علماء سوء سے وزراء سوء تک ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی
بارشِ ستم اس طرح برسے گی ؟۔۔۔۔فصل ظلم یوں لہلائے گی ؟۔۔۔۔ ۔۔خرد کی زمین پر جہل کے قہقہے لگاتے وزیر موصوف فرماتے ہیں 75 فیصد مسائل کے ذمہ دار علماء سوء ہیں ۔۔۔۔۔
فکر و شعور سراپا احتجاج ہو جاتے ہیں کہ یہ علماء ہی علماء سوء کیوں ؟
یہ وزراء ، وزراء سوء کیوں نہیں ؟ ۔۔۔۔یہ وکلاء ، وکلائے سوء کیوں نہیں ؟۔۔۔۔ یہ قاضی ، قاضی سوء کیوں نہیں ۔۔۔۔؟ یہ چور اور ڈاکو سیاست دان ، یہ استاد ، یہ تاجر ،یہ سپاہی ،یہ سب شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سوء کیوں نہیں ؟
بس دنیا کا سب سے مظلوم طبقہ یہ مولوی ، مولانا ، علامہ اور مفتی صاحبان ہی ہیں د ئیے جاؤ رگڑے پر رگڑا ۔۔۔۔۔کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا بلکہ یہ مظلوم طبقہ بھی تمہیں خود کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔
کیا تماشا ہے جس شخص کو سائنس و ٹیکنالوجی کی خبر نہیں وہ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی ہے ۔۔۔۔مذہب کے بارے میں اسے معلوم نہیں یہاں تک کہ اسے دعائے قنوت بھی یاد نہیں لیکن دعویٰ موصوف کا یہ کہ وہ وقت کے بڑے بڑے شیخ الحدیث اور مفتی اعظم سے زیادہ علم جا نتا ہے ۔۔۔۔۔سمجھ نہیں آتی کابینہ میں ان جیسے مسخروں کے لیے جگہ کیسے بن جاتی ہے؟ ۔۔۔۔
خیالات تو کھوج لگانا چاہتے ہیں آخر علماء سے یہ نفرت کیوں ؟
۔۔۔۔۔آخر کیو ں ؟ علماء ہی ان لبرل اور سیکولرز مسخروں کا ہدف کیوں ؟
پھر گتھی سلجھنے لگی معاملہ ابھی کا نہیں ہے ۔۔۔۔دشمنی پرانی ہے ۔۔۔۔آباء و اجداد سے چلی آرہی ہے ۔۔۔۔بات وفاداری کی ہے ۔۔۔ ان کے ابو انگریز جب برصغیر آئے تو سونے کی چڑیا دیکھ کر قابض ہو گئے ان کے ابو انگریز کے خلاف جس شخص نے سب سے پہلے فتویٰ دیا وہ علامہ فضل حق خیرآبادی تھے ۔۔۔۔۔
غیرتِ ایمانی کی جو جنگ اس وقت علماء نے لڑی ساتھ ہی بے شمار اور لازوال قربانیاں دیں وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں ۔۔۔جن انگریزوں سے ان علماء نے جہاد کیا ان وزراءئے سوء کے آباء اجداد انہی انگریزوں کے کتے اور گھوڑے نہلاتے رہے ۔۔۔۔۔خوف وڈر پیدا ہوا کہ اگر یہ مولوی آگئے تو عیاشیاں بند ہو جائیں گیں ۔۔۔۔۔غداری کے عوض جو مراعات ملی ہیں چھن جائیں گی ۔۔۔۔۔۔لہذا خوب گالیا ں دو ان علماء کو رچ رچ کر برا بھلا کہو ۔۔۔۔۔۔آج تک یہ وزرائے سوء اسی خوف کے زیر ِ اثر ہیں کہ کہیں قوم پر بوجھ بے مقصد وزارت کی دکان بند نہ ہو جائے ۔
لیکن با شعور طبقہ بخوبی جانتا ہے چرواہا اگر بھیڑ کو بھیڑئیے سے بچا لے تو بھیڑ چرواہے کی ممنون ہوتی ہے جبکہ بھیڑئیے کو چرواہے سے شکوہ ہو تا ہے کہ اس نےا س کا رزق چھین لیا ۔۔۔۔۔انہیں مولوی سے وہی شکوہ ہے جو بھیڑئیے کو چرواہے سے ہے ۔۔۔۔
ان لبرل اور سیکولرز وزراء اور سیاست دانوں کو علماء سے وہی خوف ہے جو فرعون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھا ۔۔۔۔
قَالُوا إِنْ هَٰذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَىٰ طہ 63
کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں۔
بس اس خوف کے سبب یہ چیخ رہے ہیں دھاڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپس کی بد ترین دشمنی ، عداوت ، نفرت کے باوجود یہ اسلام کے خلاف یکجا ہو جاتے ہیں ایک دوسرے کو داد دیتے ہیں اور سپورٹ کرتے ہیں ۔۔۔
ان کی کیفیت کا حال جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جب اسمبلی میں کوئی غیر مسلم شراب کے خلاف بل پیش کرے تو یہ سب شرابی اس غیر مسلم کے خلاف ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی غیر مسلم اسمبلی میں دہائی دے دے کہ ہندوؤں کو مسلمان بنایا جا رہاہے تویہ بل بنا کر پیش کرتے ہیں کہ اٹھار ہ سال سے کم عمر کوئی مذہب تبدیل نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء سوء کی آڑ لے کر علمائے حق پر زبان طعن دراز مت کیجیے طبیعت اجازت دے تو وزرائے سوء پر بھی کچھ بات کیجیے ۔
2 جولائی 2019
https://www.facebook.com/IslamicResearchSociety