Advanced Search
 
+ Reply to Thread
Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 12
  1. #1
    Junior Member
    Join Date
    Jun 2015
    Posts
    21

    Default Shirk aur Ghair Ullah se Madad

    تمہید قرآن کریم نے جتنا زور توحید کے اثبات اور شریک کی تردید پر دیا ہے اتنا زور کسی دوسرے مسئلے پر نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے: ان الشرک لظلم عظیم (لقمان: 13) یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ قرآن پاک بتاتا ہے کہ تمام انبیا کی دعوت کا مرکزی نکتہ ایک ہی تھا: لا الہ الا اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی بھی الہ نہیں ہے۔ وما ارسلنا من قبلك من رسول الا نوحي اليه انه لا اله الا انا فاعبدون (الانبیاء: 25) اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی الہ نہیں تو میری ہی عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے قانون میں شرک کتنی بری چیز ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ سورۃ انعام میں اللہ تعالیٰ اٹھارہ انبیائے کرام علیہم السلام کے نام گنوانے کے بعد فرماتے ہیں: ولو اشركوا لحبط عنهم ما كانوا يعملون (الانعام:88) اور اگر وہ لوگ بھی شرک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہو جاتے یعنی مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات کے کسی کو شریک ٹھہرانا کس قدر ناپسند ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرے کے کہا جارہا ہے: ولقد اوحي اليك والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين (الزمر: 65) اور (اے محمدﷺ) تمہاری طرف اور ان (پیغمبروں) کی طرف جو تم سے پہلے ہو چکے ہیں یہی وحی بھیجی گئی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارے عمل برباد ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے۔ گو کہ نبی سے شرک ہونا ناممکن ہے لیکن امت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے۔ انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ و ماوہ النار وما للظٰلمین من انصار (مائدہ: 72) یقینا جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سے ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان تجعل للہ ندا و ھو خلقک (صحیح البخاری) کہ تو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے۔ حضرت ابوہریرۃؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ایسی ہوتی ہے جس کو درجہ قبولیت حاصل ہوتا ہے اور ہرنبی نے ایسی دعا دنیا کے اندر ہی کر لی ہے لیکن میں نے وہ دعا ابھی تک نہیں کی وہ دعا میں نے اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھوڑ رکھی ہے۔ لیکن یہ دعا کس کے حق میں قبول ہو گی؟ پڑھیے: فھی نائلۃ ان شاء اللہ من مات من امتی لایشرک باللہ شئیا (صحیح مسلم) تو وہ دعا اللہ تعالیٰ کے حکم سے میری امت میں سے ہر اس شخص کو پہنچ سکتی ہے جس کی وفات اس حالت میں ہوئی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان کے شرک میں ملوث ہوجانے کا خطرہ ہے۔ حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں مجھے میرے محبوب ﷺ نے یہ وصیت کی ہے: ان لاتشرک باللہ شیئا وان قطعت او حرقت (سنن ابن ماجہ) کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا چاہے تم ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یا قتل کردیے جاؤ۔ خلاصہ یہ کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔ مشرک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بنا رہے گا۔ اس کے باوجود لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ قلب کی گہرائیوں سے اپنے اعمال کو اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس تمام تر گمراہی کی بنیادی وجہ ایک ہے وہ یہ کہ عام مسلمان سمجھتا ہے کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام جن لوگوں میں آیا وہ بت پرست تھے۔ کیونکہ وہ بت پرست تھے اس لیے وہ تمام آیتیں اور حدیثیں جن میں شرک کی برائی آئی ہے ان سے بت پرستی والا شرک ہی مراد ہے۔ اس مضمون میں اس مغالطے کا جائزہ لے کر حقیقت بیان کی گئی ہے۔آیئے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ مشرکین عرب کا خود اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کیا عقیدہ تھا۔ مشرکین عرب کا عقیدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری تھے۔ یقینا نہیں! مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکاری نہیں تھے۔ وہ نہ صرف اس کے ہونے کے قائل تھے بلکہ بہت ساری چیزوں کو وہ صرف اسی کی طرف منسوب کرتے تھے ]حاشیہ: [ مثلا مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو آسمانوں اور زمین کا خالق اور رازق، کائنات کے امور کو چلانے والا، اور ہر چیز کا اختیار رکھنے والا مانتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے۔ خالق اللہ ولئن سالتهم من خلقهم ليقولن الله فانى يؤفكون (الزخرف: 87) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟ ولئن سالتهم من خلق السمٰوٰت والارض ليقولن الله (الزمر: 38) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ اللہ نے رزق دینے والا اللہ، مالک اللہ، زندگی دینے والا اللہ، موت دینے والا اللہ،دنیا کے امور چلانے والا اللہ قل من يرزقكم من السماء والارض ام من يملك السمع والابصار ومن يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ومن يدبر الامر فسيقولون الله فقل افلا تتقون (یونس: 31) (ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ سے) ڈرتے کیوں نہیں؟ زمین و آسمان کا مالک اللہ، ہر چیز کا مالک اللہ، بچانے والا اللہ، گھیرنے والا اللہ قل لمن الارض ومن فيها ان كنتم تعلمون () سيقولون لله قل افلا تذكرون () قل من رب السمٰوٰت السبع ورب العرش العظيم() سيقولون لله قل افلا تتقون() قل من بيده ملكوت كل شيء وهو يجير ولا يجار عليه ان كنتم تعلمون() سيقولون لله قل فانى تسحرون (یونس: 84-89) کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا ہے؟ جھٹ بول اٹھیں گے کہ اللہ کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے؟) بےساختہ کہہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) اللہ ہی کی ہیں، کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ بچاتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا، فورا کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) اللہ ہی کی ہے، تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے۔ یہیں سے یہ بات بھی سمجھ آجاتی ہے کہ وہ بتوں کو اللہ نہیں مانتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ بتوں کا اللہ نہیں مانتے تھے تو پھر وہ بتوں کی پوجا کیوں کرتے تھے؟ درحقیقت بتوں کو وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ذہن کسی پیکر محسوس کے واسطے سے اللہ تعالیٰ سے جڑنے کا طلبگار تھا۔ اسی لیے وہ کہتے تھے: والذين اتخذوا من دونه اولياء ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى (الزمر:3) اور جن لوگوں نے اس کے (اللہ) سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کی اس لئے عبادت ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنادیں۔ ويعبدون من دون الله ما لا يضرهم ولا ينفعهم ويقولون هؤلاء شفعاؤنا عند الله (یونس: 18) اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔
    (جاری ہے)​

  2. #2
    Junior Member
    Join Date
    Jun 2015
    Posts
    21

    Default Masla e Hazir o Nazir pr aitrazat k jawab


    حاضر و ناظر
    ہمارے یہاں جن مسائل پر عموما بحث کی جاتی ہے ان میں سے ایک رسول اللہ ﷺ کے حاضر و ناظر ہونے کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں یہ تحریر پیش خدمت ہے۔ اس کا بنیادی مواد معروف بریلوی عالم مولانا سید سعید کاظمیؒ کی اسی مسئلے پر لکھی ہوئی جامع کتاب تسکین الخواطر فی مسئلۃ حاضر و ناظر سے لیاگیا ہے۔ امید ہے کہ اس مسئلے کی علمی حیثیت واضح ہوجائے گی۔
    اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند باتیں سمجھ لینا ضروری ہے:
    1) انسان کی حقیقت روح ہے۔ جسم اس روح کے لیے واسطہ ہے۔
    2) موت سے انسان کا مادی جسم فنا ہوجاتا ہے ، (انبیائے کرام اس اصول سے متثنی ہیں)۔ روح کو فنا نہیں وہ باقی رہتی ہے۔
    3) موت کے بعد روح کا مقام عالم برزخ ہے جہاں اس کو ثواب یا عذاب ہوتا ہے۔
    4) عالم برزخ کی کیفیت سے ہم ناواقف ہیں اسی لیے روح کو پہنچنے والے ثواب یا عذاب کی کیفیت ہم کو نہیں معلوم۔ اہل علم کے نزدیک روح کو ایک دوسرا جسم عطاکیا جاتا ہے اس کو جسم مثالی کہا جاتا ہے۔ یہی جسم مثالی روح کے لیے اثرات کے وصول کا ذریعہ بنتاہے۔ یہ تو ہوئی عالم برزخ کی بات۔ جسم مثالی کی توضیح ایک اور اشکال (سوال) کو حل کردیتی ہے۔ وہ اشکال یہ ہے کہ کئی واقعات ملتے ہیں جس میں حالت بیداری میں لوگوں نے کسی بزرگ، شہید وغیرہ کی زیارت کی۔ روح تو اس عالم میں آنہیں سکتی کہ اس کا مقام تو عالم برزخ ہے تو سوال یہ پیدا ہوا کہ پھر زیارت کرنے والے نے کس کو دیکھا؟ اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ زیارت جسم مثالی کی ہوتی ہے نہ کہ جسم حقیقی کی اور نہ ہی روح کی۔ جسم مثالی میں تعدد (ایک سے زیادہ ہونا) ہونے کا امکان بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کی مثال ٹیلی ویژن کی ہے جس میں ایک شخص اسٹودیو میں بیٹھا ہوتا ہے اور کی شبیہ پورے عالم میں نظر آرہی ہوتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
    ان نکات کو سمجھ لینے کے بعد اب تسکین الخواطر کا یہ اقتباس پڑھیے اس طویل اقتباس کو محض سہولتِ حوالہ کی خاطر نمبر وار لکھا گیا ہے۔
    1) حضور ﷺ کیلئے جو لفظ حاضر و ناضر بولا جاتا ہے اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بشریت مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جز میں موجود ہوتی ہے اسی طرح روح دو عالم ﷺ کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہر ذرہ میں جاری و ساری ہے
    2) جس کی بنا پر حضور ﷺ اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر بھی تشریف فرما ہوتے ہیں
    3) اور اہل اللہ اکثر و بیشتر بحالت بیداری اپنی جسمانی آنکھوں سے حضور کے جمال مبارک کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اور حضور ﷺ بھی انھیں اپنی نظر رحمت سے مسرور و محفوظ فرماتے ہیں۔
    4) گویا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنے غلاموں کے سامنے ہونا سرکار کے حاضر ہونے کے معنی ہیں اور انھیں اپنی نظر مبارک سے دیکھنا حضور کے ناظر ہونے کا مفہوم ہے۔ (ص: 17)
    یہ عبارت اس مسئلے میں بہت اہم بلکہ حتمی ہے اور اس مسئلے کو بالکل بے غبار کردیتی ہے۔ مندرجہ ذیل باتیں اس عبارت سے واضح ہوتی ہیں:
    حاضر و ناظر بزرگان دین کا حالت بیداری میں آپ ﷺ کی زیارت فرمانے کا عنوان ہے۔نکتہ 3 اور 4۔
    ( رسول اللہ ﷺ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود نہیں ہیں۔ (نکتہ 1)
     یہ حاضر و ناظرہ ہونا بھی ہروقت اور ہر لحظہ نہیں ہے۔ نکتہ 2 کے الفاظ دوبارہ پیش خدمت ہیں، ان کو غور سے پڑھیں:
    حضور ﷺ اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر بھی تشریف فرما ہوتے ہیں ۔
    اب صفحہ 90 کی یہ عبارت پڑھیں:
    5) مقامات کثیرہ اور امکنہ متعددہ میں حضور ﷺ کا تشریف فرما ہونا نہ صرف ممکن بلکہ امر واقع ہے۔
     ان عبارات (2 اور 5) کا واضح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے جسم مثالی کی زیارت متعدد مقامات (نہ کہ ہر مقام) پر ایک ہی وقت میں ہو سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہ ہر وقت ہر مقام پر آپ ﷺ جسم مثالی سے موجود ہیں۔ ایسا ہونا کبھی کبھار ہے اور مشیت الٰہی پر موقوف ہے۔ نکتہ ۱ میں روحانیت اور نورانیت کے الفاظ جسم مثالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
    آپ ﷺ کا اہل عرفان اور اہل بصیرت کو اپنی زیارت سے مشرف فرمانا زمان و مکان کی قید سے ماورا ہے۔
    رسول اللہ ﷺ کا خواب میں کسی کو نظر آجانا یہ معروف بات ہے لیکن حاضر و ناظر حالت بیداری میں آپ ﷺ کی زیارت کا عنوان ہے۔ حالت بیداری میں آپ ﷺ کا دیدارکرنا عین ممکن ہے۔اس بات کی تائید میں حضرت کاظمیؒ دیگر حوالوں کے علاوہ صفحہ 125پر مشہور دیوبندی عالم انور شاہ کشمیری ؒکی تحریر نقل فرماتے ہیں:
    6) میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا جاگتے ہوئے بیداری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھنا ممکن ہے جس کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطا فرمائے۔
     آپ ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا بشری یعنی جسم اقدس کے ساتھ نہیں بلکہ روحانی اعتبار سے جس کی توضیح جسم مثالی سے کی جاتی ہے۔ دیکھیے عبارت 2۔
    اس بات کو صفحہ 160پر حضرت مولانا یوں فرماتے ہیں:
    7) ہم حضور ﷺ کو بشریت مقدسہ کے ساتھ ہرگز حاضر وناظر تسلیم نہیں کرتے بلکہ حضور کی نورانیت و روحانیت اور حقیقت مبارکہ کے ساتھ حضور کو حاضر وناظر مانتے ہیں۔ (ص:160)
    اسی بات کو صفحہ ۱۷۲ پر مزید وضاحت کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں:
    8) قبر شریف میں حضورﷺ اپنی بشریت مطہرہ کے ساتھ رونق افروز ہیں اور ظاہر ہے کہ بشریت ایک محدود چیز ہے۔ اگرچہ حضور ﷺ کی روحانیت اور نورانیت تمام عالم میں موجود ہے لیکن جب تک اس کی صحیح معرفت کے بعد قرب روحانی حاصل نہ ہو اس وقت تک کوئی شخص اس روحانیت مقدسہ کے حاضر وناظر ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
    رسول اللہ ﷺ کا جسم مبارک قبر شریف میں موجود ہے۔ لہذا جن کو حالت بیداری میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوتی ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے جسد اقدس کو نہیں دیکھتے بلکہ یہ زیارت جسم مثالی کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ تعدد (کثرت) کا امکان جسم مثالی کے ساتھ تو ہوسکتا ہے جسم عنصری (مادی) کے ساتھ ممکن نہیں اس لیے کہ جسم عنصری محدود ہے جس کی طرف مولانا کاظمی نے ان الفاظ سے کیا ہے:
    قبر شریف میں حضورﷺ اپنی بشریت مطہرہ کے ساتھ رونق افروز ہیں اور ظاہر ہے کہ بشریت ایک محدود چیز ہے۔
    جب بشریت محدود چیز ہے تو وہ ذات ایک مقام پر ہوگی نہ کہ ہر مقام پر۔ اگر کوئی جسم عنصری (مادی بدن) میں کثرت مانے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا شخص آپ ﷺ جیسی کئی شخصیات کا قائل ہے اور یہ بلاشک کفر ہے۔
    یہ مقام (یعنی رسول اللہ ﷺ کا حاضر و ناظر ہونا) ہر ایک کے لیے نہیں بلکہ یہ خاص اہل اللہ کا مقام ہے۔ نکتہ 8کی عبارت پیش خدمت ہے:
    جب تک اس کی صحیح معرفت کے بعد قرب روحانی حاصل نہ ہو اس وقت تک کوئی شخص اس روحانیت مقدسہ کے حاضر وناظر ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
    علامہ کاظمیؒ نے تسکین الخواطر میں ان حضرات کے لیے جن کو یہ مقام حاصل ہے، اہل عرفان، اصحاب نظر و برہان، اہل بصیرت، کاملین جیسے لفظ استعمال کیے ہیں۔
    مولانا کاظمی ؒ صفحہ 154پر تفسیر روح المعانی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:
    9) میری (صاحب روح المعانی )غایت (آخری) گفتگو یہ ہے کہ یہ رویت (دیکھنا) جو صوفیہ کے لئے واقع ہوئی یہ معجزات انبیاء اور کرامات اولیاء کی طرح خوارق عادت سے ہے۔
    بیداری میں آپ ﷺ کی زیارت اہل اللہ کی کرامت ہے۔
    اسی کتاب کے صفحہ 20کی عبارت ہے:
    10) بندے کو کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مشیت جزئیہ کے ما تحت نہ سمجھنا یا اس کو کسی حال میں کسی اعتبار سے اللہ تعالیٰ سے مستغنی اور بے نیاز قرار دینا شرک جلی اور کفر خالص ہے۔
    صفحہ 17 پر تحریر فرماتے ہیں:
    11) یاد رکھئے اللہ تعالیٰ جو کسی مخلوق کو کوئی کمال عطا کرتا ہے تو اس کے متعلق صرف یہ اعتقاد مومن ہونے کے لئے کافی نہیں کہ یہ کمال اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اتنی بات تو مشرکین بھی اپنے معبودوں کے حق میں تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ مومن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عطائے خداوندی کا عقیدہ رکھتے ہوئے یہ اعتقاد بھی رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کمال کسی مخلوق کو عطا فرمایا ہے وہ عطا کے بعد حکم خداوندی ارادہ اور مشیت ایزدی کے ماتحت ہے۔ ہر آن خداوندتعالیٰ کی مشیّت اس کے ساتھ متعلق ہے، اور اس بندے کا ایک آن کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے بے نیاز اور مستغنی ہونا قطعاً محال اور ممتنع بالذات ہے۔
     دسویں اور گیارہویں عبارت کا مطلب یہ ہے کہ انبیائے کرام کے معجزے اور اولیائے کرام کی کرامتیں سب کا معاملہ محض اللہ کی مرضی اور مشیت پر مبنی ہے۔ اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا بقول حضرت کاظمیؒ کھلا شرک اور خالص کفر ہے۔
    تسکین الخواطر کی جو عبارت شروع میں پیش کی گئی ہے اس میں نکتہ نمبر 1میں حضرت کاظمیؒ نے تحریر فرمایا ہے:
    روح دو عالم ﷺ کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہر ذرہ میں جاری و ساری ہے۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام عالم میں آپ ﷺ کا فیض جاری و ساری ہے، جیسا کہ صفحہ173 حضرتؒ لکھتے ہیں:
    جس طرح میری حیات ظاہری میں میرے بارگاہ میں حاضر ہونے والا کبھی محروم نہیں ہوا بالکل اسی طرح بعد الوصال بھی میرا فیض جاری ہے۔
    اس کی وضاحت ایک اور جگہ یوں کی ہے:
    مسلمانوں کیلئے اس طور پر کہ دنیاوی زندگی میں وہ ہمارے ہادی و رہبر اور آخرت میں ہمارے شفیع ہیں۔
    کافروں کیلئے آپ رحمت یوں ہے کہ آپ کے لائے ہوئے دین کو قبول کر کے وہ بھی اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہے۔
    ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌامید ہے کہ حضرت علامہ کی تحریروں روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت ہوگئی ہوگی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ناواقفیت کی وجہ اس مسئلے میں غلو کیا جاتا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث سے بھی اس مسئلے کی وضاحت کردی جائے۔
    اس سلسلے میں قرآنی آیات پیش خدمت ہیں:
    وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ (الحدید: 4)
    ترجمہ: کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو
    یعنی اللہ تعالیٰ ہرجگہ تمہارے ساتھ ہے، یہ اللہ کے حاضر ہونے دلیل ہے۔
    لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوَاتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ (سبا: 3)
    ترجمہ: زمین و آسمان کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں
    یہ اللہ کے ناظر ہونے کی دلیل ہے۔
    سورۃ القصص میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَمَا کُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْْنَا اِلٰی مُوسٰی الْاَمْرَ وَمَا کُنتَ مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (القصص: 44)
    ترجمہ: اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کے) مغرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے۔
    اس آیت کی تفسیر میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرمایا کہ آپ ﷺ طور کے مغرب کی طرف نہیں تھے اس کے باوجود آپ اس واقعے کی اطلاع دے رہے ہیں تو یہ یقینا وحی ہی کے ذریعے سے آپ ﷺ کو معلوم ہوا ہے۔
    اس آیت میں آپ ﷺ کا شاہد نہ ہونا مذکور ہے۔ البتہ سورۃ احزاب آیت ۴۵ میں آتا ہے:
    یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاہِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِیْراً
    اے نبی! ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
    فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓوُلاَئِ شَھِیْدًا (النساء: 45)
    ترجمہ: اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے حاضر کریں گے۔
    وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلٰی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا (البقرۃ : 143)
    ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواہ بنیں۔
    ان آیات میں آپ ﷺ کو منصب شہادت (گواہی) پر نافذ فرمایا گیا ہے۔ ان آیات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب آپ ﷺ پچھلی امتوں کے حال پر گواہ ہیں تو لازم ہے کہ آپ ﷺ حاضر و ناظر ہوں اس لیے کہ گواہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ موقع پر حاضر ہو۔ لیکن اس طور پر تو پوری امت محمدیہ بھی حاضر و ناظر ہو اس لیے کہ سورۃ بقرۃ کی آیت ۱۴۳ (دیکھیے آیت ۵) کی رو سے وہ بھی گواہی کے منصب پر فائز ہے۔ بات یہ کہ گواہی کے لیے موقع پر حاضر ہونا شرط نہیں۔ گواہی علم کی بنیاد پر بھی دی جاسکتی ہے۔ مثلاً آج کسی سے پوچھا جائے کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے متعلق تم کیا کہتے ہو تو وہ یہی کہے گا وہ اللہ کے بہت بڑے ولی تھے۔ اس کا یہ کہنا گواہی ہے جب کہ ظاہر ہے کہ اس نے ان کی زیارت نہیں کی۔ اس کی گواہی کی بنیاد وہ علم ہے جو نسل در نسل قابل اعتبار ذریعوں منتقل ہوا ہے۔ کسی مسلمان نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے علاوہ کسی کو رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اس کے باوجود ایک مسلمان کا یہ کہنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں نہ صرف معتبر ہے بلکہ اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
    اتنا واضح رہے کہ حاضر وناظر کا لفظ قرآن و حدیث میں نہ آپ ﷺ کے لئے بطور صفت و لقب بولا گیا ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں شامل ہے۔ البتہ اوپر جو آیتیں پیش کی گئی ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ہر وقت ہر جگہ موجود ہے اور اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں یعنی اللہ رب العزت حاضر و ناظر ہیں۔
    اس سلسلے میں دو حدیثیں بھی پیش خدمت ہیں۔
    حدیث ۱:
    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب قریش نے (واقع معراج میں)میرا انکار کیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میری نظروں کے سامنے کر دیا اور میں دیکھ دیکھ کر بیت المقدس کی علامات قریش کو بتلانے لگا۔ (بخاری و مسلم)
    اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ حیات مبارکہ میں بھی آپ ﷺ ہر جگہ اور ہر مقام پر ہر وقت موجود نہ ہوتے تھے اور نہ ہی ہر مقام ہر وقت آپ کے سامنے ہوتا تھا۔ اگر سامنے ہوتا یا آپ ہر وقت ہرمقام پر موجود ہوتے تو قریش کے سوالات پر آپ ﷺ کو پریشانی نہ ہوتی۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ نے پردہ ہٹا دیا تو آپ ﷺ نے قریش کے سوالات کا جواب دے دیا۔
    حدیث ۲:
    آپ ﷺ فرماتے ہیں آخرت میں حوض کوثر پر میرے پاس کچھ جماعتیں آئیں گی میں ان کو پہچان لو ں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے، پھر ان کے اور میرے درمیان پردہ حائل ہو جائے گا میں کہوں گا یہ تو میری امت کے لوگ ہیں مجھ سے کہا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں نئی نئی باتیں پیدا کیں پس میں کہوں گا دور ہو جائے دور ہو جائے وہ شخص جس نے میرے بعد دین کو بدل ڈالا۔ (بخاری)
    پہلی حدیث آپ صلی اللہ علیہ کی دنیاوی حیات کے ایک واقعے سے متعلق ہے۔ یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آپ ﷺ کو عالم برزخ میں رہتے ہوئے اس دنیا کے تمام واقعات کا علم نہیں ہوتا اسی عدم علم کی وجہ سے آپ ﷺ ان لوگوں کو حوض کوثر سے پانی پلانے لگے لیکن جب ان کے احوال سے آگہی ہوئی تو انہیں دھتکار دیا۔
    حاصل کلام یہ ہے کہ حاضر و ناظر کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر وقت ہر جگہ ، ہرمجلس، ہر محفل میں بنفس نفیس موجود ہوتے ہیں۔ یہ دراصل اہل اللہ کا حالت بیداری میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کا نام ہے۔ یہ زیارت بھی جسم اقدس کی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے جسم مثالی کی ہوتی ہے۔ یہ زیارت بھی ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ خاص الخاص اہل اللہ کا مقام ہے۔ نہ ہی یہ زیارت ان اہل اللہ کا کوئی اختیار فعل ہے بلکہ یہ محض اللہ رب العزت کا ان کے ساتھ خصوصی معاملہ ہے۔ ہر جگہ ہر وقت موجود ہونا تو اللہ رب العزت کے ساتھ خاص ہے۔ کسی مخلوق کو ہرجگہ ہر وقت موجود سمجھنا شرک ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے بلکہ اس کی صفات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں توحید کا یہی پہلو ہے جس میں انسان خطا کرجاتا ہے۔ اللہ کو اپنی ذات میں یکتا تو پکے مشرک بھی مانتے ہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

  3. #3
    Junior Member
    Join Date
    Jun 2015
    Posts
    21

    Default Taqleed per aitrazat k jawab

    تمہید
    اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے چند باتوں کو جاننا ضرورہے۔ سب سے پہلی بات جو اس سلسلے میں جاننی ضروری ہے کہ دینی علوم جس انداز سے آج مدون اور مرتب ہیں اس طرح رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہیں تھے۔
    علوم کی تدوین
    بہت سے علوم صحابہ کرام ؓمیں رائج تھے لیکن ان کی زندگیاں جہاد میں گزریں، اس لیے تدوین (کتابی شکل)کے کام کی ان کو فرصت نہ ملی۔ گو کہ ان کی اصل رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھی لیکن تدوین بعد میں ہوئی۔ مثلا:چاروں خلفائے راشدین اعلی درجے کے محدث تھے لیکن خود ان سے کوئی حدیث کا مجموعہ ہمارے پاس نہیں۔ حدیث کی تدوین کا کام بعد میں ہوا۔ یا جیسے حضرت کعبؓ بہت بڑے قاری تھے۔ لیکن ان کی طرف سے اس علم پر کوئی تصنیف نہیں۔ البتہ بعد کے لوگوں نے اس کو مدون کردیا اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے کام آسان فرما دیا۔
    زمانے کے تقاضے

    دوسری بات یہ سمجھنے کی ہے کہ وقت اور حالات کے تقاضوں نے بہت سے مسائل پیدا کیے اور بہت سے وہ کام کیے گئے جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہیں تھے۔ مثلا قرآن پاک کو ایک مصحف (کتابی شکل) میں جمع کرنا رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہیں ہوا تھا لیکن حالات کے تقاضوں نے اس کی ضرورت پیدا کردی ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ کے دور میں قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کردیا گیا (حاشیہ: [1])۔اسی طرح آگے کے زمانے میں جب عرب و عجم کا ملاپ ہوا اور خالص عربیت کا ذوق کم ہوگیا اور ضرورت محسوس ہوئی تو قرآن پاک پر اعراب لگائے گئے، آیتوں کی علامتیں ڈالی گئیں، وقوف کی علامتیں لگائیں گئیں۔ یہ سب نبی کریم ﷺ کی حیات پاک میں نہیں تھا۔ان تمام باتوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دین پر سہولت سے عمل ہوجائے۔ اسی کو سامنے رکھتے علمائے امت نے دین کی تقویت یا اعانت کے تمام جائز طریقوں کو اختیار کیا۔ مساجد میں تنخواہ دار امام اور موذن کا تعین، قرآن پڑھانے کے لیے اجرت کی ادائیگی، مساجد میں وضو اور حاجات کی سہولت، جانمازوں اور قالین کا اہتمام، کتابوں کی تالیف و اشاعت، درس و تدریس، دعوت و تبلیغ، اصلاح باطن کے اعمال وغیرہ سب اس کی مثالیں ہیں۔
    تدوین صرف و نحو

    قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے بھی مختلف علوم وجود میں آئے جن کا وجود رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہیں تھا۔مثلا دین کا کوئی طالب علم بھی علم النحو (عربی گرامر) پڑھے بغیر آگے نہیں چل سکتا لیکن رسول اللہ ﷺ کے دور میں علم النحو بحیثیت علم موجود نہیں تھا۔ دیگر اسلامی علوم کی طرح اس کو بھی مدون کیا گیا اور اس کی اصطلاحات متعین کی گئیں۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بعد کے آنے والے ان علوم (لغت، صرف و نحو، منطق، بیان، تفسیر، حدیث وغیرہ) میں ان پچھلوں کی اتباع یا تقلید کرتے ہیں۔ اور اس تقلید کے بغیر خود قرآن و حدیث کا سمجھنا محال ہے۔
    تدوین حدیث

    اسی طرح وقت اور حالات کے تقاضوں نے حدیث کی تدوین کی ضرورت پیدا کی چنانچہ علمائے دین نے اس کی طرف توجہ کی اور علم الحدیث کی بنیاد ڈالی جس میں حدیث اور سند حدیث پر بحث کی جاتی ہے اور ایسے اصول متعین کیے جن سے حدیث کی صحت اور عدم صحت کا پتہ چلایا جاسکے۔ اور جیسا کہ ہر علم میں ہوتا ہے کہ سمجھنے سمجھانے اور تبادلہ خیال میں سہولت کے لیے اس علم کی اصطلاحیں (مثلا: صحیح، حسن، ضعیف وغیرہ) بھی وجود میں آئیں ۔ علم الحدیث کے اصول اور اس کی اصطلاحیں سب اجتہادی ہیں۔یہ کام رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہیں تھا۔
    امام مسلمؒ صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
    (پہلے) لوگ (حدیث کی) سند کے متعلق پوچھ گچھ نہیں کرتے تھے لیکن جب فتنہ عام ہوگیا تو پھر راوی سے سند کے متعلق پوچھ گچھ شروع ہوئی۔
    یہاں تک کہ اہل علم نے سند کی تحقیق واجب (ضروری) قرار دے دی۔
    تدوین فقہ
    اسی طرح شریعت کی روشنی میں مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے فقہا نے فقہ کی تدوین کی اور اس میں تحقیق کے طریقے اور اصول بنائے۔ اس کی اصطلاحیں وجود میں آئیں (فرض، واجب سنت وغیرہ) اور تدوین فقہ کا کام سرانجام ہوا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ دین کے تمام علوم اجتہادی ہیں ان معنوں میں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تو تھے لیکن اس طرح مدون (یعنی مرتب) نہ تھے جیسے بعد میں ہوگئے۔ اس تدوین و ترتیب سے ان علوم سے فائدہ اٹھانے میں سہولت ہوگئی۔ البتہ یہ فائدہ اٹھانا ہر شخص کا الگ الگ ہے، عالم اپنے علم کے مطابق ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور غیرعالم اپنی حیثیت کے مطابق۔ علوم چاہے دینی ہوں یا دنیاوی، ہر علم کا یہی حال ہے۔ کچھ لوگ علوم ایجاد کرتے ہیں، کچھ ان ایجاد کردہ علوم کو ترقی دیتے ہیں اور باقی لوگ ان کی کوششوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ درحقیقت ہر عالم اپنی تحقیق کا مدار پچھلوں کی ثابت شدہ تحقیق پر رکھتا ہے۔
    ایک تاریخی حقیقت

    ایک تاریخی حقیقت جو انتہائی اہم اور ذہن نشین کرنے کے قابل ہے وہ یہ کہ فقہ کی تدوین پہلے ہوئی اور حدیث کی تدوین بعد میں۔ فقہا نے فقہ کی تدوین اور اس میں تحقیق کے طریقے پہلے بنا لیے جب کہ محدثین نے یہ کام بعد میں کیا۔ بلکہ حدیث کے مجموعے فقہا کی دی گئی ترتیب کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ تدوین فقہ کا دور رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے قریب کا تھا۔ یہ تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ تھا۔ اس دور کے علما کے لیے سنت رسول ﷺ کو جاننے کے لیے صحابہ کرام کا عملی نمونہ موجود تھا۔ اسی لیے اس وقت کے علمائے کرام کے نزدیک تعامل (عمل) صحابہؓ کی بہت اہمیت تھی۔ اور خیرالقرون میں تعامل صحابہؓ (یعنی صحابہ کرام ؓکا عمل) ہی معیار سنت تھا۔ انہوں نے اختلاف احادیث کے وقت ردوقبول میں بھی اور حدیث کے مفہوم کی تعیین میں بھی اصل معیار تعامل صحابہؓ و تابعینؒ کو ٹھہرایا۔ ابتدائی دور کے فقہا کے نزدیک سب سے بڑی دلیل صحابہ ؓکا عمل تھا۔ اس دور کے فقہا کثرت روایت سے زیادہ کثرت تعامل کا اعتبار کرتے ہیں۔ تعامل صحابہ کو معیار بنانا عین فطری بات ہے اس لیے کہ وہ مقدس ہستیاں حیات رسول ﷺ کی عینی شاہد تھیں اور کسی واقعے کے بارے عینی شاہد ہی سب سے زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔ وہ فقہا جن کے سامنے یہ عملی نمونے موجود نہیں تھے انہوں نے اختلاف حدیث کے وقت نقد روایات (روایات کا صحیح یا غیر صحیح ہونا) کا معیار روایوں پر رکھ لیا۔ پہلے دور میں پرکھنے کا معیار پوری جماعت (صحابہؓ اور تابعینؒ) کے تعامل پر تھا بعد میں یہ اشخاص پر آگیا۔ اہلسنت و الجماعت کی یہی فضیلت ہے کہ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا عمل اور ان کے صحابہ کرامؓ کا عمل بھی قابل حجت ہے۔ اسی سے عنوان، اہلسنت والجماعت نکلا ہے۔ اہل سنت والجماعت کے نزدیک حدیث کی تعریف یہ ہے:
    رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور تابعین کے قول فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔کبھی اس کو اثر اور خبر بھی کہتے ہیں۔
    اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
    خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم۔ الحدیث (صحیح البخاری، کتاب الرقاق)عبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان لوگوں کا جو اس کے بعد ہوں گے پھر جو اُن کے بعد ہوں گے۔
    اسی لیے حدیث کی کتابوں میں صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال اور اعمال کا ذکر بھی موجود ہے۔
    عملِ صحابی کی مثال: وكان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض على لحيته فما فضل اخذه۔ الحدیث (صحیح البخاری، کتاب اللباس)
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ( ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے ۔
    صحابی کا فتوی:
    لا ناخذ بقولک و ندع قول زید۔الحدیث (صحیح البخاری، کتاب الحج)
    بعض لوگوں نے حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے ایک مسئلہ پوچھا اور ان کا جواب سننے کے بعد بولے: ہم ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کی بات پر عمل تو کریں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کی بات چھوڑ دیں یعنی ان کے فتوے کو چھوڑ دیں۔
    قول تابعی: قال عطا آمین دعا ۔ الحدیث (صحیح البخاری، باب جہرالامام بالتامین)
    یعنی عطاؒ (تابعی) نے فرمایا: کہ آمین دعا ہے۔

    (جاری ہے) ​


    [1]: صحیح البخاری، کتاب تفسیر القران

  4. #4

  5. #5

  6. #6

  7. #7
    Junior Member
    Join Date
    Jun 2015
    Posts
    21

    Default شرک کو سمجھیے-2: کیا مشرکین عرب نماز پڑھتے تھ&

    مشرکین عرب کے نیک اعمال
    مشرکین عرب نہ یہ کہ اللہ کو مانتے تھے بلکہ وہ دین ابراہیمی کے بعض اعمال بھی پوری تندہی سے بجالاتے تھے۔ گو وہ بھی اپنی اصل حالت پر نہ تھے لیکن ان کا منبع شریعت ابراہیمی ہی تھا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کیا اعمال کرتے تھے۔
    مشرکین عرب نماز پڑھتے تھے
    رسول اللہ ﷺ نے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ اس کی وجہ آپ ﷺ نے یہ فرمائی:
    ھی ساعۃ صلاۃ الکفار (سنن النسائی)
    وہ کافروں کی نماز کا وقت ہے
    مشرکین عرب زکوٰۃ دیتے تھے
    وجعلوا لله مما ذرا من الحرث و الانعام نصيبا فقالوا هذا لله بزعمهم وهذا لشركائنا (الانعام: 136)
    اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو اللہ کا اور یہ ہمارے شریکوں کا
    مشرکین عرب اعتکاف کرتے تھے
    عن عمر قلت يا رسول الله اني كنت نذرت ان اعتكف ليلة في المسجد الحرام في الجاهلية قال اوف بنذرك (صحیح البخاری)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجدالحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔
    مشرکین عرب خدمت حرم کرتے تھے
    ء جعلتم سقاية الحاج وعمارة المسجد الحرام كمن آمن بالله واليوم الآخر وجاهد في سبيل الله لا يستوون عند الله۔ (التوبہ: 19)
    کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم یعنی (خانہٴ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
    تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے:
    قال الله: لا يستوون عند الله والله لا يهدي القوم الظالمين ) يعني: الذين زعموا انهم اهل العمارة فسماهم الله " ظالمين " بشركهم ، فلم تغن عنهم العمارة شيئا .
    اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یعنی وہ لوگ جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اہل حرم ہیں اللہ نے ان کو ظالمین کا لقب دیا جس کا سبب ان کا شرک تھا جس کی وجہ سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
    حرم کی تعمیر اور اس کی خدمت بہت بڑی نیکی تھی لیکن ان کے شرک کی وجہ سے یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول نہیں ٹھہری۔
    مشرکین عرب حج کرتے تھے
    حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین عرب حج بھی کرتے تھے۔
    عن عائشة رضي الله عنها ، قالت كان قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس(صحیح البخاری)
    سیدۃ عائشہؓ بتاتی ہیں کہ قریش اور جو لوگ ان کے مذہب پر تھے وہ (حج کے دوران) مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور وہ (اپنے آپ کو) حمس (شجاع) کہتے تھے۔
    صحیح بخاری کی روایت ہے کہ لوگ اسلام سے قبل برہنہ (کعبہ) کا طواف کرتے تھے۔ صحیح مسلم میں سیدۃ عائشہؓ کی روایت ہے کہ انصار اسلام سے پہلے دو بتوں کے لیے تلبیہ پڑھتے تھے جس کے بعد وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے۔
    مشرکین عرب عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے
    حدیث شریف میں آتاہے:
    عن عائشة قالت: كان يوم عاشوراء تصومه قريش في الجاهلية (صحیح البخاری)
    عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے۔
    مشرکین عرب غلام آزاد کیا کرتے تھے
    عاص ابن وائل جو اسلام قبول کیے بغیر ہی فوت ہوگیا اس نے مرنے سے پہلے سو غلام آزاد کرنے کی وصیت کی اس کے بیٹے صحابی رسول ﷺ عمرو ابن عاص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا عاص کو اس سے کچھ فائدہ ہوسکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    لو كان مسلما فاعتقتم عنه او تصدقتم عنه او حججتم عنه بلغه ذلك (سنن ابی داؤد)
    اگر (تمہارا باپ) مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے (غلام) آزاد کرتے یا صدقہ دیتے یا حج کرتے تو اسے ان کا ثواب پہنچتا
    یہ شرک کی نحوست ہے کہ مشرک کو کسی نیک عمل کا ثواب بھی نہیں پہنچ سکتا۔
    ان تمام مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مکہ کے کفار مشرک اس لیے نہیں کہلائے کہ وہ نیک اعمال کا انکار کرتے تھے۔ ان کے کفر کا بنیادی سبب ان کا شرک تھا۔

