سوال :عشر کسے کہتے ہیں ؟
جواب:زمین سے نفع حاصل کرنے کی غرض سے اُگائی جانے والی شے کی پیداوار پر جو زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے اسے عشر کہتے ہیں۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس،ج۱،ص۱۸۵،ملخصاً)

سوال: زمین کی زکوٰۃ کو عشر کیوں کہتے ہیں ؟
جواب: زمین کی پیداوار کا عموماً دسواں ( 10/1)حصہ بطورِ زکوٰۃ دیا جاتا ہے اس لئے اسے عشر (یعنی دسواں حصہ)کہتے ہیں۔

کس پیداوار پر عشرواجب نہیں ؟
سوال:کن فصلوں پر عشر واجب نہیں ؟
جواب: جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود نہ ہوان میں عشر نہیں جیسے ایندھن ،گھاس،بید،سرکنڈا،،جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )،کھجورکے پتے وغیرہ،ان کے علاوہ ہر قسم کی ترکاریوں اور پھلوں کے بیج کہ ان کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہو تی ہیں بیج مقصود نہیں ہوتے اورجو بیج دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مثلاًکندر ، میتھی اورکلونجی وغیرہ کے بیج،ان میں بھی عشر نہیں ہے۔ اسی طرح وہ چیزیں جو زمین کے تا بع ہوں جیسے درخت اور جو چیزدرخت سے نکلے جیسے گوند اس میں عشر واجب نہیں۔
البتہ اگرگھاس ،بید ،جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں )وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لئے خالی چھوڑ دی تو ان میں بھی عشر واجب ہے۔کپاس اور بینگن کے پودوں میں عشر نہیں مگران سے حاصل کپاس اور بینگن کی پیداوار میں عشر ہے ۔(در مختار،کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر،ج۳، ص۳۱۵،الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس فی زکوۃ الزرع،ج۱،ص۱۸۶ )

عشر واجب ہو نے کے لئے کم ازکم مقدار
سوال:عشر واجب ہو نے کے لئے غلہ ،پھل اورسبزیوں کی کم ازکم کتنی مقدار ہوناضروری ہے ؟
جواب:عشر واجب ہو نے کے لئے ان کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ زمین سے غلہ ،پھل اورسبزیوں کی جتنی پیداوار بھی حاصل ہو اس پر عشر یا نصف عشر دینا واجب ہو گا۔(الفتاویٰ الھندیۃ، المرجع السابق)

بحوالہ عشر کے احکام
پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں