مسیلمہ کذاب کون تھا

یہ خود کو'' رحمن الیمامہ '' کہلواتا تھا پورا نام مسیلمہ بن ثمامہ تھا یہ کہتا تھا '' جو مجھ پر وحی لاتا ہے اس کا نام رحمن ہے'' یہ اپنے قبیلے بنو حنیف کے ساتھ مدینہ منور ہ حاضر ہوا تھا ایک روایت کے مطابق ایمان لایا تھا بعد میں مرتد ہوگیا تھا اور ایک روایت کے مطابق اس نے تخلف کیا اور کہا اگر محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے بعد خلیفہ بنادیں تو میں مسلمان ہوجاؤں اور ان کی متابعت کرلوں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم اس کی قیام گاہ پر تشریف لے گئے اور اس کے سر پرکھڑے ہوگئے اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دست اقدس میں کھجور کی ایک شاخ تھی فرمایا اگر تو مجھ سے اس شاخ کو بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں بجز اس کے جو مسلمانوں کے بارے میں حکم اِلہ ہے اور ایک روایت کے مطابق اس نے تھوڑی دیر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے گفتگو کرنے کے بعد کہا اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھے اپنی نبوت میں شریک کرلیں یا اپنا جانشین مقرر کردیں تو میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے بیعت کرنے کو تیار ہوں اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ( اور اس وقت آپ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ تھی) کہ تم نبوت میں سے اگر یہ لکڑی بھی مجھ سے مانگو تو نہیں مل سکتی بہر حال جب دربار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ناکام و نامراد واپس ہوا تو اس نے خود ہی اعلان نبوت کرڈالا اور اہل یمامہ کو بھی گمراہ و مرتد بنانا شروع کردیا اس نے شراب و زنا کو
حلال کرکے نماز کی فرضیت کو ساقط کردیا مفسدوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ مل گئی اس کے چند عقائد یہاں بیان کیے جاتے ہیں ۔
(۱) سمت معین کرکے نماز پڑھنا کفر و شرک کی علامت ہے لہٰذا نماز کے وقت جدھر دل چاہے منہ کرلیا جائے اورنیت کے وقت کہا جائے کہ میں بے سمت نماز ادا کررہا ہوں۔
(۲) مسلمانوں کے ایک پیغمبر ہیں لیکن ہمارے دو ہیں ایک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں اوردوسرا مسیلمہ اور ہر امت کے کم از کم دو پیغمبر ہونے چاہیں ۔
(۳) مسیلمہ کے ماننے والے اپنے آپ کو رحمانیہ کہلاتے تھے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معنی کرتے تھے شروع مسیلمہ کے خدا کے (مسیلمہ کا نام رحمان بھی مشہور تھا) کے نام سے جو مہربان ہے۔
( ۴ ) ختنہ کرنا حرام ہے وغیرہ وغیرہ۔
اس نے ایک کتاب بھی وضع کی تھی جس کے دو حصے تھے پہلے کو '' فاروق اول '' اور دوسرے کو '' فاروق ثانی '' کہا جاتا تھا اور اس کی حیثیت کسی طرح قرآن سے کم نہ سمجھتے تھے اسی کو نمازوں میں پڑھا جاتا تھا اس کی تلاوت کو باعث ثواب خیال کرتے۔ اس شیطانی صحیفے کے چند جملے ملاحظہ ہوں : یا ضفدع بنت ضفدع نقی ما تنقین اعلاک فی الماء و اسفلک فی الطین لا الشارب تمنعین ولا الماء تکدرین ترجمہ : اے مینڈکی کی بچی اسے صاف کر جسے تو صاف کرتی ہے تیرا بالائی حصہ تو پانی میں اور نچلا حصہ مٹی میں ہے نہ تو پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو گدلا کرتی ہے ۔
