پہلا باب
علم غیب کے ثبوت کے بیان میں


اس میں چھ فصلیں ہیں ، پہلی فصل میں آیات قرانیہ سے ثبوت ، دوسری میں احادیث سے ثبوت ، تیسری میں احادیث کے شارحین کے ، چوتھی میں علمائے امت ، اور فقہاء کے اقوال ، پانچویں میں خود منکرین کی کتابوں سے ثبوت ، چھٹی میں عقلی دلائل اولیاء اللہ کے علم غیب کا بیان
پہلی فصل آیات قرانیہ میں
وعلم ادم الاسماء کلھا ثم عرضھم علی الملائکۃ (پارہ 1 سورہ 2 آیت 31 )
ترجمہ :* اور اللہ تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کیں*۔
تفسیر مدارک میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
ومعنی تعلیمہ اسماء المسمیات انہ تعالٰی اراہ الاجناس التی خلقہا وعلمہ ان ھذا اسمہ فرس وھذا اسمہ بعیر وھذا اسمہ کذا وعن ابن عباس علمہ اسم کل شئی حتٰی القصعۃ الغرفۃ
حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام بتانے کے معنی یہ ہیں کہ رب تعالٰی نے انکو وہ تمام جنسیں دکھا دیں جس کو پیدا کیا گیا اور انکو بتا دیا گیا کہ اس کا نام گھوڑا اور اس کا نام اونٹ اور اس کا نام فلاں ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ ان کو ہر چیز کے نام سکھا دئے۔ یہاں تک کہ پیالی اور چلو کے بھی۔
تفسیر خازن میں اسی آیت میں یہ ہی مضمون بیان فرمایا اتنا اور بھی زیادہ فرمایا۔
وقیل علم ادم اسماء الملئکۃ وقیل اسماء ذریتہ وقیل علمہ اللغات کلھا
کہا گیا کہ حضرت آدم علیہ اسلام کو تمام فرشتوں کے نام سکھا دئے اور کہا گیا کہ ان کی اولاد کے نام اور کہا گیا کہ ان کو تمام زبانیں سکھا دیں ۔
تفسیر کبیر میں اسی آیت کے ما تحت ہے ۔
قولہ ای علمہ صفات الاشیاء ونعوتھا وھو المشھور ان المراد اسماء کل شئی من خلق من اجناس المحدثات من جمیع اللغات المختلفۃ التی یتکلم بھا ولد اٰدم الیوم من العربیۃ و الفارسیۃ و الزومیۃ و غیرھا۔
آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے اوصاف اور ان کے حالات سکھا دئے اور یہی مشھور ہے کہ مراد مخلوق میں سے ہر حادث کی جنس کے سارے نام ہیں جو مختلف زبانوں میں ہونگے۔ جن کو اولاد آدم آج تک بول رہی ہے عربی، فارسی، رومی وغیرہ۔
تفسیر ابو السعود میں اسی آیت کے ماتحت ہے ۔
و قیل اسماء ما کان وما یکون و قیل اسماء خلقہ من المعقو لات و المحسوسات و المتخیلات والموھومات والھمہ معرفۃ ذوات الاشیاء واسماء و خواصھا و معارفھا اصول العلم و قوانین الصنعات و تفاصیل الاتھا و کیفیۃ استعمالا تھا۔
کہا گیا کہ حضرت آدم کو گزشتہ اور آئندہ شیزوں کے نام بتا دئیے
اور کہا گیا ہے کہ اپنی ساری مخلوق کے نام بتا دئیے عقلی،حسی،خیالی،وہمی چیزیں بتا دیں ان چیزوں کی ذات ، ان کے نام ان کے خاصے ان کی پہچان،علم کے قواعد،پنروں کے قانون، ان کے اوزاروں کے تفصیل اور انکے استعمال کے طریقے کا علم حضرت آدم کو الھام فرمایا۔

