حضور نبیِّ کریم، رءُوف رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نبوّت کے بارھویں سال، 27 رَجَبُ المُرجَّب کی رات سفرِمعراج کی سعادت حاصل ہوئی۔ (خزائن العرفان، پ15،بنی اسرائیل ،تحت الآیہ:1،ماخوذاً) سفرِمعراج میں جہاں کئی معجزات ظاہر ہوئے اور شانِ مصطفےٰ کی بلندی آشکار(نمایاں) ہوئی وہیں ربِِّ مصطفےٰ کی طرف سے صاحِبُ التَّاج وَ الْمِعْراج صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تحائف بھی عطا ہوئے مثلاً دیدارِ باری تعالیٰ، بلا واسِطہ کلام، سورۂ بقَرہ کی آخِری آیات ، پنجگانہ نماز کی فرضیّت ۔
(1)دیدارِ باری تعالٰی :علامہ شہابُ الدّین احمدخَفاجی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں : صحیح مذہب یہ ہے کہ نبیصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شبِ معراج سَرکی آنکھوں سےاپنے رب تعالیٰ کو دیکھا جیسا کہ اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مذہب ہے۔ (نسیم الریاض شرح شفا،ج3،ص144) یادرہے کہ دنیامیں جاگتی آنکھوں سے پَرْوَرْدَگارعَزَّوَجَلَّ کادیدار صرف سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاخاصّہ ہے۔ (بہارِشریعت،ج1،ص20 ماخوذاً) (2)گفتگو کا شرف:جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کی: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُیعنی تمام قولی، بدنی اور مالی عبادات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیںاللہ کریم نے ارشاد فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ یعنی اے نبیِّ مکرّم! تجھ پر سلام ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چاہا کہ سلام میں آپ کی اُمّت کا حصّہ بھی ہو جائے لہٰذا عرض کی:اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْنیعنی ہم پر اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں پر سلام ہو حضرتِ سیّدنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور تمام آسمانی فرشتوں نے کہا: اَشْھَدُاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ (تفسير قرطبی، پ3، البقرہ، تحت الایۃ: 285،ج2،ص322) حضرت علّامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شبِ مِعراج اپنے محبوبِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بغیر واسطے کے کلام فرمایا۔(فتح الباری،ج8،ص185) (3) سورۂ بقرہ کی آخری آیات: معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کی آخِری دوآیتیں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا فرمائیں۔ یہ دو آیات جنّت کے خزانوں میں سے ہیں۔(روح البیان، پ3، البقرۃ، تحت الآیۃ:286،ج1،ص449ملخصاً)(4)امّتِ محمّدی کے لئے بخشش کی بشارت: معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے یہ بشارت اُمَّتِ محمدیہ کو دی گئی کہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بخشش فرما دے گا۔(ایضاً) (5)معراج کا خصوصی تحفہ: حضرتِ سیّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہتعالیٰ نے میری اُمّت پر50نمازیں فرض فرمائیں، میں یہ لے کر واپس ہوا حتّٰی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السَّلام)کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی اُمّت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ان پر 50نمازیں فرض کیں، موسیٰ علیہ السَّلام نے مجھے کہا: آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے، آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ میں واپس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گیاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک حصّہ معاف فرمادیا، فرماتے ہیں کہ میں پھر موسیٰ علیہ السَّلام کی طرف لَوٹا اور انہیں اس کی خبر دی ، انہوں نے کہا: آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے، آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میں اپنے رب کے پاس واپس لوٹا تو رب تعالیٰ نے فرمایا:نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں پچاس ہی ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ (مسلم، ص89، حدیث:415)
مشہور مفسّر حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: یہ خاص تحفہ تھا جو اُمّتِ محمدیہ کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی معرفت دیا گیا۔(مراٰۃ المناجیح،ج8،ص144)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نماز اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خصوصی تحفہ ہے جوحضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے صدقے ہمیں نصیب ہوا۔ لہٰذا اس تحفۂ خدا وندی کی حفاظت کریں اور پانچوں وقت کی نَماز باجماعت تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھنے کا خوب اہتمام کریں۔