    (جاری ہے)​

  8. #8

    Default

    دیوان صاحب آپ سے التماس ہے کہ ہر بار نیا تھڑیڈ پوسٹ کرنے کی بجائے پہلے جہاں بات چیت چل رہی ہے اسی میں رپلائی کیا کریں


  9. #9

    Default

    آپ کے بے جا اعتراضات کے چند جواب ملاحظہ ہوں

    غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک نہیںاز علامہ سید مظفر حسین شاہ صاحبضرور سماعت فرمائیں اور شیئر کرنا نہ بھولیں

    Posted by irshad-ul-islam.com on Tuesday, June 16, 2015


    (صحابہ کا عقیدہ) حضور سے مانگو اور منہ مانگی پاؤ (صلی الله علیہ وسلّم)ایک مرتبہ اس ویڈیو کو دیکھیں اور اپنے دوست و احباب تک اس قیمتی معلومات کو شئیر کریں

    Posted by irshad-ul-islam.com on Wednesday, June 3, 2015


    شرک امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہی نہیں ہےاز مفتی ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحبشیئر کرنا مت بھولئے

    Posted by irshad-ul-islam.com on Wednesday, February 18, 2015


  10. #10
    Junior Member
    Join Date
    Jun 2015
    Posts
    21

    Default

    مشرکین عرب کی آپ ﷺ کے بارے میں رائے
    مشرکین عرب رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول نہ کرنے کا سبب آپ ﷺ کی ذات نہ تھی بلکہ وہ آپ ﷺ کے اخلاق کے گرویدہ تھے۔ ایک بار ابوجہل نے آپ ﷺ سے کہا:
    قد نعلم يا محمد انك تصل الرحم ، وتصدق الحديث ، ولا نكذبك ، ولكن نكذب الذي جئت به۔ (سنن الترمذی)
    ترجمہ: ہم جانتے ہیں کہ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور باتیں بھی سچی کرتے ہیں، ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو آپ لے کر آئے ہیں۔
    اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کو رسول اللہ ﷺ کی ذات سے عناد نہ تھا اور وہ آپ ﷺ کے اعلی اخلاق کو مانتے تھے۔
    جب رسول اللہ ﷺ نے تمام کفار مکہ کو قبول اسلام کی دعوت دینے سے پہلے اپنے بارے میں رائے لی تو انہوں نے کہا:
    ما جربنا عليك الا صدقا (صحیح البخاری)
    ترجمہ:
    ہم نے آپ سے سچ ہی سنا ہے (یعنی آپ سچے ہیں)۔
    لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے لاالہ الا اللہ کی دعوت دی تو یہی لوگ آپ ﷺ پر جھوٹا ہونے کا الزام لگانے لگا۔ ایک موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے اس کلمے کی دعوت یوں دی:
    يا ايها الناس قولوا لا اله الا الله تفلحوا (صحیح ابن حبان)
    ترجمہ:
    اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤ گے
    یہ سن کر ابولہب کہتا تھا:
    انه صابی كاذب (مسند احمد)
    ترجمہ: یقینا یہ بے دین جھوٹا ہے۔
    مشرکین عرب کا شرک کیا تھا؟
    اوپر بیان ہوا کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو سچا جانتے تھے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ کس چیز کا انکار کرتے تھے کہ اللہ کا اقرار کرنے کے باوجود وہ مشرک قرار دیے گئے؟ اس کا ایک ہی سبب تھا جس کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے:
    اجعل الآلهة الها واحدا ان هذا لشي ء عجاب (ص: 5)
    ترجمہ:
    کیا اس نے اتنے الہوں کی جگہ ایک ہی الہ بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کا انکار صرف اللہ کو ایک الہ ماننےسے تھا۔
    قرآن پاک نے اس کا جواب یوں دیا ہے:
    لا تتخذوا الھین اثنین انما ھو الہ واحد (النحل: 51)
    ترجمہ:
    تم دو الہ مت بناؤ الہ تو صرف ایک ہی ہے
    لو كان فيهما آلهة الا الله لفسدتا فسبحان الله رب العرش عما يصفون (الانبیاء:22)
    ترجمہ:
    اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو زمین و آسمان درہم برہم ہوجاتے
    یعنی ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کثرت الہ کے قائل تھے جب کہ لا الہ الا اللہ ایک الہ کا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہوا کہ یہ سمجھا جائے کہ الہ سے کیا مراد ہے۔ لیکن اس سے پہلے ایک غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے وہ یہ کہ شرک صرف بت پرستی کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ ہے کہ لوگ شرکیہ عقائد اور اعمال میں ملوث ہوکر بھی اپنے آپ کو توحید پر کاربند سمجھتے ہیں۔

    (جاری ہے)​




    Last edited by deewan; 07-07-2015 at 07:22 PM. Reason: garbage characters

+ Reply to Thread
Page 1 of 2 12 LastLast

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
Online Quran Academy