اکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دیسی ساخت کے بم کے دھماکے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں میران شاہ اور غلام خان روڈ پر اس وقت ہوا جب سکیورٹی فورسز کا قافلہ غلام خان تحصیل کی جانب جا رہا تھا۔


سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو سی ایم ایچ میران شاہ اور بنوں کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ بھی کی گئی ہے۔
سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی، حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔


کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کہہ چکی ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے اور اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تحریکِ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ملک و قوم کو جنگ بندی کا تحفہ دیا لیکن حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دوران اب تک سنجیدگی یا خودمختاری نظر نہیں آئی ہے۔