روایت ہے حضرت عبدالله بن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ

جنت میں نہ جائے گا احسان جتانے والا اور نہ نافرمان اور ہمیشہ کا شراب خوار۱؎

(نسائی، دارمی)

۱؎ منان بنا ہے من سے من کے چند معنی ہیں: کسی پر منت رکھنا یعنی کچھ دے کر اسے طعنے دینا،ایذا رسانی کرنا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰی"کانٹا ختم کرنا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ" خواہ قطع رحمی ہو یا قطع طریق یعنی ڈکیتی یہاں سارے معنی بن سکتے ہیں۔(لمعات،مرقات)عاق ماں باپ کا نافرمان،مدمن خمر وہ جو شراب خوری کا عادی ہو اس سے توبہ نہ کرے یعنی یہ لوگ اولًا جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے شراب خواری خود ہی سخت جرم ہے پھر اس پر ہمیشگی ڈبل جرم۔

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم