رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عطائی علم غیب
علوم غیب مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وسلم​


یہ مضمون محمد اشرف آصف جلالیؔ نے زمانہ طالب علمی میں ۲۲ فروری ۱۹۸۹ء؁ کو امام العلماء حضرت علامہ عطاء محمد بندیالوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی راہنمائی میں لکھا اور آپ نے اس کی توثیق فرمائی ۔


الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہٗ و علی آلہٖ و اصحابہ اجمعین
چونکہ ہمارا زمانہ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے زمانہ اقدس سے کافی دور سے اس لئے اس میں نئے نئے مسائل اور اختلافات پیدا ہو رہے ہیں ۔ جن باتوں پر اُمت مسلمہ کا اتفاق اور اجماع تھا ان کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں ۔ ان مسائل میں سے ایک مسئلہمسئلہ علم غیب ہے ۔ اہلسنّت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب جانتا ہے اور اپنے مقبول بندوں کو بھی غیب بتلاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے علم غیب میں واضح فرق ہے ۔

نمبر۱: اللہ تعالیٰ کا علم غیب ذاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو غیب جاننے میں کسی کی امداد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی کی عطا سے علم غیب کا مالک بنا ہے ، بلکہ اس کا علم غیب ذاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کا جو علم غیب ہے یہ ان کا ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کرنے سے ہے ۔ یہ غیب کا علم رکھنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک مالک اپنی ملکیت میں سے بعض کا کسی اور کو مالک بنا دے تو اب پہلا اوردوسرا مالک ایک نہیں بن جائیں گے بلکہ پہلے مالک کا مِلک ذاتی طور پر ہے اور دوسرے مالک کا مِلک عطائی ہے ۔

نمبر۲: نہ کوئی اللہ تعالیٰ کی ابتدا اور اتنہا ہے اور نہ ہی کوئی اللہ تعالیٰ کے علم کا ابتدا اور انتہا ہے ۔ برخلاف اللہ تعالیٰ کے مقبولوں کے علم غیب کے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے مقبولوں کو علم غیب عطا فرمایا ہے اس کی ابتدا اور انتہاء ہے یعنی وہ متناہی ہے جیسے حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کو لوح محفوظ کا علم عطا فرمایا گیا ہے تو یہ متناہی ہے کیونکہ لوح محفوظ کی بھی ابتدا اور انتہاء ہے ۔

نمبر۳: اللہ تعالیٰ کو جو ایک شی کا علم غیب ہے تو غیر متناہی(ان گنت) وجوہات سے ہے برخلاف اس کے جو علم غیب اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبولوں کو عطا کیا ہے وہ اشیاء معلومہ کی متناہی وجوہات سے ہے ۔ یعنی مقبولانِ بارگاہ ایزدی کو ایک شی کا علم صرف ایک یا چند وجوہ سے ہو گا کہ اس شی کا رنگ کیا ہے طول عرض وغیرہ کیا ہے ؟اللہ تعالیٰ کو اس شی کا علم ان گنت وجوہات سے ہے ۔

نمبر۴: بعض لوگ علم غیب کو اللہ تعالیٰ کا خاصہ بیان کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں کہ ہر شیٔ ہر وقت جاننا صرف اللہ تعالیٰ کا ہی خاصہ ہے غیر اس میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ان کی یہ قید لغو ہے حالانکہ ایک شیٔ کو ہر وقت جاننا اللہ تعالیٰ کا ہی خاصہ ہے لیکن اللہ کی عطا سے کسی اور کو بھی اس کاعلم ہو جو اس کا عطائی علم غیب ہو گا ۔ ذاتی طور پر علم غیب خاص اللہ تعالیٰ کا ہی ہے ۔
ہر ایک شیٔ کو ہر وجہ سے ہر وقت ذاتی طور پر جاننا صر ف اللہ تعالیٰ کا ہی خاصہ ہے ۔ اگر ایسا ہی علم کسی اور کا ہو تو پھر شرک لازم آئے گا ۔

