اَھْلاً وَ سَھْلاً وَ مَرْحَباً
تخلیق نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم (حصہ اول)
آپ سب کو ربیع الاول کا بابرکت مہینہ مبارک ہو ! اللہ تعالٰی ہم سب کو اس مبارک مہینے میں برکتیں سمیٹے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس بابرکت مہینے میں کوشش کروں گا کہ اس حوالے سے کچھ لکھوں ۔ آج اس سلسلے کی پہلی کڑی نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو میرے لیے ضرور دعاء کریں ۔ اگر آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو تو برائے مہربانی مجھے ضرور آگاہ کریں۔
اللہ رب العزت تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور سے ہر شے کو تخلیق فرمانے کی وجہ خود بیان کرتا ہے۔ حدیث قدسی ہے کہ
لولاه ما خلقتک و لا خلقت سماء و لا ارضا.
اگر میں اسے (محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) پیدا نہ کرتا تو نہ تمہیں (آدم علیہ السلام) پیدا کرتا اور نہ زمین و آسمان کو پیدا کرتا۔قسطلانی، المواهب اللدنيه، 1: 9
کیونکہ اس جسد کا کیا کرنا جس کی روح ہی تخلیق میں نہ آئی ہو۔ جب روح تخلیق میں آجائے تو پھر اس کو پھونکے جانے کے لئے جسد بھی بنایا جاتا ہے۔ پس آدم علیہ السلام کو بھی بنادیا گیا اور نور مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روح بناکر کائنات میں بھیجنے کے لئے کائنات بھی بنادی۔
عن جابر بن عبد الله الأنصارى قال: قلت يا رسول الله، بأبى أنت وأمى، أخبرنى عن أول شىء خلقه الله تعالى قبل الأشياء. قال: يا جابر، إن الله تعالى قد خلق قبل الأشياء نور نبيك من نوره، فجعل ذلك النور يدور بالقدرة حيث شاء الله تعالى، ولم يكن فى ذلك الوقت لوح ولا قلم، ولا جنة ولا نار، ولا ملك ولا سماء، ولا أرض ولا شمس ولا قمر، ولا جنى ولا أنسى، فلما أراد الله تعالى أن يخلق الخلق قسم ذلك النور أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول القلم، ومن الثانى اللوح، ومن الثالث العرش. ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الجزء الأول حملة العرش، ومن الثانى الكرسى، ومن الثالث باقى الملائكة، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول السماوات، ومن الثانى الأرضين ومن الثالث الجنة والنار، ثم قسم الرابع أربعة أجزاء، فخلق من الأول نور أبصار المؤمنين، ومن الثانى نور قلوبهم- وهى المعرفة بالله- ومن الثالث نور أنسهم، وهو التوحيد لا إله إلا الله محمد رسول الله۔ قسطلانی، المواهب اللدنيه، 1: 71، بروايت امام عبدالرزاق
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا: یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیں کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے کیا چیز پیدا فرمائی؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نور الٰہی اس کا مادہ تھا بلکہ اس نے نور کے فیض سے) پیدا فرمایا، پھر وہ نور مشیتِ ایزدی کے مطابق جہاں چاہتا سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ فرشتہ تھا، نہ آسمان تھا نہ زمین، نہ سورج تھا نہ چاند، نہ جن تھا اور نہ انسان۔ جب اللہ تعالی نے ارادہ فرمایا کہ مخلوقات کو پیدا کرے تو اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا: پہلے حصے سے قلم بنایا، دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش۔ پھر چوتھے حصے کو چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے حصے سے عرش اٹھانے والے فرشتے بنائے اور دوسرے سے کرسی اور تیسرے سے باقی فرشتے۔ پھر چوتھے کو مزید چار حصوں میں تقسیم کیا تو پہلے سے آسمان بنائے، دوسرے سے زمین اور تیسرے سے جنت اور دوزخ۔
اب ایک دوسرا ریفرنس انجیل برناباس سے پیش خدمت ہے۔برناباس حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارہ حواریوں میں تھا ۔ اس کا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیم کے بارے میں اپنے ایک ساتھی پولوس سے سخت اختلاف پیدا ہو گیا جس کے بعد وہ سائپرس چلا گیا ۔اور یہی اس نے وفات پائی ۔اس نے بھی ایک انجیل لکھی تھی جو اس کے ساتھ دفن کر دی گئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے تقربیاً 95 سال پہلے Bishop Anthemios کو ایک خواب میں اس انجیل اور جگہ کا الہام ہوا جو کہ برناباس کی قبر تھی چنانچہ 477 عیسوی میں برناباس کی قبر کشائی کی گئی تو یہ انجیل برناباس کی چھاتی پر موجود تھی۔ لہذا اسے نکال لیا گیا۔یاد رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں 571 عیسوی کو تشریف لائے۔اس انجیل کا باب نمبر 39 پیش خدمت ہے۔
Adam, having sprung upon his
feet, saw in the air a writing that shone like the
sun;, which said: "There is only one God, and
Muhammad is the Messenger of God."