تفسیر روح البیان میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
وعلمہ احوالھا وما یتعلق بھا من المنافع الدینیۃ والدنیویۃ وعلم اسماء الملئکۃ و اسماء ذریتہ و اسماء الحیوانات والحمادات وصنعۃ کل شئی و اسماء المدن والقرٰی واسماء الطیر والشجر وما یکون و اسماء کل شئی یخلقھا الی یوم القیمۃ واسماء المطعومات والمشروبات وکل نعیم فی الجنۃ واسماء کل شئی وفی الخیر علمہ سبع مائۃ الف لغات۔
اور حضرت آدم کو چیزوں کے حالات سکھاتے اور جو کچھ ان میں دینہ اور دنیاوی نفع ہیں وہ بتائے اور انکو فرشتوں کے نام انکی اولاد اور حیوانات اور جمادات کے نام بتا دئیے اور ہر چیز کے نام بنانا بتایا تمام شہرون اور گاؤں کے نام پرندوں اور درختوں کے نام جو ہو چکا یا جو کچھ بھی ہوگا ان کے نام اور قیامت تک پیدا فرمائے گا ان کے نام اور کھانے پینے کی چیزوں کے نام جنت کی ہر نعمت غرضیکہ ہر چیز کے نام بتا دئیے حدیث میں ہے کہ حضرت آدم کو سات لاکھ زبانیں سکھائی گئیں۔
ان تفسیروں سے اتنا معلوم ہوا ماکان اور ما یکون کے سارے علم حضرت آدم علیہ السلام کو دئیے گئے زبانیں چیزوں کے نفع ضرر بنانے کے طریقے ۔ آلات کا استعمال سب دکھا دئے۔ لیکن میرے آقا و مولٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم تو دیکو۔ حق یہ ہے کہ یہ علم میرے آقا کے علم کے دریا کا ایک قطرہ یا میدان کا ایک ذرہ ہیں ۔ شیخ ابن عربی فتوحات مکہ باب دہم میں فرماتے ہیں ۔
اول نائب کام لہ صلی اللہ علیہ وسلم و خلیفتہ اٰدم علیہ السلام
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے خلیفہ اور نائب حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔
معلوم ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں ۔ خلیفہ اس کو کہتے ہیں جو اصل کی غیر موجودگی میں اس کی جگہ کام کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پاک سے قبل سارے انبیاء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب تھے۔ یہ مولوی قاسم صاحب نے بھی تحزیرالناس میں لکھا ہے جیسا کہ ہم بیان کریں گے خلیفہ کے علم کا یہ حال ہے
۔
نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض میں ہے۔
انہ علیہ السلام عرضت علیہ الخلاءق من لدن اٰدم الی قیام الساعۃ فعرفھم کلھم کما علم اٰدم الاسماء کلھا
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ساری مخلوقات از حضرت آدم تا روز قیامت پیش کی گئیں پس ان سب کو پہچان لیا جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو سب نام سکھائے
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب کو جانتے پہچانتے ہیں۔
2۔ ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ ( پارہ 2 سورہ آیت 143 )
اور یہ رسول تمھارے نگہبان و گواہ ہوں۔
تفسیر عزیزی میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
رسول علیہ السلام مطلع است بنور نبوت بر دین ہر متدین بدین خود کہ در کدام درجی از دین من رسیدہ و حقیقت ایمان او چیست و حجابے کہ بداں از ترقی محجوب ماندہ است کدام است پس ادمے شناسد گناہان شمار او درجات ایمان شمار او اعمال بد و نیک او اخلاق و نفاق شمار لہذا شہادت او در دنیا بحکم شرع در حق امت مقبول واجب العملاست ۔
حضور علیہ اسلام اپنے بنور نبوت کی وجہ سے ہر دیندار کے دین کو جانتے ہیں کہ دین کے کس درجہ تک پہنچاہے۔ اور اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ اور کون سا حجاب اس کی ترقی سے مانع ہے۔ پس حضور علیہ اسلام تمھارے گناہوں کو اور تمھارے ایمانی درجات کو اور تمھارے نیک و بد اعمال اور تمھارے اخلاص اور نفاق کو پہچانتے ہیں لہذا ان کی گواہی دنیا میں بحکم شرع امت کے حق میں قبول اور واجب العمل ہے۔
تفسیر روح البیان میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
ھذا مبنی علیٰ تصنمین الشھید معنی الرقیب و المطلع و الوجہ فی اعتبار تصنمین الشھید الا شارۃ الٰی ان التعدیل و التذکیۃ انما یکون عن خبرۃ و مراقبۃ بحال الشاھد ۔ و معنی شھادۃ الرسول علیھم اطلاعۃ رتبۃ کل متدین بدینہ فھو یعرف ذنوبھم و حقیقۃ ایمانھم و اعمالھم و حسناتھم و سیئاتھم و اخلاصھم و نفاقھم وغیر ذلک بنور الحق و امتہ یعرفون ذلک من سائر الامم بنورہ علیھم اسلام۔
یہ اس بنا پر ہے کہ کلمہ شہید میں محافظ اور خبردار کے معنٰے بھی شامل ہیں ۔ اور اس معنٰی کو شامل کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ کسی کو عادل کہنا اور صفائی کی گواہی دینا گواہ کے حالات پر مطلع ہونے سے ہو سکتا ہے۔ اور حضور علیہ السلام کے مسلمانوں پر گواہی دینے کے معنٰے یہ ہیں کہ حضور علیہ السلام ہر دیندار کے دینی مرتبے کو پہچانتے ہیں پس حضور علیہ السلام مسلمانوں کے گناہوں کو ان کے ایمان کی حقیقت کو ان کے اچھے برے اعمال کو ان کے اخلاص اور نفاق وغیرہ کو نور حق سے پہچانتے ہیں اور حضور علیہ السلام کی امت بھی قیامت میں ساری امتوں کے یہ حالات جانے گی مگر حضور علیہ السلام کے نور سے ۔
تفسیر خازن میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
ثم یونٰی بمحمد علیہ السلام فیسئالہ عن امتہ فیز کیھم و یشھد بصدقھم۔
پھر قیامت میں حضور علیہ السلام کو بلایا جاویگا پس رب تعالٰٰی حضور علیہ السلام سے آپ کی امت کے حالات پوچھے تو آپ ان کی صفائی کی گواہی دیں گے اور ان کی سچائی کی گواہی دینگے۔
تفسیر مدارک پارہ 2 سورہ بقر میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
فیؤلٰٰی بمحمد فیسئال عن حال امتہ فیزکیھم ویشھد بعد التھم و یزکیھم بعد التکم۔
پھر حضور علیہ السلام کو بلایا جاویگا اور آپکی امت کے حال پوچھے جایئں گے پس آپ اپنی امت کی صفائی بیان کریں گے اور انکے عادل ہونیکے گوای دیں گے لہذا حضور علیہ السلام تمھاری عدالت کو جانتے ہیں۔
اس آیت اور ان تفاسیر میں یہ فرمایا گیا کہ قیامت کے دن دوسرے انبیاء کرام کی امتیں بارگاہ الہی میں عرض کرینگی کہ ھمارے پاس تیرا کوئی پیغمبیر نہیں پہنچا ۔ ان امتوں کے نبی عرض کریں گے کہ خدایا ہم ان میں گئے ، تیرے احکام پہنچائے مگر ان لوگوں نے قبول نہ کئے ۔ رب تعالٰی کا انبیاء کو حکم ہو گا کہ چونکہ تم مدعی ہو اپنا کوئی گواہ لاؤ ۔ وہ اپنی گواہی کے لئے امت مصطفٰٰی علیہ اسلام کو پیش فرمائینگے مسلمان گواہی دیں گے کہ خدایا تیرے پیغمبر سچے ہیں، انہوں نے تیرے احکام پہنچائے تھے۔
اب دو باتیں تحقیق کے لائق ہیں ۔ اول یہ کہ مسلمان گواہی کے قابل ہیں کہ نہیں( فاسق و فاجر اور کافر کی گواہی قبول نہین ہوتی۔ مسلمان پرہیزگار کی گواہی قبول ہوتی ہے۔) دوسرے یہ کہ ان لوگوں نے اپنے سے پہلے پیغمبر کا زمانہ دیکھانہ تھا۔پھر گواہی کس طرح دے رہیں ہیں مسلمان عرض کریں گے کہ خدایا ھم سے تیرے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پہلے پیغمبر نے تبلیغ کی تھی اس کو سن کر ہم گواہی دے رہے ہیں تب حضور علیہ السلام کو بلایا جاویگا اور حضور علیہ السلام دو باتوں کی گواہی دیں گے ایک یہ کہ لوگ فاسق یا کافر نہیں تاکہ ان کی گواہی قبول نہ ہو۔ بلکہ مسلمان پرہیزگار ہیں۔ دوسرے یہ کہ ہاں ہم نے ان سے کہا تھا کہ پہلے انبیاء نے اپنی قوم تک اخام الہیہ پہنچائے تب ان پیغمبروں کے حق میں ڈگری ہو گی۔
اس واقعی سے چند باتیں حاصل ہوئیں ۔ ایک یہ کہ حضور علیہ السلام قیامت تک کے مسلمان کے ایمان اعمال روزہ،نماز و نیت سے بالکل خبردار ہیں ورنہ پہلی یعنی صفائی کہ گواہی کیسی ممکن نہیں کہ ایک مسلمان کا بھی کوئی حال آپ سے چھپا رہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کی آنے والی نسل کا حال معلام فرمایا کہ خدایا ان کی اولاد بھی اگر ہوئی تو کافر ہوگی ولا یلد و الا فاجرا کفارا لہذا تو ان کو غرق کر دے حضرت خضر علیہ السلام نے جس بچے کو قتل فرمایا اس کا آئندہ حال معلوم کر لیا تھا کہ آئندہ اگر زندہ رہا تو سرکش ہوگا تو سید الانبیاء علیہ السلام پر کسی کا حال کیانکر چھپ سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ گزشتہ پیغًبروں اور ان کی امتوں کے حالات حضور علیہ السلام نے بنور نبوت دیکھے تھے اور آپ کی گواہی دیکھی ہوئی تھی اگر سنی ہوئی ہوتی تو ایسی گواہی تو اس سے پہلے مسلمان بھی دے شکے تھے سنی گواہی کی انتہا دیکھی گواہی پر ہوتی ھے ۔ تیسرے یہ بھی معلام ہا کہ رب تعالٰی تع جانتا ہے کہ سچے نبی ہیں مگر پھر بھی گواہیاں لے کر فیصلہ فرماتا ہے۔اسی طرح حضور علیہ السلام مقدمات میں تحقیق فرمادیں اور گواہیاں وغیرہ لیں تو اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ حضور علیہ السلام کو خبر نہ ہو۔ بلکہ مقدمات کا قاعدہ یہ ہی ہوتا ہے اور زیادہ تحقیق اس کی دیکھا ہو تو یماری کتاب شان حبیب الرحمان من آیات القرآن میں دیکھ اس گواہی کا ذخر آئندہ آیت میں بھی ہے ۔


وجئنا بک علیٰ ھٰولاء شھیدا ۔ (پارہ 5 سورہ النساء آیت 41 )
اور اے محبوب تم ان سب پر نگہبان بناکر لادئنگے۔
تفسیر نیشاپوری میں اسی آیت کے ماتحت ہے ۔
لان روحہ علیہ السلام شاھدا علی جمیع الارواح و القلوب بقولہ علیہ السلام اول ما خلق اللہ نوری
اس لئے حضور علیہ السلام کی روح مبارک تمام روحوں اور دلوں اور نفسوں کے دیکھنے والی ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ نے جو پہلی پیدا فرمایا وہ میرا نور ہے ۔
تفسیر روح البیان میں اسی آیت کے ما تحت ہے ۔
واعلم انہ یعرض علی النبی علیہ السلام اعمال امتہ غدوۃ و عشیۃ فیعرفھم اعمالھم فلذلک یشھد علیھم
حضور علیہ السلام پر آپ کی امت کے اعمال صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں لہذا آپ امت کو انکی علامات سے جانتے ہیں اور انکے اعمال کو بھی اس لئے آپ ان پر گواہی دینگے۔
ای شاھدا علی من امن بالایمان وعلی من کفر بالکفر وعلی من نافق بالنفاق
حضور علیہ السلام گواہ ہیں مومنوں پر انکے ایمان کے کافروں پر ان کے کفر کے منافقوں پر ان کے نفاق کے۔
اس آیت اور ان تفاسیر سعے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام از اول تا روز قیامت تمام لوگوں کے کفر و ایمان و نفاق و اعمال وغیرہ سب کو جانتے ہیں اسی لئے آپ سب کے گواہ ہیں یہ ہی تو علم غیب ہے۔
من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ یعلم
وہ کون ہے جو اس کے یھاں شفاعت کرے بغیر اس کے حکم کے جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے۔
تفسیر نیشاپوری میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
یعلم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما بین ایدیھم من اولیات الامر قبل الخلائق وما خلقھم من احوال القیامۃ۔
حضور علیہ السلام مخلوق کے پہلے کے اول معاملات بھی جانتے ہیں اور جو مخلوق کے بعد قیامت کے احوال ہیں وہ بھی جانتے ہیں ۔
روح البیاں میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
یعلم محمد صلی اللہ علیہ وسلم ما بین ایدیھم من الامور الاولیات قبل الخلائق وما خلقھم من احوال القیامۃ و فزع الخلق و غضب الرب۔
حضور علیہ السلام مخلوق کے پہلے کے حالات جانتے ہیں اللہ تعالٰی کے مخلوقات کو پیدا کرنیکے پہلے کے واقعات اور انکے پیچھے کے حالات بھی جانتے ہیں قیامت کے احوال مخلوق کی گھبراہٹ اور رب تعالٰٰی کا غضب وغیرہ۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے معلوم ہو کہ آیت الکرسی میں من ذالذی سے لیکر الا بماشاء تک تین صفات حضور علیہ السلام کے بیان ہوئے۔ باقی اول و آخر میں صفات الہہ ہیں ۔ اس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالٰی کے پاس بغیر اجازت کسی کی شفاعت نہیں کر سکتا اور جن کو شفاعت کی اجازت ہے وہ حضور علیہ السلام ہیں اور شفیع کے لئے ضروری ہے کہ گناہگاروں کے انجام اور انکے حالات سے واقف ہوتا کہ نااہل کی شفاعت نا ہو جاوے اور مستحق شفاعت سے محروم نہ رہ جائیں جیسے طبیب کے لئے ضروری ہے کہ قابل علاج اور لا علاج مریضوں کو جانے تو فرمایا گیا یعلم ما بین ایدیھم کہ جس کو ہم نے شفیع بنایاہے۔ اس کو تمام کا علم بھی دیا ہے کیونکہ شفاعے کبرٰی کے لئے علم غیب لازمی ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام قیامت میں منافقین کو نہیں پہچانیں گے۔ یا حضور علیہ السلام کو اپنی بھی خبر نہیں کہ میرا کیا انجام ہو گا محض غلط اور بے دینی ہے جیسا کہ آئندہ آتا ہے

ولا یحیطون بشئ من علمہ الا بماشاء
اور اہ نہیں پاتے اس کے علم میں مگر جتنا وہ چاہے۔
تفسیر روح البیان میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
یحتمل ان تکون الھاء کنایۃ عنہ علیہ السلام یعنی ھو شاھد علی احوالھم یعلم ما بین ایدیھم من سیرھم و معاملاتھم و قصصھم وما خلفھم من امور الاخرۃ و احوال اھل الجنۃ و النار وھم لا یعلمون شیئا من معلوماتہ الا بماشاء من معلاماتہ علم الاولیاء من علم الانبیاء بمنزلۃ قطرۃ من سبعۃ ابحر وعلم الانبیاء من علم نبینا علیہ السلام بھذہ المنزلۃ فکل رسول و نبی و ولی آخذون بقدر القابلیۃ و الاستعداد مما لدیہ ولیس لاحد ان یعدوہ او یتقدم علیہ۔
احتمال یہ بھی ہے کہ ضمیر سے حضور علیہ السلام مراد ہوں یعنی حضور علیہ السلام لوگوں کے حالات کو مشاہدہ فرمانے والے ہیں اور ان کے سامنے کے حالات جانتے ہیں انکے اخلاق انکے معاملات اور انکے قصے وغیرہ اور انکے پیچھے کے حالات بھی جانتے ہیں آخرت کے احوال جنتی و دوزخی لوگوں کے حالات اور وہ لوگ حضور علیہ السلام کے معمولات میں سے کچھ بھی نہیں جانتے مگر اسی قدر جتنا کہ حضور چاہیں اولیاء اللہ کا علم، علم انبیاء کے سانے ایسا ہے جیسے ایک قطرہ سات سمندروں کے سامنے اور انبیاء کا علم حضور علیہ السلام کے علم کے سامنے اسی درجہ کا ہے اور ھمارے حضور علیہ السلام کا علم رب العٰلمین کے سامنے اسی درجی کا کا ۔ پس ہر نبی اور ہر رسول اور ہر ولی اپنی اپنی استعداد اور قابلیت کے موافق حضور سے لیتے ہیں ۔
*اور کسی کو یہ ممکن نہیں کہ حضور علیہ السلام سے آگے بڑھ جائے۔
تفسیر خازن میں اسی آیت کے ماتحت ہے ۔
یعنی ان یطلعھم علیہ و ھم الانبیاء و الرسل و لیکون ما یطلعھم علیہ من علم غیبہ دلیلا علی نبوتھم کما قال اللہ تعالٰی فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول ۔
یعنی خدا تعالٰی ان کو اپنے علم پر اطلاع دیتا ہے اور وہ انبیاء اور رسل ہیں تاکہ ان کا علم غیب پر مطلع ہونا ان کی نبوت کی دلیل ہو جیسے رب نے فرمایا ہے کہ پس نہیں ظاہر فرماتا اپنے غیب خاص پر کسی کو سوائے اس کے رسول جس سے رب راضی ہے ۔
تفسیر معالم التنزیل میں ای آیت کے ماتحت ہے ۔
یعنی لا یحیطون بشئ من علم الغیب الا بما شاء مما اخبربہ الرسل۔
یعنی یہ لوگ علم غیب کو نہیں گھیر سکتے مگر جس قدر کہ خدا چاہے جس کی خبر رسولوں نے دی ۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے اتنا معلوم ہوا کہ اس آیت میں یا تو خدا کا علم معلوم ہے خدا کا علم کسی کو حاصل نہیں ہاں جس کو رب ہی دینا چاہے تو اس کو عم غیب حاصل ہعتا ہے اور رب تو انبیاء کو دیا اور انبیاء کے ذریعہ بعض مومنین کا دیا۔ لہذا ان کو بھی بہ عطائے الہی علم غیب حاصل ہوا، کتنا دیا اس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
یا یہ مراد ہے کہ حضور علیہ السلام کے علم کو کوئی نہیں پا سکتا۔ مگر جس کو حضور علیہ السلام ہی دینا چاہیں عطا فرمادیں۔ لہذا از حضرت آدم تا روز قیامت جس کو جس قدر علم ملا۔وہ حضور علیہ السلام کے علم دیا کے دریا کا قطرہ ہے ۔اس میں حضرت آدم اور فرشتوں وغیرہ کا علم بھی شامل ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے علم کی وسعت ہم علم ادم کی آیت کے تحت بیان کر چکے ہیں ۔

5: وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ( پارہ 4 سورہ 3 آیت 17 )
اور اللہ کی شان یہ نہیں ہے کہ اسے عام لوگو تم کو علم غیب کا علم دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے ۔
تفسیر بیضاوی میں اسی آیت کے ما تحت ہے۔
وما کان اللہ لیوتی احدکم علم الغیب فیطلع علی ما فی القلوب من کفر و ایمان ولکن اللہ یجتبی لرسالتہ من یشاء فیوحی اللہ و یخبرہ ببعض المغیبات او ینصب لہ ما یدل علیہ۔
خدا تعالٰی تم میں سے کسی کو علم غیب دینے کا کہ مطلع کرے اس کفر و ایمان پر جو دلوں میں ہوتا ہے لیکن اللہ اپنی پیغمبری کیلئے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے پس اسکی طرف وحی فرماتا ہے اور بعض غیوب کی ان کو خبر دیتا ہے یا ان کے لئے ایسے دلائل قائم فرماتا ہے جو غیب پر رہبری کریں ۔
تفسیر خازن میں ہے۔
لکن اللہ یصطفے و یختار من رسلہ من یشاء فیطلہ علی بعض عم الغیب ۔
لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے پس ان کو خبردار کرتا ہے بعض علم غیب پر۔
تفسیر کبیر میں اسی آیت کے ما تحت ہے۔
فاما معرفۃ ذلک علی سبیل الاعلام من الغیب فھو من خواص الانبیاء (جمل) المعنی لکن اللہ یحتبی ان یصطفے من رسلہ من یشاء فیطلعہ علی الغیب (جلالین) وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب فتعرفوا المنافق قبل التمیز ولکن اللہ یحتبی و یختار من یشاء فیطلع علی غیبہ کما اطلع النبی علیہ السلام علی حال المنافقین۔
لیکن ان باتوں کا بطریق غیب پر مطلع ہونیکے جان لینا یہ انبیاء کرام کی خصوصیت ہے ۔ (مجمل) معنٰی یہ ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں میں جسکو چاہتا ہے چن لیتا ہے پس ان کو غیب پر مطلع کرتا ہے۔ خداتعالٰی تم کو غیب پر مطلع نہیں کرنے کا تاکہ فرق کرنے سے پہلے منافقوں کو جان لو۔ لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے چھانٹ لیتا ہے تو اسکو اپنے غیب پر مطلع فرماتا ہے جیسا کہ نبی علیہ السلام کو منافقین کے حال پر مطلع فرمایا۔
روح البیان میں ہے۔
فان غیب الحقائق والاحوال لا ینکشف بلا واسطۃ الرسول۔
کیونکہ حقیقتوں اور حالات کے غیب نہیں ظاہر ہوتے بغیر رسول علیہ السلام کے واسطے سے ۔
ان آیت کریمہ اور ان تفاسیر سے معلوم ہو کہ خدا تعالٰی کا خاص علم غیب پیغمبر پر ظاہر ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے جو فرمایا کہ بعض اس سے مراد ہے علم الہٰی کے مقابلے میں بعض اور کل ما کان و ما یکون بھی خدا کے علم کا بعض ہے ۔
وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما ای من الاحکام و الغیب انزل اللہ علیک الکتاب و الحکمۃ و اطلعک علی اسرار ھما وواقفک علی حقائقھا۔
یعنی من احکام الشرع و امور الدین و قیل علمک من علم الغیب مالم تکن تعلم و قیل معناہ علمک من خفیات الامور و اطلعک علی صنمائر القلوب و علمک من احوال المنافقین و کیدھم من امور الدین و الشرائع او من خفیات الامور و صنمائر القلوب ۔
اور تم کو سکھا دیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (جلالین ) یعنی احکام اور علم غیب ( تفسیر کبیر ) اللہ نے آپ پر قرآن اتارا اور حکمت اتاری اور آپ کو ان کے بھیدوں پر مطلع فرمایا اور انکی حقیقتوں پر واقف کیا۔ (خازن ) یعنی شریعت کے احکام اور دین کی باتیں سکھائیں اور کہا گیا ہے کہ آپ کو علم غیب میں وہ باتیں سکھائیں جو آپ نہ جانتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں آپ کو اچھی چیزیں سکھائیں اور دلوں کے راز پر مطلع فرمایا اور منافقین کے مکر و فریب آپ کو بتا دئیے ( مدارک) دین اور شریعت کے امور سکھائے اور چھپی ہوئی باتیں دلوں کے راز بتائے۔
تفسیر حسینی بحر الحقائق سے اسی آیت کے ماتحت نقل فرماتے ہیں ۔
آں علم ماکان وما یکون ہست کہ حق سبحانہ، در شب اسرابداں حضرت عطا فرمود۔ چناچہ در حدیث معراج ہست کہ من در زیر عرش بودم قطرہ در حلق من ریختندہ فعلمت ماکان وما یکون جامع البیان قبل نزول ذالک من خفیات المور
یہ ماکان اور مایکون کا علم ہے کہ حق تعالٰی نے شب معراج میں حضور علیہ السلام کو عطافرمایا۔ چناچہ معراج شریف کے حدیث میں ہے کہ ہم عرش کے نیچے تھے ایک قطرہ ہمارے حلق میں ڈالا پس ہم نے سارے گزشتہ اور آئندہ کے واقعات معلوم کر لئے یعنی آپ کو وہ سب باتیں بتا دیں جو قرآن کے نزول سے پہلے آپ نہ جانتے تھے۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کو تمام آئندہ اور گزشتہ واقعات کی خبر دے دی گئی۔ کلمہ ما عربی زبان میں عموم کے لئے ہوتا ہے تو آیت سے یہ معلوم ہواکہ شریعت کے احکام دنیا کے سارے واقعات۔ لوگوں کے ایمانی حالات وغیرہ جو کچھ بھی آپ کے علم میں تھا سب ہی بتا دیا اس میں یہ قید لگانا کہ اس سے مراد صرف احکام ہیں اپنی طرف سے قید ہے جو قرآن و حدیث اور امت کے عقیدے کے خلاف ہے۔ جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا۔
مافرطنا فی الکتاب من شئی ان القرآن مشتمل علی جمیع الاحوال ۔ ( خازن )
ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا قرآن کریم تمام حالات پر شامل ے۔ (خازن)
تفسیر انوار التنزیل میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔

یعنی اللوح المحفوظ فانہ مشتمل علی ما یجری فی العالم من جلیل و دقیق لم یھمل فیہ امر حیون ولا جماد۔
کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے کیونکہ یہ لوح محفوظ ان باتوں پر مشتمل ہے جو عالم میں ہوتا ہے ہر ظاہر اور باریک اس میں کسی حیوان اور جماد کا معاملہ چھوڑا نہ گیا۔
تفسیر عراس البیان میں اسی آیت کے ماتحت ہے
ای ما فرطنا فی الکتاب ذکر احد من الخلق لکن لا یبصر ذکر فی الکتاب الا المویدون بانوار المعرفۃ
یعنی اس کتاب میں مخلوقات میں سے کسی کا ذکر نہ چھوڑا ہے لیکن اس ذکر کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ مگر وہ جن کی معرفت کے انوار سے تائید کی گئی ہو۔
امام شعرانی طبقات کبر نے میں فرماتے ہیں۔ ماخوذ از دخال السنان صفحہ 55
لوفتح اللہ عن قلوبکم اقفال المسدد لاطلعتکم علی مافی القرآن من العلوم و استغنیتم عن النظر فی سواہ فان فیہ جمیع ما رقم فی صفحات الوجود قال اللہ تعالٰی ما فرطنا فی الکتاب من شئی ۔
اگر خدا تعالٰی تمھارے دلوں کے بند قفل کھول دے تو تم ان علموں پر مطلع ہوجاؤ جو قرآن میں ہیں اور تم قرآن کے سوا دوسری چیز سے بے پرواپ ہوجاؤ۔
کیونکہ قرآن میں تما و چیزیں ہیں جو وجود کے صفحے میں لکھی ہیں، رب تعالٰٰی فرماتا ہے ما فرطنا فی الکتاب من شئی اس آیت اور ان تفاسیر سے معلوم ہوا کہ کتاب میں دنیا و آخرت کے سارے حالات موجود ہیں اب کتاب سے مراد یا تو قرآن ہے یا لوح محفوظ۔ اور قرآن بھی حضور علیہ السلام کے علم میں ہے اور لوح محفوظ بھی جیسا کہ آئندہ آوے گا۔ تو نتیجہ یہ نکلا کہ تمام دنیا و آخرت کے حالات حضور علیہ السلام کے علم میں ہوئے۔ کیونکہ سارے علوم قرآن اور لوح محفوظ میں ہیں۔ اور قرآن و لوح محفوظ حضور کے علم میں ہیں ۔

ولا رطب الا یائس الا فی کتاب مبین ۔ ( پارہ 7 سورہ 6 آیت 59 )
(روح البیان) ھو اللوح المحفوط فقد صنبط اللہ فیہ جمیع المقدورات الکونیۃ لفوائد ترجع الی العباد یعرفھا العلماء باللہ
(تفسیر کبیر یہ ہی آیت)
وفائدۃ ھذا الکتاب امور احدھا انہ تعالٰی کتب ھذہ الا حوال فی اللوح المحفوظ لتقف الملٰئکۃ علی نفاذ علماللہ فی المعلومات فیکون ذلک عبرۃ تامۃ کاملۃ للملٰئکۃ المؤ کلین باللوح المحفوظ لانھم یقابلون بہ ما یحدث فی صحیفۃ ھذا العالم فیجدونہ موافقالہ۔
(تفسیر خازن ہی آیت)
والتانی ان المراد بالکتاب المبین ھو اللوح المحفوظ لان اللہ کتب فیہ علم ما یکون وما قد کان قبل ان یخلق السمٰوت و الارض و فائدۃ احصاء الاشیاء کلھا فی ھذا الکتاب لتقف الملٰئکۃ علی انفاذ علمہ۔
وہ لوح محفوظ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس میں ساری ہو سکنے والی چیزیں جمع فرما دیں ان فائدوں کی وجہ سے جو بندوں کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کو علمائے ربانی جانتے ہیں اس لکھنے میں چند فائدے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالٰی نے ان حالات کو لوح محفوظ میں اس لئے لھا تھا ۔تاکہ ملائکہ خبردار ہو جائیں ان معلومات میں علم الہٰی جاری ہونے پر پس یہ بات ان فرشتوں کے لئے پوری پوری عبرت بن جائے جو لوح محفوظ پر مقرر ہیں کیونکہ وہ فرشتے ان واقعات کا اس تحریر سے مقابلہ کرتےہیں جو عالم میں نئے نئے ہوتے رہتے ہیں تو اس کا لوح محفوظ کے موافق پاتے ہیں دوسری توجہ یہ ہے کہ کتاب مبین سے مراد لوح محفوط ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے اس میں جو کچھ ہوگا اور جو کچھ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے ہو چکا سب کا علم لکھ دیا اور ان تمام چیزوں کے لکھنے سے اس کتاب میں فائدہ یہ ہے کہ فرشتے اسکے علم کے جاری کرنے پر واقف ہو جائیں۔
تفسیر مدارک یہ ہی آیت
ھو علم اللہ او اللوح
وہ کتاب یا تو علم الہٰی ہے یا لوح محفوظ۔
تفسیر تنویر المقیاس میں تفسیر ابن عباس میں اسی آیت کے ماتحت ہے۔
کل ذلک فی اللوح المحفوظ مبین مقدارھا و وقتھا
یہ تمام چیزیں لوح محفوظ میں ہیں کہ ان کی مقدار اور ان کا وقت بیان کر دیا گیا ہے۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے معلوم ہوا کہ لوح محفوظ میں ہر خشک و تر ادنٰی و اعلٰی چیز ہے اور لوح محفوظ کو فرشتے او اللہ کے خاص بندے جانتے ہیں اور علم مصطفٰی علیہ السلام ان سب کو محیط ہے لہٰذا یہ تمام علوم علم مصطفٰی علیہ السلام کے دریا کے قطرے ہیں۔
نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شئی۔ (پارہ 14 سورہ 16 آیت 89)
اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔
تفسیر حسینی یہ ہی آیت
نزلنا فرستادیم علیک الکتاب پر تو قرآن تییانا لکل شئی بیان روشن برائے ھمہ چیز از امور دین و دنیا تفصیل و اجمال ۔
تفسیر روح البیان یہ ہی آیت
یتعلق بامور الدین من ذالک احوال الامم و انبیاءھم۔
تفسیر اتقان یہ ہی آیت قال المجاھد یوما ما من شئی فی العالم الا ھو فی کتاب اللہ فقیل لہ فاین ذکر الخانات فقال فی قولہ لیس علیکم جناح اب تدخلو بیوتا غیر مسکونۃ فیھا متاع لکم۔