اس مسئلہ پر چند آیات قرآنیہ ملاحظہ ہوں :
آیت نمبر۱: قرآن میں ہے : وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہٖ من یشآء ۔ (پارہ ۴ ، رکوع ۹ ، سور ۃ آل عمران ، آیت۱۷۹)
اس آیت کی تفسیر خازن میں اس طور پر کئی گئی ہے ولکن اللہ یصطفی و یختار من رسلہٖ فیطلعہ علی من یشاء من غیبہ۔ آیت اور اس کی تفسیر کا ترجمہ ملاحظہ ہو: اللہ تعالیٰ تم کو غیب پر خبردار نہیں کرتا لیکن اپنے برگزیدہ رسولوں سے جس کو چاہے اس کو اپنے غیب پر خبر دے دیتا ہے ۔ اب اس آیت شریف اور اس کی تفسیر سے واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ رسولوں کو غیب کی خبریں دیتا ہے اور ان کو اپنا غیب عطا کرتا ہے ۔

حضور ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام انبیاء و رسولوں (علیہم السلام) سے برگزیدہ ہیں ۔ لہذا آپ کیلئے بھی اللہ تعالیٰ کی عطا سے علم غیب ثابت ہو گیا ۔ جو آدمی آپ کے عطائی غیب کا منکر ہے تو وہ آپ کو برگزیدہ رسول نہیں سمجھتا ۔ اسی تفسیر خازن میں اس آیت کے شان نزول میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے :
قال السدی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرضت علی امتی افی صورھا فی الطین کما عرضت علی آدم و اعلمت من یومن بی و من یکفر بی مبلغ ذلک المناقین فقالوا استہزائً زعم محمدانہ یعلم من یومن بہ و من یکفربہ ممن لم یخلق بعد و نحن معہ وما یعرفنا مبلغ ذلک رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم و قام علی المنبر محمد اللہ تعالیٰ داشنی علیہ ثم قال ما بال اقوام طنعوا فی علمی لا تسالونی عن شی فیما بینکم و بین الساعۃ الا بناتکم بہ فقام عبد اللہ بن خذافہ السنہمی فقال من ابی یا رسول اللہ فقال حذافۃ فقام عمر فقال یا رسول اللہ رضینا باللہ ربا وابالاسلام دینا و بالقرآن اماماً ربک نبیا فاعف عنا فاللہ عنک فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فھل انتم منتھون فھل انتم منتھون ۔ (خازن ص ۳۸۲، جلد اوّل)

اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے سامنے میری اُمت کو پیش کیا گیا جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔ جب میرے سامنے اُمت کو پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا علم بھی عطا کر دیا جو ایمان لائیں گے اور ان کا علم بھی دے دیا جو ایمان نہیں لائیں گے ۔ جب یہ بات منافقین تک پہنچی تو انہوں نے اس کا مذاق اڑ ایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان کرتے ہیں کہ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ۔ ان میں سے بھی وہ مومن اور غیر مومن کو جانتے ہیں حالانکہ ہم تو ان کے پاس رہتے ہیں ہمیں وہ نہیں جانتے ۔ جب منافقین کی یہ بات حضور علیہ الصلوٰہ والسلام تک پہنچی تو آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا اقوام کو کیا حق پہنچتا ہے کہ میرے علم پر طعن کریں ۔ آپ نے فرمایا قیامت تک کے سوالات مجھ سے پوچھ لو میں ہر شیٔ کے بارے میں تمہیں خبر دوں گا ۔ حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے اپنے والد کی خبر پوچھی ۔ حضور علیہ السلام نے ان کو ان کے والد کی خبر دے دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑ ے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم اللہ تعالیٰ کو رب اور سلام کو دین مانتے ہیں اور قرآن کو امام مانتے ہیں اور آپ کو نبی مانتے ہیں ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنا بیان جاری رکھا اور فرمایا کیا تم میرے علم پر طعن کرنے سے باز نہیں آؤ گے ۔

اس حدیث شریف سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں :

نمبر۱: حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ پر میری اُمت پیش کی گئی اور مجھے ان کا علم بھی عطا کیا گیا جو مجھ پر ایمان نہیں لائیں گے اور ان کا علم بھی عطا کیا گیا جو مجھ پر ایمان لائیں پومن اور یکفر دونوں مضارع کے صیغے اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قیامت تک پیدا ہونے والے ہر فرد کا علم ہے اور ان میں سے مومن غیر مومن کا بھی پتہ ہے ۔ اس سے مراد قیامت تک آنے والے افراد کا علم ہے اسی پر تو منافقین نے اعتراض کیا ۔ زعم محمدانہ یعلم من یومن بہ و یکفر ممن لم یخلق بعد و نحن معہ و ما یغفرفنا۔کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی تو یہ ہے کہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے اُن میں سے بھی مومن اور غیر مومن کو جانتے ہیں حالانکہ ہم ان کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمیں تو نہیں پہچانتے لہذا ۔آپ کا قیامت تک کے لوگوں کے احوال کو جاننے والا دعویٰ غلط ہے ۔ (معاذ اللہ) یہ بھی پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے لوگوں کے دل کی دنیا کا بھی علم تھا ۔ کیونکہ ایمان و کفر کا تعلق دل سے ہے ۔

