اور روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تکلیف دہ بات کو سنتے ہوئے صبر کرنے والا ۱؎ خدا سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کے لئے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں پھر بھی وہ انہیں راحت و رزق دیئے جاتا ہے۲؎

شرح

۱؎ یہاں صبر سے مراد حلم ہے۔اسی معنی سے اﷲ تعالٰی کا نام پاک صبوریا صبار ہے،نہ کہ وہ صبر جو کہ مجبوری کی وجہ سے ہو اس کی تفسیر اگلا مضمون ہے۔
۲؎ یعنی باوجود یہ کہ لوگ اﷲ تعالٰی کو عیب لگاتے ہیں اور رب تعالٰی اس سے خبردار بھی ہے،ان پر ہر طرح قادر بھی لیکن انہیں فورًا عذاب نہیں دیتا،بلکہ دنیا میں انہیں تندرستی،امن،روزی دیتا ہے کیونکہ دنیا اس کی رحمانیت کے ظہور کی جگہ ہے۔بعد موت نہ انہیں امن دے،نہ روزی وغیرہ وہاں اس کی رحیمیت کی جلوہ گری ہوگی۔