ہم نے اُُپ پر یہ کتاب قرآن دین و دنیا کی ہر چیز کا روشن بیان بنا کر بھیجی تفصیلی و اجمالی۔ اس کے بیان کے لئے جو دینی چیزوں سے تعلق رکھتی ہوں اور اس میں سے امتوں اور انکے پیغمبروں کے حالات ہیں حضرت مجاہد نے ایک دن فرمایا کہ عالم میں کوئی شے ایسی نہیں جو قرآن میں جنہ ہو تو ان سے کہا گیا کہ سرایونکا ذکر کہاں ہے انہوں نے فرمایا کہ اس آیت میں ہے کہ تمپر گناۃ نہیں کہ تم ان گھروں میں داخل ہو جس میں کوئی رہتا نہ ہو اور تمھارا وہاں سامان ہو۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے معلومہوا کہ قرآن کریم میں ہر ادنٰی و اعلٰی چیز ہے اور قرآن رب تعالٰی نے محبوب علیہ السلام کو سکھایا الرحمٰن علم القرآن یہ تمام چیزیں علم مصطفٰی علیہ السلام آئیں۔
10۔ و تفصیل الکتاب لا ریب فیہ ( پارہ 11 سورہ 10 آیت 37 )
اور لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا ہے قرآن سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں ۔
جلالین یہ ہی آیت
تفصیل الکتاب تبین کا کتب اللہ تعالٰے من الاحکام و غیرھا
جمل یہ ہی آیت

ای فی اللوح المحفوظ
روح البیان یہ ہی آیت
ای و تفصیل ما ھقق و اثبت من الحقائق و الشائع وفی التاویلات النجمیۃ ای تفصیل الجملۃ التی ھی المقدر المکتوب فی الکتٰب الذی لا یتطرق الیہ المحو و الاثبات لانہ ازلی ابدی
یہ تفصیلی کتاب ہے اس میں وہ احکام اور انکے سوا وسری چیزیں بیان کی جاتی ہیں جو اللہ تعالٰی نے لکھ دیں۔ یعنی لوح محفوظ میں تفصیل ہے۔ یعنی یہ قرآن ان شرعی اور حقیقت کی یزوں کی تفصیل ہے جو ثابت کی جاچکی ہیں اور تاویلات تجمیہ میں ہے کہ اس تمام کی تفصیل ہے جو تقدیر میں آچکی ہیں اور اس کتاب میں لکھی جا چکی ہیں۔جس میں ردوبدل نہیں ہوتا کیونکہ وہ کتاب ازلی و ابدی ہے۔اس آیت میں سارے تفسیر سے ثابت ہوا کہ قرآن کریم میں احکام شرعیہ اور تمام علوم موجود ہیں ۔ اس آیت سے پتہ لگا کہ قرآن میہں سارے لوح محفوظ کی تفصیل ہے اور لوح محفوظ میں سارے علوم ہیں۔ ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین اور قرآن حضور علیہ السلام کے علم میں ہے۔ الرحمٰن علم القرآن لہٰذا سارا لوح محفوظ حجور علیہ السلام کے علم میں ہے کیونکہ قرآن لوح محفوظ کی تفصیل ہے۔
11۔ ماکان حدیثا یفترٰی و لکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شئی ( پارہ 13 سورہ 12 آیت111)
تفسیر خازن یہ ہی آیت
یعنی فی ھذا القرآن المنزل علیک یا محمد تفصیل کل تحتاج الہ من الحلال و الحرام و الحدود و الاحکام و القصص و المواعظ و الامثال و غیر ذلک مما یحتاج الیہ العباد فی امر دینھم و دیناھم
تفسیر حسینی میں ہے و تفصٰل کل شئی ما من شئی فی العالم الا ھو فی کتاب اللہ تعالٰٰے

یعنی اس قرآن میں ہر اس چیز کا بیان ہمہ چیز ہاکہ محتاج باشد دردین و دنیا۔
12۔ الرحمٰن0 علم القرآن0 خلق الانسان 0 علمہ البیان 0 ( پارہ 27 سورہ 55 آیت 1 تا 4 ) تفسر معالم التنزیل و حسینی یہ ہی آیت
خلق الانسان ای محمد علیہ السلام علمہ البیان یعنی بیان ماکان وما یکون ۔
یہ کوئی بناوٹکی بات نہیں اپنے سے اگلی کلاموں کی تصدیق ہے اور پر چیز کا مفصل بیان۔ یعنی اس قرآن میں جو آپ پر اتارا گیا۔
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس یز کی تفصیل ہے جسکی آپ کو ضرورت ہو حلال اور حرام سزائیں اور احکام اور قصے اور نصیحتیں اور مثالیں۔ ان کے علاوہ اور وہ چیزیں جن کی بندوں کو اپنے دینی و دنیاوی معاملات میں ضرورت پڑتی ہے۔ یعنی اس قرآن میں ہر اس چیز کا بیان ہے جسکی دین و دنیا میں ضرورت ہو۔
( کتاب الاعجاز لابن سراقہ میں ہے ) عالم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو قرآن میں نہ ہو۔ رحمان نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا ماکان و ما یکون کا بیان اس سکھا یا۔ اللہ نے ینسان یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا اور ان کا بیان یعنی ساری اگلی پچھلی باتوں کا بیان سکھا دیا۔
تفسیر خازن ہی آیت۔
قیل اراد بالانسان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم علمہ البیان یعنی بیان ماکان وما یکون لانہ علیہ السلام نبیء عن خبر الاولین و الآخرین وعن یوم الدین
کہا گیا ہے کہ انسان سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ اگلت پچھلے امور کا بیان سکھا دیا گیا کیونکہ حجور علیہ السلام کو اگلوں اور پچھلوں کی اور قیامت کی دن کی خبر دے دی گئی۔
روح البیان یہ ہی آیت
وعلم نبینا علیہ السلام القرآن و اسرار الالوھیۃ کما قال و علمک مالم تکن تعلم
یعنی ہمارے نبی علیہ السلام کو رب تعالٰی نے قرآن اور اپنی ربوبیت کے بھید سکھا دئے جیسا کہ خود رب تعالٰی نے فرمایا کہ آپ کو سکھا دیں وہ باتیں جو آپ نہ جانتے تھے۔ ینسان سے مراد جنس انسانی ہے یا آدم علیہ السلام یا حضور علیہ السلام۔
معالم التنزیل یہ آیت
و قیل الانسان ھھنا محمد علیہ السلام و بیانہ علمک مالم تکن تعلم۔
کہا گیا ہے کہ اس آیت میں انسان سے مراد حضور علیہ السلام ہیں اور بیان سے مراد ہے کہ آپ کو وہ تمام باتیں سکھائیں جو نہ جانتے تھے۔
تفسیر حسینی یہ ہی آیت
یا وجود محمد راھیا موزانیدوے
یا مراد ہے کہ پیدا فرمایا حضور علیہ السلام کی ذات کو اور سکھایا انکو جو کچھ ہو چکا ہے یا ہو گا۔ ان آیتوں اور تفاسیر سے معلوم ہوا کہ قرآن میں سب کچھ ہے اور اس کا سارا علم حضور علیہ السلام کو دیا گیا۔
13۔ ماانت بنعمۃ ربک بمجنون
(تفسیر روح البیان یہ ہی آیت )
ای لیس بمستور علماکان فی الازل وما سیکون الی الابد لان الجن ھو الستر بل انت عالم بماکان و خبیربما سیکون
تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں۔یعنی آپ سے وہ باتیں چھپی ہوئی نہیں ہیں جو ازل میں تھیں اور وہ جو ابد تک ہونگی۔ کیونکہ جن کے معنی ہیں چھپنا بلکہ آپ اس کو جانتے ہیں جو ہوچکا اور خبردار ہیں اس سے جو ہوگا۔
اس آیت و تفسیر سے علم غیب کلی ثابت ہوا۔