نمبر۲: حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے علم غیب (عطائی) کا انکار سب سے پہلے منافقین نے کیا ہے کسی مسلمان نے نہیں کیا ۔ لہذا آج جو لوگ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے علم غیب کا انکار کرتے ہیں وہ منافقین کے نقش قدم پر گامزن ہیں او ر ان کی سنت کو تازہ کرتے ہیں ۔

نمبر۳: جب حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے پاس منافقین کے انکار اور اعتراض کی خبر پہنچی تو آپ نے اپنے علم غیب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عطا تھی اس کو ثابت کرنے اور منافقین کا ردّ کرنے کا اتنا اہتمام فرمایا کہ منبر بچھانے کا حکم کیا اور باقاعدہ جلسہ منعقد کر کے ان کے اعتراض کا جواب دیا ۔

نمبر۴:حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے منکرین علم غیب کے ردّ میں جو الفاظ ارشاد فرمائے وہ بڑ ے نصیحت آموز ہیں اور لرزا دینے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایاان لوگوں کو میرے علم پر طعن کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے علم غیب کے انکار کو طعن کے لفظ سے تعبیر کیا ۔ وہ کتنا ہی بدبخت انسان ہے جو آپ کے علم غیب کا انکار کر کے آپ پر طعنہ کرتا ہے اور آپ کو تکلیف پہنچاتا ہے ۔

نمبر۵: حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے منکرین علم غیب کو چیلنج کیا کہ قیامت تک ہونے والی کسی شیٔ کے بارے میں مجھ سے سوال کرو میں ہر شیٔ کے بارے میں تم کو خبر دو ں گا ۔ آپ نے کلّی علم کے بارے فرمایا کیونکہ حدیث شریف میں ہے عن شیٔ نکرہ میز نفی میں ہے جو کہ سید عموم ہے اس سے کسی کی تخصیص نہیں کی جا سکتی ۔ بلکہ ہر شیٔ کا حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کا علم ہے ۔

نمبر۶: ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی نے غیب کی خبر پوچھی ۔ یعنی حضور علیہ الصلوٰہ والسلام سے سوال کیا کہ میرا (باپ) والد کون ہے ۔ صحابی نے اس والد (باپ) کے بارے سوال نہیں کیا جس کا ان کی ماں سے نکاح تھا ۔ یہ سوال کرنا تو معقول بات نہیں لگتی کیونکہ اس باپ کو تو وہ دوسرے لوگوں کی بجائے خود زیادہ جانتے تھے ۔ انہوں نے حضور علیہ الصلوٰہ والسلام سے جو والد کا سوال کیا تو پوچھنا یہ چاہتے تھے کہ میں نطفہ کی کا ہوں کیونکہ لوگوں نے ان کو والد الزنا ہونے سے مہتمم کر رکھا تھاتو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بتایا کہ تو حذافہ کے نطفہ سے پیدا ہوا ہے اور حلالی ہے ۔ تمہارا نسب درست ہے لہذا حضور علیہ الصلوٰہ والسلام نے غیب پوچھنے پر خبر دے دی۔

نمبر۷: جب حضور علیہ الصلوٰہ والسلام منکرین علم غیب کا غصہ کی حالت میں ردّ فرما رہے تھے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان میں بڑ ا اضطراب پھیل گیا ۔ جب بھی صحابی آپ کی ایسی حالت کو دیکھتے تو مضطرب ہو جاتے وہ یہ سوچتے کہ پہلے سب کچھ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کیلئے ہم نے ترک کیا ہے اور اگر آپ ہم سے ناراض ہو گئے تو ہم سے زیادہ خسارے میں کون ہو گا ؟ اس لئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اُٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کو نبی تسلیم کرتے ہیں ۔ ہم نے آپ کے علم غیب پر اعتراض نہیں کیا ہم تو آپ کو نبی یعنی غیب کی خبریں دینے والامانتے ہیں ۔