Whereupon Adam opened his mouth and said: "I
thank you, O Lord my God, that you have deigned
to create me; but tell me. I pray you, what means
the message of these words: "Muhammad is
Messenger of God. Have there been other men
before me?" 'Then said God: "Be you welcome, O
my servant Adam. . I tell you that you are the first
man whom I have created. And he whom you have
seen [mentioned] is your son, who shall come into
the world many years hence, and shall be my
Messenger, for whom I have created all things;
who shall give light to the world when he shall
come; whose soul was set in a celestial splendour
;sixty thousand years before I made any. thing."
Adam besought God, saying: "Lord, grant me this
writing upon the nails of the fingers of my hands."
Then God gave to the first man upon his thumbs
that writing; upon the thumb-nail of the right
hand it said: "There is only one God;," and upon
the thumb-nail of the left it said: "Muhammad is
Messenger ;of God." Then with fatherly affection
the first man kissed those words, and rubbed his
eyes, and said: "Blessed be that day when you
shall come to the world." The gospel of Barnabas Chapter No#39
حضرت آدم علیہ السلام جب اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے تو انہوں نے فضا میں ایک تحریر سورج کی طرح چمکتی ہوئی دیکھی جس پر لکھا ہوا تھا ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں(لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ)۔ تب آدم علیہ السلام نے اپنا منہ کھولا اور کہا اے اللہ میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ پس تونےمجھے پیدا کیا میں تیری عبادت کرتا ہوں لیکن اس پیغام کا کیا مطلب ہےکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ)۔کیا میرے سے پہلے بھی دوسرے لوگ ہیں؟
تب اللہ نے فرمایا اے میرے بندے خوش ہو جاو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم ہی وہ پہلے آدمی ہو جسے میں نے بنایا اور جسے تم نے دیکھا ہے وہ تمہارا بیٹا ہےجو اس دنیا میں کئی سالوں کے بعد آئے گا اور میرا پیغمبر ہوگا جس کے لیے میں نے یہ ساری چیزیں پیدا کیں۔جب وہ آئے گا تو وہ اس دنیا میں روشنی پھیلائے گا۔ اس کی روح کو میں نے کوئی بھی چیز بنانے سے ساٹھ ہزار سال پہلےجنت الفردوس میں پیدا فرما دیا تھا۔
حضرت آدم علیہ السلام نے عاجزی سے کہا اے مالک یہ تحریر میرے ہاتھوں کی انگلیوں پر منتقل کردے۔ پھر اللہ نے یہ تحریر دنیا کے پہلے آدمی کے انگھوٹھوں پر منتقل کر دی۔
دائیں ہاتھ کے انگھوٹھے کے ناخن پر لکھا خدا صرف ایک ہے(لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ) اور بائیں ہاتھ کے انگھوٹھے کے ناخن پر لکھا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ)۔
پھر دنیا کے پہلے آدمی(حضرت آدم علیہ السلام) نے شفقت پدرانہ سےان الفا ظ کو چوما اور اپنی آنکھوں کو لگایا اور کہا مبارک ہو وہ دن جس دن تم دنیا میں تشریف لاو گے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا۔ سورہ یونس آیت نمبر 58
فرما دیجیے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہیے کہ اس پر خوشیاں منائیں
وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ
اس تحریر پر اپنی رائے ضرور دیں اور اسے زیادہ سے شیئر کریں ۔ شکریہ۔