غُسْل کا طریقہ
------------------
بغیر زَبان ہِلائے دل میں اِس طرح نِیَّت کیجئے کہ میں پاکی حاصِل کرنے کیلئے غُسْل کرتا ہوں۔
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پہلے دونوں ہاتھ پہنچوں تک تین تین باردھوئیے،
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پھر اِستِنجے کی جگہ دھوئیے خواہ نَجاست ہوی ا نہ ہو،
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پھرجسم پر اگر کہیں نَجاست ہو تو اُس کو دُورکیجئے
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پھر نماز کا سا وُضو کیجئے مگر پاؤں نہ دھوئیے، ہاں اگر چوکی وغیرہ پر غُسْل کر رہے ہیں تو پاؤں بھی دھو لیجئے،
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پھر بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑلیجئے، خُصوصاً سردیوں میں ،(اِس دَوران صابُن بھی لگا سکتے ہیں )
-٭-٭-٭--٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-٭-
پھر تین بارسیدھے کندھے پرپانی بہایئے،پھر تین بار اُلٹے کندھے پر، پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار، پھر غُسْل کی جگہ سے الگ ہو جائیے، اگر وُضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھو لیجئے،
----------------------------
ضروری احتیاطیں:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

٭- نَہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہوں ،
٭- تما م بدن پر ہاتھ پھیر کرمل کر نہائیے۔
٭- مایسی جگہ نہائیں کہ کسی کی نظر نہ پڑے اگر یہ ممکِن نہ ہو تو مرد اپنا ستر (ناف سے لے کر دونوں گھٹنوں سمیت) کسی موٹے کپڑے سے چھپالے، موٹا کپڑا نہ ہو توحَسبِ ضَرورت دو یا تین کپڑے لپیٹ لے کیوں کہ باریک کپڑا ہوگا تو پانی سے بدن پرچپک جا ئے گا اور مَعَاذَ اﷲعَزَّوَجَلَّ گھٹنوں یا رانوں وغیرہ کی رنگت ظاہر ہو گی۔
٭- عور ت کو تو اور بھی زِیادہ احتیاط کی حاجت ہے۔
٭- دَورانِ غُسْل کسی قِسْم کی گفتگو مت کیجئے، کوئی دُعا بھی نہ پڑھئے، نہانے کے بعد تولیہ وغیرہ سے بدن پُونچھنے میں حَرَج نہیں۔ نہا نے کے بعد فورًا کپڑے پہن لیجئے۔ اگر مکروہ وقت نہ ہو تو دو رَکعت نَفْل ادا کرنا مُستَحَب ہے۔
(عامۂ کتبِ فقہ)
----------------------
غُسْل کے فرائض
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
(۱) کلی کرنا
(۲) ناک میں پانی چڑھانا
(۳ ) تمام ظاہِر بد ن پرپانی بہانا۔
-------------------------------
( الفتاوی الھندیہ # جلد : ۱ /صفحہ: ۱۳ )