روایت ہے حضرت عبدالله ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ

اس قوم پر رحمت نہیں اترتی جن میں قرابت توڑنے والا ہو ۱؎

(بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی جس قوم میں ایک شخص اپنے عزیزوں کی حق تلفی کرتا ہو اور دوسرے لوگ اس کے اسی گناہ پر مدد کرتے ہوں یا باوجود قدرت کے اسے اس ظلم سے نہ روکتے ہوں تو وہ سب لوگ رحمت سے محروم ہیں گناہ کرنا بھی گناہ ہے باوجود قدرت کے گناہ سے نہ روکنا بھی گناہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس ایک کی شامت سے یہ سب لوگ رب کی رحمت سے محروم ہوجاتے ہیں لہذا مطلب واضح ہے۔

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم