''سیِّدُنا اسمعٰیل کی امّی کا نام ہاجَرہ تھا'' کے اُنتیس حُروف کی نسبت سے نَما ز توڑنے والی 29 با تيں

(1)بات کرنا (دُرِّمُختار،ج2ص445) (2) کسی کو سلام کرنا (3) سلام کا جواب دينا (عالمگيری،ج1ص98) (4) چھينک کا جواب دينا (نَماز ميں خود کو چھينک آئے تو خاموش رہے )اگر خود کو چھینک آئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ ليا تب بھی حَرَج نہيں اور اگر اُس وقت حَمد نہ کی تو فارِغ ہو کر کہے۔ ( اَیضاً) (5) خوشخبری سن کر جواباً اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا (اَیضاًص 99 ) (6)بری خبر (يا کسی کی موت کی خبر ) سن کر اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کہنا (اَيْضاً) (7)اذان کاجواب دينا ( اَیضاًص100)(8) اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام سن کر جواباً ''جَلَّ جَلَالُہٗ''کہنا (9) سر کارِ مدينہ صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کا اسمِ گرامی سن کر جواباً دُرُود شریف پڑھنا مَثَلاً صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کہنا (دُرِّمُختار،ج 2ص460) (اگر جل جلالہ يا صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم جواب کی نيّت سے نہ کہا تونَماز نہ ٹوٹی)

نَماز میں رونا

(10) دَرد يامُصيبت کی وجہ سے یہ الفاظ آہ ، اُوہ ، اُف ، تُف نکل گئے يا آواز سے رونے ميں حرف پيدا ہو گئے نماز فاسِد ہو گئی ۔ اگر رونے ميں صِرْف آنسو نکلے آوازو حُروف نہيں نکلے تو حَرَج نہيں ۔ ( عالمگيری ج1ص101، رَدُّالْمُحتارج 2ص455)

نَماز میں کھانسنا

(11) مریضہ کی زَبان سے بے اختیار آہ! اُوہ! نکلا نَماز نہ ٹوٹی یوں ہی چھینک ،

جماہی،کھانسی ،ڈَکار وغیرہ میں جتنے حُرُوف مجبوراً نکلتے ہیں مُعاف ہیں ۔

(دُرِّمُختار، ج1ص456)

(12) پھونکنے میں اگر آواز نہ پیدا ہو تو وہ سانس کی مثل ہے اورنَماز فاسِد نہیں ہوتی مگر قَصداً پُھونکنا مکروہ ہے اور اگر دوحَرف پیدا ہوں جیسے اُف،تُف تو نَماز فاسِد ہوگئی۔

(غُنْیہ، ص 451)

(13)کھنکارنے میں جب دو حُروف ظاہِر ہوں جیسے اَخ تو مُفسِدہے۔ ہاں اگرعُذْر يا صحيح مقصد ہو مَثَلاً طبيعت کا تقاضا ہو یا آواز صاف کرنے کیلئے ہو یاکوئی آگے سے گزر رہا ہو اس کو مُتوجِّہ کرنا ہو اِن وُجُوہات کی بنا پر کھانسنے ميں کوئی مُضایَقہ نہيں ۔

(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 176،دُرِّمُختار، ج2ص455)

دَورانِ نَماز دیکھ کر پڑھنا

(14) مُصحَف(مُص۔حَف)شريف سے، يا کسی کاغذ وغيرہ ميں لکھا ہوا ديكھ کر قرآن شريف پڑھنا (ہاں اگر ياد پر پڑھ رہی ہيں اورمُصحَف شريف وغيرہ پر صرف نظر ہے تو حَرَج نہيں ، اگر کسی کاغذ وغيرہ پر آيات لکھی ہيں اسے ديكھا اور سمجھا مگر پڑھا نہيں اس ميں بھی کوئی مُضایَقہ نہيں )

(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار،ج2ص463)

(15)اسلامی کتاب يا اسلامی مضمون دَورانِ نَماز جان بوجھ کر ديكھنا اور اِرادتاً سمجھنا مکروہ ہے

(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 177)

دُنيوی مضمون ہو تو زِيادہ کراہِيت ہے ، لہٰذا نَماز ميں اپنے قريب کتابيں يا تحرير والے پيكٹ اور شاپنگ بيگ،موبائل فون ياگھڑی وغيرہ اس طرح رکھئے کہ ان کی لکھائی پر نظر نہ پڑے يا ان پر رومال وغيرہ اُڑھا ديجئے ، نيز دورانِ نَمازدیوار وغيرہ پر

لگے ہوئے اسٹيكرز ، اِشتہار اور فريموں وغيرہ پر نظر ڈالنے سے بھی بچئے ۔

عَمَلِ کثیر کی تعریف

(16) عملِ کثير نَماز کو فاسِد کر ديتا ہے جبکہ نہ نَماز کے اعمال سے ہو نہ ہی اِصلاحِ نماز کیلئے کيا گيا ہو ۔ جس کام کے کرنے والے کو دُور سے ديكھنے سے ايسا لگے کہ یہ نَماز ميں نہيں ہے بلکہ اگر گمان غالِب ہو کہ نَمازميں نہيں تب بھی عملِ کثير ہے ۔ اور اگر دُور سے ديكھنے والے کو شک و شبہ ہے کہ نَماز ميں ہے يا نہيں تو عملِ قليل ہے اورنَماز فاسِد نہ ہو گی۔ (دُرِّمُختار،ج2ص464) دَورانِ نَماز لباس پہننا