نمبر۷: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری طرح منکرین کا ردّ فرمایا اور غیب کی خبریں پوچھنے کی دعوت دی پھر آپ نے فرمایا فھل انتم منتھون کیا تم اب بھی میرے علم پر طعن کرنے سے باز نہیں آؤ گے ۔ آپ نے بڑ ی تاکید کے ساتھ علم غیب پر طعن کرنے والوں کو روکا ۔ مسلمانوں نے تو پہلے بھی انکار نہیں کیا تھا اور بعد میں اُمت مسلمہ کا اس بات پر اجماع رہا کہ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام بعطائے الٰہی علم غیب جانتے ہیں ۔ یہاں تک کہ گیارھویں صدی میں آ کر بعض نام نہاد لوگوں نے یہ گمان کیا اُمت مسلمہ کو حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کی وہ تقریر بھول چکی ہو گی اس لئے انہوں نے پھر آپ کے علم غیب پر طعن کرنا شروع کیا۔

آیت نمبر۲۔: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک ۔ (پارہ ۳، رکوع ۱۳)
اس آیت کی تفسیر تفسیر خازن میں بایں طور ہے ۔
یقول اللہ عزوجل بحمد صلی اللہ علیہ وسلم ذلک الذی ذکرت لک من حدیث زکریا و یحییٰ و مریم و عیسیٰ علیہم السلام من اخبار الغیب ۔ (خازن ص ۲۹۲ جز اوّل)
اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرمایا کہ میں نے جو آپ کو حضرت زکریا حضرت یحییٰ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی باتیں بتائی ہیں یہ غیب کی خبروں سے ہیں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب کی خبروں کی تعلیم دی اور ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام اللہ تعالیٰ کے بتانے سے غیب جانتے ہیں ۔
آیت نمبر ۳: دوسرے مقام پر ہے : تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ۔
(پارہ ۱۲، رکوع ۴، سورہ ھود ، آیت ۴۹)
اس آیت کی تفسیر تفسیر خازن میں یوں ہے ۔ ہذا خطاب للنبی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ان ھذہ القصۃ التی اخبرناک یا محمد من قصۃ نوح و خبر قولہ من انباء الغیب یعنی من اخبار الغیب۔ (تفسیر خازن جز ثالث ، ص ۱۹۳)
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام اور آپ کی قوم کا قصہ حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کو بتلایا اور فرمایا اے محبوب یہ غیب کی چیزیں ہیں ۔
٘آیت نمبر۴:اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہٖ احداً الا من ارتضیٰ من رسول (پارہ ۲۹، ع ۱۲، سورۃ جن ، آیت ۲۶، ۲۷)اس آیت کی تفسیر تفسیر خازن میں یوں ہے ۔ ملاحظہ ہو:
ھو عالم ماغاب عن العبار فلا یطع علی الغیب الذی یعلمہ والفردبہ احدا من الناس ثم استثنی فقال تعالیٰ الا من ارتضیٰ من الرسول۔یعنی الا من یعطفیہ لرسالۃ و نبوتہ فینظرہ علی من یشاء من الغیب حتی یستدل علی نبویۃ بما یخبر بہ من المغیبات فیکون ذالک معزجۃ لہ۔
(خازن ص ۱۳۶، جز سابع)
آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کا علم رکھنے والا ہے ۔ پس نہیں مطلع کرتا اپنے غیب پر کسی ایک کو مگر رسولوں میں سے جسے چاہے اس پر غیب کا اظہار کر دیتا ہے ۔ تفسیر میں یوں وضاحت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ رسولوں میں سے جس کو چن لیتا ہے اس کو جتنا چاہتا ہے غیب عطا فرما دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ غیب اپنے مصطفے ٰ نبی کو اس لئے دیتا ہے تا کہ وہ نبی اپنی نبوت کے دعوی کی دلیل کیلئے ایک علم غیب کو پیش کرے ۔ لہذا یہ غیب کا علم مصطفے ٰ نبی کا معجزہ ہو گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام نبیوں میں سے زیادہ برگزیدہ ہیں ۔ لہذا آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے علم غیب عطا کیا ہے اور علم غیب آپ کا معجزہ ہے جو آپ کے عطائی علم غیب کا انکار کرتا ہے ۔ وہ آپ کے مرتضیٰ اور مصطفے ٰ یعنی برگزیدہ ہونے کا انکار کرتا ہے ۔
آیت نمبر۵: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
وما ھو علی الغیب بضنین (پارہ ۲۰، رکوع ۶ ، سورہ التکویر ، آیت ۳۴)
تفسیر خازن سے اس کی تفسیر ملاحظہ ہو (وما ھو) یعنی محمدا صلی اللہ علیہ وسلم (علی الغیب) اسی الوحی و خبر اسماء وما طلع علیہ مما کان غائبا عن علمہ من القصص والانبا (بضنین) ای بیخیل یقول انہ یاتیہ علم الغیب ولا یبخل بہ علیکم و یخبرکم بہ ولا یکتمہ کما یکتم الکاہن ما عندہ حتی یا خذ علیہ حلوانا۔ (خازن ص ۱۸۰، جز سابع)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وسلم غیب بتاتے ہیں ۔ بخل نہیں کرتے ۔ تفسیر خازن میں آیت میں مذکور لفظ غیب کی وضاحت کی گئی کہ وہ غیب کیا ہے ۔ وہ وحی ہے اور آسمان کی خبریں اور وہ تمام خبریں اور قصص ہیں جن کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتائے یہ تمام غیب بتانے میں آپ بخیل نہیں ہے ۔ تفسیر میں مزید وضاح کی گئی ہے حضور علیہ الصلوٰہ والسلام کے پاس علم غیب ہے اور اس کے اظہار میں بخل نہیں کرتے اور نہ ہی اس کو چھپاتے ہیں جیسا کہ کاہن جو کچھ اس کے پاس ہوتا ہے اس کو چھپاتا ہے اس پر اُجرت وصول کرتا ہے ۔
اب اس مسئلہ پر چند احادیث ملاحظہ ہو:

