روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ۲؎تشریف لے گئےعورتوں کی جماعت پر گزرے۳؎ تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو ۴؎ کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے ۵؎ کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو ۶؎ خاوند کی ناشکری ۷؎ ہو تم سے بڑھ کر کوئی کم عقل دین پر کم عاقل عقلمند آدمی کی مت کاٹ دینے والی میں نے نہیں دیکھی۸؎عورتوں نے عرض کیاحضور ہمارے دین و عقل میں کمی کیونکر ہے۔فرمایا کہ کیا یہ نہیں ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی ہے ۹؎ عرض کیا ہاں فرمایا یہ عورت کے عقل کی کمی ہے فرمایا یہ درست نہیں کہ عور ت حیض میں روزہ نماز ادا نہیں کرسکتی عرض کیا ہاں فرمایا یہ اس کے دین کی کمی ہے۱۰؎

(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام شریف سعد ابن مالک انصاری ہے،خدرہ انصار کا ایک قبیلہ ہے جس کی طرف آپ کی نسبت ہے،بڑے عالم،احادیث کے ماہرصحابی ہیں،غزوۂ خندق اوربارہ غزووں میں آپ حضور کے ساتھ شریک رہے،آپ نے چوراسی۸۴ سال کی عمر پاکر ۶۴ھ؁ میں وفات پائی، جنت البقیع میں مدفون ہیں،فقیر نے بھی قبر انور کی زیارت کی ہے۔
۲؎ یعنی شہرسے باہر۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز جنگل میں ادا فرماتے تھے باوجود یہ کہ مسجدنبوی شریف بہترین مسجد ہے۔معلوم ہوا کہ یہ دو نمازیں جنگل میں اداکرنا سنت ہے اگرچہ شہر میں بھی جائز ہے۔
۳؎ جو کہ عیدگاہ میں نماز اداکرنے گئی تھیں۔حضور کے زمانہ میں تمام عورتوں کو عیدگاہ کی حاضری کا حکم تھا تاکہ شرعی احکام سنیں اور نماز عید یا کم از کم مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوجائیں،مردوں سے علیحدہ بیٹھتی تھیں،سرکار خطبے کے بعد ان کی جماعت میں مخصوص وعظ ارشادفرماتے تھے۔عہد فاروقی سے عورتیں اسی حاضری سے روک دی گئیں جیسا کہ آئندہ عرض کیا جاوے گا۔
۴؎ فی الحال جہاد کے لیے صدقہ دویا ہمیشہ صدقہ نفل دیا کرو کیونکہ صدقہ فرض میں عورتیں مرد برابر ہیں،یہاں صدقۂ فطر مرادنہیں کیونکہ یہ عید گاہ آنے سے پہلے ادا کردیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ عورت اپنے مال سے صدقہ بہرحال دے سکتی ہے،خاوند کے مال سے اس کی اجازت سے دے خواہ صریحی اجازت سے ہو یا عرفی سے۔
۵؎ معراج میں یا کشف سے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اگلے پچھلے واقعات کو مشاہدہ فرماتی ہے،کیونکہ دوزخ میں داخلہ قیامت کے بعد ہوگا،مگر آج ہی دیکھ رہے ہیں جیسے کہ ہم خواب یا خیال میں اگلی پچھلی باتیں دیکھ لیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور باذن الٰہی جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچانتے ہیں ان کی تعداد سے خبردار ہیں حالانکہ علوم خمسہ میں سے ہے۔تیسرے یہ کہ نیک اعمال خصوصًا صدقہ عذاب کو دفع کر تا ہے۔اسی لیے میت کو تیجہ،دسویں وغیرہ میں ایصال ثواب کیا جاتا ہے کہ اگر اس کی قبر میں آگ ہو تو اس سے بجھ جائے۔
۶؎ غصہ میں بچوں پر لڑائی میں مقابل پر،اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زیادہ لعنت کرنا دوزخی ہونے کا سبب ہے،اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جن کے یہاں صحابہ پر تبرّا اور لعنت کرنا عبادت ہے۔جب نمرود،فرعون،ہامان بلکہ شیطان کو گالیاں دینا اور تبرا کرنا ثواب نہیں تو بزرگوں کو گالیاں دینا کہاں کی انسانیت ہے۔مسئلہ کسی معین پر لعنت کرنا جائز نہیں سوا ان کفار کے جن کا کفر پر مرنا نص میں آچکا،غیر معین گنہگار پر بھی لعنت جائز ہے۔مثلًا یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافروں پر یا جھوٹوں پر لعنت مگر اس کی عادت مت ڈالو جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔
۷؎ کہ اگر عمر بھر خاوند تمہاری ناز برداری کرے اور ایک بار کچھ کوتاہی کردے تو کہتی ہو کہ تو نے میرے ساتھ کچھ کیا ہی نہیں،جو بندے کا ناشکرا ہے خدا کا شاکر نہیں بن سکتا۔
۸؎ اس میں عورتوں کے تین عیب بیان کئے گئے:عقل میں کمی،دین پرعمل میں کوتاہی،اور مرد کو بے وقوف بنانا،یہ عورتوں کی عام حالت ہے اگرچہ بعض بیبیاں اس سے پاک ہیں۔خیال رہے کہ جنس مرد جنس عورت سے افضل ہے،اگرچہ بعض عورتیں،بعض مردوں سے افضل ہیں۔حضرت آمنہ خاتون،عائشہ صدیقہ،فاطمہ زہرہ ہم جیسے کروڑوں مردوں سے افضل،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۹؎ عام حالات میں یا دومردگواہ ہوتے ہیں یا ایک مرد اور دوعورتیں بعض صورتوں میں عورت کی گواہی مطلقًا نہیں مانی جاتی جیسے حدود اور قصاص،بعض صورتوں میں صرف ایک عورت کی خبرمعتبر جیسے بحالت غبار،رمضان کا انتیسواں۲۹ چاند یا حیض و نفاس کی یا عدت گزرنے کی خبر یہاں عام حالت مراد ہے۔
۱۰؎ کہ کچھ عرصہ نماز کے ثواب سے اور ادائے روزہ کی برکتوں سے محروم رہتی ہے۔خیال رہے کہ حیض ونفاس کےزمانہ کی نمازیں بالکل معاف ہیں اور روزوں کی ادا معاف قضا واجب۔اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کی زیادتی کمی دین کے کمال و نقصان کا ذریعہ ہے۔خیال رہے کہ مسافر و بیمار نماز و روزہ کے اہل ہیں لیکن حائضہ اور نفسا ان کی اہل ہی نہیں لہذا وہ دونوں ناقص نہیں۔