وہاں مصطفی کو بلایا گیا
جہاں اور کوئی نہ آیا گیا

مرے دل کی خوش بختیاں دیکھیے
اسے نعت سے جگمگایا گیا

بصارت کو معراج حاصل ہوئی
نبی جی کا روضہ دکھایا گیا

دو عالم کے والی کے دربار میں
غریبوں کا رتبہ بڑھایا گیا ۔

مرا اس وسیلے پہ ایمان ہے
مجھے ہر غمی سے بچایا گیا ۔

جہاں دشت میں امتی تھے وہاں
کرم والا خیمہ لگایا گیا

درودوں کی خوشبو کی ترسیل کو
دہن والا غنچہ کھلایا گیا

جہاں موجِ سرکش مقابل ہوئی
وہیں ہم کو ساحل دکھایا گیا

زمیں پر جو جنت مدینے میں ہے
مجھے بھی وہیں پر بٹھایا گیا