نمبر۱:عن عبدالرحمن ابن عائش قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رایت ر بی عزوجل فی احسن صورۃ فقال فیہم یختصم الملاء الاعلیٰ قلت انت اعلم قال فوضع کفہ بین کتفی فوجدت بردھا بین ثدیی فعلمت ما فی السموات والارض و تلاو کذلک نری ابراہیم ملکوت السموات والارض فیکون من الموقنین ۔ (مشکوٰۃ شریف ص ۷۰، کتاب الصلوٰۃ باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ دوسری فصل)
حضرت عبد الرحمن بن عائش سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو احسن صورۃ میں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا ملاء اعلیٰ کے فرشتے کس بارے جھگڑ رہے ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ تو خوب جانتا ہے ۔ آپ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا میں نے دست قدرت کی ٹھنڈک کو اپنے دونوں پستانوں کے درمیان محسوس کیا پس میں نے ہر اس شی کو جان لیا جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور حضور علیہ السلام نے یہ آیت پڑ ھی ۰جس کا ترجمہ یہ ہے )
اسی طرح دکھاتے ہیں ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے ۔
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فعلمت ما فی السموات والارض کے تحت لکھتے ہیں :
پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی و کلی و احاطہ آں (اشعۃ للمعات شرح مشکوٰۃ ص ۲۳۳، جز اوّل)

