الغیب صفحہ 4 )
وہ آیت قطعی الدلالت ہو جس کے معنی میں چند احتمال نہ نکل سکتے ہوں اور حدیث ہوتو متواتر ہو۔
اس آیت یا حدیث سے علم کی عطا کی نفی ہو کہ ہم نے نہیں دیا ، یا حضور علیہ السلام فرمادیں مجھ کو یہ علم نہیں*دیاگیا۔
صرف کسی بات کا ظاہر نہ فرماناکافی نہیں ۔ ممکن ہے کہ حضور علیہ السلام کو علم ہو مگر کسی مصلحت سے ظاہر نہ کیا ہو اسی طرح حضور علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ خدا ہی جانے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یا مجھے کیا معلوم وغیرہ کافی نہیں کہ یہ کلمات کبھی علم ذاتی کی نفی اور مخاطب کو خاموش کرنے کے لئے ہوتے ہیں ۔
جس کے لئے علم کی نفی کی گئی ہو وہ واقعہ ہواور اور قیامت تک کا ہو ورنہ کل صفات الہیہ اور بعد قیامت کے تمام واقعات کے علم کا ہم بھی دعوٰی نہیں کرتے یہ چار فصلیں خوب خیال میں رکھی جائیں ۔