(17) دَورانِ نَماز کُرتا يا پاجامہ پہننا يا تہبند باندھنا (غُنْیہ، ص452) (18) دَورانِ نَمازسِتْر کُھل جانا اور اسی حالت ميں کوئی رُکن ادا کرنا يا تين بار سُبْحٰنَ اللہ کہنے کی مقدار وَقفہ گزر جانا۔ (دُرِّمُختار،ج2ص467)

نَمازمیں کچھ نِگلنا

(19) معمولی سا بھی کھانا يا پينامَثَلاًتِل بِغير چبائے نگل ليا ۔ يا قطرہ مُنہ ميں گرا اور نگل ليا (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتارج 2ص462) (20)نَمازشُروع کرنے سے پہلے ہی کوئی چيز دانتوں ميں موجود تھی اسے نگل ليا تو اگر وہ چنے کے برابر يا اس سے زيادہ تھی تونَماز فاسِد ہو گئی اور اگر چنے سے کم تھی تو مکروہ۔ (دُرِّمُختارج2ص462، عالمگيری ج
1ص102)

(21)نَماز سے قبل کوئی ميٹھی چيز کھائی تھی اب اس کے اَجزا منہ ميں باقی نہيں صِرف لُعابِ دَہَن ميں کچھ اثر رَہ گيا ہے اس کے نگلنے سے نَماز فاسِد نہ ہو گی (عالمگيری ج1ص102) (22) منہ ميں شکر وغيرہ ہو کہ گھل کرحَلق ميں پہنچتی ہے نَماز فاسِد ہو گئی(اَيضاً)(23) دانتوں سے خون نکلا اگر تھوک غالِب ہے تو نگلنے سے فاسِد نہ ہو گی ورنہ ہو جائیگی ( عالمگيری ج1ص102) (غَلَبہ کی علامت یہ ہے کہ اگر حلْق ميں مزہ محسوس ہوا تونَماز فاسِد ہو گئی،نَماز توڑنے ميں ذائقے کا اِعتِبار ہے اور وُضو ٹوٹنے ميں رنگ کا لہٰذا وُضو اُس وَقت ٹوٹتا ہے جب تھوک سُرخ ہو جائے اور اگرتھوک زَرد ہے تو وُضو باقی ہے )

دَورانِ نَماز قِبْلہ سے اِنحِراف

(24)بِلاعُذْر سينے کوسَمتِ کعبہ سے 45دَرَجہ يا اس سے زِيادہ پَھيرنا مُفِسدِ نَماز ہے، اگر عُذْر سے ہو تومُفْسِد نہيں ۔

(بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 179، دُرِّمُختار ج 2 ص 468)

نَماز میں سانپ مارنا

(25) سانپ بچھّو کو مارنے سے نَماز نہيں ٹوٹتی جبکہ نہ تين قدم چلنا پڑے نہ تين ضَرب کی حاجت ہو ورنہ فاسِد ہو جائے گی۔

(عالمگيری ج1ص103)

سانپ ،بچھّو کو مارنا اُس وقت مُباح ہے جبکہ سامنے سے گزريں اور اِيذا دينے کا خوف ہو، اگر تکليف پہنچانے کا انديشہ نہ ہو تو مارنا مکروہ ہے (اَیضاً)(26) پے در پے تين بال اُکھيڑے يا تين جُوئيں مارِيں يا ايك ہی جُوں کو تين بار مارانَماز جاتی رہی اور اگر پے در


پے نہ ہو تو نَماز فاسِد نہ ہوئی مگر مکروہ ہے۔

(عالمگيری،ج1ص103،غُنْیہ، ص448)

نَماز میں کُھجانا

(27) ايك رُکن ميں تين بارکُھجانے سے نَماز فاسِد ہو جاتی ہے يعنی يوں کہ کُھجا کر ہاتھ ہٹا ليا پھر کُھجا يا پھر ہٹا ليا یہ دو بار ہوا اگر اب اسی طرح تيسری بار کيا تو نَمازجاتی رہے گی ۔ اگر ايك بار ہاتھ رکھ کر چند بار حَرَکت دی تو یہ ايك ہی مرتبہ کُھجانا کہا جائیگا ۔

(اَیضاًص104،اَیضاً )

میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن نَمازمیں کھجانے کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیںنماز میں اگر کھجلی آئے تو) ضبط کرے، اور نہ ہو سکے یا اس کے سبب نَماز میں دل پریشان ہو تو کُھجا لے مگر ایک رُکن مَثَلاً قیام یا قُعُودیا رُکوع یا سجود میں تین بار نہ کھجاوے ، دو بار تک اجازت ہے۔

( فتاوٰی رضویہ ج7 ص384)

اللہُ اکبر کہنے میں غَلَطیاں

(28) تکبيراتِ اِنتِقالات ميں اللہُ اکبرکے اَلِف کو دراز کيا يعنی اٰللہ يا اٰکبر کہا يا '' ب'' کے بعد اَلِف بڑھايا يعنی '' اکبار '' کہا تو نَماز فاسِد ہو گئی اور اگر تکبيرِ تحريمہ ميں ايسا ہوا تونَماز شُروع ہی نہ ہوئی

(دُرِّمُختَار،ج2، ص 473)

(29) قِراءَ ت يا اذکارِ نَماز ميں ايسی غَلَطی جس سے معنیٰ فاسِد ہو جائيں نَماز فاسِد ہو جاتی ہے ۔ (بہارِ شریعت ،حصّہ 3 ص 182)مَثَلاً وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ کے یہ معنی تھے (ترجَمۂ کنز الایمان :

اور آدم سے اپنے رب کی لغزش واقع ہوئی) اب میم کو زبر اور بے کو پیش پڑھ دیا تو یہ معنی ہوئے ( ترجمہ: اوررب سے آدم کی لغزش واقع ہوئی)

نعوذ باللہ منھا۔