لیلتہ القدر کے فضائل

امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے معتمد اہل علم سے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سابقہ امتوں کی عمریں دکھائی گئیں تو آپ نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور یہ کہ وہ اتنے عمل نہیں کرسکیں گے جتنے لمبی عمر والے لوگ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو لیلتہ القدر عطا کی، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (موطاء امام مالک رقم الحدیث :721 باب الیلتہ القدر)
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا، جو اللہ کی راہ میں ایک ہزار سال ہتھیار پہنے رہا، مسلمانوں کو اس پر بہت تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : انا انزلنہ فی لیلۃ القدر۔ وما ادرک مالیلتہ القدر۔ لیلۃ القدر خیر من الف شھر۔ (القدر : ٣-١) (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :19424، تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 593)
علی بن عرروہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل کے چار شخصوں نے اسی سال تک اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کی کہ پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، اور ان کے نام بتائے، حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل بن العجوز اور حضرت یوشع بن نون علیہم السلام، یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو تعجب ہوا، تب آپ کے پاس حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی امت کو اس پر تعجب ہے کہ ان لوگوں نے اسی سال عبادت کی اور پلک جھپکنے کی مقدار بھی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر چیز نازل کی ہے، پھر آپ کے سامنے سورۃ القدر : ٣-١ آیات تلاوت کیں اور کہا : یہ اس سے افضل ہے جس پر آپ کو اور آپ کیا مت کو تعجب ہوا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب خوش ہوگئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :19426 تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 593)
امام ویلمی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کو لیلتہ القدر عطا کی ہے اور اس سے پہلی امتوں کو عطا نہیں کی۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص ٥٢٢ داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے روزے رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اور جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے لیلتہ القدر میں قیام کیا تو اللہ سبحانہ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2014، سنن نسائی رقم الحدیث :2206 مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٣)