14۔ ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب۔ ( پارہ 10 سورہ 9 آیت 65)
اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو گےتو کہیں گے کہ ہم یونہی ہنسی کھیل میں تھے۔
تفسیر در منشور طبری یہ ہی آیت
عن مجاھد انہ قال فی قولہ تعالٰے ولئن سالتھم الخ قال رجل من المنافقین یحدثنا محمد ان فانہ بواد کذا وکذاوما یدریہ بالغیب۔
حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اس آیت کے نزول کے بارے میں ولئن سالتھم کہ ایک منافق نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خبر دیتے ہیں کہ فلاں کی اونٹنی فلاں جنگل میں ہے ان کو غیب کی کیا خبر۔
اس آیت اور تفسیر سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غیب کا انکار کرنا منافقین کا کام تھا۔ جسکو قرآن نے کفر قرار دیا۔

15۔ فلا یظھر علی غیبہ احدمن ارتضی من رسول ( پارہ 29 سورہ 72 آیت 26)
تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔
تفسیر کبیر یہ ہی آیت
ای وقت وقوع القیمۃ من الغیب الذی لا یظھرہ اللہ لاحد فان قیل فاذا حملتم ذلک علی القیمۃ فکیف قال الا من ارتضی من رسول مع انہ لا یظھر ھذا لغیب لاحد قلنابل یظھرہ عند قریب القیمۃ۔
یعنی قیامت کے آنے کا وقت ان غیبوں میں سے ہے جس کو اللہ تعالٰی کسی ہر ظاہر نہیں فرماتا پس اگر کہا جاوے کہ جب تم اس غیب کو قیامت پر محمول کر لیاتو اب رب تعالٰی نے یہ کیسے فرمایا! مگر پسندیدہ رسولوں کو حالانکہ یہ غیب تو کسی پر ظاہر نہیں کیا جاتا تو ہم کہیں گے کہ رب تعالٰی قیامت کے قریب ظاہر فرمادے گا۔
تفسیر عزیزی صفحہ 173۔
آنچہ بہ نسبت مخلوقات عائب است غائب مطلق است مثل وقت آمدن قیامت و احکام تکوینیہ وسرعیہ باری تعالٰی در ہر روز و ہر شریعت و مثل حقائق ذآت و صفات او تعالٰی علی سبیل التفصیل ایں قسم را غیب خاص او تعالٰی نیز می نامند فلا یظھرہ علی غیبہ احدا پس مطلع نمی کند بر غیب خاص خود ہیچکسرا مگر کسی راکہ مسند میکند وآں کس رسول باشد خواہ از جنس ملک و خواہ از جنس بشر مثل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اظھاربعضے اس عیوب خاصہ خودنی فرامائد۔
تفسیر خازن یہ ہی آیت۔
الا من یصطفیہ لرسالۃ و نبوتہ فیظھرہ علی من یشاء من الغیب حتی یستدل علی نبوتہ بما یخبربہ من المغیبات فیکون ذلک معجزۃ لہ۔
جو چیز تمام مخلوق سے غائب ہو وہ غائب مطلقہے جیسے قیامت کے آنے کا وقت اور روزانہ اور ہر چیز کے پیدائشی اور شرعی احکام اور جیسے پروردگار کی ذات و صفات بر طریق تفصیل اس قسم کو رب کا خاص غیب کہتے ہیں۔پس اپنے خاص غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ اس کے سوا جسکو پسند فرمادے اور وہ رسول ہوتے ہیں خواہ فرشتے کی جنس سے ہوں یا ینسان کی جنس سے جیسے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بعض خاص غیب ظاہر فرماتا ہے۔ سوا اس کے جس کو اپنی نبوت اور رسالت کے لئے چن لیا پس ظاہر فرماتا ہے جس پر چاہتا ہے غیب تاکہ انکی نبوت پر دلیل پکڑی جاوے ان غیب چیزوں سے جس کی وہ خبر دیتے ہیں پس یہ ان کا معجزہ ہوتا ہے۔
روح البیان یہ ہی آیت۔
قال ابن الشیخ انہ تعالٰی لا یطلع علی الغیب الذی یختص بہ تعالٰی علمہ الا لمرتضی الذی یکون رسولا وما لا یختص بہ یطلع علیہ غیر الرسول۔
ابن شیخ نے فرمایا کہ رب تعالٰی اس غیب پر جو اس سے خاص ہے کسی کو مطلع نہیں فرماتا سوائے برگزیدہ رسولوں کے اور جو غیب کے رب کے ساتھ خاص نہیں اس پر غیر رسول کو بھی مطلع فرمادیتا ہے۔
اس آیت اور ان تفاسیر سے معلوم ہوا کہ خدائے قدوس کا خاص علم غیب حتٰی کہ قیامت کا علم بھی حضور علیہ السلام کو عطا فرمایا گیا اب کیا شے ہے جو علم مصطفٰی علیہ السلام سے باقی رہ گئی۔

16۔ فاوحی الی عبدہ ما اوحی ۔
اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔
مدارج النبوۃ جلد اول وصل رویۃ الہی میں ہے۔
فاوحی ۔۔۔۔۔۔۔ الآیۃ بتمام علوم علوم و معارف و حقائق و بشارات و اشارات، اخبار و آثار و کراماتو کمالات در احیطہء ایں ابہام داخلاست وہمہ راشامل و کثرت وعظمت اوست کہ مبہم آدردوبیان نہ کرداشارات بآنکہ جزعلم علام الغیوب ورسول محبوب بہ آں محیط نتواند شد مگر آں چہ آں حضرت بیان کردہ۔
معراج میں رب نے حضور علیہ السلام پر جو سارے علوم اور معرفت اور بشارتیں اور اشارے اور خبریں اور کرامتیں و کمالات وحی فرمائے وہ اس ابہام میں داخل ہیں اور سب کو شامل ہیں انکی زیادتی اور عظمت ہی کی وجہ سے ان چیزوں کو بطور ابہام ذکر کا بیان نہیں فرمایا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان علوم غیبیہ کو سوئے رب تعالٰی اور محبوب علیہ السلام کے کوئی نہ احاطہ کر سکتا۔ ہاں جس قدر حضور نے بیان فرمایا وہ معلوم ہے۔
اس آیت اور عبارت سے معلوم ہواکہ معراج میں حضور علیہ السلام کو، وہ علم عطاہوئے جن کو کوئی نہ بیان کرسکتا ہے اور نہ کسی کے خیال میں آسکتے ہیں ماکان و ما یکون تو صرف بیان کے لئے ہیں ورنہ اس سے بھی کہیں زیادہ کی عطا ہوئی۔
17۔ وما ھو علی الغیب بضنین۔
اور یہ نبی غیب بتانے میں بخیل نہیں۔
یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو غیب کا علم ہو ۔ اور حضور علیہ السلام لوگوں کو اس سے مطلع فرمادیتے ہوں۔
معالم التنزیل یہ ہی آیت۔
علی الغیب وخبر السماء وما اطلع علیہ من الاخبار والقصص بضنین ای ببخیل یقول انی یاتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلمکم و یخبرکم الا یکتمہ کما یکتم الکاھن ۔
خازن یہ ہی آیت
یقول انہ علیہ السلام یاتیہ علم الغیب فلا یبخل بہ علیکم بل یعلمکم ۔
حضور علیہ السلام غیب ہر اور آسمانی خبروں پر اور ان خبروں اور قصوں پر بخیل نہیں ہیں۔ پراد یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے پاس علم غیب آتا ہے پس وہ اس میں تم پر بخل نہیں
*کرتے بلکہ تم کو سکھاتے ہیں اور تم کو خبر دیتے ہیں کیسے کے کاہن چھپاتے ہیں ویسے نہیں چھپاتے مراد یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے پاس علم غیب آتا ہے تو تم پر اس میں بخل نہیں فرماتے ۔ بلکہ تم کو سکھاتے ہیں۔
اس آیت و عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام لوگوں کو علم غیب سکھاتے ہیں۔ اور سکھائے گا وہی جو خود جانتا ہو۔
18۔ وعلمنہ من لدنا علما۔
اور ان کو اپنا علم لدنی عطا کیا یعنی حضرت خضر کا۔
بیضاوی میں یہ ہی آیت ۔۔۔۔۔۔
ای ما یختص بناہ لا یعلم الا بتو قیفنا وھو علم الغیب ۔
حضرت خضر کو وہ علم سکھائے جا ہمارے ساتھ خاص ہیں بغیر ہمارے بتائے کوئی نہیں جانتا اور وہ علم غیب ہے۔
تفسیر ابن جریر میں سیدنا عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے۔
قال انک لن تستطیع معی صبرا کان رجلا یعلم علم الغیب قد علم ذلک
حضرت خضر نے فرمایا تھا حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کر سکو گے وہ خضر علم غیب جانتے تھے کہ انہوں نے جان لیا ۔
روح البیان یہ ہی آیت۔۔۔
ھو علم الغیوب والاخبار عنہا باذنہ تعالٰے کما ذھب الیہ ابن عباس۔
حضرت خضر کو جو لدنی علم سکھایا گیا وہ علم غیب ہے اور اس غیب کے متعلق خبر دینا ہے خدا کے حکم سے جیسا کہ اس طرف ابن عباس رضی اللہ عھہما گئے ہیں۔
تفسیر مدارک یہ ہی آیت ۔۔۔۔۔۔
یعنی الاخبار بالغیوب وقیل العلم اللدنی ماحصل للعبد بطریق الاھام۔
یعنی حضرت خضر کو غیب کی خبریں اور کہا گیا ہے کہ علم لدنی وہ ہوتا ہے جو بندے کو الہام کے طریقے پر حاصل ہو۔
تفسیر خازن یہ ہی آیت ۔۔۔۔
ای علم الباطن الھاما۔
یعنی حضرت خضر کو علم باطن الہام کے طریقے پر عطا فرمایا۔
اس آیت و تفسیری عبارتوں سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی نے حضرت خضر کو بھی علم غیب عطا فرمایا تھا جس سے لازم آیا کہ حضور علیہ السلام کو بھی علم غیب عطا ہوا۔ کیونکہ آپ تمام مخلوق الہٰیسے زیادہ عالم ہیں اور حضرت خضر علیہ السلام بھی مخلوق ہیں۔
19: و کذلک نری ابرھیم ملکوت السمٰوٰت والارض (پارہ 7 سورہ 6 آیت 75)
اور اسی طرح ہم ابرہیم کو دکھاتے ہیں۔ ساری بادشاہی آسمانوں کی اور زمینوں کی ۔
تفسیر خازن یہ ہی آیت ۔۔۔۔
اقیم علی صخرۃ و کشف لہ عن السٰمٰوت حتی رای العرش و الکرسی وما فی السٰمٰوت وکشف لہ عن الارض حتی نظر الی اسفل الارضین وراٰی ما فیھا من العجائب۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صخرہ پر کھڑا کیا گیا اور ان کے لئے آسمان کھول دئے گئے ۔ یہاں تک کے انہوں نے عرش ع کرسی اور جو کچھ آسمانوں میں ہے دیکھ لیا اور آپ کے لئے زمین کھول دی گئی یہاں تک کے انہوں نے زمینوں کی نیچی زمین اور ان عجائبات کو دیکھ لیا جو زمینوں میں ہیں۔
تفسیر مدارک یہ ہی آیت ۔۔
قال مجاھد فرجتلہ السٰمٰوت السبع فنظر الی ما فیھن حتی انتھی نظرہ الی العرش و فرجت لہ الارضوان السبع حتی نظر الی ما فیھن۔
روح البیان یہ ہی آیت ۔۔۔۔
عجائب و بدائع آسما نہا و زمین ہا از دروہ عرش تاتحت الثرٰی بروے منکشف ساختہ۔
مجاہد نے فرمایا۔
کہ ابرہیم علیہ السلام کے لئے ساتوں آسمان کھول دئے گئے پس انہوں نے دیکھ لیا ۔ جو کچھ آسمانوں میں ہے۔ یہاں تک کے ان کی نظر عرش تک پہنچی اور ان کے لئے سات زمینیں کھولی گئیں کہ انہوں نے وہ چیزیں دیکھ لیں جو زمینوں میں ہیں۔ ابراہیم کو آسمانوں و زمین کی عجائبات و غرائبات دکھائے اور عرش کی بلندی سے تحت الثرٰی تک کھول دیا۔
تفسیر ابن جریر ابن حاتم میں اسی آیت کے ما تحت ہے ۔
انہ جل لہ الامر سرہ و علانیتہ فلم یخف علیہ شئی من اعمال الخلائق۔
حضرت ابراہیم پر کھلی ع پوشیدہ تمام چیزیں کھل گیئیں پس ان پر مخلوق کے اعمال میں سے کچھ بھی چھپا نہ رہا۔
تفسیر کبیر یہ ہی آیت ۔۔۔
ان اللہ شق لہ السمٰوٰت حتی رای العرش و الکرسی والی حیث ینتھی الیہ فوقیہ العالم الجسمالی ورای ما فی السمٰوٰت من العجائب و البدائع ورای مافی بطن الارض من العجائب والغرائب۔
اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم کیلئے آسمانوں کو چیر دیا یہاں تک کے انہوں نے عرش وکرسی اور جہاں تک جسمانی علم کی فوقیت ختم ہوتی ہے دیکھ لیا۔ اور وہ عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھ لیں جو آسمانوں میں ہیں ۔ اور وہ عجیب و غریب چیزیں بھی دیکھ لیں جو زمین کے پیٹ میں ہیں۔[/color
اس آیت اور ان تفسیری عبارات سے معلوم ہوا کہ از عرش تا تحت الثرٰی حضرت ابرہیم کو دکھائے گئے اور مخلوق کے اعمال بھی ان کع خبر دی گئی اور حجور علیہ السلام کا علم ان سے کہیں زیادہ ہے تو ماننا پڑے گا کہ حضور علیہ السلام کو بھی یہ علوم عطا ہوئے۔
خیال رہے کہ عرش کے علم میں لوح محفوظ بھی آگئی اور لوح محفوظ میں کیا لکھا ہے اس کو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں لہذا ماکانوما یکون کا علم تو ان کو بھی حاصل ہوا اور علم ابراہیمی اور علم حضرت آدم علیہ السلام کے علم کے دریا کا قطرہ ہے۔

20۔ یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا۔
لا یاتیکما طعام ترزقانہ الا نئتکما بتاویلہ
اس کی تفسیر روح البیان و کبیر و خازن میں ہے
اس کے معنے یہ ہیں کہ میں تمہیں کھانے کے گزشتہ و آئندہ کے سارے حالات بتا سکتا ہوں کہ غلہ کہاں سے آیا اور اب کہاں جائے گا ۔ تفسیر کبیر نے تو فرمایا کہ میں یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ کھانا نفع دے گا یا نقصان۔ یہ چیزیں وہ ہی بتا سکتا ہے جو ہر ذرہ کی خبر رکھتا ہو پھر فرماتے ہیں ۔
ذلکما مما علمنی ربی ( پارہ 12 سورہ 12 آیت 37 )
یہ علم تع میرے علوم کا بعض حصہ ہے۔ اب بتاؤ کہ حضور علیہاا لسلام کا علم کتنا ہوگا ۔ علم یوسفی تو علم مصطفٰی کے سمندر کا قطرہ ہے اور عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا۔
وانبتکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ( پارہ 3 سورہ 3 آیت 49)
میں تمیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم اپنے کھروں میں کھاتے ہو اور جو کچھ جمع کرتے ہو۔
دیکھو کھانا گھر میں کھایا گیا اور جمع کیا گیا ۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام موجود نہیں تھے اور اسکی خبر آپ باہر دے رہے ہیں یہ علم غیب ۔۔

