Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Results 1 to 2 of 2
  1. #1

    Default کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ

    کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ

    اگر آدمی صرف قیام سے عاجز ہے اور رکوع اور سجدے کرسکتا ہے، وہ آدمی فرش پر یا کرسی پر بیٹھ کر تو نماز پڑھ سکتا ہے مگر اسے رکوع حقیقی اور سجدے حقیقی ادا کرنا فرض ہیں۔ فرش پر بیٹھے آدمی کے لئے رکوع حقیقی اور سجدے آسان ہیںمگر کرسی پر بیٹھنے والے کو رکوع کے وقت سر جھکانے کے ساتھ پشت بھی منحنی کرناہوگی، تب حقیقی رکوع حاصل ہوگا اور کرسی سے اتر کر سجدے کرنا ہوں گے، کرسی پر بیٹھے آدمی کی اگر پشت منحنی نہ ہوئی (یعنی جھکی نہ) صرف سر کااشارہ کیا تو یہ رکوع کرلینے کے بعد کرسی چھوڑ کر سجدے ادا کرے، سجدوں سے اٹھ کر پھر سے کرسی پر بیٹھ جائے۔
    فتاویٰ شامی میں ہے۔
    ان کان الرکوع بمجرد ایماء الراس من غیر انحناء و میل الظہر فہذا ایماء الرکوع فلا یعتبر السجود بما الایماء مطلقا (۲/۵۶۹)
    ترجمہ: اگر اس کا رکوع صرف سر کے اشارے کے ساتھ ہے، پشت کے انحناء اور میل کے بغیر تو یہ ایماء ہوگا، رکوع نہیں ہوگا۔ سجدوں پر قادر آدمی کے لئے اس کے بعد سجدے معتبر نہیں ہوںگے۔
    اگر قیام سے عاجز یا زمین پر سجدوں سے عاجز آدمی قدموں سے ایک ڈیڑھ فٹ اونچی کرسی یا صوفہ پر بیٹھ کر سجدوں کی جگہ لکڑی کی ڈیسک یا پتھر یا ٹیبل، جس کی اونچائی نو (۹) انچ تک ہو، اس پر سجدے کرسکتا ہے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ اس پر لازم ہے کہ کوئی چیز آگے رکھے اور آگے رکھی ۹ انچ ٹھوس چیز پر حقیقی رکوع اور حقیقی سجدے ادا کرے، ورنہ نماز نہیں ہوگی۔
    چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے۔ زمین پر رکھی چیز ایسی ہو جس پر سجدے صحیح ہوں۔ مثلا پتھر وغیرہ اور وہ دو اینٹوں یعنی بارہ انگلی (۹) سے اونچی نہ ہو، اس چیز پر سجدے حقیقی سجدے ہوں گے۔
    فیکون راکعا ساجدا الا مؤمیئا
    پس وہ شخص ساجد اور راکع ہوگا مومی (اشارہ کرنے والا) نہیں ہوگا۔
    آج کل بعض لوگ قدموں سے تقریبا دو فٹ اونچائی والی کرسی پر بیٹھ کر نماز اشاروں سے ادا کرلیتے ہیں اور ان کے قدم زمین پر ہوتے ہیں۔ ان میں اکثر لوگ صرف گھٹنوں یا ٹانگوں میں معمولی درد کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر اشاروں سے نماز ادا کررہے ہوتے ہیں۔وہ حقیقی سجدوں سے عاجز ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگ حقیقی سجدوں پر قادر ہیں اور اشاروں سے نماز ادا کرتے ہیں، ان کی نماز ادا نہیں ہوتی۔ سجدوں پر قدرت خواہ فرش پر دو زانوں بیٹھ کر یاچوکڑی مار کر قبلہ کی جانب ٹانگیں پھیلا کر کسی بھی کیفیت میں جب ممکن ہو تو ان پر حقیقی سجدے فرض ہوں گے۔ ان کی اشاروں سے نماز نہیں ہوگی۔
    بعض لوگوں نے کرسی کے بازئوں کے آگے اسٹڈی ٹیبل نما ڈیسک یا بنچ کرسی کے ساتھ جوڑا ہوتا ہے اور اس پر سجدے کرتے ہیں۔ وہ ٹیبل اگرچہ کرسی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے زمین پر رکھی ہوتی ہے اور اس کا اعتماد اور سہارا زمین پر ہوتا ہے اور ٹھوس بھی مگر وہ ٹیبل نمازی کے قدموں کی جگہ سے دو فٹ سے زائد بلند ہوتی ہے، اس لئے اس پر سجدہ جائز نہیں ہوتا۔ اگر حقیقی سجدوں سے عاجز ڈیسک پر سجدہ کرنے والوں نے ٹیبل پر پیشانی رکھنے کے ساتھ ساتھ رکوع اور سجدوں کے لئے اشارہ بھی کیا تو نماز ہوجائے گی، ورنہ ڈیسک پر پیشانی رکھنے سے بھی نماز ادا نہیں ہوتی۔
    کرسی پر بیٹھنے والے حضرات اگر حقیقت میں سجدے کرنے پر قادر نہیں ہوتے، انہیں رکوع اور سجدے اشاروں سے کرنا ضروری ہیں۔ حقیقی رکوع اور سجدوں کا خلف (قائم مقام) اشارے ہیں اور اشارہ صرف سر جھکانے کے ساتھ ہوتا ہے اور سجدوں کے لئے رکوع سے زیادہ جھکائو سے اشارہ کیا جائے۔ اور اگر فرش پر بیٹھ کر حقیقی سجدے کرنے کی قدرت ہو تو فرش پر بیٹھنا فرض ہے تاکہ سجدے ادا ہوجائیں۔ اشاروں سے رکوع اور سجدے اس وقت ادا ہوتے ہیں جب فرش اور کرسی دونوں میں کسی پر بیٹھ کر سجدے نہ کئے جاسکیں۔
    میرا خیال ہے کہ آج کل دور دور سے چل کر آنے والے صحت مند حضرات ٹانگوں میںادنیٰ تکلیف کی وجہ سے کرسیوں پر بیٹھ کر اشاروں سے نمازیں ضائع کررہے ہیں اور ہمارے خطباء مسائل کی عدم واقفیت کی وجہ سے خاموش ہیں۔ مقتدیوں کی رہنمائی کرنے سے عاجز ہیں اور مفتیان عظام عدم مطالعہ کی وجہ سے شرح صدر کے ساتھ فتویٰ دینے سے خوفزدہ ہیں۔اﷲ تعالیٰ سب کو ہدایت فرمائے۔ میں نے اپنے شناسا صحت مند نمازی کو ایک دن دیکھا، وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا۔ آپ کوکیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا، میری ایڑھی میں سخت درد ہوتا ہے۔ جب میں نے انہیں مسئلہ کی وضاحت کی تو وہی صاحب اگلی صف میں کھڑے ہوکر اصلی رکوع اور سجدوں کے ساتھ نماز ادا کرنے لگے۔
    جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔ بعض بزرگ علماء اور مشائخ کو میں نے خود دیکھا کہ کرسیوں پر یا فرش پر بیٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں بلکہ پڑھا رہے ہوتے ہیں۔چونکہ علماء اور مشائخ کا عمل حجت ہوتا ہے، اس لئے ان کو دیکھ کر عام لوگ بھی ادنیٰ تکلیف کے باعث بھی قیام اور رکوع اور سجدوں کا ترک کرکے نمازوں کے تارک ہورہے ہیں۔ علماء اور مشائخ سب گناہوں میں شریک ہیں۔ اﷲ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے، ان کی رہنمائی کرنی چاہئے۔
    میرے خیال میں سجدوں سے عاجزی کا حقیقی عذر نہایت تھوڑے آدمیوں کو لاحق ہوتاہوگا۔ مثلا ایکسیڈنٹ کے مریض، جن کے سینے کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں یا دل کا تازہ آپریشن کرانے والے حضرات، جن کو ڈاکٹروں نے چند دنوں کے لئے حقیقی سجدوں سے منع کیا ہے، یا خاص قسم کے مفلوج حضرات وغیرہم لوگ۔ مگر آج کل تو مساجد میں بیسیوں لوگ کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی دوڑتے ہوئے کرسی خود اٹھائیں گے، صف میں کرسی رکھ کر دبک کر اس پر بیٹھ جائیں گے (یہ بے ادبی ہے) بعض لوگ قیام اور رکوع کرکے پھر کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں اور سجدوں کے لئے اشارہ کرتے ہیں اور کچھ لوگ قیام نہیں کرتے مگر کرسی پر بیٹھے رکوع کے لئے جب اشارہ کرتے ہیںتو پشت اور سر دونوں کو جھکاتے ہیں اور دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں سے اٹھا کر آگے کرکے حجر اسود کے استلام کی طرح کرتے ہیں اور سجدوں کے لئے بھی سر جھکا کر پشت کو ٹیڑھا کرتے ہیں اور سجدوں کے لئے اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں رکوع اور سجدوں میں جھکائو برابر ہوتا ہے، یہ طریقے صحیح نہیں ہیں۔ ان طریقوں سے ادا کرنے والے لوگوں کی نماز ادا نہیں ہوتی۔ اشارہ صرف سر کے جھکانے سے ادا ہوتا ہے۔ پشت کو ٹیڑھا کرنے سے حقیقی رکوع ہوجاتا ہے۔ سجدوں سے معذور آدمی کے لئے اگرچہ حقیقی رکوع بھی جائز ہے مگر اس آدمی کے ذہن میں ہوتا ہے کہ میں نے رکوع کا بھی اشارہ کیا ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ قیام بھی کریں تاکہ قیام اور رکوع، جن کی فرضیت سجدوں میںعذر کی وجہ سے ساقط تھی، دونوں ادا ہوجائیں اور اگر کرسیوں پر بیٹھنے والے نمازی فرش پر کسی ہیئت میں بیٹھ کر سجدے کرسکتے ہیں، ان کی کرسیوں پر نماز نہیں ہوگی۔ کیونکہ ایسے لوگ سجدے سے عاجز نہیں ہیں۔ کرسی خود سجدوں کے لئے رکاوٹ ہوتی ہے۔ کرسی سے اتر کر سجدے کرنے میں صف سے آگے نکل کر سجدے کرنے ہوتے ہیں مگر حقیقی سجدے کرنے والوں کی نماز ادا ہوجائے گی اور یہ طریقہ بھی صحیح ہے، بشرطیکہ رکوع بھی حقیقی کیا گیا ہو کیونکہ رکوع کے لئے ایماء حقیقی سجدوں سے پہلے معتبر نہیں ہوتا۔ رکوع پر قدرت کے باوجود رکوع کے لئے اشارہ کیا گیا اور سجدے بغیر اشارہ ادا کئے گئے، اس میں رکوع کا ترک لازم آنے کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی (شامی) چونکہ کرسیوں پر بیٹھ کر اشاروں سے نماز پڑھنے کا رواج بڑھتا جارہا ہے،اس لئے ہم نے قیام کے بعض مسائل لکھ دیئے ہیں تاکہ ائمہ اور خطباء اپنی اور اپنے مقتدیوں کی اصلاح کرسکیں۔
    قیام کے متعذر ہونے کے بعد قعود فرض ہوجاتا ہے، قعود پر قادر لیٹ کر نماز نہیں پڑھ سکتا اور قعود کے متعذر ہونے کے بعد لیٹ کر اشاروں سے نماز پڑھنا فرض ہوتا ہے۔ لیٹے ہوئے قبلہ کی طرف ٹانگیں کرلی جائیں اور سر کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو تھوڑا اونچا کرلیا جائے اور اگر ٹانگوں کو فولڈ کرکے پیروںکو اٹھالیا جائے تاکہ پیر قبلہ کی سیدھ میں نہ ہوں تو بہتر ہے۔ قعود (بیٹھنے) سے معذور آدمی دائیں یا بائیں کروٹ پربھی قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنی سہولت کے مطابق نماز ادا کرسکتا ہے۔
    حاصل کلام یہ ہے کہ کرسیوں پر نمازپڑھنے والوں میں اکثر لوگ سجدوں سے عاجز نہیں ہوتے۔ لہذا ان کی نماز نہیں ہوتی اور ترک صلوٰۃ کا گناہ جیسے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں پر ہے اسی طرح علماء اور ائمہ پر بھی ہوتاہے۔ لہذا کرسیوں پر نماز پڑھنے کی ہر ممکن حوصلہ شکنی کی جائے۔

  2. #2

    Default

    سبحان اللہ
    اہم دینی معلومات
    شیئر کرنے کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

+ Reply to Thread

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Online Quran Academy