قُرآنِ پاک کو چُومَنا کیسا؟
عرض:قرآنِ پاک کو چُومنااور چہرے پر مَس کرناکیساہے؟

ارشاد:قرآنِ پاک کو چُومنااور چہرے پر مَس کرناصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے فعل سے ثابت ہے چنانچہ فقۂ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب دُرِّمُختار میں ہے :امیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرضی اللّٰہ تعالٰی عنہروزانہ صبح کو مُصْحَف (یعنی قرآنِ مجید)کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے۔اَمیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنیرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی مُصْحَف کو بوسہ دیتے اور چہرے سے مس کرتے تھے ۔)[1](
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: مُصْحَف( یعنی قرآن ) شریف کو تَعْظِیماً سر اور آنکھوں اور سینے سے لگانااور بو سہ دینا جائزومُستحَب ہے کہ وہ اَعظم شعائِر سے ہے اور تعظیمِ شعائر تَقْوَی الْقُلُوْب (دلوں کی پرہیز گاری)سے۔)[2](




[1] دُرِّمختار ،ج۹،ص۶۳۴

[2] فتاویٰ رَضَوِیّہ، ج۲۲،ص۵۶۳