21 :- یا ایھا الذین اٰمنوا لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم ( پارہ 7 سورہ 5 آیت 101)
اے ایمان والو !ایسی باتیں ہمارے محبوب سے نہ پوچھو کہ اگر تم پر ظاہری جاویں تو تمھیں ناگوار ہوں۔
بخاری شریف میں سیدنا عبداللہ ابن عباس سے روایت کی
عن ابن عباس قال کان قوما یساء لون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استھزاء فیقول الرجل من ابی و یقول الرجد این فانزل اللہ فیھم ھذہ الاٰیتہ یا ایھاالذین اٰمنوا لا تساء لواعن اشیاء ۔
تتمہ مخالفین سے ان دلائل کے جواب کچھ نہیں بنتے صرف یہ کہدیتے ہیں کہ جن آیات میں کل شئ کا ذکر ہوا یا فرمایا گیا ما لم تکن تعلم ان میں مراد شریعت کے احکام ہیں نہ کہ اور چیزیں اس کے لئے چند دلائل لاتے ہیں ۔
کل شئ غیر متناہی ( بے انتہا) ہیں اور غیر متناہی چیزوں کا علم خدا کے سوا کسی کو ہونا منطقی قاعدے سے بالکل باطل ہے دلیل تسلسل ہے۔
بہت سے مفسرین نے بھی کل شئ کے معنے لئے ہیں من امورالدین یعنی دین کے احکام جیسے جلالین وغیرہ۔
قرآن پاک میں بہت جگہ کل شئ فرمایا گیا ہے مگر اس سے بعض چیزیں مراد ہیں جیسے واوتیت من کل شئ بلقیس کو کل شئ دی گئی ۔ حالانکہ بلقیس کو بعض چیزیں ہی دی گئی تھیں۔
مگر یہ دلائل نہیں صرف غلط فہمی ہے اور دھوکا ۔ ان کے جوابات یہ ہیں ۔
عربی زبان میں کلمہ کل اور کلمہ ما عموم کے لئے آتا ہیں ۔ اور قرآن کا ایک ایک کلمہ قطعی ہے اس میں کوئی قید لگانا محض اپنے قیاس سے جائز نہیں ۔ قرآن پاک کے عام کلمات کو حدیث احاد سے بھی خاص نہیں بنا سکتے۔ چہ جائیکہ محض اپنی رائے سے ۔
کل شئ غیر متناہی نہیں۔ بلکہ متناہی ہیں ۔
تفسیر کبیر زیر آیت واحصٰٰی کل شئی عددا ہے۔
قلنا لاشک ان احصاء العدد انما یکون فی المتناھی فاما لفظۃ کل شئ فانھا لا تدل علی کونہ غیر متناہ لان الشئ عندزا ھو الموجودات متناھیۃ فی العدد
اس میں شک نہیں کہ عدد سے شمار کرنا متناہی چیز میں ہوسکتا ہے لیکن لفظ کل شئ اس شئ کے غیر متناہی ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ ہمارے نزدیک شئ موجودات ہی ہیں اور موجود چیزیں متناہی میں شمار ہیں ۔
تفسیر روح البیان میں اسی آیت واحصی کل شئ کے ماتحت فرمایا ۔
وھذہ الایتہ مما یستدل علی ان المعدوم لیس لانہ لوکان شئیا لکانت الاشیاء غیر متناھیۃ و کونہ احصٰی عددھا یقتضی کونھا متناھیۃ احصاء العدد انما یکون فی المتناھی
اس آیت سے اس پر بڑی دلیل پکڑی جاتی ہے کہ معدوم ( غیر موجود) شئ نہیں ہے کیونکہ اگر وہ بھی شئ ہوتی تو چیزیں غیر متناہی ( بے انتہا) ہو جاتیں ۔ اور چیزونکا شمار میں آنا چاہتا ہے کہ چیزیں متناہی ہوں کیونکہ عدد سے شمار متناہی ہوسکتی ہے ۔
اگر بہت سے مفسرین نے کل شئ سے صرف شریعت کے احکام مراد لئے ہیں تو بہے سے مفسرین نے کلی علم غیب بھی مراد لیا ہے اور جبکہ دلائل نفی کے ہوں ۔ اور بعض ثبوت کے۔ تو ثبوت والوں کو ہی اختیار کیا جاتا ہے ۔
نورالانوار بحث تعارض میں ہے۔
والمثبت اولی من النافی ثابت کرنے والے دلائل نفی کرنے والے سے زیادہ بہتر ہیں ۔ تو جن تفسیروں کے حوالہ ہم پیش کر چکے ہیں ۔ چونکہ ان میں زیادہ کا ثبوت ہے کہذا وہ ہپی قابل قبول ہیں ۔ نیز کل شئ کی تفسیر خود احادیث اور علمائے امت کے اقوال سے ہم بیان کریں گے کوئی ذرہ کوئی قطرہ ایسا نہیں جو حضور علیہ السلام کے علم میں نہ آگیا ہو اور ہم مقدمہ کتاب میں لکھ چکے ہیں کہ تفسیر قرآن بالحدیث اور تفسیروں سے بہتر ہے لہذا حدیث ہی کی تفسیر مانی جاوے گی۔
نیز مفسرین نے امور دین سے تفسیر کی انہوں نے بھی دوسری چیزوں کی نفی تو نہ کی۔ لہذا تم نفی کہاں سے نکالتے ہو ؟ کسی چیز کے ذکر نہ کرنے سے اس کی نفی کیسے ہو گی ۔ قرآن کریم فرماتا ہے ۔ تقیکم الحر یعنی تمہارے کپڑے تم کو گرمی سے بچاتے ہیں ۔ تو کیا کپڑے سردی سے نہیں بچاتے ؟
مگر ایک چیز کا ذکر نہیں فرمایا ۔ نیز دین تو سب ہی کو شامل ہے ۔ عالم کی کون سی چیز ایسی ہے ۔ جس پر دین کے احکام حرام وحلال وغیرہ جاری نہیں ہوتے تو ان کا یہ فرمانا کہ دینی علم مکمل کر دیا سب کو شامل ہے۔

بلقیس وغیرہ کے قصہ میں جو کل شئ آیا ہے۔ وہاں قرینہ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کل شئ سے مراد سلطنت کے کاروبار کی چیزیں ہیں ۔ اس لئے وہاں گویا مجازی معنی مراد لئے گئے یہاں کونسا قرینہ ہے جس کی وجہ سے کل شئ کے حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد لئے جائیں خیال رہے۔ کہ قرآن کرین نے ہدہد کا قول نقل فرمایا کہ اس نے کہا اوتیت من کل شئ بلقیس کو ہر چیز دی گئی خود رب نے یہ خبر نہ دی ۔ ہد ہد سمجھا کہ بلقیس کو دنیا کی تمام چیزیں مل گئیں ۔ مگر مصطفی علیہ السلام کے لئے خود رب تعالٰی نے فرمایا۔ تبیانا لکل شئ ہدہد غلطی کر سکتا ہے رب کا کلام غلط نہیں ہو سکتا اس نے تو یہ بھی کہا ولھا عرش عظیم کیا تحت بلقیس عرش عظیم تھا ۔ بلکہ قرآن کریم کی اور آئتیں تو بتا رہی ہیں کہ کل شئ سے مراد یہاں عالم کی تمام چیزیں ہیں ۔ فرماتا ہے ۔ ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین کوئی خشک و تر چیز ایسی نہیں جو لوح محفوظ یا قرآن کریم میں نہ ہو پھر آنے والی احادیث اور علماء اورمحدثین کے قول بھی اسی تائید کرتے ہیں کہ عالم کی ہر چیز کا حضور علیہ السلام کو علم دیا گیا ۔ ہم حاضر و ناظر کی بحث میں انشاءاللہ بتائیں گے کہ تمام عالم ملک الموت کے سامنے ایسا ہے ۔ جیسا ایک طشت ۔ اور ابلیس آن کی آن میں تمام زمین کا چکر لگا لیتاہے۔ اور یہ دیوبندی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ساری مخلوقات سے زیادہ حضور علیہ السلام کا علم ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان چیزوں کا علم ہو ۔ حضرت آدم اور کاتب تقدیر فرشتہ کا علم ہم علوم خمسہ کی بحث میں بتائیں گے جس سے معلوم ہوگا کہ سارے علوم خمسہ اس کو حاصل پوتے ہیں۔ اور حضور علیہ السلام تو ساری مخلوق سے زیادہ عالم لہذا حضور علیہ السلام کو بھی یہ علوم بلکہ اس سے زیادہ ماننا پڑیں گے ۔ ہمارا مدعٰی ہر حال میں ثابت ہے، الحمدللہ۔