اس وحی شیطان کا مطلب کیا ہے یہ بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسیلمیوں کے نزدیک قرآن کریم اور فاروق کی تفسیر کرنا حرام تھا اب ذرا فاروق اول کی سورۃ الفیل بھی پڑھیے '' الفیل و ماالفیل لہ ذنب دبیل و خرطوم طویل ان ذلک من خلق ربنا الجلیل '' یعنی ہاتھی اور وہ ہاتھی کیا ہے اس کی بھدی دم ہے اور لمبی سونڈ ہے یہ ہمارے رب جلیل کی مخلوق ہے۔ اس کی یہ وحی شیطانی سن کر ایک بچی نے کہا کہ یہ وحی ہو ہی نہیں سکتی اس میں کیا بات بتائی گئی ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہے سب کو پتہ ہے کہ ہاتھی کی دم بھدی اور سونڈ طویل ہوتی ہے۔ مسیلمہ کذاب اس شیطانی کتاب کے علاوہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے شعبدہ بازی بھی کرتا تھا جس کو وہ اپنا معجزہ کہتا تھا اور وہ یہ تھا کہ اس نے ایک مرغی کے بالکل تازہ انڈے کو سِر کے میں ڈال کر نرم کیا اور پھر اس کو ایک چھوٹے منہ والی بوتل میں ڈالا انڈہ ہوا لگنے سے پھر سخت ہوگیا بس مسیلمہ لوگوں کے سامنے وہ بوتل رکھتا اور کہتا کہ کوئی عام آدمی انڈے کو بوتل میں کسطرح ڈال سکتا ہے لوگ اس کو حیرت سے دیکھتے اور اسکے کمال کا اعتراف کرنے لگتے تھے ۔اس کے علاوہ جب لوگ اس کے پاس کسی مصیبت کی شکایت لے کر آتے تو یہ انکے لیے دعا بھی کرتا مگراس کا نتیجہ ہمیشہ برعکس ہوتا تھا چنانچہ لوگ اس کے پاس ایک بچے کو برکت حاصل کرنے کو لائے اس نے اپنا ہاتھ بچے کے سر پر پھیرا وہ گنجا ہوگیا ایک عورت ایک مرتبہ اسکے پاس آئی کہا کہ ہمارے کھیت سوکھے جارہے ہیں کنویں کا پانی کم ہوگیا ہے ہم نے سنا ہے کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعا سے خشک کنووں میں پانی ابلنے لگتا ہے آپ بھی ہمارے لیے دعا کریں چنانچہ اس کذاب نے اپنے مشیر خاص نہار سے مشورہ کیا اور اپنا تھوک کنویں میں ڈالا جس کی نحوست سے کنویں کا رہا سہا پانی بھی ختم ہوگیا ایک مرتبہ
اس کذاب نے سنا کہ آقائے دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آبِ دہن لگایا تھا تو انکی آنکھوں کی تکلیف ختم ہوگئی تھی اس نے بھی کئی مریضوں کی آنکھوں میں تھوک لگایا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس کی آنکھ میں یہ تھوک لگاتا وہ بد نصیب اندھا ہوجاتا تھا۔ایک معتقد نے آکر بیان کیا کہ میرے بہت سے بچے مرچکے ہیں صرف دو لڑکے باقی ہیں آپ ان کی درازی عمر کی دعا کریں کذاب نے دعا کی اور کہا جاؤ تمہارے چھوٹے بچے کی عمر چالیس سال ہوگی یہ شخص خوشی سے جھومتا ہوا گھر پہنچا تو ایک اندوہناک خبر اس کی منتظر تھی کہ ابھی اس کا ایک لڑکا کنویں میں گر کر ہلاک ہوگیا ہے اور جس بچے کی عمر چالیس سال بتائی تھی وہ اچانک ہی بیمار ہوا اور چند لمحوں میں چل بسا اور ایک روایت کے مطابق ایک لڑکے کو بھیڑیے نے پھاڑ ڈالا تھا اور دوسرا کنویں میں گر کر ہلاک ہوا تھا ۔
ان لوگوں پر تعجب ہے جو اس ملعون کے ایسے کرتوتوں کے باوجود اس کی پیروی کرتے تھے اور اس سے بیزار نہ ہوتے تھے چونکہ جاہلوں کی جماعت میں غرض کے بندے شامل تھے لہٰذا جب سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وصالِ ظاہری ہوا تو اس کا کاروبار چمک گیا اور ایک لاکھ سے زیادہ جہال اس کے ارد گرد جمع ہوگئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت مقدسہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۲۴ ہزار کا لشکر لیکر اس کے استیصال کو تشریف لے گئے ان کے مقابل ۴۰ ہزار کا لشکر کفار تھا فریقین میں خوب لڑائی ہوئی یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور یہ بد بخت کذاب حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں واصل با جہنم ہوا اور اس وقت آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا : میں زمانہ کفر میں سب سے اچھے آدمی کا قاتل تھا اور زمانہ اسلام میں
سب سے بدتر کا قاتل ہوں ۔
( ملخص از ترجمان اہلسنت بابت ماہ نومبر 1973ص ۲۹ تا ۳۳ ، مدارج النبوۃ مترجم جلد دوم صفحہ۵۵۲مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردوبازار لاہور)