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں کی ہر شیٔ کا علم مجھے آ گیا یعنی جزوی علوم اور کلّی علوم آپ کو حاصل ہو گئے ۔
پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بطور دلیل یہ آیت پڑ ھی کذلک نری ابراہیم ملکوت السموات والارض لیکون من الموقنین ۔ کہ جیسے آپ کو ہم نے ہر شیٔ دکھا دی اور علم دے دیا ایسے ہی ہم ابراہیم علیہ السلام کو زمین و آسمان کے ملکوت دکھاتے ہیں ۔ آیت کریمہ میں چونکہ ماضی کے قصہ کی حکایت کی جا رہی ہے ۔ اس لئے کذلک ارینا ہونا چاہیئے تھا لیکن نُری استمرار پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اب بھی عادت جاری ہے کہ اپنے محبوبوں کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت دکھاتا ہے ۔
شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مشاہدہ میں فرق بیان کیا ہے ۔
اہل تحقیق گفتہ اند کہ تفاوت است درمیاں ایں دو روایت زیراکہ خلیل علیہ السلام ملک آسمان رادید و حبیب ہر چہ در آسمان و زمین بود حالی از ذوات و صفات و ظواہر و بواطن ہمسہ رادید و خلیل حاصل شد مرا اورا یقین بوجوب ذاتی و وحدت حق بعد از دیدن ملکوت آسمان و زمین چنانکہ حال اہل استدلال و ارباب سلوک و محبان و طالبان میبا شد و حبیب حاصل شد مرا اور ا یقین و وصول الی اللہ اوّل پس از آں دانست عالم را و حقائق آنرا چنانکہ شان مجذوبان و محبوبان و مطلوبان ست۔
پہلا فرق یہ ہے کہ حضرت (خلیل ) ابراہیم علیہ السلام نے زمین و آسمانوں کے ملک کو دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زمین اور آسمانوں کو ہی نہیں دیکھا بلکہ زمین اور آسمانوں کو اور ذوات اور صفات تھیں ظاہر تھیں یا باطن تھی سب کو دیکھا ۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وجوب ذاتی اور وحدت حق کا یقین زمین و آسمان کے ملکوت دیکھنے کے بعد حاصل ہوا جو کہ اہل استدلال ارباب سلوک اور محبان اور طالبان کا حال ہے ۔
اور (حبیب) حضرت محمد مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین اور وصول الی اللہ عالم اور اس کے حقائق کے مشاہدہ سے پہلے حاصل تھا جو کہ مجذوبان اور مطلوبان کی شان ہے ۔
حدیث ۶: فاذا انا بربی تبارک و تعالیٰ فی احسن صورۃ فقال یا محمد قلت لیبک رب قال قیم یختصم والملاء الا علیٰ قلت لا ادری قالہا ثلثا قال فرأیتہ وضع کفہ بین کتفی حتی وجدت بردانا ملہ بین ثدیی فتجلی لی کل شیٔ و عرفت فقال یا محمد قلت لبیک رب قال فیہم یختصم الملا الاعلیٰ قلت فی الکفارات ۔
(مشکوٰۃ شریف ص ۷۳، کتاب الصلوٰۃ باب المساجد و مواضع الصلوٰۃ تیسری فصل)
پس اچانک میں اپنے رب کو احسن صورۃ میں دیکھتا ہوں ۔ پس فرمایا اللہ تعالیٰ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )میں نے عرض کیا لبیک اے میرے رب ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ملّا اعلیٰ کس بارے میں بحث کر رہے ہیں ، میں نے کہا میں نہیں جانتا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کلمات تین مرتبہ د ہرائے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس دست قدرت کے پوروں کی ٹھنڈک کو اپنے پستانوں کے درمیان پایا۔ پس میرے لئے ہر شیٔ ظاہر اور روشن ہو گئی اور میں نے ہر شیٔ کو پہچان لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نے عرض کیا لبیک ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ملّا اعلیٰ کس میں بحث کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا کفارات میں ۔ فتجلی لی کل شیٔ و عرفت کی شرح میں شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے فرمایا:
پس ظاہر شدد روش شد ط رمرا ہر چیز از علوم و شناختم ہمہ۔
پھر میرے لئے علوم سے ہر چیز روشن اور ظاہر ہو گئی اور میں نے ہر شیٔ کو پہچان لیا۔
پہلی حدیث میں تھا فعلمت اس میں ہے عرفت۔ علم عام ہے کلی کا ہو یا جزی کا اور عرفان خاص ہے کہ یہ جزئیات کی ہوتی ہے ۔ لہذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے زمین آسمان اور ان میں موجود جزی جزی کو دیکھا اور علم حاصل کیا۔ اسی حدیث شریف کے آخر میں ہے فقال صلی اللہ علیہ وسلم انھا حق حق فادرسو ھا ثم تعلموھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ روایت حق ہے اس کو پڑ ھاؤ اور خود اسے یاد رکھو ۔ اس میں آپ کا علم غیب واضح ہے آپ کو پتہ تھا کہ بعد میں ایسی قوم آئے گی جو میرے علم غیب پر اعتراض کرے گی ۔ اس لئے لہذا یہ حدیث جس میں میرے علم غیب کا ثبوت ہے ۔ یہ لوگوں کو پڑ ھاؤ اور اس کی تبلیغ کرو ۔ کچھ لوگ اس حدیث کی صحت کے بارے میں شک کرتے ہیں ۔ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ الباری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ہذا حدیث صحیح۔ یہ صحیح حدیث ہے ۔ (مشکوٰۃ ص ۷۲)
حر رہ فقیر عطاء محمد چشتی گولڑ وی دھمن پدھراڑ
۱۶ رجب المرجب ۱۴۰۹ھ؁ مطابق ۲۲ فروری ۱۹۸۹ء؁)